کانگریس کو درپیش چیلنجز راہل کتنا تیار؟

راہل گاندھی کانگریس کے صدر بن گئے ہیں اور اس واقعہ سے اگر کوئی سب سے زیادہ خوش ہے تو ان کی ماں سونیا گاندھی ہیں۔ سونیا گاندھی کی شروع سے ہی یہ کوشش تھی کہ ان کے خاندان کی سیاسی وراثت ان کے بیٹے راہل گاندھی کو ملے۔ اگر چہ راہل گاندھی سیاست کو لے کر اتنے زیادہ متمنی نہیںتھے اور وہ ذمہ داری اٹھانے کے لئے کافی خواہش مند بھی نہیں تھے لیکن انہیں الیکشن لڑنا پڑا اور وہ پارلیمنٹ میں آئے۔ پارلیمنٹ میں آکر انہوں نے کوئی بڑا کمال نہیں کیا، لیکن سونیا گاندھی انہیں سیاست کی تعلیم دینے کی کوشش کرتی رہیں۔ انہیں پہلے مختلف سیلس کا انچارج بنایا ،خاص طور پر یوتھ کانگریس کا، جس میں انہوں نے یہ تجربہ کیا کہ یوتھ کانگریس کے صدر کا انتخاب نیچے سے چنے ہوئے نمائندہ کریں۔ وہ کانگریس کے سکریٹری جنرل رہے۔ اس کے بعد انہیں کانگریس کا نائب صدر بنایا گیا۔ کانگریس نائب صدر ہونے کے ناطے انہوں نے پوری پارٹی کو منظم کرنے کی، چلانے کی کوشش کی لیکن ان کا نقطہ نظر ایسا تھا جس سے پارٹی منظم نہیں ہو پائی اور ان کے نائب صدر رہتے ہوئے جتنی ریاستوں کے انتخابات ہوئے، وہاں کانگریس کو بری طرح ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس کے پیچھے صرف ایک وجہ رہی کہ راہل گاندھی انتخابات میں تو نظر آئے لیکن وہ تنظیم کو بناتے ہوئے نظر نہیں آئے۔
سب سے بڑا کام
بہار جہاں کانگریس مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہو سکتی تھی، راہل گاندھی نے اس سے پوری طرح اندیکھی کی۔ اتر پردیش جہاں کانگریس کھڑی ہو سکتی تھی وہاںراہل گاندھی نے ان لوگوںکو نظر انداز کیا جنہوں نے کانگریس کو کھڑی کرنے کی کوشش کی۔ کم و بیش یہی حال مدھیہ پردیش اور راجستھان کا رہا۔ کانگریس اس وقت اپنی زندگی کی سب سے نچلی سطح پر ہے اور اب جبکہ راہل گاندھی کو کانگریس کا صدر بنا دیاگیا ہے تو ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ریاستوںکے انتخابات یا 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے زیادہ کانگریس کو سارے ملک میں کھڑا کرناہے۔ چاہے وہ ہندی ریاست ہوں یا غیر ہندی ریاست ۔
کیا راہل گاندھی یہ توقع پوری کر پائیںگے؟کیا راہل گاندھی کانگریس کو کھڑا کر پائیںگے؟کیا راہل گاندھی بی جے پی کے سامنے چیلنجز رکھ پائیں گے؟اور کیا وہ ملک کے عوام کو یہ بھروسہ دلا پائیں گے کہ وہ وزیراعظم عہدہ کے سب سے اہل امیدوار ہیں؟ان سوالوں کے جوابات آنے والے وقت کے پردہ میں چھپا ہو اہے۔ لیکن ابھی جو کچھ ہو رہا ہے، اسے جاننا اس لئے بے حد ضروری ہے کیونکہ اس وقت کانگریس کے لوگ ہیں، نے کانگریس میں اپنی زندگی کے چالیس سال ،پچاس سال گزار دیئے ہیں، یہ کانگریس کو مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتے، لہٰذا جو لوگ کانگریس کو کھڑا کرنا چاہتے ہیں،ان لوگوں کی کیا سوچ ہے ،یہ ملک کو جاننا بہت ضروری ہے۔ ہم نے ایسے کئی سارے یا یوں کہیں کہ بہت سارے لوگوں سے بات چیت کی جو کانگریس کو کھڑا کرنے میں راجیو گاندھی کے وقت سے لگے ہوئے تھے۔ بلکہ کچھ تو ایسے ہیں جو اندرا کے وقت بھی یوتھ کانگریس اور کانگریس میں تھے، جنہوں نے راجیو گاندھی سے پہلے سنجے گاندھی کے ساتھ کام کیا، اب انہوں نے سونیا گاندھی کے ساتھ کام کیا، ان کے دماغ میںبہت سارے سوالات ہیں لیکن ان سوالوں پر آنے سے پہلے جس ایک بات نے مجھے حیران وپریشان کر رکھا ہے، وہ ہے گجرات کا الیکشن ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

اہم سوالا ت
راہل گاندھی کا ایک مشہور بیان گجرات الیکشن کے بعد آیا کہ ہم نے صرف تین مہینے گجرات میں محنت کی اور اس سے ہمیں اتنا اچھا نتیجہ دیکھنے کو ملا کہ بی جے پی 99پر سمٹ گئی۔ راہل گاندھی کے اس بیان کے اوپر مجھے بڑی حیرانی ہوئی۔ راہل گاندھی کو یہ پتہ تھا کہ گجرات کا الیکشن آنے والا ہے تو انہوں نے ایک سال پہلے سے گجرات میں محنت کیوں نہیں کی؟انہوں نے ایک سال پہلے سے گجرات کی تنظیم کے اوپر دھیان کیوں نہیں دیا؟انہوں نے ایک سال پہلے سے گجرات میں بوتھ لیول، بوتھ سطح کی کمیٹیاں بنے، اس کے بارے میں کیوں نہیں سوچا؟۔انہوں نے کیوں گجرات کانگریس کے عہدیداروں سے بات چیت نہیں کی اورسب سے بڑی بات یہ ہے کہ انہوں نے کیوں شنکر سنگھ وگھیلا کو کانگریس سے باہر جانے دیا اور ان کے ساتھ رابطہ نہیں رکھا؟راہل گاندھی صرف مل لیتے،شنکر سنگھ وگھیلا کی باتیں سن لیتے تو وہ کانگریس چھوڑ کر نہیں جاتے اور اگر سال بھر پہلے راہل گاندھی نے کانگریس تنظیم کے اوپر دھیان دیا ہوتا تو آج گجرات میں سرکار کانگریس کی ہوتی۔ راہل گاندھی نے کبھی کانگریس کے ان لیڈروں کے اوپر نکیل نہیں کسا جو بی جے پی کی سرکار کے ساتھ مل کر ٹھیکہ داری کر رہے تھے ،اپنی کمپنیاں چلا رہے تھے اور کانگریس کو منظم نہ بننے دینے کی جی بھر کے کوشش کررہے تھے۔ راہل گاندھی نے گجرات الیکشن کے بعد تین دن گجرات میں لگائے ، انہیں گجرات کی ہار کا تجزیہ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے تین دن گجرات کے دورے میں تقریر کی، لوگوں سے ملے لیکن اس موضوع پر کسی سے بات چیت نہیں کی اور سب سے بڑی حیرانی کی بات یہ ہے کہ راہل گاندھی نے اب تک یعنی اس شمارہ کے نکلنے تک ان لوگوں سے بات نہیں کی جنہوں نے گجرات الیکشن میں دو مہینے، تین مہینے کا وقت کانگریس پارٹی کے کہنے سے دیا۔ ان لوگوں میں دوسری ریاستوں کے کانگریسی لیڈر، ارکان پارلیمنٹ اور کانگریس کے چیف تھے جو گجرات بھیجے گئے۔ ان لوگوں سے راہل گاندھی نے اب تک ایک بھی میٹنگ نہیں کی اور نہ ان سے ہار کی وجوہات کے اوپر ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کانگریس کی پوری فوج گجرات میں لگ جاتی، ٹھیک ویسے ہی جیسے بی جے پی نے اپنے سارے ارکان پارلیمنٹ، تمام ایم ایل ایز ، تمام وزراء اعلیٰ اور اپنی ساری کابینہ کے علاوہ جو بھی جہاں کام کر سکتا ہے اسے کام کرنے کی پوری چھوٹ دی۔ اگر راہل گاندھی بھی سارے ارکان پارلیمنٹ کو، سارے ہارے ہوئے ارکان پارلیمنٹ کو، ریاستوں کے ایم ایل ایز کو گجرات میں لگادیتے تو شاید آج گجرات میں کانگریس کی سرکار ہوتی۔ راہل گاندھی نے یہ کیوں نہیں کیا ؟یہ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔حالانکہ میں یہ مانتا ہوں کہ راہل گاندھی میں اتنی سمجھ ہے، پھر انہیں ایسا کرنے سے کس نے روکا ۔شاید ان لوگوں نے جو کانگریس کے آنے والی تنظیم کے لیڈر بننا چاہتے ہیں۔
انتخابات والی ریاستیں
راہل گاندھی نے جن کاموں کو نائب صدر رہتے نہیں کیا ،انہیں اب یہ کام کرنا پڑے گا۔ سب سے پہلے مدھیہ پردیش کی بات لیں۔ مدھیہ پردیش میں گٹ بازی ہے۔ مدھیہ پردیش میں تین اہم لیڈر ہیں ۔سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ جو پچھلے کئی مہینوں سے’ نرمدا یاترا‘ پر ہیں اور جنہیں گجرات آنے کی دعوت ملی ہی نہیں ۔مادھو رائو سندھیا کے بیٹے جیوتی رادتیہ سندھیا اور کمل ناتھ ہیں۔ راہل گاندھی نے ایک میٹنگ بلائی جس میں دگ وجے سنگھ ،کمل ناتھ اور جیوتی رادتیہ سندھیا تھے اور افواہ نما خبروں کے حساب سے اس میں دگ وجے سنگھ نے کہا کہ اگر مدھیہ پردیش میں الیکشن جیتنا ہے تو جیوتی رادتیہ سندھیا کو نہیں بلکہ کمل ناتھ کو مدھیہ پردیش کی کمان سونپی جانی چاہئے اور انہیں وزیراعلیٰ کی شکل میں سامنے رکھنا چاہئے ۔انہوں نے شاید یہ بھی کہا کہ جیو تی رادتیہ سندھیا کا اثر ایک حلقہ میں ہے اور مادھو رائو سندھیا بھی زیادہ تر اسی حلقہ میں اپنا اثر رکھتے آئے ہیں۔ ان لوگوں نے کبھی پورے مدھیہ پردیش کا دورہ نہیں کیا۔ کمل ناتھ میں وہ صلاحیت ہے کہ وہ سارے لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑ سکتے ہیں۔ میں یہ بات اس معذرت کے ساتھ کررہا ہوںکہ افواہ نما خبر کانگریس کے ہی ذرائع نے مجھے دی ہے۔ دوسری طرف راہل گاندھی نے کمل ناتھ سے کہا کہ میں آپ کے نام کا جلد ہی اعلان کروں گا۔ کمل ناتھ آج تک اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں ۔
ایک موٹے اندازے کے مطابق راہل گاندھی جیوتی رادتیہ سندھیا کو مدھیہ پردیش میں کانگریس کا چہرہ بنانا چاہتے ہیں۔ جیوتی رادتیہ سندھیا سمجھدار ہیں۔انہوں نے اپنی کابینہ بھی اچھی طرح چلایا ہے ۔ لوگوں میں ان کے والد کی وجہ سے ان کا اثر بھی ہے لیکن وہ بی جے پی کایا شیو راج سنگھ چوہان کا مقابلہ مدھیہ پردیش میں کر سکتے ہیں، اس کے بارے میں مدھیہ پردیش کی کانگریس کے لوگوں میں ابھی تذبذب ہے۔ ان کے لئے دگ وجے سنگھ اور کمل ناتھ زیادہ مقبول ہیں جن کے ساتھ ان کا رابطہ لگاتار بنا رہتا ہے اور اگر کہیں تنظیم کھڑی کرنی ہوتو اس کی سب سے بڑی چابھی کارکنوں کے ساتھ لگاتار رابطہ بنائے رکھنے میںہے۔ دگ وجے سنگھ ’نرمدا یاترا ‘پر ہیں اور ان کے اجلاس میں کافی بھیڑ ہوتی ہے۔ ان کے ساتھ دو سے تین ہزار کے آس پاس لوگ لگاتار ساتھ چلتے ہیں لیکن دگ وجے سنگھ سے مدھیہ پردیش الیکشن کے بارے میں کوئی بات چیت ابھی تک راہل گاندھی کی نہیں ہوئی ہے۔ بلکہ راہل گاندھی کے یہاں سے یہ اشارے دیئے جارہے ہیں کہ راہل گاندھی دگ وجے کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ شاید مدھیہ پردیش کے لئے یہ اشارہ بہت اچھا نہیں ہے اور وہاں کانگریس شیو راج سنگھ سے کتنی سیٹیں چھین سکتی ہے ،بس اس کی لڑائی رہ جائے گی۔ شیو راج سنگھ کو وہ وزیر اعلیٰ عہدہ سے ہٹا سکے، اس کا کوئی ابھی تک امکان نظر نہیں آتا۔
راجستھان میں وسندھرا راجے کے خلاف عدم اطمینان ہے ، پارٹی میں بھی عدم اطمینان ہے، سنگھ میں بھی عدم اطمینان ہے اور ہر سطح پر کارکنوں کے بیچ بھی عدم اطمینان ہے ۔وسندھرا راجے کے اس بار کا طریقۂ کار بالکل ہی بدلا ہوا ہے، وہ عوام سے بہت دور ہیں۔ ان کے انتظامی رویے کو لے کر پورے راجستھان میں غصہ ہے۔ راجستھان میں پہلی بار کسان آندولن منظم ہوا ہے اور کسان وسندھرا راجے کے خلاف ہیں۔ اس صورت حال کا فائدہ کانگریس کو اب تک اٹھا لینا چاہئے تھا لیکن وہ اس کا فائدہ نہیں اٹھا پائی۔ راجستھان میں کانگریس کے دو بڑے لیڈر وں میں سے ایک اشوک گہلوت ہیں جو وہاں کے سابق وز یر اعلیٰ ہیں اور انہوں نے اپنی تنظیمی صلاحیت گجرات میں ثابت کیا ہے جس کے وہ انچارج تھے۔ راجستھان میں کانگریس کی کمان سچن پائلٹ کو سونپی گئی ہے اور شاید راہل گاندھی سچن پائلٹ کو وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا امیدوار بھی اعلان کر دیںگے۔ لیکن راجستھان کے کانگریسی کارکنوں سے بات چیت کرنے پر یہ بات سامنے آئی کہ سچن پائلٹ شاید وزیرا علیٰ بننے لائق اکثریت نہ لا پائیں۔ اس کے لئے ان کی نظر میں صرف اشوک گہلوت اہل آدمی ہیں جنہیں اگر پورے طور پر راجستھان کا الیکشن آپریٹ کرنے کی ذمہ داری کانگریس صدر دیتے ہیں تو وسندھرا راجے کے لئے الیکشن جیتنا لوہے کے چنے چبانے جیسا ہو جائے گا لیکن کانگریس کے اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ اشوک گہلوت کو اپنی جتنی بہتر کارکردگی دینی تھی وہ انہوں نے گجرات میں دے دیا۔ اب راہل گاندھی سچن پائلٹ کو ہی راجستھان کی کمان سونپنے والے ہیں۔ یہاں پر سچن پائلٹ کا امتحان شروع ہوتاہے کہ وہ راجستھان کے سبھی کانگریسی کارکنوں کو اپنے ساتھ کیسے کھڑا کرتے ہیں؟اب تک کانگریس کی ہار میں کارکنوں کی مایوسی اور جیت میںان کا جوش بہت اہم سبب رہا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

اترپردیش
اتر پردیش میںاسمبلی کے انتخابات نہیں ہیں لیکن 2019 کا لوک سبھاالیکشن ہونے والا ہے۔ اترپردیش میں کانگریس تاریخ کی سب سے کم تعداد میں ایم ایل اے جیت پائی ہے اور راہل اور اکھلیش یادو کے گٹھ جوڑ نے کوئی کمال کا کام نہیں کیا لیکن دونوں نے اعلان کیاہے کہ وہ لوک سبھا کا الیکشن ایک ساتھ لڑیں گے ۔ کانگریس اترپردیش میں 30 سیٹوں پر الیکشن لڑنا چاہتی ہے اور اکھلیش یادو سے چاہتی ہے کہ وہ 50سیٹوں پر الیکشن لڑیں۔ اکھلیش یادو 50سیٹوں پر الیکشن لڑنا پسند کریں گے ؟پہلا سوال۔ کیا کانگریس بہو جن سماج پارٹی کو سماج وادی پارٹی کے ساتھ کھڑا کرنے کی کوشش کرے گی۔ دوسرا سوال؟اگر راہل گاندھی یہ کمال کر لیتے ہیں کہ وہ اترپردیش میں بہو جن سماج پارٹی یعنی مایاوتی اور اکھلیش کو ایک ساتھ ملا لیتے ہیں اور اپنے الئے کم سیٹیں مان لیتے ہیں تو شاید یہ اترپردیش میں بی جے پی کو پہلے دن سے الیکشن کے نتائج کے بارے میں شک نہیں رہ جائے گا لیکن راہل گاندھی مایاوتی کو تیار کر پائیں گے یہ اگلا سوال ہے۔ اترپردیش کی تنظیم لونج پونج تنظیم ہے ۔عین موقع پر پچھلی بار اسمبلی الیکشن کے آس پاس راج ببر کو اترپردیش کا کانگریس صدر بنایا گیا۔ اترپردیش میں بری ہارہوئی ۔ کیونکہ راج ببر کچھ کر نہیں سکتے تھے۔سماج وادی پارٹی کے ہر لیڈر کے ساتھ ان کا چھتیس کا آنکڑا تھا لیکن راج ببر نے اپنی آنکھیں نیچے کرکے اس کڑوے گھونٹ کو بھی پی لیا لیکن انتخابی نتائج بہت خراب رہے۔ راج ببر دوبارہ اترپردیش کانگریس کا صدر نہیں بننا چاہتے تھے لیکن راہل گاندھی نے دوبارہ انہیں لوک سبھا انتخابات تک کے لئے کانگریس کا صدر نامزد کردیا۔ اترپردیش کے لیڈروں میں جو لوگوں کو منظم کر سکتے ہیں، کانگریس کے لئے ووٹ بڑھانے کا کام کرسکتے ہیں، ان میں سے کسی کے ساتھ راہل گاندھی کا کوئی رابطہ یا تعلق نہیں ہے۔ یہ سب ایسے لیڈر ہیں جنہوں نے سونیا گاندھی کے ساتھ جی جان سے کام کیا لیکن کسی بھی لیڈر کو اب تک راہل گاندھی نے اترپردیش کی پالیسی بنانے کے لئے اپنے یہاں نہیں بلایا۔ بلکہ بار بار وقت مانگنے پر بھی وہ لیڈروں کو وقت نہیں دیتے ہیں اور اتر پردیش کے کانگریس کارکنوں کا جو نہرو گاندھی خاندان کو اپنا سب سے بڑا سہارا مانتے ہیں یا ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتے ہیں، ان لوگوں کو سب سے بڑا دُکھ صرف اس بات کا ہے کہ راہل گاندھی انہیں ملنے کا وقت نہیں دیتے ہیں،ان کی بات ہی نہیں سنتے ہیں۔ اترپردیش کانگریس کارکنوں کا کہنا ہے کہ’’ وہ جب بھی راہل گاندھی سے گاہے بگاہے وقت ملتا ہے وہ پانچ منٹ کا ہوتاہے ۔ اس پانچ منٹ میں راہل گاندھی ان کی بات سنتے ہیں، بات سننے کے دوران وہ وہائس ایپ یا انٹر نیٹ پر رہتے ہیں اور کہتے ہیں اچھا اب آپ کنشک سے بات کر لیجئے یا جو آپ کا مسئلہ ہے لکھ کر دے دیجئے‘‘۔ سیاست میں یہ طریقہ شاید بہت کامیاب نہیں ہوتا۔ لیکن اتر پردیش میں ایسا ہی ہورہاہے۔ اترپردیش میں پہلی بار کانگریس کو 11فیصد ووٹ ملے تھے اور تقریباً 28 سیٹیں آئی تھیں۔ اس وقت کانگریس کے انچارج دگ وجے سنگھ اور پرویز ہاشمی تھے لیکن ان دونوں کو بے رحمی کے ساتھ اترپردیش سے باہر نکال دیاگیا اور اس کے بعد کانگریس کی عوامی مقبولیت گھٹتی چلی گئی ۔ سبب صرف ایک تھاکہ انچارج کو سیاست کی سمجھ ہونی چاہئے اور اسے کارکنوں کے لئے ہر وقت دستیاب رہنا چاہئے لیکن اترپردیش کانگریس کی کمان گجرات کے مدھو سدن مستری کو دی گئی۔ مستری کو اترپردیش کا کوئی تجربہ نہیںہے، کسی کارکن سے کوئی بات چیت نہیں ہے لیکن چونکہ راہل گاندھی ان پر یقین کرتے تھے اس لئے انہیں اترپردیش بھیج دیا اور ہر الیکشن میں کانگریس کو وہاں منہ کی کھانی پری۔ کانگریس کارکنوں میں کوئی جوش رہاہی نہیں۔
بنگال کانگریس بے حال ہے۔ اڑیسہ میںالیکشن آنے والا ہے ۔ وہاں بی جے پی تو نہیں جیتے گی ،بی جے ڈی جیتے گی ۔ لیکن جو سب سے مزیدار چیز ہے کہ جو گجرات میں ہوا، وہی اڑیسہ میں ہورہا ہے۔ جو لیڈر الیکشن جتا سکتے ہیں وہ لیڈر کانگریس چھوڑ کر باہر جارہے ہیں بلکہ صورت حال ایسی بنائی جارہی ہے کہ وہ لیڈر باہر چلے جائیں۔ شری کانت جینا جیسے لیڈروں سے بھی راہل گاندھی کا کوئی رابطہ نہیں ہے جو انہیں اڑیسہ کی واقعی صورت حال سے متعارف کرا سکتے ہیں۔
بہار
بہار میں جو راہل گاندھی کو سیٹیں آئیں یا کانگریس پارٹی کو سیٹیں ملیں، وہ سیٹیں نتیش کمار کیمہربانی سے آئیں۔کانگریس کا اس میں کوئی رول نہیں تھا۔ نتیش کمار نے پالیسی بنائی کہ وہ کم سیٹیں لڑیںگے جبکہ لالو یادو اس کے سخت خلاف تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کانگریس کو آپ 10 سیٹیں دے دیجئے، اس سے زیادہ دینے کی ضرورت نہیں ہے لیکن نتیش کمار نے کانگریس کو 40 سیٹیں دی۔ ان 40 سیٹوں میں کانگریس لگ بھگ 28 سیٹیں جیت گئی۔ لیکن وہ سیٹیں وہ تھیں جو نتیش کمار نے زبردستی کانگریس کو دی تھی۔کیونکہ انکا اندازہ تھا کہ کانگریس کے پاس جو پانچ فیصد ،چھ فیصد ووٹ ہیں ،اگر ہم اسے چھوڑ دیتے ہیں تو بی جے پی کو سیدھے سیدھے ہرانے کا کوئی طریقہ انہیں نہیں دکھائی دیتا۔ کانگریس کو وہ جیسے ہی شامل کرتے ہیں، بھلے ہی کانگریس کا پانچ فیصد ،چھ فیصد ووٹ ہو، ان کے جیت کے امکان پہلے دن سے بن جاتا ہے اور نتیش کمار نے یہی کیا۔ حالانکہ میڈیا نے اس کو غلط مانا اور میڈیا نے اس گٹھ بندھن کو بہت ترجیح نہیں دی۔ راہل گاندھی پرچار میں گئے۔ان کے اجلاس میں بھیڑ ہوئی لیکن لوگوں نے نتیشکمار کے کہنے پر کانگریس کو جتایا۔
اب راہل گاندھی کو یہ بھرم ہے کہ وہاں کانگریس اپنے دم کے اوپر جیتی۔ بیچ میں خبر تھی کہ کانگریس کے 14 ایم ایل اے ٹوٹ کر جنتا دل یونائٹیڈ میں شامل ہونے والے ہیں۔وہ واقعہ نہیں ہوا۔ لیکن واقعہ یہ بتاتا ہے کہ وہاں کے سب بڑے لیڈر نتیش کمار کے رابطہ میں ہیں اور وہ شاید لوک سبھا الیکشن میں کانگریس پارٹی کے ساتھ نہ ہوکر جے ڈی یو میں شامل ہوکر انتخاب لڑیں گے۔یہ بھی خبر تھی کہ 12ایم ایل اے جے ڈی یو میں شامل ہونا چاہتے تھے لیکن قانونی تعداد 14 ہونی چاہئے وہ دو ہونے میں تھوڑی دیر ہوئی اور تب تک نتیش کمار نے اس پورے معاملے کو روک دیا کیونکہ ان کا اور لالو کا رابطہ ٹوٹ گیا تھا اور وہ بی جے پی کے ساتھ جاکر سرکار بنا چکے تھے۔
دیگر ریاستیں
یہ کچھ ریاستوں کی سرگرمیاں ہیں جن میں جنوب کی ریاستوں کا ذکر ہم نے ابھی نہیں کیا ۔ کرناٹک میں الیکشن آنے والے ہیں۔ کرناٹک میں کانگریس کی سرکار ہے۔ لیکن وہاں پر کانگریس کے سامنے سب سے بڑا خطرہ اندرونی اختلاف کا ہے ۔ وہاں کانگریس میں زبردست گٹ بازی ہے اور ایچ ڈی دیو گوڑا کے ہاتھ میں بیلنسنگ پاور ہے ۔ لیکن کرناٹک کے وزیرا علیٰ اپنا سب سے بڑا دشمن دیو گوڑ اکو مانتے ہیں حالانکہ دیو گوڑا نے ہی سدھاربھیا کو بنایا ۔ انہیں وہاں سے احمد پٹیل اڑ کر کانگریس میں لے آئے جسے دیو گوڑا بھول نہیں پاتے ۔الیکشن کے بعد اگر بی جے پی یا کانگریس کسی کو اکثریت نہیں ملتی ہے تووہ اپنی اکثریت کے لئے یقینی طور سے دیو گوڑ اکی طرف ہاتھ بڑھائے گا۔ ایسے ممکنہ وقت کو دیکھتے ہوئے کرناٹک میں کانگریس کوئی منصوبہ تیار نہیں کر رہی ہے۔ مہاراشٹر میں کانگریس شرد پوار کے ساتھ ہے لیکن شرد پوار کے ساتھ جتنا ہونا چاہئے اتنا نہیں ہے۔
موجودہ صورت حال
دراصل یہ سارے سوالات دہلی کے 28 اکبر روڈ میں بیٹھے ہوئے روحانی پالیسی ساز بنائیں تب کچھ بنے، لیکن کانگریس میں کون پالیسی بناتا ہے، کون کس ریاست کا بوجھ لے رہا ہے، نئی ٹیم راہل گاندھی کی کیا ہوگی، ان سارے سوالوں کے اوپر بھی پردہ پڑا ہوا ہے ۔ ایک انداز ہ پرانے کارکن لگا رہے ہیں کہ اب راہل گاندھی بالکل نئی ٹیم لے کر کانگریس کو آگے بڑھائیںگے جو متوقع طور پر یوتھ ہوگا۔ ان لوگوں میں غیر ملک میں پڑھے ہوئے تجزیہ کار بڑی بری کمپنیوں کے ساتھ رشتہ رکھنے والے لوگ، انگریزی بولنے والے اورانگریزی چال ڈھال میں زندگی بتانے والے لوگ اہم ہوں گے۔ کانگریس کے وہ لوگ جو سونیا گاندھی اور راجیو گاندھی کے ساتھ کام کر چکے تھے، ان میں سے کسی کے ساتھ راہل گاندھی کا کوئی رابطہ اور رشتہ نہیں ہے ۔ وہ شاید ان پر اتنی توجہ بھی نہیں دیتے ہیں اور انہیں عزت بھی نہیں دیتے ہیں۔ کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ انہی لوگوں کی وجہ سے کانگریس کا یہ حال ہواہے۔ اس لئے وہ بالکل نئے لوگوں کو ساتھ لے کر آنا چاہتے ہیں۔ بھلے ہی ایسے لوگوں کو کانگریس کی تاریخ کا کم پتہ ہو، بھلے ہی ایسے لوگوں کو کانگریس کی روایت کا کم پتہ ہو۔بھلے ہی ایسے لوگوں کو جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی جدو جہد کے بارے میں بہت پتہ نہ ہو ۔ صرف سنی سنائی باتوں کا پتہ ہو لیکن راہل گاندھی ایسے ہی لوگوں کو لے کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں ۔یہ شبہ کانگریس کے سارے پرانے کارکنوں میں ہے۔ وہ سارے لوگ جو پالیسی بناتے تھے، اس وقت حاشئے پر ہیں یا یہ کہیں کہ ان کا کوئی سیاسی وجود ہی نہیں ہے، ان سے کوئی بات ہی نہیں کرتا ہے۔
راہل گاندھی کی ایک سب سے بری کمزوری ان کا قلعہ کے اندر بند ہو جانا ہے۔ وہ صدر بننے سے پہلے ہر تیسرے مہینے غیر ملک جاتے تھے۔ ابھی بھی میری پکی جانکاری کے حساب سے راہل گاندھی نے یہ کہہ رکھاہے کہ ہر تین مہینے کے بعد ایک مہینے کے لئے انہیں چھٹی پر غیر ملک جانا ہے۔ وہ چھٹی چھٹی نہیں کہلائے گی لیکن وہ ایک مہینے غیر ملک میں ہی رہیں گے اور کام کریں گے جبکہ یہاں اپریل اور مئی سے الیکشن کی سرگرمی شروع ہو جائے گی۔ ریاستوں کے الیکشن کی سرگرمی شروع ہو جائیگی۔ 2018 میں پانچ ریاستوں کے انتخابات ہیں۔ان کا کتنابڑا کام ہے لیکن شاید راہل گاندھی اس کام کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں، یہ اس خبر کی توثیق کے اوپر منحصر ہے کہ وہ ملک میں رہیں گے یا ایک مہینے کی چھٹی کے لئے ملک کے باہر جائیں گے۔
دوسرا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ راہل گاندھی قلعہ کے دروازہ کھولتے ہیں یا نہیں کھوتے ہیں؟ ملک بھر کا کارکن ان سے ملنا چاہتاہے اور مل کر کمزوریوں ، مضبوط پالیسیوں کے بارے میں بات کرنا چاہتاہے۔ راہل گاندھی کو شاید اس بات کا پتہ نہیں کہ ان کی دادی اندرا گاندھی لگاتار کارکنوں سے ملتی تھیں اور جو بڑے مخالف گٹ کے کارکن ہوتے تھے ،ان سے تو ضرور ملتی تھیں اور جب وہ ان سے ملتی تھیں تو ان کی باتیں خاموش ہوکر سنتی تھیں۔ اسی میں انہیں پتہ چل جاتا تھاکہ ریاست میں کون لیڈر کام کر رہا ہے ،کون نہیں کررہاہے اور خامی کہاں ہے ،کمزوری کہاں ہے ؟ اسے کیسے طاقت میں بدلنا چاہئے ۔یہی کام کافی دنوں تک راجیو گاندھی نے کیا۔ لیکن جس دن سے راجیو گاندھی نے یہ کام چھوڑ دیا ،اسی دن سے وہ اپنی بے اثری کی طرف بڑھنے لگے ۔راہل گاندھی کو اپنی دادی سے یہ سیکھنا چاہئے کہ جو ان کا کٹر مخالف ہوتا تھا،اسے بھی وہ اپنے ساتھ لانے میں کوئی کوشش باقی نہیں رکھتی تھیں۔ راہل گاندھی کو وریندر پاٹیل کا قصہ نہیں پتہ ہوگا۔ چکمگلور میں ان کے خلاف انہوں نے الیکشن لڑا تھااور بعد میں اندرا گاندھی انہیں اپنے ساتھ اپنی پارٹی میں لے آئیں ۔ایسی بہت ساری مثالیں ہیں۔
راہل گاندھی کے لئے اگر نئی پالیسی سیکھنی ہو تو اس کا ایک ہی گر ہے کہ اپنے قلعہ کے دروازے کو کارکنوں کے لئے کھول دیجئے۔ جو کارکن آپ سے کہتے ہیں اسے سنئے اور ان سارے لوگوں کو کام میں لگائیے جو لوگ کام کرنے لائق ہیں، ان میں چاہے 50سال کے لوگ ہوں ،چاہے 60سال کے لوگ ہوں یا چاہے 30سال کے لوگ ہوں اور خاص طور پر ان کو تو ضرور لگائیے جو آپ کی پارٹی سے رکن پارلیمنٹ رہے ہیں۔ بھلے ہی وہ اس وقت ایم پی ہوں یا ماضی میں رہے ہوں۔اگر ان سارے لوگوں کو کام دینے کی پالیسی یا ان سارے لوگوں کو جوش دینے کی پالیسی اگر کانگریس صدر یا ان کے ساتھیوں کو نہیں پتہ ہے تو پھر کانگریس 2019 کے الیکشن میں عوام کے رحم و کرم پر تو سیٹیں جیت سکتی ہے لیکن اپنے کارکنوں کے بل بوتے پر ووٹ کو گھر سے نکال کر پولنگ بوتھ تک نہیں لا سکتی۔ یہی سب سے بڑی کمزوری کانگریس کی گجرات میں تھی اور اسی کمزوری کا سامنا کانگریس کو 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں اور راجستھان ، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ ان سب ریاستوں کے الیکشن میں دیکھنا پڑ سکتا ہے ۔ راہل گاندھی کے سامنے چیلنجز ہی چیلنجز ہیں۔ اگر ان چیلنجز کا سامنا وہ کانگریس نائب صدر رہتے ہوئے کر لیتے تو آج ایک نیا آسمان ان کے سامنے ہوتا ۔ انہیں ایک چیز اور سیکھنے کی ضرور ت ہے جو گجرات میں انہوں نے نہیں سیکھی۔ وزیراعظم نریندر مودی ہر دن ایک نیا ایشو اچھالتے تھے اور راہل گاندھی اس ایشو کا جواب تلاش کرنے میں لگ جاتے تھے۔ اگر راہل گاندھی صرف ایک ایشو پر اڑے رہتے کہ میں نریندر مودی کے سارے سوالوں سے متفق ہوں لیکن مجھے وہ صرف یہ بتائیں کہ گجرات میں کتنے اسکول غریبوں کے لئے بنے، کتنے اسپتال غریبوں کے لئے بنے، کہاں وکاس ہوا، کیسا وکاس ہوا، کسانوں نے خود کشی کیوں کی، جو ان کا شروع کا ایشو تھا لیکن راہل گاندھی نے اسے نریندر مودی کے جال میں پھنس کر جلد ہی چھوڑ دیا۔ راہل گاندھی کو اپنے ایشو کے اوپر اپوزیشن کو کیسے لایا جائے، اسے سیکھنا پڑے گا اور اس معاملے میں ملک میں اگر کوئی پہلا سب سے بڑا سمجھدار لیڈر رہاہے تو وہ اندرا گاندھی تھیں۔ وہ ہمیشہ اپوزیشن کو اپنے اکھاڑے میں لے آتی تھیں۔انہوں نے کبھی اپوزیشن اکھاڑے میں پھنس کر شکست نہیں کھائی۔ اسی لئے وہ الیکشن نہیں ہاریں ۔ 1977 میں وہ الیکشن ہاریں لیکن اس الیکشن کی ہار نے انہیں ایک نئی اندارا گاندھی بنا کر پیش کیا جو 1980 میں دوبارہ اقتدار میں آگئیں۔ راہل گاندھی کو اس کھیل کو سیکھنا پڑے گا۔ ان ایشوز کو سمجھنا پڑے گا کہ کیسے اپوزیشن کو اپنے اکھاڑے میں لاکر یا دوسرے لفظوں میںکیسے وزیر اعظم نریندر مودی کو یا بی جے پی کو اپنے ایشو کے اکھاڑے میں لاکر لڑنے کے لئے مجبور کریں نہ کہ ان کے اکھاڑے میں کود پڑیں۔ اگر آپ بی جے پی کے اکھاڑے میں کود کر لیکشن لڑیںگے تو اس کے جیتنے کا امکان بہت نہیں رہے گا اور اگر آپ بی جے پی کو اپنے اکھاڑے میں لانے میں کامیاب ہو گئے تو پھر کہنا ہی کیا اور یہی چیلنج راہل گاندھی کے سامنے ہے اور یہی سبق بھی انہیں لینا چاہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

راہل گاندھی کے ساتھ شروع سے کچھ مسائل چلے آرہے ہیں۔ ان سے وہی مل سکتاہے جو ان کے پسند کے آدمی ہوں اورطے بھی وہی کرتے ہیں کہ کس سے ملنا ہے ۔ شہزاد پوناوالا ان کے رشتہ میں بھائی لگتے ہیں۔ شہزاد پوناوالا نے کافی وقت تک میڈیا میں بی جے پی کے ترجمانوں کا سامنا کیا اور جارحانہ ڈھنگ سے کامیابی کے ساتھ سامنا کیا۔ شہزاد پوناوالا راہل گاندھی سے ملنا چاہتے تھے لیکن راہل گاندھی نے انہیں ملنے کا وقت نہیں دیا جس کا نتیجہ ہوا کہ شہزاد پوناوالا گجرات الیکشن کے وقت جب راہل گاندھی کو کانگریس صدر بننا تھا،ان کے سامنے کھل کر آ گئے اور انہوں نے انہیں اسپانسر صدر کہا نہ کہ منتخب جبکہ راہل گاندھی قانونی طور پر سب کے اتفاق رائے سے بغیر کسی مقابلے کے کانگریس کے صدر چنے گئے تھے۔ شہزاد پوناوالانے اس کے خلاف ایک مہم چلا دیاتھا۔ ان کے سگے بہنوئی رابرٹ واڈرا آٹھ مہینے سے راہل گاندھی سے ملنا چاہتے تھے لیکن راہل گاندھی انہیں ملنے کے لئے وقت نہیں دے رہے تھے۔ نتیجے کے طور پر رابرٹ واڈرا نے شہزاد پوناوالا کو اکسایا ور انہیں راہل گاندھی کے خلاف بیان دینے کے لئے تیار کیا۔ وہ خبر اور کہیں سے نہیں، کانگریس کے اندر سے ہی آئی۔ رابرٹ واڈرا کی باضابطہ ملاقات جب راہل گاندھی صدر عہدہ کی حلف برداری لے رہتے تھے اس وقت ہوئی جب وہ اپنی بیوی پرینکا گاندھی کے ساتھ حلف برداری تقریب میں پہنچے۔
تیسرا سوال پرینکا گاندھی کا ہے۔ کانگریس کے کارکن پرینکا گاندھی کو قائد کی شکل میں دیکھنا چاہتے تھے لیکن سونیا گاندھی راہل گاندھی کو پورا اقتدار سونپنا چاہتی تھیں۔ شاید راہل گاندھی کو بھی یہ لگتا تھاکہ اقتدار کے دو مرکز نہیں ہونے چاہئے۔ پرینکا گاندھی اگر عام ممبر کے طور پر بھی کانگریس کا کام کرتی ہیں تو بھی وہ اقتدار کا مرکز بن جائیںگی ۔ پرینکا گاندھی کانگریس کے مین اسٹریم میں آکر تنظیم کا کام کرنا چاہتی یا نہیں چاہتی ،یہ تو نہیں پتہ لیکن جو لوگ پرینکا گاندھی سے ملتے ہیں وہ یہ بتاتے ہیں کہ پرینکا گاندھی کانگریس کے لونج پونچ تنظیم سے بہت ناراض ہیں اور وہ لوگوں کو یہی کہہ رہی ہیں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ظاہر ہے ٹھیک تو ہو ہی جائے گا ۔نہیں ٹھیک ہوگا تو سب برباد ہو جائے گا لیکن پرینکا ابھی حال فی الحال کانگریس قیادت کا حصہ نہیں بن رہی ہیں۔
ایک اور سوال ورون گاندھی کا ہے۔ آج سے چھ سال پہلے پرینکا گاندھی اور راہل گاندھی نے ورون سے ایک ذاتی تقریب میں الگ بیٹھ کر تجویز رکھی تھی کہ ہم مل کر کانگریس کو کھڑا کریں اور سارا خاندان ایک ساتھ ہوں۔ کیونکہ لوگ گاندھی خاندان کو ایک ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس وقت ورون گاندھی نے اس بات کو ہنس کر ٹال دیا تھا۔ لیکن پرینکا لگاتار ورون گاندھی پر اس کے لئے دبائو ڈالتی رہیں۔ بہت دنوں تک پرینکا گاندھی اور ورون گاندھی کے بیچ بات چیت ہوتی رہی لیکن کچھ بات بنی نہیں۔
اب جب راہل گاندھی کانگریس کے صدر ہو گئے ہیں تو کانگریس کے اندر ایک تیز چرچا چل رہی ہے کہ کیا اب راہل گاندھی ورون گاندھی کو کانگریس میں لائیںگے یا ورون گاندھی بی جے پی میں رہ کر مستقبل میں سابق رکن پارلیمنٹ کہلائیںگے۔ ورون گاندھی ان دنوں تیزی کے ساتھ ملک کی یونیورسٹیوں میں اور کالجوں میں نوجوانوں سے رابطہ کررہے ہیں اور نوجوان انہیں سننے بھی بڑی تعداد میں آرہے ہیں۔ حالانکہ ورون گاندھی پر میڈیا کوئی توجہ نہیں دے رہاہے لیکن ورون گاندھی جہاں جارہے ہیں وہاں کے میڈیا میں اپنی خاصی جگہ بنا رہے ہیں۔ ورون گاندھی کے رشتے بی جے پی کی قیادت کے ساتھ بہت اچھے نہیں ہیں اور شاید قیادت بھی یہ مان چکی ہے کہ ورون گاندھی دیر سویر بی جے پی چھوڑنے کا ذہن بنا سکتے ہیں لیکن ان سب سے الگ سوال یہ ہے کہ کیا راہل گاندھی ورون گاندھی کی کانگریس میں انٹری کو اپنی رضامندی دیں گے ؟یہ سوال ہے اور اس سوال کا جواب آنے والے مورچہ میں مل جائے گا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *