بنگال کے مسلمانوں کا موجودہ منظر نامہ 115سالہ مسلم انسٹی ٹیوٹ قصہ پارینہ بنتا جارہا ہے

کلکتہ کے ایک قدیم ادارے نے115سال مکمل ہونے پرگزشتہ دنوں بڑے ہی دھوم دھام سے’’روشنی‘‘ کے نام سے جشن منایا ۔پروگرام کی کامیابی کے دعویٰ پرذمہ داران اپنی پیٹھ خود تھپ تھپارہے ہیں ۔جب کہ ایک بڑا حلقہ اس جشن پر کم وبیش 25لاکھ روے پھونکے جانے اور مشاعرے کے انعقاد کے وقت و طریقہ کار اور اس جشن کی افادیت پرسوال اٹھارہا ہے ۔قبل اس کے یہ صحافی اس پورے جشن وطرب پر کوئی تبصرہ کرے ،یہ صحافی آپ کو یونان کے مشہور ادیب و فلسفی کا ایک مشہور قصہ سناتا ہے ، کیوں کہ یہ قصہ صرف قصہ نہیںہے بلکہ سماج و معاشرہ کا نوحہ اورتازیانہ عبرت بھی ہے۔پہلے آپ قصہ پڑھ لیجئے!
ایک سبق آموز قصہ
’’یونان کا ایک نامور فلسفی جب عوام کی ناقدری سے عاجز آگیا او راس نے محسوس کیا کہ اس کے فکر ونظر اور علم و حکمت پر لوگ توجہ ہی نہیں دیتے بلکہ مذاق اڑاتے ہیں اور پتھرائو کرتے ہیں تو اس نے دشنام و اتہام سے تنگ آکر رقص وسرودکا ایک طائفہ بنایا اور پاگلوں کی طرح بازاروں میں ناچنے لگا۔پھٹے پرانے کپڑے پہنے ، ڈھول گلے میں ڈالا، چہرے پر بھبوت مل لیا ، ہاتھوں میں کنگن ڈال لیے اور رقص و آوازکا سوانگ رچایا۔وہ رقص وغناکے ابجد سے بھی ناواقف تھالیکن رسمی دانشورو ںنے سرپر اٹھالیا۔ان کے رقص پر محاکمے ہونے لگے کہ اس فن میں اس نے نئی راہیں نکالی ہیں ۔وہ علم میں فلسفی نہیں پاگل تھا۔اب رقص میں مجتہد ہے۔جب یونان میں اس کے نئے روپ کا شہرہ عام ہوگیا تو اس نے اعلان کیا کہ فلاں دن وہ اوپن ائیر تھیٹر میں اپنے طائفہ سمیت رقص و سرود کے نئے انداز پیش کرے گا۔تمام ایتھنز ٹوٹ پڑا۔ اس نے رقص کا نیا انداز پیش کیا ،سرتا پا دیوانہ ہوگیا وہ ناج نہیں جانتا تھا لیکن پاگلوں کی طرح ناچتارہا ۔عوام و خاص و امراء و شرفا لوٹ پوٹ گئے۔جب وہ تھک گیا اور اس نے محسوس کیا کہ جو لوگ سامنے بیٹھے ہیںاس کی مٹھی میں ہیں تو یکایک سنجیدہ ہوکر کہا:’’یونان کے بیٹو!میں تمہارے سامنے علم ودانائی کی باتیں کرتا رہا ۔میں نے تمہاری برتری کیلئے فکر و نظر کے موتی بکھیرے ، تم نے باتیں سننے سے انکار کردیا ، میرا مذاق اڑیا ، مجھے گالیوں سے نوازا ، پتھرائوکیا اور خوش ہوتے رہے۔تم نے حق وصداقت کی ہربات سننے سے انکا رکیا ۔مجھے پاگل قرار دے کر خود پاگلوں کی سی حرکتیں کرتے رہے۔تم نے اپنے دماغ حکمرانوں کے پاس رہن رکھ دیے۔تمہارے جسموں کی طرح تمہاری عقلیں بھی امراء و حکام کی جاگیر ہوگئی ہیں۔ میں عاجز آگیا تو میں نے یہ روپ اختیار کیا۔میں فلسفی کی جگہ بھانڈ ہوگیا ۔مجھے کچھ معلوم نہیں کہ ناچ کیا ہوتا ہے اور گانا کسے کہتے ہیں لیکن تم نے میرے اس بھانڈپن پر تحسین و ستائش کے ڈونگرے برسانے شروع کیے۔پہلے تم میں سے چار آدمی بھی میرے گرد جمع نہیں ہوتے تھے ، آج ہزارہا انسان کا جم غفیر میرے سامنے بیٹھا ہے گو یا تم نے مٹ جانے والی قوم اور ایک فنا ہوجانے والے معاشرے کی تمام نشانیاں قبول کرلی ہیں ، تم ایک انحطاط پذیر ملک کی علیل روحوں کا انبوہ ہو۔تم پر خدا کی پھٹکار ہو، تم نے دانائی کو ٹھکرایا اوررسوائی کو پسند کیا ۔تم خدا کے غضب سے کیوں کر بچ سکتے ہوکہ تمہارے نزدیک علم ذلیل ہوگیا اور عیش شرف و آبرو ۔جائو میں تم پر تھوکتا ہوں ۔میں پہلے بھی پاگل تھا ، آج بھی پاگل ہوں‘‘۔

 

 

 

 

 

 

 

کیسے برباد ہورہا ہے یہ ادارہ
اب آئیے ہم مسلم انسٹی ٹیوٹ کے ’’سہ روزہ جشن روشنی‘‘ کا تجزیہ کرتے ہیں کہ اس جشن سے کس سنگ میل عبور کیا گیا اور اس سے کیا حاصل کیا گیا؟ کیوں کہ کوئی بھی جشن اس وقت تک مکمل جشن نہیں ہوتا جب تک ماضی کی خدمات اور کامیابی پر خوشی منانے کے ساتھ ساتھ مستقبل کا لائحہ عمل اورمنصوبہ سازی نہ کی جائے۔اگر جشن اس سے خالی ہے تویہ ’’جشن ‘‘ ادارے کی موت کا اعلان ہوتا ہے ۔’’جشن روشنی‘‘ کی افتتاحی تقریب میں مشہور سیاست داں و دانشور راجیہ سبھا کے سابق ڈپٹی چیرمین کے رحمن خان نے اس قدر جامع اور عبرت انگیز کلیدی خطبہ پیش کیا کہ اس تقریر کو بار بار سننے کے لئے طبیعت چاہتی ہے ۔انہوں نے کئی اہم نکات کو سامنے رکھا اور اشاروں و کنایوں میں بہت سی ایسی باتیں کہیں جسے’روشنی‘ کے نام پر روندا گیا تھا ۔ اس افتتاحی تقریب کیلئے کم و بیش120کرسیاں لگائی گئی تھیں جس میں کئی کرسیاں خالی نظر آرہی تھی۔اس کا شکوہ رحمن خان نے بھی کیاکہ پروگرام میں نوجوان نظر نہیں آرہے ہیں۔دوسرے دن پہلے اوپن ڈبیٹ اور شام میں کلام صوفی جو در اصل غزل گائیگی کا پروگرام ہوا۔ جس ’’استاذ‘‘کو اس کیلئے تقریبا ڈھائی ڈھائی لاکھ روپے دیے گئے ہیں ان کی شہرت غزل گائیگی کیلئے ہے۔تیسرے دن پہلے سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام پر سیمینار ہونا تھا ۔مگر سیمینار میں شرکت کے بعداندازہ ہوا کہ یہ صرف خانہ پری سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔جشن میں پیش پیش رہنے والے سیمینار سے غائب تھے۔مقالہ نگاری کیلئے مقامی اسکالروں و دانشوروں کو نظر انداز کیا گیا۔صرف تین مقالہ نگاروں کو مدعو کیا گیا تھا ۔سامعین کی تعداد 100کے قریب تھی ۔اگرہال میں موجود ایک ’’پروفیسر ‘‘صاحب اپنے طالبات کو پروگرام میں فوری طور پر حاضری کا سخت حکم نہیں دیتے تو سامعین کی تعداد محض 30سے40نفوس پر مشتمل ہوتی ۔بادی نظر میں یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ جشن’’روشنی‘‘ میں اے بی جے عبدالکلام پر سمینار محض رسمی خانہ پری اور دکھاوے کے لئے رکھا گیا ہے۔اگر انتظامیہ سیمینار میں سنجیدہ ہوتی تو اس سیمینار کو بڑے پیمانے پر منعقد کیا جاسکتا تھا اور اس سے اسکولوں و کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والے مسلم طلباء کو جوڑا جا سکتا تھا۔خانہ پری کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ مشاعرہ اور غزل گائیگی کے پروگرام پر14لاکھ کے قریب روپے اڑادیے گئے اور علمی پروگرام پر محض 60سے 70ہزار۔’’ایں چہ بوالعجبی است‘‘۔شام میں عالمی مشاعرہ ہوا۔پورا شہر دیوانہ تھا۔ذمہ داران پریشان کہ کس کو کارڈ دیں اور کس کو نہیں ،چناں چہ آڈیٹویم میں سیٹوں کی تعداد 2200تھی کارڈ 4ہزار کے قریب چھاپے گئے اور اس کے باوجودطلب کاروں کے سامنے کارڈ کم پڑگئے۔مجھ سے بھی لوگ کارڈ مانگ رہے تھے کہ آپ اپنے تعلقات کی بدولت کارڈ دلادیں جب کہ میں نے برملا اعلان کردیا تھا کہ مجھ میں بابری مسجد کی یوم شہادت سے محض چند گھنٹے قبل محفل مشاعرہ میں وا ہ واہ کرنے کا حوصلہ نہیں ہے ۔میراسینہ چھلنی چھلنی ہے ۔یعنی علم و حکمت کی باتیں سننے کیلئے پورے شہر سے محض 100افراد ہی جمع ہوسکے اور غزل و موسیقی اورشاعری کی محفل کیلئے پورا شہرٹوٹ گیا ہے ۔گویا ایتھنز کے باشندوں کی طرح ہمارا معاشرہ بھی علیل روحوں کی انبوہ میں تبدیل ہوچکا تھا ۔
اردو کا اشتہار انگریزی میں
اس کالم میں ’’عالمی مشاعرہ ‘‘ پر تبصرہ کی گنجائش نہیں ہے۔ مختصر سمجھ لیجئے کہ سرکاری اداروں کی امداد سے ہونے والے مشاعرے مشاعرے نہیں ہوتے ،’’لفافے کا لنگر‘‘ اور ’’گورکھ دھندہ‘‘ ہوتا ہے ۔اس عالمی مشاعرے کے کئی تاریک پہلو تھے مگرسب سے تعجب خیز بات یہ رہی کہ مقامی شعراء کو نظر انداز کردیا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ جب ہم خود اپنے شعراء ، تخلیق کاروں اور ریسر چ اسکالروں کو اسٹیج فراہم نہیں کریں گے تو یہ بیچارے کہاں جائیں گے ؟۔ان کی تخلیقی صلاحیت کیسے ابھرے گی اور ان میں خوداعتمادی کیسے پیدا ہوگی؟مگر میرے سامنے اس سے بھی بڑا سوال ہے جس کیلئے اپنے کرم فرمائوں اور احباب سے پیش گی معذرت چاہتا ہوں کہ اگر ان سوالات سے ان کے شیشہ دل کو ٹھیس پہنچے تو ایک دیوانہ کی بڑسمجھ کر نظرانداز کردیں گے۔مجھے معلوم ہے کہ اس جرأت کی قیمت چکانی ہو گی۔میرے دوستوں نے حق کی آواز بلند کرنے کی جرأت کی تو انہیں سبق سیکھانے کیلئے حدپار کردی گئی اس کا علم ہونے کے باوجوداگر میں یہ سوال نہ کروں کہ اس جشن و طرب سے کیا حاصل ہوا تو میرا ضمیر بوجھ تلے دب جائے گا ۔سوالات اس لیے بھی ضروری ہیں کہ یہ’’ جشن وہنگامے ‘‘اردو کے فروغ کے لئے مختص روپے سے کیا گیا تھا۔جیساکہ پہلے بھی میں نے یہ بات کہی تھی کہ یہ فنڈز خیرات میں نہیں ملتے ہیں بلکہ ہمارے حق کا حصہ ہے ۔دیدہ دلیری تو دیکھئے تو فنڈ اردو کا مگر اشتہارات، پوسٹرسب کے سب انگریزی میں ،واہ رے جشن !
جشن و طرب ، مشاعرے اور محفل گائیگی سے بڑا سوال ہماری ترجیحات ہے کا ہے ۔ ایک طرف ہندوستانی مسلمان بالخصوص بنگالی مسلمان مجموعی طور پر بیشتر شعبوں میں پسماندگی کے شکار ہیں ۔سب سے زیادہ بھیانک صورت حال تعلیم کی ہے۔ مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل کی آل انڈیا سروے آن ہائر ایجوکیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2015-16میں مغربی بنگال میں واقع مرکزی و ریاستی یونیورسٹیوں میں صرف3 فیصد مسلم طلباء تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ مغربی بنگال کے مشہور پانچ تعلیمی ادارے جس میں پریڈنسی یونیورسٹی، انڈین انسی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کھڑگپور،وشوا بھارتی یونیورسٹی شانتی نکیتن،مغربی بنگال یونیورسٹی آف ٹیچر ٹریننگ ، ایجو کیشن پلاننگ اینڈ منسٹریشن کلکتہ انسٹی ٹیوٹ شامل ہیں میںگزشتہ تعلیمی سال میں ایک بھی مسلم طلباء کو داخلہ نہیں مل سکا ہے۔سروے رپورٹ کے مطابق تعلیم کے شعبے میں مغربی بنگال کے مسلمان برادران وطن کے مقابلے کہیں زیادہ پیچھے ہیں ۔ بارہویں کے بعد تعلیم چھوڑنے والوں کی شرح مسلم طلباء میں 50فیصد کے قریب ہے ۔مدھیامک اور بارہویں جماعت کے نتائج میں ٹاپ ٹین کی فہرست میں ایک یا دو مسلم کا نام نظر آتا ہے ۔اوراردو میڈیم کے طلبا ء سے متعلق یہ سوچنا کہ وہ بھی ٹاپ ٹین میں شامل ہوں گے یہ ایک خواب سا ہی ہوگیا ہے ۔اور دوسری طرف جشن کے نام پرلاکھوں روپے پانی کی طرح بہائے جارہے ہیں؟
کتنا اچھا ہوتا کہ جشن و طرب کی مجلس برپا کرنے بجائے س بات پر غور کیا جاتا کہ ہائر ایجوکیشن میں مسلم طلباء کی نمائندگی میں اضافہ کس طرح کیا جائے ۔ملک میں کئی مشہور تعلیمی ادارے ہیں جو اس پر کام کررہے ہیں ان سے اشتراک عمل کیا جاتا ہے ۔چنئی میں جب ایک امام اپنی مسجد میں سول سروس کیلئے مسلم طلباء کی کوچنگ کا انتظام کرسکتے ہیں تو پھر مسلم انسٹی ٹیوٹ میں کیوں نہیں ؟ عموماً مسلم طلباء کو کیئرئیر کے انتخاب میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔انہیں یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اکس سبجیکٹ کا انتخاب کیا جائے ۔؟ کیرئیر کونسلنگ ، پرسنالٹی ڈیولپمنٹ جیسے پروگرام کے ذریعہ طلباء کی مدد کی جا سکتی تھی ۔مگر تعلیمی ترقی پر توجہ دینے کے بجائے جشن کے نام پر لاکھوں روپے پھونکے جارہے ہیں تو اس پر خاموشی اختیار کرنا ایک سنگین جرم ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

جشن کا نام روشنی کیوں رکھا گیا
اس جشن کانام ’’روشنی ‘‘ رکھا گیا تھا۔مگر روشنی کیا ہے؟ آپ ڈکشنری دیکھ لیں تو معلوم ہوگا روشنی کا لفظ علم کے استعارہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔کیوں کہ روشنی کاظاہری کام تاریکی کا خاتمہ ہے ۔اور علم بھی باطنی تاریکی کو ختم کرتا ہے ۔مگر یہ کیسی روشنی تھی جو تاریکی کو خاتمے کی صلاحیت سے محروم تھی ۔بابری مسجد کے یوم شہادت پر مشاعرہ کے انعقاد کے حامیان علامہ اقبالؒ کے شعر کے اس مصرعہ کا حوالہ دے کر دفاع کررہے ہیں کہ’’فکر فردا نہ کروں محوغم دوش رہوں‘‘۔سوال یہ ہے کہ اگر یہی فکر فردا ہے تو محو غم دوش رہنا ہی زیادہ بہتر تھا۔کسی ادارے کی کامیابی یہ نہیں ہے کہ اس کی عمر کتنی ہے ؟۔انسانوں کی طرح اداروں پر بھی بڑھاپے کا دور آتا ہے ۔ایسے وقت میںادارے سے وابستہ افراد کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ایک نئی توانائی اور حوصلے کے ساتھ موجودہ حالات کے تقاضے اور مسائل کا مکمل ادراک کرکے ایک نئے منصوبے اور لائحہ عمل مرتب کریں ۔سوال یہ ہے کہ بدلتے حالات ،ترجیحات اور تقاضوں کے اس دور میں کیامسلم انسٹی ٹیوٹ قوم کی امیدوں اور توقعات کو پورا کرنے کیلئے کس قدر سنجیدہ ہے ؟ کیا عصر حاضرکے تقاضے سے ہم آہنگ ہونے کیلئے مسلم انسٹی ٹیوٹ نے اپنی ہیئت ، طریقہ ہائے کار میں کوئی تبدیلی لائی ہے ؟ مگر یہاں معاملہ یہ ہے کہ:
کس طرف جائوں ، کدھر دیکھوں، کسے آواز دوں‘۔
اے ہجوم ناامیدی ، جی بہت گھبرائے ہے
دونوں واقعات میں مماثلت
سورش کاشمیری نے اپنی کتاب میں جس یونانی فلسفی کا ذکرکیا ہے شایدانہیں مرے ہوئے کئی سوسال بیت چکے ہوں گے ۔تاہم ہمارے حالات آج وہی ہیں جو ایتھنز اور یونان کے تھے۔ہم بھی علم وحکمت ودانائی کی باتیں سننے کو تیار نہیں ہیں۔حق و صداقت کی صدائیں بلند کرنے والوں پرہم بھی پتھر برساتے ہیں ۔ہمارے یہاں بھی علم وحکمت کی مجلسیں ویران ہیں ۔ مشاعرے و قوالی اور غزل گائیگی کے پروگرام میں ہجوم ہے ۔گویا یونان کے فلسفی نے جوباتیں یونان کے سماج و معاشرہ سے متعلق کہی تھی وہ تمام باتیں حرف بہ حرف ہم بر بھی صادق آتی ہے ۔گویایونان کا وہ فلسفی ہم سے بھی مخاطب ہے اور کہہ رہاہے کہ
’’کلکتہ کے بیٹو! تمہارے سامنے علم ودانائی کی باتیں ہوتی ہیں ۔ تمہاری برتری کیلئے فکر نظر کے موتی بکھیرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو تم ان کی باتیں سننے سے انکار کردیتے ہو، کوئی حق کی آواز بلند کرتا ہے اس کو ڈرادیا جاتا ہے اور تم بھی ڈرانے والوں اور طاقت ور گروپ کے ساتھی بن جاتے ہو۔ غلط کی اتباع ، سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے والے توتم فراڈ اور غلیظ الملت کے لقب سے سرفراز کرتے ہو۔حق بولنے والوں کو فتنہ باز قرار دے کر ان کا مذاق اڑاتے ہواورخود تم فتنہ وفساد کا حصہ بن جاتے ہو۔کیا تم نے اپنے دماغ کو سیاست دانوں کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے؟ ۔وہ تمہارے نام پرسیاسی عروج حاصل کرتے ہیں اور تم وہیں کہ وہیں ہو۔ مستقبل سازی کیلئے ہونے والے پروگراموں کی کرسیاں خالی ہیں مگر بھانڈ پن کیلئے ہزارہا انسانوں کا جم غفیر امڈجاتا ہے ۔گویا تم نے مٹ جانے والی قوم اور ایک فنا ہوجانے والے معاشرے کی تمام نشانیاں قبول کرلی ہیں ، تم ایک انحطاط پذیر ملک کی علیل روحوں کا انبوہ ہو۔تم پرخدا کی پھٹکار ہو، تم نے دانائی کو ٹھکرایا اوررسوائی کو پسند کیا ۔‘‘
چناں چہ جب علم و نظر اور فکر و معروف کو یہ مرحلہ جاں کنی پیش آجائے ، خوشامد کا بول بالا ہو اور حکمت و دانائی احمقوں کے گھرانے میں چلی جائے اور وہ اپنے دماغ کی علالت کو صحت کانام دینے لگیں۔علم کے مالک جاہل، ادب کے اجارہ دار گائودی ، سیاست کے متولی کاسہ لیں اور دین کے مسند نشیں اصاغر ہوجائیں تو اس فضا میں تلخ و ترش باتیں کہنا ہی عین عبادت ہے ۔نہیں تو خدا کے غصب سے کوئی بھی نہیں بچ سکتا ہے۔
مایوسیوں کے باوجود کچھ لکھنے اور صدائے حق کی جرأت میں اس لیے کررہا ہوں کہ اسی ارد بیچاری کے ایک شاعر احمد فراز نے کئی دہائی قبل مجھ جیسے خوف زدہ صحافی کے حوصلے کیلئے ’’حصار‘‘ کے عنوان سے ایک پوری غزل لکھ گئے ہیں ۔اس کا آخری حصہ آپ بھی ملاحظہ کرلیں۔
میرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے
اسی لیے جو لکھا تپاک جاں سے لکھا
جبھی تو لوچ کماں کا زبان تیرکی ہے
میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں یقین ہے مجھے
کہ یہ حصار ستم کوئی تو گرائے گا
تمام عمر کی ایذا نصیبوں کی قسم
مرے قلم کا سفر رائگاں نہ جائے گا۔
(نوٹ:مضمون نگار کی رائے سے اتفاق کرنا کوئی ضروری نہیں ہے۔)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *