اسرائیل کے خلاف ہندوستان سمیت عالمی برادری یکجا

اسرائیل کی جانب سے بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت بنانے کا خواب یوں تو 70 سال پرانا ہے، تاہم اس نے خود کو تسلی دینے کے لیے سب سے پہلے 1980 میں یروشلم کو پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بل کے ذریعے دارالخلافہ قرار دیا، جس کی مذمت اس وقت نہ صرف عرب و مسلمان ممالک بلکہ امریکا سمیت دیگر ممالک نے بھی کی، مگرآج 37 سال بعد امریکا نے یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت بنانے کا اعلان کرکے دنیا بھر میں احتجاجی مظاہروں کا ماحول پیدا کردیا ہے ۔
قرار داد کا اثر
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ا س امریکی فیصلے کے خلاف ایک قرار داد کثرت رائے سے منظور کی گئی۔ اس قرار داد کے حق میں 128ممالک نے ووٹ دیا جبکہ35ممالک نے ا س قرار داد ووٹ میں حصہ نہیں لیا اور 9ممالک نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا ۔ مصر نے جنرل اسمبلی میں قرارداد کی اپیل کی تھی۔امریکہ نے اس کی سخت مخالفت کی مگر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دھمکی کے باوجود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے وہ قرارداد منظور کر لیا جس میں امریکہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا درالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان واپس لے۔حالانکہ اس علامتی قرارداد کا امریکہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔قانونی اعتبار سے امریکہ پر ہرگز لازم نہیں کہ وہ قرارداد پر عمل درآمد کو یقینی بنائے لیکن اس سے اسرائیل کے خلاف ایک مرتبہ پھر عالمی برادری یکجا ضرور نظر آئی ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی راجدھانی قرار دینے کے فیصلے نے پوری دنیا کو تین نظریہ میں بانٹ دیا ہے۔ ایک نظریہ خود امریکہ اور ان ملکوں کا ہے جنہوں نے جنرل کونسل میں امریکہ کے حق میں ووٹ دیا ۔ایسے ملکوں کی تعداد امریکہ سمیت محض 9 ہے ۔دوسرا موقف ان ملکوں کا ہے جنہوں نے ووٹنگ میں حصہ ہی نہیں لیا۔یہ نہ امریکہ کے ساتھ ہے اور نہ فلسطین کے ساتھ ۔ایسے ملکوں کی تعداد 35 ہے اور بقیہ 128ممالک کا موقف امریکہ کے برخلاف ہے ۔یہ پہلا موقع ہے کہ 192 رکنی جنرل کونسل میں عالمی برادری نے اتنی بڑی سطح پر امریکہ کے خلاف متحد ہوکر اسے الگ تھلگ کرکے چھوڑ دیا ہو۔
ہندوستان ،اسرائیل سے گہرے روابط کے باوجود اس معاملے میں فلسطین کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔ ہندوستان نے اپنی روایت اور اصولی موقف کو اپناتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ وہ امریکہ کے خلاف ووٹ کرے گا۔ حالانکہ مرکز میں جب سے بی جے پی کی سرکار آئی ہے ،ہندو اسرائیل کی قربتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل کی 60فیصد اسلحہ کا خریدار تنہا ہندوستان ہے ۔ قیام اسرائیل کے بعد سے اب تک کبھی بھی کسی ہندوستانی رہنما نے جب بھی اسرائیل کا دورہ کیا تو وہ فلسطین ضرور گئے ،مگرحالیہ برسوں میں ہندوستان کے تعلقات اسرائیل سے بہت گہرے ہوئے ہیں۔اس کا اثر تب دکھائی دیا جب جولائی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا، اس وقت انھوں نے ملک کی سفارتی روایت سے انحراف کرتے ہوئے فلسطین کا دورہ نہیں کیا ۔ ان کے اس قدم سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ حکومت کی پالیسی اب اسرائیل کی طرف مائل ہورہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

ہندوستان ٹرمپ کے ساتھ کیوں نہیں
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی قربتوں کے باجود آخر ہندوستان نے اسرائیل کا ساتھ کیوں نہیں دیا۔ اس کے بہت سے عوامل ہیں۔ لیکن تجزیہ نگاروں کی نظر میں اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ابھی حالیہ دنوں استنبول میں او آئی سی کی ایک کانفرنس فلسطین کے حق میں رائے قائم کرنے کے مقصد سے منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں تمام ملکوں نے فسلطین کے حق میں رائے دہی کی۔ اس کے علاوہ یوروپین ممالک بھی امریکی فیصلے کے خلاف بیانات دے رہے تھے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ عالمی برادری فلسطین کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے۔ ایسے میں اگر ہندوستان امریکی خیمے میں چلا جاتا تو اس کا بڑا نقصان ہندوستان کو یہ اٹھانا پڑتا کہ وہ عالمی برادری سے کٹ جاتا۔دوسرا یہ کہ عرب ممالک میں اس کے نہ صرف وسیع تجارتی روابط ہیں بلکہ ان ملکوں میں بڑی تعداد میں ہندوستانی ورکرس لاکھوں کی تعداد میںسعودی عرب، کویت، اردن، متحدہ عرب امارات، عمان اور دوسرے خلیجی ملکوں میں کام کر رہے ہیں۔ ان ملکوں سے یہ ہندوستانی شہری ہر برس 40 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم ملک بھیجتے ہیں۔ انڈیا کی غیر ملکی کرنسی حاصل کرنے کا یہ انتہائی اہم اور ٹھوس ذریعہ ہے۔ حالیہ برسوں میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دوسرے عرب ملکوں نے ہندوستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور وہ رفتہ رفتہ سب سے بڑے تجارتی پارٹنر بن کر ابھر رہے ہیں۔ اس خطے سے ہندوستان کا اقتصادی مفاد گہرا ہوتا جا رہا ہے۔اگر ہندوستان اپنے قدیم موقف سے ہٹ جاتا تو عرب ممالک سے اس کی دوری ہوجاتی جس کا اثر اس کی معیشت پر بہت گہرا پڑتا ۔ ہندوستان نے فلسطین کا ساتھ دے کر اپنی معیشت کو کمزور ہونے سے بچالیا۔
اس کی ایک اور بھی وجہ ہے ،وہ یہ کہ امریکہ نے ووٹنگ سے پہلے یہ دھمکی دی تھیکہ کچھ ممالک ہم سے ہزاروں لاکھوں ڈالر اور یہاں تک کہ اربوں ڈالر لیتے ہیں اور اس کے بعد بھی ہمارے خلاف ووٹ دیتے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں اس ووٹنگ کو، انھیں ہمارے خلاف ووٹ دینے دیں، ہم بہت سے پیسے بچا لیں گے، ہمیں پروا نہیں۔ اس کی اس دھمکی سے کچھ ممالک تو ڈر کر اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے ۔ان میں امریکہ، اسرائیل، گوئٹیمالا، ہونڈیورس، دی مارشل آئسلینڈز، مائیکرونیشیا، نورو، پلاؤ اور ٹوگو ہیں ۔جبکہ کچھ ممالک جو کہ امریکہ سے مدد لیتے ہیں پھر بھی انہوں نے امریکہ کو ووٹ نہیں کیا جن میں عراق اور مصر جیسے ممالک شامل ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ سب سے زیادہ امریکی امداد وصول کرنے والے 12 ملکوں کی فہرست میں اسرائیل کے علاوہ ایک بھی ملک ایسا نہیں جس نے امریکی حق میں ووٹ دیا ہو۔امریکی امداد وصول کرنے والے ممالک میں اسرائیل، مصر ، اردن، افغانستان، کینیا ، تنزانیا،یوگنڈا ، زمبیا،نائیجریا ، عراق اور پاکستان ہیں ۔جہاں تک ہندوستان کی بات ہے یہ نہ تو امریکہ کی مدد سے چلنے والا ملک ہے اور نہ ہی ان ملکوں میں سے ہے جس کا انحصار امریکہ پر ہے۔ اب اگر یہ امریکہ کو ووٹ دیتا تو ایسی صورت میں یہ پیغام جاتا کہ اس نے اپنی قدیم روایت سے ہٹ کر محض امریکی دھمکی میں آکر یہ ووٹ کیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

ہندوستان کا اصولی موقف
چونکہ ہندوستان ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے ۔ عالمی برادری سے ہٹ کر ووٹ کرنا اس کے حق میں نہیں ہوتا ،اس لئے اس نے ٖغور وفکر کرکے یہ فیصلہ کیا۔ اپنے اس عمل سے ہندوستان کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیل فلسطین تنازع کا ایک پرامن حل چاہتا ہے اور اس کے حل میں وہ دو مملکت کے قیام کے اصول میں یقین رکھتا ہے۔ جنرل اسمبلی میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جا کر ہندوستان نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کا اس تنازعے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ اصولی موقف پر قائم ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان دنیا کے 128 ملکوں کے ساتھ اقوام متحدہ کی قرارداد کے حق میں ووٹ دے کر یہ اشارہ دیا ہے کہ انڈیا کی مستقبل کی پالیسی کسی ملک کے دباؤ یا تعلقات کی نوعیت سے نہیں بلکہ اس کے اپنے سفارتی اور اقتصادی مفاد سے طے ہوگی۔
حالانکہ کچھ لوگ ہندوستانی موقف کی مخالفت کررہے ہیں ۔ بی جے پی کے سینئر رہنما سبرامنیم سوامی کا کہنا ہے کہ ’انڈیا نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ووٹ نہ دے کر بڑی غلطی کی ہے۔بی جے پی کے رہنما سواپناداس گپتا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’یا تو انڈیا اس اجلاس میں حاضر ہی نہ ہو اور یا پھر امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کو واپس لینے کے لیے پیس کی جانے والی اس قرارداد کی مخالفت کرے۔ ہمیں اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، وہ ہمارا دوست ہے۔ مگر ہندوستان نے ان تمام آراء کو نظر انداز کرکے اپنے روایتی موقف کو اختیار کرتے ہوئے فلسطین کے ساتھ کھڑا ہوگیا جس پر ہندوستان کی پذیرائی ہورہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *