ہوشیار، انٹرنیٹ پر ہم محفوظ نہیں ہیں

آج میں آپ کی زندگی سے جڑی ایک بات کرنے جارہا ہوں۔ آپ ضرور اسمارٹ فون کا استعمال کرتے ہوںگے۔ گزشتہ دنوں میںایک ٹی وی پروگرام دیکھ رہا تھا۔ پروگرام میں جگدیش پاترا، جو میکیفے،سنگاپور کے چیف ہیں، کچھ بتا رہے تھے۔ میں نے اسے نوٹ کیا اور آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ میکیفے اینٹی وائرس بنانے والی کمپنی ہے۔ مہاپاترا نے کہا کہ انٹرنیٹ صرف آپ نہیں دیکھ رہے ہیں، بلکہ انٹرنیٹ بھی آپ کو ہر وقت دیکھ رہا ہے۔ یہاںتک کہ انٹرنیٹ بند کرنے کے بعد بھی وہ آپ کو دیکھتا رہتا ہے۔ آج خود اور بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے انٹرنیٹ کے ورچوئل ورلڈ کی معلومات سب کو ہونی چاہیے۔ یہ کیوں ضروری ہے، یہ بھی میںبتاتا ہوں۔
ہر شخص کے گلے میںتختی
انٹرنیٹ کی دنیا میں ہر شخص اپنے گلے میں ایک تختی لگائے پھر رہا ہے، جس پر اس کی ساری جانکاریاں موجود ہیں۔ آپ انٹر نیٹ پر جو بھی کرتے ہیں، اس کی ساری جانکاریاں پہلے انٹر نیٹ کے پاس پہنچتی ہیں اور وہ اسے اپنے پاس رکھ لیتا ہے اور اسے بیچتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق ، ہندوستان میںموبائل فون، ٹیبلٹ یا پرسنل کمپیوٹر استعمال کرنے والا ہر شخص لگ بھگ آدھا دن انٹر نیٹ پر گزار رہا ہے۔ سرپرست اپنے بچوںکوانٹر نیٹ کی دنیا کے لیے تیار نہیں کر پارہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انٹر نیٹ بچے کے لیے کیا خطرے پیدا کررہا ہے، اس کے بارے میںآپ اپنے بچوںسے بات نہیںکر رہے ہیں۔
میکیفے کے ایک سروے میں 44 فیصد بچو ں نے کہا کہ وہ ایسے شخص سے مل چکے ہیں یا ملنے والے ہیں، جس سے ان کی پہلی پہچان انٹر نیٹ پر آن لائن ہوئی۔ 54 فیصد سرپرستوں نے کہا کہ انھوں نے اپنے بچوںکو ایسی ویب سائٹ سرف کرتے دیکھا ہے جو مناسب نہیں تھی۔ دھیان دیجئے، ہندوستان میںہر دس منٹ میں ایک سائبر کرائم ہورہا ہے۔ آپ جہاںبھی فری وائی فائی دیکھتے ہیں، فوراًموبائل کھولتے ہیں۔ وائی فائی آن کرتے ہیں اور جیسے ہی یہ آتا ہے کہ اپنی ڈٹیلس اس میںبھریے، آپ اپنی ساری جانکاریاں اسے دے دیتے ہیں، جسے آپ جانتے ہی نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر گوگل میپ یہ بتادے گا کہ کس نے کب کہاں ،کس راستے پر کتنا وقت گزارا اور کس راستے سے گیا۔ گوگل اکاؤنٹ پر سارے صارفین (انٹر نیٹ) کی ہسٹری موجود ہے ۔ ایسے میںاگر فون ہیک ہو جائے تو آپ کے بینک اکاؤنٹ،پین نمبر، آدھار نمبر کو کوئی بھی ہیک کرکے ہاتھ صاف کرسکتا ہے اور ہاتھ صاف ہورہے ہیں۔ ہمارے ملک میںایسا ہورہا ہے لیکن اس کی رپورٹ نہیںلکھی جارہی ہے۔ ایسا غیر ممالک میںبھی ہورہا ہے۔ حالانکہ غیر ممالک میںاس سے لڑنے کی تیاری بھی ہورہی ہے لیکن ہمارے ملک میںتو کوئی تیاری نہیں ہے۔ الٹے ہمارے ملک میںان سب کے استعمال کے لیے یکطرفہ پروموشن کیا جارہا ہے۔
جب آپ اپنا موبائل فون اوپن کرتے ہیں اور کوئی ایپ ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں تو ایک میسج آتا ہے کہ کیا آپ فلاںفلاں چیزوں کے ایکسیس کے لیے اجازت دیتے ہیں اور آپ بغیر سوچے سمجھے اوکے کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ آپ کی جانکاری، بیسک ڈیٹا جیسے بینک نمبر، موبائل نمبر بیچنے کی پرمیشن، آدھار سے جڑی جانکاری، آنکھ کا رنگ،تھمب امپریشن بیچنے کی پرمیشن، فوٹو ٹھیک کرنے کی پرمیشن، ڈیٹا بیچنے کی پرمیشن لے لیتا ہے۔ آپ کا پین نمبر وغیرہ سب اس کے پاس چلا جاتا ہے۔ اب گوگل ایک احتیاط بتاتا ہے، جسے ہم کبھی پڑھتے نہیں ہیں ، گوگل بتاتا ہے کہ آپ اپنی آن لائن ہسٹری ہمیشہ ڈیلیٹ کرتے رہیے۔ اب، ہم میںسے زیادہ تر کو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ آن لائن ہسٹری کیسے ڈیلیٹ کرتے ہیں۔ برائے کرم اسے سیکھئے۔ انٹر نیٹ پر جاکر سیکھئے یا کسی کیفے میںجاکر سیکھئے کہ کیسے آن لائن ہسٹری ڈیلیٹ کرتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

موبائل ایپ مفت کیوں؟
ایک بات اور ۔ دنیا میںکوئی بھی چیز مفت نہیںملتی۔ سوال یہ ہے کہ یہ موبائل ایپ فری کیسے ہوجاتے ہیں؟ دراصل ،ایپ اپنے صارفین کی پہچان بیچ کر پیسے بنا رہا ہوتا ہے۔ جیسے ہی آپ کوئی فری ایپ ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں، وہ آپ کی ساری جانکاری لے کر بیچ دیتا ہے۔ یہ جانکاریاں امریکی کمپنیوں کو جارہی ہیں یا کہیںاور جارہی ہیں، نہیںمعلوم۔ اس کھیل میںچھوٹے کھلاڑی بھی آگئے ہیں ، آپ جوتا خریدنے جائیںگے،وہ بل بنائے گا، پھر آپ کا موبائل نمبرپوچھے گا ، وہ یہ جانکاری ، آپ کا نمبر کہیںبیچ رہا ہے۔ یعنی،ہم ہرقدم کہیں نہ کہیںبک رہے ہیں۔ انٹر نیٹ کا کیمرہ ہمیشہ ہمیںاپنے لینس میںقید کررہا ہے۔ اگر یہی کیمرہ ہمارے بچوں کی سرگرمیوں کو بھی قید کرنے لگے تو ہمیںکیسا لگے گا؟ اب بچے بھی اسمارٹ فون رکھنے لگے ہیں۔ بچے انسٹا گرام پر اپنی تصویریںاَپ لوڈ کرتے ہیں۔ یہ دنیا کے سامنے جارہی ہیں۔ کہیں کوئی بیٹھا ان تصویروں کے ساتھ چھیڑ خانی کررہا ہے۔ کوئی فلم بنا رہا ہے۔ بچوں کی غیر مناسب سرگرمیوں والی فلمیں بہت اونچی قیمت پر بکتی ہیں۔ یہ بھی بیچی جارہی ہیں۔ جگدیش مہاپاترا نے ایک اور اہم بات بتائی کہ جب ہم اسمارٹ ٹی وی دیکھتے ہیں تو اسمارٹ ٹی وی بھی ہمیں دیکھتا رہتا ہے۔ ہم اگر اپنی بیوی، گرل فرینڈ، ماں یا دوست کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں تو وہ ہماری تصویر لے کر کہیںاور بھیج رہا ہے۔ ٹی وی کے سامنے اکثر لوگ مناظر دیکھتے ہوئے ایک دوسرے کے بغل گیر ہوجاتے ہیں، ایک دوسرے کے گال چھوتے ہیں، بات کرتے ہیں۔ یہ ساری تصویریں کہیں نہ کہیںجارہی ہیںاور وہ کہیںجاکر ایڈٹ ہوکر ایک عجیب طرح کی کہانی نما فلم کی شکل میںبکتی ہیں، جو پورن سائٹ کے اوپر کوئی کبھی بھی دیکھ سکتا ہے۔
کچھ ایپ ایسے بنے ہیں،اس ملک کے ایک سب سے بڑے آدمی کے نام پر کچھ ایپ بنے ہیں اور آپ کو یہ آمادہ کیا جارہا ہے کہ آپ اس ایپ کو اپنے موبائل میںڈاؤن لوڈ کریں۔ آپ جیسے ہی اس ایپ کو موبائل میںڈاؤن لوڈ کرتے ہیں، آپ کے موبائل کی ساری جانکاری اب تب آپ نے کسے فون کیا، کس سے بات چیت کی ، واٹس ایپ پر آپ نے بات کی ،کیا میسج پر بات کی، کیا میل پر بات چیت کی،وہ سیدھے اس شخص کے سرور میںچلی جاتی ہے۔ اور اتنا ہی نہیں اس کے بعد آپ کا کیمرہ اس کے لیے آنکھ کا کام کرتا ہے۔ وہ ایپ جو ایک بار آپ نے ڈاؤن لوڈ کیا تو آپ اس کے رابطے میںآگئے پھر آپ جو بھی کریں گے ، اس شخص کے ایپ کے ذریعہ کہیںبڑے سرور میںقید ہوجائے گا اور آپ سرکار کی نظر میںآجائیںگے۔ یہ بات مجھے بہت بڑے انٹر نیٹ ایکسپرٹ نے بتائی۔ اس کے لیے کچھ ضروری احتیاط ہیں۔ میںنے پہلے بھی لکھا ہے کہ چین کے بنے بہت سے ایپ ہماری ساری جانکاری چین بھیج رہے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

ایئرٹیل کا بینک
اور ایک بڑی خطرناک بات ہے۔ ایئر ٹیل نے ایک بینک بنایا، جیسے پے ٹی ایم ہے،ویسا۔ اس کے لگ بھگ 23 لاکھ صارفین ہیں، جن کے کھاتے کھلے۔ اکاؤنٹ کھولنے کے بعد ان صارفین میںسے زیادہ تر کا ، جن کو گیس سبسڈی ملتی تھی یا کچھ ملتا تھا،وہ اس اکاؤنٹ میںجمع ہونے لگا۔ جب ان صارفین کو پتہ چلا کہ ہمارا پیسہ کہاںگیا تو پتہ چلا کہ وہ تو ایئر ٹیل نے بغیر صارفین کی اجازت کے اپنے اکاؤنٹ میںجمع کرلیا۔ اس پیسے سے اسے بھاری سود ملا۔ 23 لاکھ اکاؤنٹس کی بات ہے۔ اب جاکر ا س کا راز کھلا۔ اب سرکار نے حکم دیا ہے کہ اس پیسے کو دوبارہ ان کے اکاؤنٹ میںڈالا جائے۔ وہ کب تک جائے گا، پتہ نہیں۔ لیکن ہماری پرمیشن کے بغیر ہمارا پیسہ کسی اور اکاؤنٹ میںڈال لیتا ہے۔ بہت جلدی یہ بھی ہونے والا ہے کہ آپ کے اکاؤنٹ میںجو پانچ لاکھ ،دس لاکھ، بیس لاکھ، پچیس لاکھ روپے ہیں، جو آپ نے اپنی محنت سے کمائے ہیں او رجمع کیے ہیں، وہ سارا پیسہ اسی طرح کی کسی بینکنگ سرگرمی میںلگ جائے اور آپ کو پتہ ہی نہیںچلے اور پھر وہ پیسہ غائب ہوجائے۔ اس کو روکنے کا کوئی ذریعہ سرکار نے ابھی تک تیار ہی نہیںکیا ہے۔ اس کی نہ کوئی گارنٹی سرکار دیتی ہے کہ اس طرح کا فراڈ آپ کے اور ہمارے ساتھ ہوگا تو اس فراڈ کے بچاؤ کے لیے یا اس فراڈ کے شکار لوگوں کا ساتھ دینے کے لیے سرکار کھڑی ہو، ایسا نہیںہے۔
اب یہ دیکھئے کہ ملک میںسائبر کرائم کے کتنے تھانے ملک میںہیں۔ صرف چار تھانے ہیں۔ سائبر کرائم کی کتنی رپورٹوں پر کیا کارروائی ہوئی، کچھ پتہ نہیںچلے گا۔ جب پے ٹی ایم شروع ہوا تھا تب پے ٹی ایم نے بہت سارے لوگوںکے اکاؤنٹ خالی کرلیے تھے۔ پے ٹی ایم کے دفتر کے باہر لوگ کھڑے رہے لیکن انھوں نے بات نہیںسنی اور سرکار نے بھی بات نہیںسنی۔ کیوں؟ کیونکہ وزارت خزانہ کے بڑے افسروںکا اور کچھ وزراء کا ہاتھ پے ٹی ایم کے سر پر تھا۔ جو کمپنی ڈوب رہی تھی،وہ چینی کمپنی علی بابا کی پناہ میںچلی گئی۔ ابھی بھی اس دفتر میں چین کے لوگ کام کرتے ہیں۔
میںکچھ تجاویز دیتا ہوں۔ انٹرنیٹ سے ہم اپنی پہچان اتنی ہی دکھائیں جتنی کہ ضروری ہو۔ اسے چھپانے کے کئی آسان طریقے ہیں۔ سب سے پہلے غیر ضروری ایپ ڈیلیٹ کردینا چاہیے۔ ایپ کے ساتھ کوئی پرائیویسی پالیسی ہو تو اسے پڑھ کر ہی اجازت دیجئے۔ فری وائی فائی کے لیے اپنی جانکاریاں شیئر نہیں کرنی چاہئیں۔ اس موضوع پر بچوںکے ساتھ روزانہ بات کیجئے۔ کیونکہ بچے ہی اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ورچوئل دنیا کی جانکاری رکھنا اور اپنے بچوں کو اس کی جانکاری دینا بھی ضروری ہے۔ اب اس ورچوئل دنیا کو سمجھئے ، اسے سمجھئے اور بچوں کو اس کی سچائی سمجھائیے۔ سرکار ہماری حفاظت کے لیے نہیںکھڑی ہے۔ بینک ہماری حفاظت کے لیے نہیںکھڑے ہیں۔ ہر جگہ لوگوں کی جائیداد کی حفاظت کی ذمہ داری سرکار لیتی ہے۔ لیکن ہماری سرکار جائیداد کی حفاظت کی کوئی گارنٹی نہیںلیتی ہے۔ بچنے کا طریقہ خود کرنا ہوگا۔ قدم نہیں اٹھائیںگے تو آپ یقین مانئے، ہم میںسے بہت سے لوگوںکی پسینے کی کمائی غائب ہوجائے گی اور سرکار اس کی کوئی ذمہ داری نہیںلے گی۔ امید ہے کہ آپ کو مدعے کی سنگینی سمجھ میںآئی ہوگی۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *