عام آدمی پارٹی کا الیکشن کمیشن پر حملہ

aap-leaders
الیکشن کمیشن نے منفعت بخش عہدہ کے لئے عام آدمی پارٹی کے 20ممبران اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا ہے اور الیکشن کمیشن نے 19جنوری کوصدر سے ان کی رکنیت ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔ ایسی صورت حال میں ایک بار پھر دہلی میں عام آدمی پارٹی پر بحران سنگین ہو گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے پرعام آدمی پارٹی کے سینئرلیڈرسنجے سنگھ سخت ناراضگی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ کمیشن نے جوفیصلہ کیاہے وہ غلط ہے۔انہو ں نے کہاکہ مرکزی سرکار جمہوریت کوختم کرنے میں لگی ہے اورالیکشن کمیشن نے قانون وضابطوں کوطاق میں رکھ کرفیصلہ دیاہے۔سنجے سنگھ نے کمیشن کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ کمیشن بی جے پی کے ایجنٹ کے طورپرکام کررہاہے۔
سنجے سنگھ کے مطابق، کئی ریاستوں میں پارلیمانی سیکرٹریوں کی تقرری منسوخ ہوئی، لیکن رکنیت منسوخ نہیں ہوئی۔ دہلی میں ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟ ہم نے کوئی فائدہ نہیں لیا، ہم بی جے پی کی آنکھ کی کرکری ہیں۔
سنجے سنگھ نے کہاکہ ان پارلیمانی سیکرٹریوں نے سرکاری گاڑی کا استعمال کیا۔ حکومت کے کام کے لئے سرکاری گاڑی کا استعمال فائدہ کے عہدے میں نہیں آتا۔ انہوں نے کہاکہ اگر منوج تیواری کو استعفی مانگنا ہی ہے، تو پہلے پی ایم کا استعفی مانگیں، کیونکہ سب سے پہلے گجرات میں ان کے وقت میں ہی پارلیمانی سیکرٹری بنائے گئے، جنہیں نائب وزیر کا درجہ دیا گیا اور ساری سہولیات دی گئیں۔
کیجریوال حکومت میں دیہی ترقی کے وزیر گوپال رائے کا کہنا ہے کہ این ڈی اے حکومت دہلی کے لوگوں سے بدلہ لے رہی ہے، اتنا اندھیر تو برطانوی دور حکومت میں بھی نہیں تھا۔گوپال رائے نے کہا کہ یہ تاریخی مودی راج ہے۔ مودی راج میں ایسا پہلی بار ہوا کہ کسی کیس پر بغیر سماعت کے فیصلہ سنا دیا گیا ہو۔گوپال رائے نے کہا، “تمام دانشوروں اور سیاسی لوگ حیرت میں ہیں کہ دو دن بعد سبکدوش ہونے والے سی ای سی (چیف الیکشن کمشنر) نے آپ ارکان اسمبلی کی رکنیت کو رد کرنے کا فیصلہ کس دباو میں لیا؟
بی جے پی اور کانگریس نے اخلاقی بنیاد پر وزیراعلی اروند کیجریوال کے استعفی کا مطالبہ کیا ہے۔مگرپورے معاملے میں کیجریوال چپی سادھتے ہوئے ہیں ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *