مودی جی نیو انڈیا نہیں ہمارا اولڈ انڈیا ہی اچھا تھا

گجرات اور ہماچل پردیش کے انتخابی نتائج کے اعلانات 18 دسمبر 2017 کو ہوئے۔ہماچل کو لے کر یہ ماناجاتا ہے کہ وہاں کے عوام ہر پانچ سال پر سرکار بدل دیتے ہیں۔ 15-20 برسوں میں پانچ سال بی جے پی، پانچ سال کانگریس، ایسا ہی چلتا رہا ہے۔ اس بار باری تھی بی جے پی کی۔ امید تھی کہ بی جے پی جیتے گی، کم زیادہ سیٹ کا فرق ہو سکتاہے لیکن اس میں بھی دو بات نوٹ کرنے لائق ہے۔ پہلا ،مئی 2014 کے بعد بی جے پی اپنے آپ کو اتنا مقبول سمجھ رہی ہے، جیسے پورا ملک اس کے ساتھ ہے اور بھارت ’ کانگریس مکت ‘ ہو چکا ہے ۔کانگریس نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ پہلے بی جے پی نے سوچا تھاکہ انتخابات جیتنے کے بعد ہماچل کے وزیراعلیٰ کااعلان کرے گی ۔جب کانگریس نے ویر بھدر سنگھ کا نام اعلان کر دیا، تب یہ کنفیوژن میں پڑ گئے ۔ہماچل میں ٹھاکروں کا بہت زور ہے۔ تب بی جے پی کو تھک ہار کر پریم کماردھومل کو وزیراعلیٰ امیدار اعلان کرنا پڑا۔
ہماچل میں بی جے پی سی ایم امیدوار ہارا
ڈینگ ہانگنے کی بات ختم ہوگئی کہ ہم بعد میں اعلان کریں گے۔ پریم کماردھومل نے اعلان کیا کہ ہم لوگ اس بار 90فیصد سیٹ جیتیں گے۔ کانگریس کو 68 میں سے صرف7 سیٹیں ملیں گی۔ بی جے پی لیڈروں کو اس طرح کی بات کرنے کا مرض لگ چکا ہے ۔نریندر مودی 56انچ کا سینہ لے کر گھوم رہے ہیں۔ امیت شاہ ایک بہت جونیئر، بہت چھوٹے قد کے بی جے پی کے ممبر تھے۔ ان کو صرف اس لئے پارٹی کا صدر بنا دیاگیا کیونکہ وہ مودی کے بھروسہ مند ہیں۔یہ پارٹی چلانے کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔پارٹی میں باقی لوگ بھی ہیں۔ آج کوئی بولتا نہیں ہے کیونکہ آپ کی مقبولیت ہے ۔
پہلی بار بی جے پی کو مکمل اکثریت ملی ہے،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ اکثریت ہمیشہ رہے گی۔ آپ پارٹی کو ایسی حالت میں لا دیں گے کہ پارٹی رہے گی ہی نہیں۔ پریم کمار دھومل کو بھی انفیکشن لگ گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ 90 فیصد سیٹیں ملیں گی۔90 فیصد سیٹیں تو ملی ہیں۔یہ صحیح ہے کہ ہماچل میں بی جے پی جیت گئی ۔لیکن پریم کمار دھومل خود اپنی سیٹ ہار گئے۔ اس سے زیادہ شرم کی بات کیا ہوگی؟یہ بہت کم ہوتا ہے کہ جو دو بار وزیراعلیٰ رہ چکا ہو اور اگلی بار کے وزیر اعلیٰ ہونے کا اعلان ہوا ہو، عوام اسے انتخاب میں ہرا دے۔ اس کا کیا اشارہ ہے؟عوام کیاکہنا چاہتے ہیں، اس کا تجزیہ کرنا ضروری ہے ۔ عوام کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کا وزیراعلیٰ عوام کو قابل قبول نہیں ہیں۔یہ تو ہماچل کی بات ہوئی ۔

 

 

 

 

 

 

بات گجرات کی
اب گجرات پر آتے ہیں۔ گجرات بہت ہی عجیب ریاست ہے ۔پہلی بات تو یہ کہ یہ بیک ورڈ اسٹیٹ نہیں ہے، ترقی یافتہ ریاست ہے، آج سے نہیں، ہمیشہ سے ۔ 1960 میں گجرات بنا تھا، تب سے ہی ترقی یافتہ ہے۔ ممبئی اسٹیٹ کے ٹکڑے ہوئے تھے، مہاراشٹر اور گجرات ۔1960 سے 1995 تک ، 35 سال وہاں کانگریس کا تنہا راج رہا۔ بی جے پی کے لوگ وکاس کی بات کرتے ہیں۔کسی کو اعدادو شمار نکالنے چاہئے کہ 1960 میں گجرات کی کیاحالت تھی اور 35سال میں بی جے پی نے کیاحاصل کیا ؟1960 کے پہلے امول ڈیری تھی۔ڈاکٹر کورین نے وہائٹ ریوالیوشن کیا تھا۔ یہ 1960 کے بعد کی دین نہیں ہے اور 1995 کے بعد کی دین ہونے کا تو سوال ہی نہیں ہے۔ دوسرا وہاں ہمیشہ کاروبار کا زور رہا ہے۔ گجرات کے لوگ خالص کاروباری مانے جاتے ہیں۔یہ بھی وہاں کی روایت رہی ہے۔ گجرات انڈسٹریل اسٹیٹ ہے ۔ پلاٹ کا بکنا ، صنعت کا آنا وہاں کا پرانا پیٹرن ہے ۔
بی جے پی نے اس میں بھی کریڈٹ لئے۔ حالانکہ لینے کو تو ہر چیز کا کریڈٹ لے سکتے ہیں۔ آج منگلیان مشن پر جانے کا بھی کریڈٹ مودی لے رہے ہیں۔ کہتے ہیں جواہر لال نہرو نے کچھ کیا ہی نہیں، 70سال تک کچھ نہیں ہوا۔ اگر اسپیس مشن نہیں ہوتا، اٹامک اینرجی نہیں ہوتی تو آج اچانک یہ منگلیان مشن پر کیسے چلا گیا ؟یہ کہنا ایسا ہی ہے،جیسے ہماری ہندی فلموں میں شتروگھن سنہا کے ڈائیلاگ ہوتے تھے’ خاموش‘ اور بڑ بولے پن کے ڈائیلاگ ہوتے تھے۔لیکن ملک کے وزیراعظم کوئی ایکٹر نہیں ہیں، کوئی فلم ڈائریکٹ نہیں کررہے ہیں۔وزیراعظم جو بولتے ہیں، وہ پورے ملک کی طرف سے بولتے ہیں یا پورے ملک کو مخاطب کرتے ہیں۔ ان کو اپنی آواز پر تھوڑی لگام لگانی چاہئے اور ذمہ داری کی بات کرنی چاہئے۔یہ ان کا مزاج نہیں ہے۔ٹھیک ہے ہر ایک کا اپنا مزاج ہوتا ہے۔ ان کا مزاج ہے بات کو بڑھا چڑھا کر بولنا ۔سیاست میں انتخابات کے دوران سبھی لیڈر بات بڑھا چڑھا کر بولتے ہیں۔ ایک طرح سے یہ غلط نہیں ہے۔ لیکن مئی 2014 میں وزیراعظم بننے کی خواہش میں انہوں نے جو جو وعدے کر دیئے، کم سے کم وزیراعظم بننے کے بعد ان کو تھوڑا سا متوازن تو کرتے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ڈھائی سال سے کوشش کرتے رہے، نہ کوئی فارن بینک بند ہوا، نہ 15 لاکھ ہر ایک کے اکائونٹ میں آئے اور نہ ہی کسانوں کی آمدنی بڑھی۔ جو بنیادی وعدے کئے تھے، اس میں سے’ ون رینک، ون پنشن ‘بھی تھا، جس کو عمل میں لانا ہی مشکل ہے۔یہ کارگر ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن انہوں نے کبھی اپنی انتخابی تقریر کو موڈریٹ نہیں کیا، اسی بات کو جاری رکھا۔ ڈھائی سال میں کچھ نہیں ہوا۔جب کچھ نہیں ہوا، تب پتہ نہیں ان کو کیاسوجھا کہ8 نومبر 2016 کو نوٹ بندی کردی۔سب کو کہہ دیا کہ8 نومبر کی رات 12 بجے کے بعد آپ کے نوٹ خارج ہیں۔ میری سمجھ سے ہندوستان جیسے ملک میں، جہاں کے عوام خواندہ نہیں ہیں، گائوں میں نارمل طرح سے لوگ رہتے ہیں، وہ کیش سمجھتے ہیں،وہ روکڑا، روپے سمجھتے ہیں۔ یہ کارڈ ماڈرن شہروں کے لئے ٹھیک ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر کو اس سے کیا فرق پڑا؟وہ تو کارڈ سے ہی آپریٹ کرتا ہے۔ بینک کے ذریعہ چیک سے آپریٹ کرتا ہے لیکن کسان کے ساتھ ایسا نہیںہے۔جب کسان کا دھان بکتا ہے ، گیہوں بکتا ہے تو منڈی میں کیش میں بکتا ہے۔ بغیر سوچے سمجھے نوٹ بندی کر دی ۔ ایک اور گڑ بڑ ہوا ، کرنسی چینج کرنے کے لئے اتنے نوٹ بھی تیار نہیں تھے۔ تین، چار مہینے لوگوں کو بڑی پریشانی ہوئی۔ لوگ کہتے ہیں کہ کئی لوگ بھیڑ میں ،لائن میں کھڑے کھڑے مر گئے۔ وہ ایک الگ صورت حال ہے، لیکن صورت حال نارمل ہونے میں تین چار مہینے لگ گئے۔ نوٹ بندی کی وجہ بتاتے ہوئے سرکار نے کہا کہ اس سے بلیک منی دور ہو جائے گی، ٹیررسٹ کی فنڈنگ دور ہو جائے گی اور نقلی نوٹ بھی بند ہوجائیں گے۔یہ تینوں چیزیں ناممکن ہیں۔
یہ سب جھوٹ ہے
جو معیشت کو تھوڑا بھی سمجھتا ہے، وہ بتا سکتا ہے کہ یہ تینوں چیزیں نہیں ہو سکتی ہیں۔ تب پھر پینترا بدل لیا ۔ پھر سرکار نے کہاکہ کیش لیس ٹرانزیکشن اور کارڈ کازیادہ استعمال ہو، اس لئے ایسا کیا ۔یہ جھوٹ ہے۔ آپ نے پورے ملک کو خود اپنی آواز سے مخاطب کیااور پھر بعد میں کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ نہیں تھی، وہ تھی۔ پھر پھر کیش لیس نہیں ہوا، تو لیس کیش ہوگا۔ پھر کہتے ہیں لاکھوں اکائونٹ میں جو لوگوں نے بلیک منی جمع کر دیئے، ہم ان کی انکوائری کریں گے۔ ہم لاکھوں لوگوں کو نوٹس دیں گے۔یہ ذمہ دار سرکار کی نشانی نہیں ہے ۔یہ غیر ذمہ دارانہ باتیں ہیں۔ ایک عام آدمی جو کسی کمپنی کا ملازم ہوتا ہے، وہ جب کچھ غلط کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے تو ادھر ادھر کی باتیں کرتاہے، باتیں گھماتا ہے، یہ نارمل بات ہے۔ لیکن ملک کے وزیر، آفیسر اور وزیر اعظم کو یہ چھوٹ دستیاب نہیں ہے ۔ان کو جو بات کرنی ہے، اس میں ان کو مستحکم رہنا پڑے گا ۔ سرکار کو کہنا چاہئے تھا کہ ہم سے یہ بھول ہو گئی ہے۔
آپ بھگوان نہیں ہیں،انسان ہی تو ہیں۔یہنشانی ہے ایک ذمہ دار اورا ونچے قد کے آدمی کی، جو لمبے عرصہ تک وزیر اعظم رہ سکتا ہے۔ نوٹ بندی کے ناکام ہونے کے بعد پھر سرکار نے جلدی میں جی ایس ٹی لاگو کر دیا۔ ملک میں جی ایس ٹی پر 20سال سے بحث چل رہی تھی۔ کوئی بھی اس کی مخالفت نہیں کررہا تھا ۔صرف گجرات سرکار ، جس کے وزیر اعلیٰ مودی تھے، انہوں نے ہی اس کی مخالفت کی تھی۔ وزیر اعظم بننے کے بعد انہیں سمجھ میں آیا کہ ایسا کرنا ضروری ہے اور جلد بازی میں یہ فیصلہ لے لیا۔ اتنے طرح کے ریٹ لگا دیئے کہ پھر کنفیوژن ہو گیا۔ پھر آپ نے لوگوں کو کنفیوژ کر دیا۔ کاروباری طبقہ بالکل تلملا گیا کہ یہ کیا ہو گیا؟ پھر آگیا گجرات الیکشن ۔
مودی جی تو انتخاب کے ہی آدمی ہیں۔ انہیں انتخاب میں ہی مزہ آتا ہے۔ خوب تقریریں کیجئے ۔ الیکشن میں سنجیدہ بحث تو ہوتی نہیں ہے۔ آپ کے سامنے ایک لاکھ آدمی کھڑے ہیں اور آپ کو صرف زور زور سے اعلان کرنا ہے۔ اس میں یہ کامیاب ہیں۔ گجرات ان کا اپنا گڑھ ہے۔ 12 سال یہاں رہ کر مرکز میں گئے ہیں۔ امیت شاہ جنہوں نے 56انچ سے بڑھا کر اپنا سینہ 58 انچ کا کر لیا، انہوں نے کہا کہ ہم گجرات انتخابات میں 150 پلس سیٹیں جیتیں گے یعنی کہ 2012 میں جب آپ سرکار میں تھے، تب 115 سیٹیں جیتے تھے، اب 2017 میں 150 پلس ۔کیوں؟ کیونکہ مودی نے ملک کو چینج کردیا، امریکہ کے صدر ، چین کے صدر، جاپان کے وزیراعظم سب سوچ رہے ہیں کہ انڈیااتنا اچھا کبھی تھا ہی نہیں۔ان کی مودی سے ذاتی دوستی ہو گئی۔ 150پلس کا دعویٰ ہوا ہوائی ہو گیا۔ 100ملنے کے لالے پڑ گئے، 99 پر سوئی اٹک گئی۔یہ ایک بہت اہم اشارہ ہے۔ ہندوستان کے عوام عمومی ہیں، ان کے جذبات عمومی ہیں،لیکن وہ بیوقوف نہیں ہیں۔ ایک بار آپ کی بات مان لیں گے ،ٹھیک ہے، آپ نے کچھ نہیں کیا تو دوبارہ کیوں مانیں گے ؟
گجرات میں آخر ہوا کیا ؟
گجرات میں کیا ہوا ہے ؟دو تین چیزیں ہوئی ہیں۔ بی جے پی کا تجزیہ صحیح تھا کہ کانگریس تیار نہیں ہے۔ کانگریس ہم کو ٹکر نہیں دے پائے گی،اس لئے امیت شاہ نے 150 کا فیگر دیا لیکن پاٹیدار سماج نے کھیل بگاڑ دیا۔ 2015 میں پاٹیدار سماج کے لوگوں پر گولی چلی تھی، جس میں 12 آدمی مر گئے تھے ۔اسے لے کر پاٹیدار سماج بی جے پی سے ناراض تھا۔ پاٹیدار سماج میں ایک نیا لڑکا ہاردک پٹیل ہے، جس کی عمر الیکشن لڑنے کی ابھی تک نہیں ہوئی ہے، اس نے لوگوں کا نظریہ ایسا بدل دیا کہ جہاں جہاں پٹیل ہیں، وہاں ووٹ بٹ گئے۔ پٹیل روایتی طور پر ہمیشہ کانگریس کے خلاف رہے ہیں۔ کانگریس جب بھی جیتی ہے ،پٹیل کے زور سے نہیں جیتی ہے۔ پٹیل نے ووٹ نہیں دیئے ہیں۔
بی جے پی جو کیشو بھائی پٹیل کے وقت سے ابھی تک جیت رہی ہے، پٹیلوں کے زور پر جیت رہی ہے۔ اپنے حامیوں کو ناراض کرنا بی جے پی کی پالیسیوں میں سے کوئی نئی پالیسی رہی ہوگی۔ باقی پارٹیوں کو یہ نئی پالیسی سکھانا باقی ہے۔ آنندی بین پٹیل کو ریٹائر کر دیا، کیوں کسی کو پتہ نہیں؟یہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے لیکن ان کو ہٹاکر کم سے کم پٹیل کو تو بناتے۔ وجے روپانی کو صرف اس لئے بنایا کہ وہ امیت شاہ کے آدمی ہیں۔ اپنا آدمی بنانے سے انتخاب تو نہیں جیت پائیںگے ۔یہ باتیں متضاد ہیں۔آپ کو سی ایم اسے بنانا پڑے گا، جو الیکشن جتانے کی صلاحیت رکھے۔ وجے روپانی کو تو خود کی سیٹ کے لالے پڑ گئے تھے۔ خود تو وہ جیت گئے لیکن وہ تو 2 فیصد والے جین سماج سے آتے ہیں۔ ویسے بی جے پی کہے گی کہ ذات پات کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ اس ملک میں کب تک یہ ذات پات چلے گی۔ کانگریس نے 70 سال میں سب برباد کر دیا۔ ہم لوگ نیو انڈیا بنائیںگے۔ کیا سچ مچ ہندوستان میں ذات پات ختم ہو سکتی ہے؟قد میں مودی سے بہت بڑے لیڈر جواہر لال نہرو، جے پرکاش نارائن، اچاریہ نریندر دیو یا رام منوہر لوہیا سبھی نے انتھک کوشش کئے، پھر بھی ذات پات کی روایت ختم نہیں کر سکے۔ رام منوہر لوہیا کہتے تھے کہ ذات برادری نہیں جاتی۔ ان کا کہنا تھاکہ آپ اپنا مذہب بدل کرہندو سے مسلمان بن سکتے ہیں لیکن آپ بنیا سے ٹھاکر نہیں بن سکتے ہیں۔ اس کا آپ کے یہاں کوئی راستہ نہیں ہے۔ ذات پات آپ کی روایت ہے۔ غلطیاں ہر سماج میں ہوتی ہیں۔
ہندو درشن کی جو غلطیاں ہیں، اس میں یہ بھی ہے۔ بی جے پی اپنے آپ کو ہندو ئوں کا نمائندہ مانتی ہے۔ بی جے پی کو ایسی بات نہیں کرنی چاہئے ۔ اگر ذات برادریوں کا اثر کم کرنا ہے تو ذات برادریاں جو سوال اٹھاتی ہیں، اس کا جواب بی جے پی کو دینا پڑے گا۔ جب پاٹیدار نے ریزرویشن مانگا تو کبھی بھی سرکار نے ان سے بات ہینہیں کی۔آج بھی پاٹیداروں کی سیٹوں میں سے زیادہ سیٹیں بی جے پی کو ملی ہیں۔ اگر آدھی سیٹیں بھی گئیں تو آپ کو نقصان تو ہو گیا نا۔ سو راشٹر کو ہی لے لیجئے۔ جہاں بی جے پی سرکار سردار سروَر ڈیم اور پانی تو لے آئی، لیکن وہاں لوگوں نے بی جے پی کے خلاف ووٹ دیا۔ تجزیہ یہ ہے کہ بی جے پی کو اب بھی شہر کے لوگ ووٹ دیتے ہیں۔ گائوں کے لوگ اس لئے ووٹ نہیں دیتے، کیونکہ کسانوں کو بی جے پی نے پریشان کر دیا۔
کہا ں گیا وعدہ
بی جے پی نے وعدہ کیا تھاکہ ہم کسانوں کی آمدنی دوگنی کر دیں گے ،جو لاگت ہوگی، اس سے ڈیڑھ گنا ایم ایس پی (مینمم سپورٹ پرائس )دام ملے گا۔ پھر وہی بات ہے کہ ڈیڑھ گنا دام دینے کی سرکار کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ سرکار کے پاس اتنے پیسے ہی نہیں ہیں۔ اب کہہ رہے ہیں کہ چھ سال میں آمدنی دوگنی کر دیںگے، وہ بھی ممکن نہیں ہے، کیونکہ زمین کی پیداوار تو ڈبل ہو نہیں سکتی۔ مینمم سپورٹ پرائس بڑھانی ہے تو وہ سرکار بڑھاتی نہیں ہے ۔ تو پھر دھوکہ ۔
گجرات کے کسانوں نے بی جے پی کو اشارہ دے دیا ہے کہ ہم بی ے پی کے خلاف ہیں۔ ہاں اس میں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اگر کوئی یہ سمجھے کہ راہل گاندھی الیکشن جیت گئے ہیں تو یہ غلط بات ہے۔ بی جے پی سے مایوس ہوکر ،مودی سے ناراض ہوکر لوگوں نے بی جے پی کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ اس کا فائدہ کانگریس کو ہوا ہے۔کیونکہ وہی پارٹی وہاں تھی، وہاں ملٹی پارٹی نہیں ہے۔یہ یو پی نہیں ہے کہ وہاں سماج وادی پارٹی بھی ہے، مایاوتی بھی ہیں، چار پارٹیاں ہیں۔ گجرات میں تو بس دو ہی پارٹیاں ہیں جسے بی جے پی والے پپو بولتے تھے، گالیاں دیتے تھے، پریوار واد بولتے تھے، اچانک پتہ چلا کہ وہی آدمی 2019 میں وزیراعظم عہدہ کے لئے ٹکر دے سکتا ہے ۔پالیسی کو ہلکے طریقے سے لینا مناسب نہیں ، یہ کسی کا ذاتی کاروبار نہیں ہے۔
ستم ظریفی دیکھئے ،کانگریس کو بی جے پی والے کہتے ہیں کہ وہ پریوار واد چلا رہے ہیں۔ بی جے پی تو پورے ملک کو سمجھاتی ہے کہ یہ ہندوئوں کا پریوار ہے، جبکہ ایسا ہے نہیں ۔ ہندو بی جے پی کے ساتھ نہیں ہیں۔بی جے پی کے ساتھ 18فیصد لوگ ہیں جن کے دماغ میں بی جے پی نے یہ بھر رکھا ہے کہ ہم لوگ ہندو ہیں، مسلمان خراب لوگ ہیں، چار چار شادیاں کرتے ہیں، زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں۔ ایک دن مسلمان ہم سے زیادہ ہو جائیں گے تو پھر اس ملک کا کیا ہوگا؟یہ سب غلط ہے ۔سب بے بنیاد باتیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہندو سماج ان کے ساتھ ہے کیا؟ نہیں ہے۔
راہل گاندھی کو یہ بات سمجھ میں آگئی۔یہ عوامی جذبات ہوتے ہیں کہ ہمارے علاقے میں سومناتھ کا مندر ہے، روایت ہے تو وہاں جانا چاہئے ۔یہی سوچ کر راہل گاندھی سومناتھ مندر گئے۔ اس پر بھی لوگ ہنسے ۔ہنسئے نہیں۔ بی جے پی کا تو ایک ہی ایشو ہے۔ مندر- مسجد ۔ لیکن مندر پر کسی کی اجارہ داری تو نہیں ہے۔ راہل سومناتھ گئے تو ان سے سوال کیا پوچھے گئے؟وہ اس سومناتھ مندر میں کیسے گئے ۔جواہر لال نہرو جس کی از سر نوتعمیر کے خلاف تھے۔یہ ایک نئی بات تھی ۔کسی کے دادا جی کسی بات کے خلاف ہوں،تو کیا اس کے پوتے کے اختیارات ختم ہو جاتے ہیں؟ایک آدمی مندر کیوں جاتاہے؟ایک تو ذاتی عقیدت اور دوسرا جب الیکشن میں کوئی کھڑ اہوتاہے تب مندر جانا پڑتا ہے۔کوئی لیڈر مندر نہیں بھی جاتاہے،تب بھی الیکشن کے وقت جانا پڑتا ہے، عوام کو یہ بھروسہ دلانے کے لئے کہ ہم لا مذہب نہیں ہیں، ہم مذہبی ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

سب سے بڑا سوال
میرے حساب سے گجرات الیکشن کے بعد سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ اس ملک کا مستقبل کیا ہے؟کیا یہ ملک ایک ایسی پارٹی کے حوالے رہے گا جو 18فیصد ووٹ کی بنیاد پر ،جھوٹے بیان دے کر ، جھوٹی امیدیں جگا کر ، جھوٹے خواب دکھا کر اور مسلمانوں کے خلاف گالی گلوچ کرکے اور ہندوئوں کو گمراہ کرکے اقتدارمیں رہے۔ اس سے تو وکاس نہیں ہوتا ہے۔ اقتدار ایسی پارٹی یا پارٹیوں کے ہاتھ میں ہونا چاہئے ، جو آئین کو لاگو کرے، جو بہت سوچ سمجھ کر بنایا گیا ہے۔ آئین میں کہیں نہیں لکھا ہے کہ مسلم ہندو سے اوپر ہونے چاہئے۔ لیکن یہ بھی نہیں لکھا ہے کہ مسلمانوں کو نظر انداز کر دیجئے ۔
موہن بھاگوت کا حالیہ بیان ہے کہ جو آدمی ہندوستان میں رہتاہے، وہ ہندو ہے۔ ارے تو پھر جھگڑا کہاں ہے؟بی جے پی یا سنگھ والے ہندو لفظ استعمال کرتے ہیں، باقی لوگ ہندوستانی شہری استعمال کررہے ہیں۔ اگر ہندوستانی شہری ہیں تو سب کے حقوق برابر ہیں۔ بی جے پی کو اپنی فکر کرنی ہے۔ وہ اپنے ڈھنگ سے سرکار چلائے گی یا آر ایس ایس کے طریقے سے کانگریس 132 سال پرانی پارٹی ہے، بی جے پی اسے سیاست نہ سکھائے۔ باقی کئی سیکولر پارٹیاں ہیں۔ سوشلسٹ پارٹی اور جنتا دل سے نکلے ہوئے لوگ ہیں، ان کو تجزیہ کرنا چاہئے کہ شاید انتہائی جوش میں انہوں نے ملک کے ہندوئوں کی کچھ نظر انداز کیا ہو۔
شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کا ایک بہت اچھافیصلہ آیا تھا لیکن مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے کانگریس نے اس فیصلے کو بدل دیا۔ یہ تو اچھی بات نہیں ہے۔ اگر سپریم کورٹ نیفیصلہ دے دیا تو دے دیا۔ جب اس سے ہندو ناراض ہو گئے تو کانگریس نے ایودھیا میں متنازع ڈھانچے کا تالا کھلوا دیا۔ اس کے بعد رام مندر کا شیلانیاس ہوگیا۔پھر بی جے پی کے لوگوں نے بابری مسجد توڑ دی۔ اس نے ملک میں ہندو- مسلمان کے بیچ ایک نئی درار پیدا کر دی۔ ا س سے ملک کا تو فائدہ نہیں ہوا۔ کوئی بھی پارٹی اگر ملک کا نقصان کر کے ملک میں حکومت کر بھی لے ،الیکشن جیت بھی جائے تو اس سے کیا ہوگا۔
وزیر اعظم کہتے ہیں کہ 70سال میں کچھ نہیں ہوا۔ یہ ایک فرضی بات ہے۔ 70سال میں اٹل بہاری واجپئی کی بھی چھ سال کی حکومت شامل ہے۔ تین سال کی مرارجی بھائی کی سرکار بھی شامل ہے جس میں اٹل بہاری واجپئی وزیر خارجہ تھے۔ کیا بی جے پی کو اپنے لوگوں کی بھی پرواہ نہیں ہے؟ان کو تو اپنے لوگوں کی بھی پرواہ نہیں ہے۔ گجرات الیکشن کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ لوگوں نے کہا کہ بی جے پی ہمیں فار گرانٹیڈ نہ لے۔ بی جے پی دوبارہ بھی جیت سکتی ہے۔ لیکن کام کی بنیاد پر۔ 56 انچ کے سینہ اور مسلمانوں کو گالی دے کر انتخابات نہیں جیت سکتے۔ ادھر گجرات انتخابات میں جب سے راہل گاندھی کی شخصیت بڑھی ، بی جے پی کا رخ بھی نرم ہوا ہے۔
گجرات الیکشن میں جو صحافی دو دو مہینے تک وہاں رہے، ان کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعظم 37ریلی نہیں کرتے اور یہ کہہ کر اپنی عزت دائو پر نہیں لگا دیتے کہ میں گجراتی ہوں،یہاں کا ہوں،تو شاید 55سیٹیں بھی نہیںملتیں ۔ملک نے کبھی بھی وزیر اعظم کو انتخابی فائدے کے لئے اتنے نچلے درجے کی تقریر کرتے نہیں دیکھا۔ لیکن پارٹی کو جتانا ہے تو شکایت نہیں کرسکتے۔ 2019 میں لوک سبھاکا الیکشن ہے اور ڈیڑھ سال میں کانگریس کوئی چمتکار کر دے، ایسا نہیں لگتا ۔مودی چمتکار کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر منہ کی کھائیںگے۔
یہ چمتکاروں کا ملک نہیں ہے
یہ چمتکاروں کاملک نہیں ہے ۔یہ ملک ذمہ دار آدمیوں کا ملک ہے۔ یہ زرعی ملک ہے۔ کسان شیئر بازار میں روپیہ نہیں لگاتا ہے کہ ایک دن اوپر چلا گیا، ایک دن نیچے چلا گیا۔یہ آسمان دیکھتا ہے کہ اس سالنہیں تو اگلے سال بارش ہوگی۔ کسان بہت متحمل شخصیت کا حامل ہوتاہے۔ سرکار کسانوں کو دوگنی آمدنی کی جگہ 25 فیصد آمدنی کردے ،یہی بہت بڑی بات ہوگی۔ اس کے لئے سرکار کوکام کرنا پڑے گا۔ صرف وعدے سے کام نہیں ہوگا۔ بی جے پی صرف وہی وعدے کرے جو پورے ہو سکتے ہیں۔ جو وعدے پورے نہ ہوں، اس کے لئے معافی مانگ لینی چاہئے ۔امیت شاہ نے ایک بار کہا کہ 15 لاکھ روپے جملہ تھا۔ جملے کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہندوستان کے لوگ ابھی بھی مکمل خواندہ نہیں ہیں،لیکن وہ سب سمجھتے ہیں۔1977 میں اندرا گاندھی نے ایمرجینسی لاگو کیا، تو کانگریسی یہی کہتے تھے کہ گائوں والوں کو کیا معلوم ؟گائوں والوں نے اندرا سرکار کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ یہ 40سال پہلے کی بات ہے۔ آج تو عوام زیادہ بیدار بھی ہے اورباخبر بھی ۔سرکار پریس کو پیسہ سے خرید سکتی ہے لیکن جو عام لوگ ہیں، جو غریب ہیں ،انہیں یہ کیسے مینج کریںگی؟
غریب بول نہیں رہا ہے لیکن وہ سب کچھ سمجھ سب رہاہے۔ گجرات کے گائوں میں کانگریس کو بی جے پی سے دوگنی زیادہ سیٹیں ملی ہیں۔ شہری لوگوں سے بی جے پی ڈرتی ہے۔ اب اگر کسان کو اس کی لاگت کا روپیہ ملے تو اس کے لئے اناج کا پیسہ تو وہی دے گا نہ جو شہر میں بیٹھا ہوا خرید کر اسے کھا رہا ہے۔ ایک آخری بات یہ کہ الکٹرانک ووٹنگ مشین کا کئی ملکوں نے تب بائیکاٹ کیا، جب یہ معلوم ہوا کہ اس میں مینی پولیشن ہو سکتاہے۔ ایک آدمی بیلیٹ پیپر پر ٹھپہ لگاتا ہے تو اس کا مینی پولیشن ہو سکتاہے ۔کبھی بھی اسے ریکائونٹ کرسکتے ہیں۔نیو انڈیا چھوڑیئے ،ملک کو اس کا اولڈ انڈیا واپس کر دیجئے۔ملک اولڈ انڈیا سے کافی خوش تھا۔ مودی پھر جیتیں، 15سال وزیر اعظم رہیں۔اس سے کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہر پانچ سال پر عوام سرکار چنتی ہے لیکن اگر الیکشن کمیشن پی ایم او کی بات سن کر اپنا بھروسہ دائو پر لگائے گا تو پھر یہ خطرناک ہے۔ تب ہندوستان بھی افریقی ملک کی طرح ہو جائے گا۔ اب ملک کے لئے اور سرکار کے لئے بھی جاگنے کا وقت آگیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *