کوریگاؤں تشدد دلت سماج کے اتحاد کے خلاف ردعمل ہے

مہاراشٹر میںبھیما کوریگاؤں میں ہوئی تشدد کی واردات نے بڑے پیمانے پر پاؤں پسارنے شروع کردیے ہیں۔ دراصل یہ صرف ذہنی تناؤ کا نتیجہ ہے۔ چار سو سال قبل شواجی کے ونشج جب کمزور پڑے، توپیشواؤں نے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میںلے لی۔ ان پیشواؤں کو دبانے کے لیے اور چونکہ انھوں نے اپنے کو انگریز سامراج سے آزاد رکھنے کا اعلان کیا تھا، اس لیے انگریزوں نے ان پر حملہ کیا۔ بھیما کوریگاؤں نامی جگہ پر دونوں فوجوں کا سامنا ہوا اور اس جنگ میں پیشوا ہار گئے۔ انگریزوں کی فوج میںمہار سماج کے لوگ 90 فیصد تھے۔ مہار سماج مہاراشٹر میںدلت سماج کا ایک تیز طرار اور جارح سماج مانا جاتا ہے۔ دوسری طرف پیشوا برہمن سماج کا رہنما مانا جاتا ہے۔
بعد میںوہاںانگریزوں نے ایک ’وجے استمبھ‘ بنایا، جس پر مہار سماج کے لوگ اپنی جیت کا اظہار کرتے ہوئے یا جیت کا جشن منانے کے لیے بہت تھوڑی تعداد میںوہاںپر جاتے رہے۔ اب اس بار اُس واقعہ کی 200 ویں سال گرہ منانے کی بات ہوئی تو مہاراشٹر کے بہت سارے مقامات سے وہاں دلت سماج کے لوگ ، جن میںمہار سماج کے لوگوںکی تعداد زیادہ تھی، وہاں پہنچے۔ وہاں دلتوں کے نئے چہرے اور گجرات میںپچھلے الیکشن میںتحریک کی قیادت کرنے والے اس وقت گجرات اسمبلی میںرکن اسمبلی جگنیش میوانی کو بلایا گیا۔ ساتھ میںانھوںنے دو نوجوان لیڈروںکو اور بلالیا۔

 

 

 

 

 

 

 

اسے برہمن سماج نے یا ہم جسے کہیںکہ ہندوؤں کی اس کمیونٹی کے لوگوں نے جو اپنے علاوہ کسی کو بھی کسی طرح کا جشن مناتے ہوئے نہیںدیکھنا چاہتے، انھوں نے اس کی مخالفت کی۔ انھیں لگتا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے ان کے آتم سمان کو نقصان ہوتا ہے۔ آس پاس کے گاؤں کے اعلیٰ ذات لوگوں نے اسے انگریزوں کی جیت کے جشن کی شکل میںبدل دیا۔ انھوں نے دلتوں کے پروگرام کو آزادی کے خلاف اور غلام بنانے کی کوشش کرنے والے انگریزوں کی فتح کا جشن جیسا نام دے دیا۔ میںمہاراشٹر میں تھا۔ وہاں مجھ سے کئی اعلیٰ ذات کے لوگوں اور خاص طور سے اعلیٰ ذات کے صحافیوں نے اس سوال پر بات چیت کی۔ ان کی دلیل یہی تھی کہ یہ آزادی کی لڑائی لڑنے والے لوگوں کی خلاف جشن تھا۔ میںنے اس پوری نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کی تو مجھے پتہ چلا کہ دونوں طرف اپنے فخر کا ذہنی تناؤ ہے۔ اعلیٰ طبقے کے لوگ خاص طور سے برہمن سماج کے لوگ نہیں چاہتے کہ دبی ہوئی ذاتوں میںکوئی بھی ایسا جشن منائے، جس سے ان کے سماج میںاتحاد پیدا ہو۔ یہ خطرہ اعلیٰ ذات کے لوگوں کو ذہنی طور پر زیادہ پریشان کرتا ہے۔ دوسری طرف دلت سماج کے لوگ ایسے کسی بھی واقعہ کو ، جس میںان کے سماج کی بہادری جھلکتی ہو، اسے وہ اپنے سماج کو بیدار کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ اس لڑائی کو آزادی اور غلامی کی لڑائی کے طور پر نہیں دیکھتے ہیں۔ وہ کوریگاؤں کے واقعہ کو اس طبقے کی فتح کے روپ میں دیکھتے ہیں جو طبقہ کبھی جنگ کے لائق مانا ہی نہیںگیا اور جس کی سماج کے سب سے کمزور طبقے کے طور پروضاحت کی گئی ہے۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ اگر مہار انگریز کی فوج میںنہیں ہوتے تو انگریز وہ لڑائی کبھی جیت نہیں پاتے۔اسے وہ مہار سماج کی بہادری کے روپ میںدیکھتے ہیں۔
اترپردیش میںدلتوںکے سب سے محترم لیڈر شری کانشی رام سے میںنے ایک بار پوچھا تھا کہ جب آپ نے ڈی ایس 4- بنائی تھی تو آپ نے ایک نعرہ دیا تھا تلک، ترازو اور تلوار، ان کو مارو جوتے چار، ا س کے پیچھے کیا دلیل تھی؟ کیونکہ اب تک سماجی تبدیلی کی لڑائی میںوہ لوگ بہت آگے رہے ہیں جو دلت سماج کے نہیںہوا کرتے تھے۔ کانشی رام جی نے مجھے بتایا کہ اس کے پیچھے دو اسباب تھے۔ پہلا سبب یہ کہ جن لوگوںنے دلت سماج کے لیے لڑائی لڑی، ان لوگوںنے اس لڑائی میںدلت سماج کو کچھ سہولتیں ملیں،اس کا تو دھیان رکھا لیکن دلت سماج کو قیادت ملے اور سماج میںانھیںحصہ داری ملے،اس کے بارے میںانھوں نے کبھی آواز نہیں اٹھائی۔دوسرا، ان کا سماج پانچ ہزار سال کا استحصال زدہ سماج ہے۔ اس سماج کو اگر جگانا ہے تو اب تک سماج کو چلانے والے ، چاہے نظریہ کے روپ میںہو ںیا اقتدار کے روپ میں ،ان طبقوں کے خلاف ایک سخت ذہنی لڑائی چھیڑنے کی ضرورت تھی۔ تبھی دلتوں کی ذہنی بیڑیاں توڑی جاسکتی تھیں۔ کانشی رام جی کسی مسئلے میںبھی گمراہ نہیںتھے۔ انھوںنے صاف کہا کہ میںنے اسی لیے تلک، ترازو اور تلوار والا نعرہ دیا تھا کہ سماج چلانے والے ان تینوں طبقوں کے خلاف اگر ہم سخت آواز اٹھائیںگے تو ہمارے سماج میں شعور آئے گا اور یہی ہوا۔ان دنوں کانشی رام جی اپنی سبھاؤں میں کہتے تھے کہ یہاںپر جو برہمن، چھتریہ یا ویشیہ ہو، وہ سبھا چھوڑ کر چلا جائے۔ ایسا اس لیے کیونکہ وہ سچ برداشت نہیںکرپائے گا جو اس سبھا میںوہ کہنے جارہے ہیں۔ اس کا بہت بامعنی نتیجہ اترپردیش کے دلت سماج میںدیکھنے کو ملا۔ اترپردیش کا دلت سماج دھیرے دھیرے منظم ہونے لگا۔ جب کانشی رام جی نے بہوجن سماج پارٹی بنائی اور سیدھے سیاست میںمداخلت کرنے کا فیصلہ کیا، اس وقت پہلا الیکشن انھوں نے متوجہ کرنے کے لیے لڑا۔ دوسرا الیکشن انھوں نے اپنے لوگوں کو جتانے کے لیے نہیں بلکہ جو بھی سماج کا طاقتور طبقہ ہے، اسے ہرانے کے لیے لڑا اور تیسرا الیکشن انھوں نے اپنے سماج کے لوگوں کو جتانے اور اقتدار میں حصہ داری دلانے کے لیے لڑا۔ نتیجتاً مایاوتی جی اترپردیش میں تمام مخالفتوںکو جھیلتے ہوئے کئی بار وزیر اعلیٰ بنیں اور اترپردیش میں وہ ایک مضبوط سیاسی شعور والے سماج کی لیڈر ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

شاید یہی مہاراشٹر میںہورہا ہے۔ اس واقعہ کو دلتوں کی بہادری کے طور پر واضح کرنے کی کوشش بھیماکوریگاؤں سے شروع ہوئی۔ اب اس کا اثر مختلف مقامات پر دیکھا جاسکتا ہے۔ پورا مہاراشٹر تین جنوری کو بند رہاکیونکہ دلت لیڈر پرکاش امبیڈکر نے مہاراشٹر بند کی اپیل کی تھی۔ اس اپیل میںدلتوں کے سارے گروپ شامل ہوگئے۔ مجھے یہ جان کر بہت حیرت ہوئی کہ بی جے پی کے ساتھ جتنے بھی دلت گروپ ہیں، دلت تنظیمیںہیں یا دلت لیڈر ہیں،ان سب نے مہاراشٹر بند کو اپنی پوری حمایت دی، اقتصادی مددکی، لڑکوں کو تیار کیا، جنھوںنے تین تاریخ کو صبح سے بازار میںگھوم گھوم کر بازار بند کرایا ۔
اب وہ آگ اور اپنے سماج کو منظم کرنے کا شعور راجستھان میںپھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔ صرف راجستھان میں ہی نہیں، مدھیہ پردیش میںبھی وہ شعور پھیل رہا ہے۔ اس واقعہ سے پرکاش امبیڈکر کا نام نئے سرے سے لوگوں کے سامنے آیا ہے۔ وہ پانچ تاریخ کو بھوپال گئے ہوئے تھے اور آٹھ تاریخ کو دہلی آئے۔ انھوںنے دلتوں کی سبھی تنظیموںسے بات چیت کی۔ جس طرح دلت سماج کے بڑے بڑے جلوس نکل رہے ہیں، وہ یہ بتا رہے ہیںکہ اس واقعہ نے دلت سماج کومنظم کرنے میں ایک اہم رول ادا کیا ہے۔
دوسری مزیدار چیز یہ ہے کہ ایک لاکھ سے لے کر پانچ لاکھ تک کی تعداد میںلوگ جلوس میںآرہے ہیں لیکن اس کی ایک لائن ہمارے روشن خیال میڈیا میںنام نہاد قومی میڈیا میںنہیںدکھائی دے رہی ہے۔ حالانکہ اس کے ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر بہت تیزی کے ساتھ پھیلرہے ہیں۔ شاید یہ سرکار سوچتی ہے کہ جس طرح اس نے کسی بھی واقعہ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے موبائل، ٹیلی فون، انٹرنیٹ بند کرنے کی حکمت عملی بنائی ہے اور وہ کارگر ہورہی ہے تو اسی طرح اگر میڈیا میںاس واقعہ کو نہیںدکھایا جائے گا تو اس کے چلتے بھی ویسا ہی ہوگا اور اسے ویسا ہی فائدہ ملے گا۔ اس لیے نیشنل میڈیا میںکہیںپر بھی اس خبر کا چرچا تک نہیں ۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *