شہید فوجیوں کے بچوں کے تئیں سرکار سنگ دل کیوں ؟

کبھی کبھی دل کو دکھانے والی جانکاریاں آجاتی ہیں۔وہ جانکاریاں جب سرکار کے کارنامے کی وجہ سے ہوں تو دل بہت افسردہ ہوجاتا ہے۔ ہم بھی خاموش رہ سکتے تھے،جیسے سارے ٹیلی ویژن چینل خاموش ہیں، جیسے اخبار خاموش ہیں لیکن ہم کیا کریں ؟صحافت کی ایسی نصیحت ہمیں ملی ہوئی ہے کہ جہاں ایسی خبریں ہوں، وہ آپ تک ضرور پہنچائے جائیں اور دل چاہے بھی اسے روکنا تو ہم نہیں روک سکتے۔ ایسے ہی ایک دل دہلا دینے والی خبر آپ کو ہم بتانے والے ہیں۔ ہمارے ملک کی فوج ، فوج کے جوان جن کی بہادری کی کہانیاں ہم سناتے ہیں اور ان کا استعمال انتخابات میں بھی کرتے ہیں، برسراقتدار پارٹی کے ترجمان فوج کے نام پر سینہ پیٹ پیٹ کر باقی کو ملک غدار اور خود کو محب وطن ثابت کرتے ہیں، ہم انہی فوجیوں کی بات کررہے ہیں۔
ایک خبر آئی ہے کہ 1965اور 1971 کی جنگ میں ہمارے بہت سے فوجی شہید ہوئے تھے۔1971 کی جیت کے بعد، ہندوستانی سرکار نے یہ فیصلہ لیا تھاکہ شہیدوںکے ، لاپتہ فوجیوں کے اور معذور فوجیوں کے بچوں کی ذمہ داری سرکار اٹھائے گی۔ ذمہ داری کا مطلب بچوں کی تعلیم، ان کی ہاسٹل کی فیس، ان کے کپڑے وغیرہ کا خرچ سرکار دے گی لیکن اب ہندوستان کی سرکار نے ، جو فوجی کے حمایت میں کھڑی ہوئی اپنے کو محب وطن بتاتی ہے اور جو فوج کے نام پر انتخاب جیتنا چاہتی ہے، فیصلہ لیا ہے کہ اب ہم اس خرچ کو محدود کریں گے۔ 10 ہزار روپے سے زیادہ ہم کسی کو نہیں دیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ آج کی پڑھائی کی قیمت سرکار کو نہیں معلوم۔ آج کل سب کے بچے پبلک اسکولوں میں پڑھتے ہیں، آئی اے ایس کی تیاری کرتے ہیں۔ اب موجودہ سرکار نے اس خرچ کی زیادہ سے زیادہ حد طے کر دی ہے۔ وہ حد ہے10 ہزار روپے فی ماہ۔ اب وہ بچے ٹیکنیکل ایجوکیشن نہیں پا سکتے، اعلیٰ تعلیم نہیں پا سکتے، ہاسٹل میں نہیں رہ سکتے، وہ ملک کے انتظامی سرگرمیوں میں شامل لوگوں کی جماعت میں نہیں شامل ہو سکتے۔ ہمارے پرانے وزیردفاع نے شاید یہ فیصلہ لیا ہوگا یا موجودہ وزیر دفاع نے لیا ہوگا۔ وزارت خزانہ نے رائے دی ہوگی سرکار کوکہ سب سے زیادہ بچت فوج کے سپاہیوں کے بچوں کی تعلیم پر خرچ ہونے والے پیسے میں ہی دکھائی دیتی ہے۔

 

 

 

 

 

سرکار کو اپنی تنخواہ، غیر ملکی دورہ ، فائیو اسٹار ہوٹلوں میں رہنا، وزیروں کا بزنس کلاس میں چلنا نہیں دکھائی دیتا۔انہیں فوج کے شہید ، معذوروں اور شہیدوں کے بچوں کی تعلیم میں سے پیسہ بچانا ہے، مانو یہ نہیں بچایا تو سرکار دیوالیہ ہو جائے گی۔ اس لئے انہوں نے 10 ہزار روپے کی حد مقرر کردی۔ ابھی ایسے بچوں کی تعداد 3400 ہے۔ 3400 بچے اب نہیں پڑھ پائیں گے۔ 10 ہزار روپے میں کیا کوئی رکن پارلیمنٹ، آئی اے ایس آفیسر اپنے بچے کی پڑھائی کا خرچ اٹھا سکتاہے؟ہمارے فضائیہ سربراہ نے موجودہ وزیر دفاع نرملا سیتا رمن کو ایک خط لکھا اور شاید یہ لکھا کہ سرکار کا یہ فیصلہ فوج کے تئیں غیر حساس فیصلہ ہے۔ سرکار نے بھی ابھی اس کے اوپر کوئی دھیان نہیں دیا ہے۔ وزیر دفاع خاموش ہیں، وزیر خزانہ خاموش ہیں، سب گجرات میں لگے ہوئے ہیں۔ گجرات جیتیں گے لیکن شہید فوجیوں کے بچے اب نہیں پڑھ پائیں گے۔سرکار کا کوئی ری ایکشن نہیں ہے۔ بی جے پی کے لیڈر بے حس ہو گئے ہیں۔ سارے سیاسی لیڈر بے حس ہو گئے ہیں۔ کسی سیاسی لیڈر نے اس کو لے کر سوال نہیں اٹھایا ۔
اب آپ کو اس کا دوسرا پہلو بتاتاہوں۔ جو فوجی ریٹائر ہو کر گائوں آتے ہیں، ان کی کیا حالت ہوتی ہے۔ ان کی کوئی مدد ضلع انتظامیہ نہیں کرتا۔ پولیس نہیں کرتی۔ تھانہ انہیں کہتی ہے فوج میں تھے، سبق سکھاتے ہیں۔یہ لوکل پولیس کا رویہ ہے۔ اس کے تئیں ضلع انتظامیہ شکایت کرنے پر بھی کوئی قدم نہیں اٹھاتا۔ موجودہ فوجی جوان جب گائوں چھٹی پر جاتاہے ،تب اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کے کھیت کا ایک حصہ کسی دوسرے نے جوت لیا۔ اس کی زمین پر کسی اور نے قبضہ کرلیا ۔ اس کے خاندان کے پاس پورے کھانے کپڑے کا انتظام نہیں ہے، اسکول میں اس کا بچہ ٹھیک سے نہیں پڑھ رہاہے۔یہ موجودہ جوانوں کی بات کررہا ہوں لیکن جو شہید ہو جاتے ہیں، جو لاپتہ ہو جاتے ہیں، جو معذور ہوجاتے ہیں، ان کے بچوں کے تئیں ایسی بے حیائی کو کیا کہیں؟یہ کام وہ سرکار کر رہی ہے جس نے کبھی کہا تھاکہ ہم اقتدار میں آئے تو ایک کے بدلے دس سر کاٹ کر لائیں گے۔ کتنے سپاہیوں کے سر آپ نے کاٹے ،پتہ نہیں۔ لیکن یہ تو پتہ چل گیا کہ جو شہید ہوئے ،ان کے بچوں کو دس ہزار روپے سے زیادہ کی سرکاری مدد نہیں ملے گی۔وہ پڑھ پائیں گے یا نہیں پڑھ پائیں گے، سرکار کو اس کی فکر نہیں ہے۔

 

 

 

 

 

سرکار نے ٹی وی چینلوں کے ذریعہ بدعنوانی کا نیا راستہ کھول دیاہے۔ ایک اکائونٹ ہر ٹیلی ویژن چینل کا مالک کھولے بیٹھا ہے کہ جھنڈا دیوس پر، فوج دیوس پر دل کھول کر فوجیوں کے لئے عطیہ دیجئے۔ پہلے جو عطیہ دیئے گئے ، ان کا کیا ہوا؟ کوئی حساب ہے؟ فوج کے نام پر بھی بدعنوانی ۔ جتنے بڑے ٹی وی چینل ہیں، اخباروں کے مالک ہیں، سب نے ایک این جی او بنارکھا ہے۔ اس میں جو پیسہ جاتا ہے، کیا اس کا کوئی حساب ہے؟نئے سرے سے فوج کے نام پر پیسہ لوٹنے کی کوشش ہورہی ہے۔لیکن وہ الگ سوال ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ سرکار کو اپنی ذمہ داری نبھانے سے کس نے روک دیا؟کیا سرکار کے پاس اتنا بھی پیسہ نہیں ہے کہ 3400 بچوں کی تعلیم کا انتظام کر سکے۔ وہ پڑھ کر اپنے گھر کا سہارا بن سکے، کیا اس کی ذمہ د اری سرکار کینہیں ہے؟ہم لوگ جو روز ’’پچاس سال تک دیش بھکت سرکار رہے گی‘‘ کا نعرہ لگاتے ہیں، کیا کررہے ہیں۔ اپوزیشن اتنا بے بس اور بزدل ہے کہ اس نے اس خبر کو اٹھایا تک نہیں ۔
میں یہ اپیل کرتاہوں کہ سرکار فوراً اپنے فیصلے پر غور کرے۔ اپنے صحافی ساتھیوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس سوال کو اٹھائیں ۔یہ کسی آدمی یا کسی پارٹی کا سوال نہیں ہے۔یہ شہیدوں کے بچوں کا سوال ہے ۔یہ ملک کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ملک کے لئے قربانی دی ہیں۔وہ ملک کے لئے لاپتہ ہوئے ہیں۔ ملک کے لئے معذور ہوئے ہیں۔ کیا ہم سرکار کو مجبور نہیں کرسکتے کہ سرکار اس فیصلے پر ازسر نو غور کرے۔ بحریہ سربراہ، فضائیہ سربراہ خط لکھیں ،تب بھی سرکار کے کان پر جوں نہ رینگیں تو سرکار تک آواز پہنچانے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟ آپ خود سوچئے۔ ورنہ کون ملک کے لئے لڑے گا؟شاید اسی لئے آج فوج میں جوانوں اور افسروں کی کمی ہے۔ شاید انہیں معلوم ہے کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے خاندان کی حالت کتنی خراب ہوگی۔ کیا سرکار اس اپیل پر دھیان دے گی۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *