اے ٹی ایس اور این آئی اے کے مواقف

ایسا وقت بھی آتا ہے جب صرف ملزم ہی نہیں بلکہ کرمنل جسٹس سسٹم خود کٹہرے میں کھڑا ہوتا ہے۔ 2008 کے مالیگائوں بلاسٹ سے متعلق معاملہ ابھی انہی میں سے ایک ہے۔ نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے ) کی یہ یافت کہ ابھینو بھارت کے نام سے معروف ہندو رائٹ ونگ گروپ کے کلیدی ارکان اس بلاسٹ میں ملوث نہیں تھے جس میں مہاراشٹر کے شہر میں کم سے کم 6افراد ہلاک اور ایک سو سے زائد زخمی ہوئے، ممبئیکی خصوصی عدالت نے یہ پسند کیا ہے کہ ثبوت (ایویڈنس ) پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ ان کے قصور یا بے گناہی کو طے کرے۔ اس نے سازش، قتل و دیگر جرائم بشمول انلاء فل ایکٹی ویٹیز ( پریوینشن) ایکٹ کے پروویژن کے تحت ان کے خلاف چارجیز فریم کئے ہیں۔
مہاراشٹر پولیس کے اینٹی ٹریرزم اسکوئد اور این آئی اے ابھینو بھارت کے ارکان کی سزا کے مستوجب ہونے کے تعلق سے مختلف نتائج پر پہنچے ہیں جبکہ اے ٹی ایس چارج شیٹ کا دعویٰ ہے کہ یہ اصلاً دیگر افرادکے درمیان سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر او رلیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت کے ذریعے رچی گئی سازش تھی۔ اپنی چارج شیٹ میں این آئی اے نے کہا تھا کہ ان میں سے کچھ کے خلاف آگے بڑھنے کے لئے نہ کوئی اور نہ ہی کوئی وافر ثبوت موجود ہے۔ اسپیشل جج ایس ڈی ٹیکالے نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ اس بات پر کوئی فیصلہ نہ دیں کہ وہ دونوں میں سے کسی کے حق میں ہیںجہاں دو متضاد رپورٹیں ریکارڈ میں ہوں، وہاں انہوں نے فیصلہ کیا کہ ٹرائل کی راہ اختیار کرنا بہتر ہے اور پھر جو ثبوت سامنے آئے اس پر غور کیا جائے۔ ان کا فیصلہ بہتر لگتا ہے اور یہ دونوں ایجنسیوں کی متضاد رایوں سے اوپر اٹھ کر ہے ۔

 

 

 

 

 

 

جس بات نے اس معاملہ کو سیاسی طور پر حساس بنادیا وہ دراصل ملک میں ’ہندو راشٹر ‘ کو قائم کرنے کے مقصد والی ایک تنظیم کے مبینہ کردار کے پس منظر میں ہونے کے سبب ’ہندو‘ یا ’زعفرانی‘ ایشو پر اٹھی بحث تھی۔ ابتدا میں ایک اسلامی گروپ پر مالیگائوں میں ستمبر 2006 میں ہوئے بم بلاسٹوں کے پیچھے رہنے کا الزام لگا تھا جس میں 37 افراد ہلاک ہوئے تھے مگر بعد کی ایک چارج شیٹ میں کہا گیا کہ ان کرتوتوں کو انجام دینے والوں کا تعلق ہندو کارکنوں کے ایک گروپ سے تھا۔ پھر اس سلسلے میں شروع میں گرفتار ہوئے افراد کو ثبوت فراہم نہ ہونے کی بناء پر اس الزام سے بری الذمہ قرارد ینے میں تقریباً دس برس لگ گئے۔
یہ عوامل 2008 کے معاملے سے متعلق ٹرائل پر بدبختانہ اثر ڈالتے ہیں۔ ان الزامات نے سراٹھایا کہ این آئی اے کے ذمہ دار پرگیہ و دیگر افراد کے خلاف چارجز کو بے اثر کرنے کے لئے دبائو میں تھے۔ لہٰذا اس پس منظر میں یہ بہتر ہے کہ کسی ٹرائل کے دوران ثبوت خواہ وہ پختہ ہوں یا سطحی ،کا ہی جائزہ لیا جائے تاکہ بعد میں یہ بات نہ اٹھے کہ انصاف کا حق ادا نہیں ہوا ہے۔
شروع کے مواد پر انحصار کرتے ہوئے جج موصوف نے مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ (مکوکا)کے تحت چارچز کو مسترد کردیا۔انہوں نے ثبوت پیش نہ کئے جانے کی صورت میں تین افراد کو ڈسچارج کیا اور دو کو آرمز ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کے لئے باضابطہ عدالت کے حوالے کیا۔ باقی کو ٹرائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ فیصلہ عدلیہ کی سا لمیت کے لحاظ سے ٹھیک معلوم پڑتا ہے کیونکہ یہ بہتر طریقہ ہے کسی شعبہ کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کا جس کی بنیاد پر ایک ایجنسی نے مشتبہ افراد کو اس معاملے میںملوث کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ دوسری ایجنسی نے جان بوجھ کر نرم رُخ اختیار کیا ہے۔یہ اہم ہے کہ یہ ٹرائل جسے واقعی بہت دیر ہو چکی ہے ،اب بھی منصفانہ ہو۔(بشکریہ ’دی ہندو‘)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *