طلاق ثلاثہ بل پاس ہونے کے بعد علماء حرکت میں!

triple-talaq
بی جے پی حکومت کے ذریعہ طلاق ثلاثہ کے خلاف محاذ آرائی کے بعد اب شرعی عدالتوں کے دروازے بھی دوبارہ کھلنے لگے ہیں،ضلع میں پندرہ سال سے بند پڑی شرعی عدالت کے ذمہ داران نے ایک مرتبہ پھر اس نظام کی جانب رخ کرتے ہوئے طلاق جیسے حساس مسائل کے حاتمہ کے لئے دارالقضاء کے دروازے کھولنے کا فیصلہ کیاہے۔
واضح رہے کہ مغربی یوپی میں عالمی شہرت یافتہ دینی ادارے اور نامور علماء کرام کی موجودگی ہونے کے باوجود یہاں کی شرعی عدالتوں کا نظام کافی سست ہے۔طلاق ثلاثہ پر پارلیمنٹ میں بل پاس ہونے کے بعد مسلم پرسنل لاء بورڈ اور اور علماء تین طلاق بل میں خامیاں بتا چکے ہیں ، ضلع کی شرعی عدالت گزشتہ پندرہ سالوں سے سست پڑی ہوئی ہے ،شرعی عدالت کے قیام کے لئے جامعہ مظاہر علوم سہارنپو رکی جانب سے عمارت شرعیہ ہند دہلی میں درخواست گذاری کرنے کے پانچ علماء اور مفتیان کی ٹیم تشکیل دی گئی ہے،مسلم معاشرہ میں طلاق کے معاملہ کو سلجھانے کے لئے ہر ضلع میں دارالقضاء کا نظم کیاگیا ہے، سہارنپور میں واقع جامع مسجد میں دارالقضاء 1994ء سے لیکر 2002ء تک سرگرم رہی ،اس کے بعد سے ضلع کی شرعی عدالت سست پڑی گئی اور اب تین طلاق پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد پارلیمنٹ میں بل پاس ہوچکاہے اور جلد ہی تین طلاق پر قانون بننے کی امید کی جارہی ہے، مسلم پرسنل لاء بورڈ اور علماء کو تین طلاق بل پر اعتراضات ہیں ،علماء اس بل میں کچھ تبدیلی کا مطالبہ کررہے ہیں ،ایسے حالات میں مسلم معاشرہ تین طلاق کے معاملہ کو قانون تک جانے سے روکنے کے لئے ضلع کی شرعی عدالت کو ایک مرتبہ پھر سرگرم کرنے کے لئے تیاریاں کررہاہے۔ضلع شرعی عدالت میں 1994ء سے 2002ء کے درمیان 130ء معاملے آئے تھے ،جس میں ایکسو معاملوں کو آپسی صلح صفائی کے ذریعہ سلجھا دیا گیا جبکہ 30؍ معاملوں میں میاں بیوی نے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ۔
اس سلسلہ میں جامع کلاں سہارنپور کے منیجر مولانا فرید مظاہری نے بتایاکہ دارالقضاء کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے علماء کی پانچ رکنی ٹیم تشکیل دی گئی ہے،جلد ہی ان ناموں کو عمارت شرعیہ ہند دہلی کو بھیجا جائے گاوہ اپنی جانب سے جس کو چاہے گیں پانچ علماء میں سے ایک کو قاضی اور چار علماء کو ممبر نامزد کرینگے،تاکہ طلاق کے معاملے کے لئے معاشرہ کو عدالت اور قانون کی ضرورت نہ پڑے۔
واضح ہوکہ میاں بیوی تنازعہ کے بعد سو روپیہ میں شرعی عدالتوں میں عرض گذاری کی جاتی ہے ،متاثرین کے بیان درج ہوتے ہیں،شرعی عدالت اعلامیہ جاری کرکے دوسرے فریق کو بذریعہ ڈاک تین نوٹس بھیجے جاتے ہیں جواب نہ ملنے پر عدالت دوسرے فریق کو نوٹس دے دیتی ہے اور دونوں کے بحث و مباحثہ سننے کے بعد دارالقضاء اپنا فیصلہ سناتی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *