بھگواشرپسندوں کی دھمکی سے 20سالہ لڑکی کوگنوانی پڑی اپنی جان

girl-suicide
کرناٹک کے چمکگلورمیں 20سالہ لڑکی کی خودکشی کرنے سے علاقے میں ماحول گرمایاہواہے۔لڑکی نے اپنے سوسائڈ نوٹ میں پانچ لوگوں کے ایک گروپ کوقصوروارٹھہرایاہے۔پولس کے مطابق، دھانیہ شری نے 6جنوری کی رات قریب دس بجے پنکھے سے لٹک کرخودکشی کرلی ہے۔دراصل بتایاجارہاہے کہ اپنے دوست کے ساتھ وہاٹس ایپ پرچیٹنگ کے دوران ’آئی لو مسلمز)کہنااس لڑکی کومہنگاپڑگیا۔میسج کا اسکریٹ شاٹ وائرل ہونے کے بعدلڑکی کودھمکیاں ملنے لگیں،جس کے باعث اسے سوسائڈکرناپڑا۔بنگلوروکے چکمنگلورمیں بی کام کی طالبہ دھنیہ شری کی لاش ہفتے کواس کے کمرے میں پائی گئی۔معاملے میں مقامی بی جے پی یوواونگ کے لیڈررانل راج کوگرفتارکیاگیاہے۔ابھی بھی چاردیگرلوگوں کی تلاش جاری ہے۔کہاجارہاہے کہ ان سبھوں نے دھنیاشری پرذہنی دباؤبنایاتھا، جس کے باعث اسے خودکشی کرنی پڑی۔
میڈیارپورٹس کے مطابق، دھنیاشری اپنے دوست سنتوش کے ساتھ واٹس ایپ پرچیٹنگ کررہی تھی،اسی دوران ان دونوں کی دھرم کے معاملے پربات ہونے لگی۔لیکن دھنیاشری نے کہاکہ وہ مسلمانوں کوپسندکرتی ہے تبھی اس نے لکھاI love muslimsاس کے بعدسنتوش نے پرومسلم زبان بولنے پردھنیاشری کودھمکی دی۔سنتوش نے اس بات چیت کااسکرین شاٹ لیا اوراپنے دوستوں میں پھیلادیا۔جس کے بعدوہ اسکرین شاٹ سوشل میڈیاپروائرل ہوگیا،جس کی قیمت لڑکی کواپنی جان دے کرچکانی پڑی۔
میڈیارپورٹس کے مطابق، سنتوش نے اسکرین شاٹ اپنے بجرنگ دل اوروی ایچ پی کے دوستوں کے ساتھ شیئرکیا،جس کے بعدانل راج سمیت دیگرساتھیوں نے دھنیاشری کے گھرجاکراسے اوراس کی ماں کودھمکایا۔بعدمیں دھنیاشری کی کچھ تصویریں بھی وائرل کی گئیں۔پولس کودھنیاشری کے کمرے سے ایک نوٹ برآمدہواہے،جس میں اس نے لکھاہے کہ اس واقعہ کے باعث اس کی زندگی اورپڑھائی لکھائی برباد ہوگئی ہے۔
بہرکیف سوال یہ ہے کہ کیامسلمانوں سے اظہاروہمدردی ،پیارومحبت،آپسی بھائی چارہ کااظہارکرناگناہ ہے؟اگرگناہ نہیں ہے تولڑکی کواپنی جان گنوانی کیوں پڑی؟۔ایک طرف وزیراعظم ہمیشہ ’سب کا ساتھ سب کاوکاس‘ کی بات کرتے ہیں۔کیایہی ہے سب کا ساتھ سب کاوکاس ،پرومسلم کودھمکایاجائے؟، جان دینے پرمجبورکیاجائے؟اگرنہیں توپھر20سالہ لڑکی کواپنی کیوں دینی پڑی؟۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *