غیرملکی سرزمین پرہندوستان کو پہلی جیت دلانے والے کپتان نواب منصورعلی خان پٹودی

Nawab-mansoor-ali-khan
ہندوستانی کرکٹ کی تاریخ میں کئی ایسے کھلاڑی ہوئے جواپنی لاجواب اندازاوربہترین کارکردگی کے باعث کرکٹ میں ہمیشہ یادکئے جاتے ہیں۔ایسے ہی ایک کھلاڑی تھے نواب منصورعلی خان پٹودی ،جنہیں لوگ ٹائیگرپٹودی کے نام سے بھی جانتے ہیں۔نواب منصوری علی کی ولادت 5جنوری 1941کوہوئی تھی۔پٹودی 22ستمبر2011کودنیاسے ہمیشہ کیلئے رخصت ہوگئے ۔
بھوپال کے نواب خاندان میں پیداہوئے منصورعلی خان پٹودی کوکرکٹ کا بچپن سے ہی شوق تھا۔اسکول ٹیم کی طرف سے کھیلتے ہوئے ٹائیگرپٹودی دھیرے دھیرے انٹرنیشنل ٹیم کا حصہ بن گئے۔کرکٹ کے تئیں ان کاجنون اس قدرتھاکہ وہ میچ درمیچ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے چلے گئے۔پٹودی کھیل کی سمجھ اورحالات سے آسانی سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔جس کے باعث انہیں ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقررکردیاگیا۔انہوں نے اس ذمہ داری کوبخوبی اداکیااورہندوستان کے کامیاب کپتانوں میں شمارہوگئے۔
saif-ali-with-father
منصورعلی خان پٹودی ایک اچھے کھلاڑی تھے ۔لیکن وہ اپنے کرکٹ کرےئرکوزیادہ عرصے تک نہیں چلاسکے۔انہوں نے پورے کرےئرمیں کل 46ٹسٹ میچ کھیلے ۔وہ دائیں ہاتھ کے بلے بازاوردائیں بازوفارم سے بالنگ کیاکرتے تھے۔
ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان نواب منصورعلی خان اوران کے والد افتخار علی خان بھی ہندوستانی ٹیم کے کپتان تھے اور انہوں نے انگلینڈ کے لیے بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلی تھی۔
پٹوڈی کی اہلیہ شرمیلا ٹیگور 70 اور 80 کی دہائی میں بالی وڈ کے مشہور ترین اداکاروں میں شمار کی جاتی تھیں۔ ان کے بیٹے سیف علی خان بھی بالی وڈ کے بڑے سٹارز میں شمار کیے جاتے ہیں۔
نواب منصور علی خان دلی کے قریب واقع سابق ریاست پٹودی کے آخری نواب تھے۔ 1971 میں ہندوستان میں شاہی خطاب ختم کر دئے گئے تھے۔ ان کی والدہ بیگم ساجدہ سلطان بھوپال کے آخری نواب حمید اللہ خان کی بیٹی تھیں۔
انگلینڈ میں زمانہ طالب علمی میں ہی کار کے ایک حادثے میں ان کی ایک آنکھ خراب ہوگئی تھی۔ لیکن ایک آنکھ میں بینائی نہ ہونے کے باوجود اکیس سال کی عمر میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان بن گئے۔ یہ ان کا کمال تھا۔
پٹودی نے اپناپہلافرسٹ کلاس ڈیبیومیچ 1957ٹہں سسیکس کی طرف سے کھیلاتھا۔اس وقت ان کی عمرمحض 16سال تھی۔اس کے بعددھیرے دھیرے وہ آگے بڑھتے رہے اوردسمبر1961میں انگلینڈ کے خلاف پہلاٹسٹ میچ کھیلا اوراس سیریزکے تیسرے ٹیسٹ میچ میں انہوں پہلی سنچری بنائی۔اس میچ میں پٹودی نے 103رن بنائے تھے۔یہی نہیں ہندوستان کواس سیریزمیں آسانی سے جیت مل گئی تھی۔
منصوری علی پٹودی نے 1961سے لیکر1975تک کل 46ٹیسٹ میچ کھیلے۔ جس میں 34.91کی اوسط سے 2,793رن بنائے۔اس دوران انہو ں نے 6ٹسٹ سنچریاں بھی بنائے۔کپتانی کی بات کریں تو46میچوں میں سے 40میں پٹودی نے کپتانی کی ،جس میں صرف 9میچوں میں انہیں جیت ملی۔جبکہ 19میں ہاراور19میچ برابررہے۔یہی نہیں 1968میں پٹودی کی قیادت میں ہی ہندوستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف بڑی جیت درج کرتے ہوئے پہلی بارغیرملکی سرزمین پرجیت حاصل کی۔
اپنے زمانے میں پٹودی ایک جارحانہ بلے باز اور شاطر کپتان کے طور پر مشہور تھے۔ ان کی برق رفتار فیلڈنگ کے لیے انہیں ’ٹائگر‘ کا لقب دیا گیا تھا۔ پٹودی نے بھارت کے لیے چھالیس ٹیسٹ کھیلے جن میں سے چالیس میں وہ کپتان رہے۔ آج تک انہیں ہندوستان کرکٹ ٹیم کا سب سے کم عمر کا کپتان ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ تقریباً پینتیس کی اوسط سے انہوں نے 2ہزار 7 سو 93 رن بنائے جس میں چھ سنچریاں اور سولہ نصف سنچریاں شامل تھیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا سب سے زیادہ انفرادی سکور دو سو تین رن تھا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *