ٹوٹے وعدوں اور دھوکوں نے کشمیریوںکو مایوس کیا ہے

انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے سابق ڈائریکٹر دنیشور شرما کی اکتوبر میں مذاکرات کار کے طور پرتقرری ایسے وقت میں ہوئی تھی جب جموں و کشمیر کے تئیں حکومت ہند کا نقطہ نظر سخت تھا۔ شرما کی تقرری ایک خوشگوار حیرت کے روپ میں ہوئی تھی۔ حالانکہ سیاسی طور پر اس تعطل کو توڑنے کے لیے بہت زیادہ وعدے نہیں کیے گئے تھے۔ پھر بھی ریاست میں بہت سے لوگ ، خاص طور سے کشمیر کے لوگ جو سیاسی عدم اطمینان کا مرکز ہیں، نے مثبت ردعمل دیا۔
ابھی تک شر ما نے ریاست کا تین بار دورہ کیا اور کئی لوگوں سے بات کی، جس میںنیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ، کانگریس اور بی جے پی کے لیڈر شامل ہیں۔یہ پارٹیاں عام طور پر ہندوستان کو چیلنج نہیں دیتیں۔ شرما نے اس جنوبی کشمیر کا بھی دورہ کیا جو ہند مخالف سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ انھوں نے نوجوانوں سے ملاقات کی۔ ان کا تازہ ترین سفر 23 دسمبر کو شروع ہوا اوروہ جنوبی کشمیر اور جموں پر مرکوز تھا۔ انھوںنے دوہرایا کہ وہ کسی سے بھی بات کرنے کے لیے تیارہیں اور امن واپس لانا چاہتے ہیں۔
جب شرما کا نام جموں و کشمیر کے لیے مذاکرات کار کے طور پر اعلان کیا گیا تھا تب انھوں نے جو دعوے کیے تھے، وہ اصلیت سے دور تھے۔ وہ بھی تب جب شرما اس آئی بی کے چیف رہ چکے ہیں، جو کشمیر مسئلے کے لیے ذمہ دار رہا ہے۔ شرما نے کشمیر کو شام نہ بنانے کی بات کی۔ لیکن یہ مضحکہ خیز ہے،کیونکہ سیریا اور کشمیر کے بیچ کوئی موازنہ ہی نہیںہے۔ سرکار خود نارمل حالات کا دعویٰ کرتی ہے۔ایسے میںیہ موازنہ ٹھیک نہیںہے۔
مذہب کی بنیاد پر نوجوانوں کے ریڈیکلائزیشن کی بات کرنے سے بھی کشمیرکے بارے میںغلط تصوربنتا ہے۔ حالانکہ تقرری کے بعد اور لوگوں تک پہنچنے کے دو مہینے بعد شاید شرما کو یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ صرف بین الاقوامی مدعوں کے بارے میںبات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ پلوامہ میںلوگوںسے ملاقات کرنے کے بعد انھوں نے نامہ نگاروںسے کہا کہ میں نے بہت سے لوگوں سے ملاقات کی اور میں اپنے دورے سے مطمئن ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ میں اس دورے کو مثبت بتا سکتا ہوں۔
دورے کا فائدہ
اب تک ان کے دورے کا اہم حصہ یہ ہے کہ 4500 نوجوانوں کو معافی دینے کی بات وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہی ہے ۔ اسے شرما کی سفارش کے طور پر دیکھا گیا۔ 2016 میںپولیس نے لگ بھگ 11,500 نوجوانوںکے خلاف کیس درج کیاتھا۔ معاملوںکو واپس لینے کے فیصلے کو متاثرہ خاندانوں کے ذریعہ مثبت اشارے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔حالانکہ لوگ اس فیصلے کے نفاذ کے بارے میںالجھن میںہیں کیونکہ ایک ادارے کی شکل میں ریاست کی معتبریت کم سطح پر ہے۔ 2010 میں اس وقت کی عمر عبداللہ سرکار نے نوجوانوں کے لیے اسی طریقے سے معافی کا اعلان کیا تھا لیکن فیصلہ پوری طرح سے زمین پر لاگو نہیں کیا گیا تھا۔ اس طرح کے ا قدام شرما کے لیے اچھی بات ہوسکتے ہیں لیکن جس شخص کے پاس ماضی کی مثال ہو، وہ آگے کیسے بڑھے۔
شرما خود اپنے ماضی سے واقف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے 5 نومبر کو پی ٹی آئی سے کہا کہ وہ چاہیںگے کہ ان کے بارے میں کوئی فیصلہ ان کے کام کو لے کر ہو۔ انھوں نے کہا کہ جب میں پہلی بار وہاں گیا تھا تب سے آج تک کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں ایک نئے کشمیر ، ایک پرامن وادی بنانے میںاشتراک کرنے کا اہل ہوسکوںگا۔ میرے پاس جادو کی چھڑی نہیںہے لیکن میری کوششوں کو ایمانداری کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ ماضی کے چشمے سے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

بات چیت کا دائرہ
مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے دعویٰ کیا کہ شرما کسی سے بھی ملنے کے لیے آزاد ہیں۔ کوئی پہلے سے شرطیں نہیںبھی نہیںتھیں۔ صدر جمہوریہ کے ذریعہ جاری ٹرم آف ریفرنس میںانھیںکیبنٹ سکریٹری رینک دیا گیا ہے۔ لیکن مودی سرکار کے ایک وزیر نے یہ کہہ کر شرما کے دائرے کو محدود کردیا کہ کشمیر نام کا کوئی مدعا ہے ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا لگا کہ یہ حکومت ہند کی ادھوری پہل تھی اور امریکہ کے وزیر خارجہ راکس ٹلرسن کے ہندوستان دورے سے جڑی ہوئی تھی۔ چونکہ امریکہ ہندو پاک کے بیچ بگڑتے رشتوں کے بارے میںفکر مند ہے اور کشمیر کو ایک فیکٹر کی شکل میںدیکھتا ہے، اس لیے شرما کوامریکی وزیر خارجہ کے ہندوستان آنے سے 24 گھنٹے قبل مذاکرات کار مقرر کرکے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ ہم کشمیریوں سے بات کررہے ہیں۔ چونکہ مودی گھریلو مورچے پر نوٹ بندی کی ناکامی، جی ایس ٹی جیسے مدعے سے جوجھ رہے تھے، اس لیے وہ کشمیر کی شکل میں ایک اور مدعا نہیںچاہتے تھے۔
یہ دھیان رکھنا دلچسپ ہے کہ اس پوری قواعد کا مقصد کشمیر اور اس کے مسائل کو سمجھنا ہے۔ 70 سال بعد بھی کشمیر ی کیا چاہتے ہیں، یہ پتہ لگانے کی کوشش مضحکہ خیز ہے۔ کشمیر کی لڑائی کو سمجھنا اور ایک سیاسی حل تلاش کرنے کی جگہ بی جے پی پچھلے تین سال میںکشمیر کو سیکورٹی مسئلے کی طرح دیکھ رہی ہے۔ یہی اصل مسئلہ ہے۔ ایک وقت کشمیر یقینی طور پر ایسا دکھائی دے رہا تھا جیسے جنگ زدہ ہو۔ مقامی انتہا پسندوں کی تعداد میںاضافہ اور مڈبھیڑ ریگولر ہوگئی تھی۔ ابھی بھی مسلح لڑائی میں کمی کے اشارے نہیں ہیں۔ حالانکہ سرکار کا کہنا ہے کہ 282 دہشت گرد کشمیر میں سرگرم ہیں۔ پچھلے کچھ سالوں میںمسلح لڑائی کو سماجی منظوری ملی جو زیادہ خطر ناک ہے۔
حالانکہ دہشت گردی ایک حقیقت ہے ، اس کے سیاسی اسباب کو مسترد نہیںکیا جاسکتاہے۔ اس حقیقت کی مسلسل نامنظوری نے تعلیم یافتہ نوجوان کشمیریوں کے لیے اسے اور زیادہ دلچسپ بنا دیا ہے ۔ شرما کی تقرری کا مطلب یہ ہے کہ دہلی نے یہ قبول کیا ہے کہ صرف طاقت سے کام نہیںچلنے والا۔ حالانکہ علیحدگی پسندوں تک پہنچنے کے لیے ایک سنجیدہ کوشش ہے لیکن یہ بہت حد تک غیر متعلقہ بن گئی ہے کیونکہ بات چیت کے لیے یہ کہنا کہ اگر مرضی ہوتو آکر بات کرلیجئے۔ دنیا میںکہیںبھی لڑائی کے حل کے لیے اس طرح سے بات نہیںکی جاتی۔ حریت سے بات چیت اس طرح کی پہل کے اعتبارکے لیے اس لیے ضروری ہے کیونکہ حریت سیاسی عدم اطمینان کی نمائندگی کرتی ہے۔ لیکن اس سے پہلے سرکا ر نے حریت کے درمیانی لیڈروں کے خلاف ٹیرر فنڈنگ کے نام پر این آئی اے کو لگادیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت ہند انھیںدباؤ میںلے کر بات چیت کے لیے مجبور کرنا چاہتی ہے۔
حریت کی پریشانی
نئی دہلی کی سیاسی بات چیت میں جہاں سنجیدگی نہیںدکھائی دیتی، وہیںحریت کانفرنس (جو اب سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک کی مشترکہ قیادت میں ہے) کے ذریعہ اس حالت سے نمٹنے کے لیے ضروری کارکردگی میںکمی دکھائی دے رہی ہے۔
تین لیڈروں نے پوی طر ح سے بات چیت کو خارج کردیاہے جبکہ وہ خود بات چیت کو ضروری بتا چکے ہیں۔ میز پر آنے کے لیے کسی رسمی دعوت کے بغیر، انھوں نے شرما سے ملنے سے منع کردیا۔ ان تینوں لیڈرو ں کو اس بات چیت میںکشمیری لوگوںکی نمائندگی کرنی چاہیے تھی۔ یہاںپاکستان کے اثر سے انکار نہیںکیا جاسکتا ہے۔ بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ حریت لیڈروںکے ذریعہ لیے جانے والے فیصلے میںاسلام آباد کا رول ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کی کوئی تصدیق نہیں ہے لیکن اس بارے میںکو ئی شک نہیںہے کہ پاکستان کشمیر میںایک رول نبھا رہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دہلی نے جموںو کشمیر کے سیاسی مسئلے کو پختگی سے دیکھا ہے۔ اب حریت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ کیسے اس میںخود کو فٹ کرتے ہیں۔
بات چیت کے عمل میںبھروسہ رکھنے والوں سے بھی شرما کو کیوں گرم جوشی سے ردعمل نہیں مل رہا ہے؟ اس کی ایک تاریخ ہے۔ 1947 سے نئی دہلی نے کشمیر کے لیے مذاکرات کاروں کو مقرر کیا اور آخر میں ہروعدے کو توڑدیا۔ ٹوٹے وعدوں اور دھوکوں کے اس سلسلے نے لوگوں کو مایوس کیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *