باکسنگ وحشیانہ مگرمقبول عام کھیل

مْکّے بازی یا مْکّا بازی (باکسنگ)، دراصل ایک مبارزی کھیل ہے جس میں عموماً مماثل وزن کے دو حریف، گھونسوں سے ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہیں۔یہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے وحشیانہ مگر دلچسپ کھیل ہے۔ قدیم اولمپک کھیلوں میں اسے کافی مقبولیت حاصل رہی ہے۔ اس کھیل کی اہمیت اور شہرت کا اندازا اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کھیل کے اصول و ضوابط 1743ء ہی میں انگلستان میں عالی سطح پر بنانے پڑے ۔ مکے بازی آجکل درونِ در العاب ( Indoor Games ) میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ کھیل رنگ کے اندر کھیلا جاتا ہے۔ جو 12 تا 20 مربع فٹ تک ہو سکتا ہے۔ اس کھیل میں حصہ لینے والے مکے باز اپنے ہاتھوں پر خاص دستانے چڑھا کر ایک دوسرے پر اصولوں کے مطابق حملہ کرتے ہیں جبکہ مخالف فریق کے جسم پر مختلف حصوں پر لگنے سے مختلف پوائنس ملتے ہیں۔ مخالف کے منہ پر مکا لگنے کی صورت میں مکے باز کو ایک پوائنت ملتا ہے۔دلچسپ بات تویہ ہے کہ یہ کھیل مردوں اورخواتین دونوں میں الگ الگ مقبول ہے۔یہ کھیل ہمارے ملک ہندوستان میں بھی کھیلاجاتاہے۔
موجودہ دور میں مکے بازی کے دو انداز ہیں:پیشہ ورانہ مکے بازی میں کھلاڑی منہ پر حفاظتی ماسک نہیں پہن سکتے۔غیرپیشہ ورانہ مکے بازی میں کھیل کے دوران کھلاڑی اپنے منہ پر حفاظتی ماسک چڑھانے کے مجاز ہوتے ہیں۔
سبھی مکے بازوں کیلئے ملائم تلی والے جوتے ضروری ہوتاہے۔تاکہ پیروں پرغلطی سے اورجان بوجھ کردوسرے کھلاڑی کا پیرپڑجانے سے کم سے کم تکلیف ہو۔جوتے کی بناوٹ کھلاڑی پرمنحصرہوتاہے،جن میں سے زیادہ ترکھلاڑی آرام پانے کیلئے بناوٹ والی ربرکی تلی کوپسند کرتے ہیں اوربہت سے باہری کھلاڑی کم رگڑ اورہموارنقل وحرکت کیلئے چکنی تلی کوترجیح دیتے ہیں۔
کچھ لوگوں کی زندگی مکے بازی کے اردگردکھومتی ہے اوروہ مانتے ہیں کہ پیشے ورمکے بازبننے کیلئے بہت کچھ کھوناپڑتاہے۔اگرآپ ان میں سے ایک ہیں یامکے بازی کے میدان میں قدم رکھناچاہتے ہیں اچھی طرح غوو فکرکرلیں کیونکہ یہ کھیل جتنااچھا ہے ،اتناہی وحشیانہ بھی ہے۔مکے بازی کرنے اورسیکھنے کیلئے اچھے ادارے کا انتخاب کرناچاہئے۔خاص کرایسا ادارہ جوکہ نیشنل مکے بازی آرگنائزیشن سے منظورشدہ ہو اورجس نے بین الاقوامی پیمانے اچھے مکے بازتیارکئے ہوں۔مکے بازماہرین کا کہناہے کہ اگرکوئی مکے بازی میں آناچاہتے ہیں تووہ کسی عام ہیلتھ کلب میں نہ جائیں جہاں مکے بازی سکھائی جاتی ہے بلکہ آپ کوایسے جیم کی ضرورت جس میں لازمی طورپرمکے بازی یادیگرمارشل آرٹ کی تربیت دی جاتی ہے۔
مکے بازی کرنے کیلئے کچھ بنیادی جانکاری حاصل کرناضروری ہے ۔مثلاً جیب(Jab) یہ مکے بازی کی سب سے فرتیلی پنچ ہے اس سمپل پنچ کو’اپنے سامنے والے ہاتھ ‘(آگے والے پیرکے ساتھ اٹھاہاتھ) کے ساتھ اپنے مخالف کھلاڑی کی ٹھوڑی میں مارجاتاہے ۔ کراس (Cross) اسے آپ کے مین ہاتھ سے مارجاتاہے۔ یہ ایک طاقتورمکاہے۔اس میں اپنے جسم کوہلکے ہاتھ سے گھومایاجاتاہے ، جس سے ہوریزنٹل رفتارہوتی ہے۔ اپرکٹ (upper cut) یہ پنچ مخالف کھلاڑی کی ٹھوڑی یاسولر پلکسس پرکیاجاجاتاہے۔یہ نزدیک سے کیا جاتاہے اورکئی باریہ آسان جیت بھی دلادیتاہے۔ ہک( hook) یہ ایک چست یکطرفہ مکاہے جس میں کہنی کوہک کے سائزمیں موڑاجاتا ہے۔ ساؤتھیپا(southpaw) اس لفظ کا استعمال بائیں ہاتھ جنگجوؤں( قدرتی یابدلاؤ) کے لئے کیاجاتاہے ۔کیونکہ دونوں کھلاڑیوں کے پیشہ الگ ہوتے ہیں ،یہ لڑائی الگ قسم کی ہوتی ہے۔ باہاں( outside) اوراندرونی لڑائی ( inside fighter) آؤٹ سائڈ فائٹر مقابلے کے وقت دوری بنائے رکھتاہے۔ وہ صرف جیب(jab) پنچ پارنے کیلئے پاس آتاہے ۔جبکہ انسائڈ فائٹر نزدیک سے ہی وارکرتاہے، اس میں خاص کراپرکٹ پنچ کا استعمال کیاجاتاہے۔

 

 

 

 

 

 

ہیوی ویٹ باکسنگ کانشان محمدعلی
محمدعلی ایک ایسے شخص تھے جن کے بغیر باکسنگ پرگفتگو ادھوری ہے۔ سچ تویہ ہے کہ اپنی حیات ہی میں اس کے جزء لاینفک بن گئے تھے۔یہ وہی تھے جنہوں نے اعلانیہ کہاتھاکہ ’’ میں (ہیوی ویٹ) باکسنگ میں عظیم ترین ہوں ‘‘اورانہوں نے اسے ثابت بھی کیا۔انہوں نے تین مرتبہ مکے بازی کی دنیا کا سب سے بڑا اعزاز ’ورلڈ ہیوی ویٹ باکسنگ چمپئن شپ‘ جیتا اور اولمپک میں سونے کے تمغے کے علاوہ شمالی امریکی باکسنگ فیڈریشن کی چمپئن بھی جیتے۔ وہ تین مرتبہ ورلڈ ہیوی ویٹ باکسنگ چمپئن شپ جیتنے والے پہلے مکے باز تھے۔ محمدعلی کی ولادت امریکی ریاست کنٹکی کے شہر لوئسویل میں 17جنوری 1942 کوہوئی تھی۔ اپنے والد کیسیئس مارسیلس کلے سینئر کے نام پر کیسیئس مارسیلس کلے جونیئر کہلائے۔
محمدعلی نے 3جون 2016کو دنیائے فانی کوالوداع کہا۔ان کے جنازے کے آخری سفر کوبین الاقوامی طورپر جوشہرت ملی وہ دنیامیں کسی بھی کھلاڑی کوکبھی نہیں ملی ہے۔محمد علی کاپیدائشی نام کیسیئس مارسیلس کلے جونیئر تھا۔ انہوں نے 29 اکتوبر 1960ء کو آبائی قصبے لوئسویل میں پہلا مقابلہ جیتا۔ 1960 سے 1963ء تک نوجوان کیسیئس نے 19 مقابلے جیتے اور ایک میں بھی شکست نہیں کھائی۔انہوں نے 1960ء میں روم اولمپِک میں انہوں نے سونے کا تمغہ جیتا۔ لیکن تمغہ جیتنے کے بعد جب محمد علی اپنے شہر واپس آئے تو وہ نسلی امتیاز کا شکار ہوگئے۔ ایک ریستوران میں انہیں اس لئے نوکری نہ مل سکی کیونکہ وہ سیاہ فام تھے اور اس واقعے کے نتیجے میں انہوں نے اپنا سونے کا تمغا دریائے اوہائیو میں پھینک دیا تھا۔
فروری 1964ء میں کیسیئس کلے نے باکسنگ میں اس وقت کے عالمی چمپئن سونی لسٹن کو کھلا چیلنج کیا اور انہیں ایک مقابلے کے چھٹے راؤنڈ میں شکست دی۔ اس کے بعد انہوں نے مسلسل سات مقابلوں میں اس وقت کے مایہ ناز مکے بازوں کو زیر کیا۔اس فتح کے بعد انہوں نے عالیجاہ محمدکے ’نیشن آف اسلام‘ جوکہ بلیک اسلام بھی کہلاتاتھا اورامت اسلامیہ کا جزنہیں تھا،میں شمولیت اختیار کرلی اور اپنا نام محمد علی رکھ لیا۔ویسے بعد میں محمدعلی ’نیشن آف اسلام ‘سے نکل کراصل اسلام میں آگئے۔محمد علی نے زندگی میں چار مرتبہ شادی کی تھی۔ اس کی وجہ سے ان کی 7 بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ بیٹیوں میں حنا، لیلی، مریم، رشیدہ، جمیلہ، میا، خالیہ ہیں۔ جبکہ دو صاحبزادے اسعد اور محمد جونیئر ہیں۔لیلیٰ علی بھی باکسر ہیں۔اس لحاظ سے یہ اپنے والدکی باکسنگ میں جانشین ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *