کب سے غریبوں کی پارٹی بن گئی بی جے پی؟

الیکشن کس نے جیتا، کون ہارا، میرے لیے یہ اہم نہیں ہے۔ جمہوریت میںہر پانچ سال میںیہ عمل دوہرایا جاتا ہے۔ الیکشن غیر جانبدارانہ ہونا چاہیے۔ الیکشن کمیشن کو غیر جابنداری سے کام کرناچاہیے۔یہ بنیادی سوال ہے ملک کے سامنے۔ بدقسمتی سے جب سے یہ سرکار آئی ہے، تب سے اس کو دھکا لگا ہے۔ وزیر اعظم کا ایک بار انتخاب ہوگیا تو وہ ملک کے لیڈر بن جاتے ہیں۔ ٹھیک ہے کہ پارٹی کو الیکشن لڑنا ہوتا ہے، لیکن اچھا یہ ہوگا کہ وزیر اعظم ریاستوں کے الیکشن میںاتنی دلچسپی نہ لیں۔ دو چار ریلی کرکے چلے جائیں دہلی ۔ لیکن مودی دوسرے قسم کے وزیر اعظم ہیں۔ ان کو وزیر اعظم بھی ہونا ہے، ہر ریاست کا وزیر اعلیٰ بھی ہونا ہے۔ ان کی ٹینڈینسی جمہوری تو نہیں ہے۔ گجرات الیکشن بی جے پی اور کانگریس کے بیچ نہیںتھے، یہ بی جے پی اور عوام کے بیچ تھے۔ اس الیکشن نے یہ طے کردیا کہ اس ملک میںجمہوریت چلے گی کہ نہیںچلے گی؟ تشویش کی بات یہ ہے کہ گجرات میںایک کمیونٹی نے ریزرویشن مانگا۔ آپ نے ہاردک پٹیل کو جیل میںڈال دیا، پولیس فائرنگ کردی، اس میں12 لوگ مرگئے۔ یہ اپنے آپ میںغیر جمہوری بات ہے۔ اس ملک میںجب سے آزادی آئی، تب سے 50 سے زیادہ بار رام منوہر لوہیا گرفتار ہوئے لیکن گولی نہیںچلی۔ ہم لوگ لوہیا وادی ہیں۔ ہم پنڈت نہرو کو تانا شاہ کہتے تھے، اندرا گاندھی کو تاناشاہ کہتے تھے۔ آج تو مجھے کہنا پڑے گا کہ وہ لوگ تو بہت جمہوری تھے۔ اندرا گاندھی نے ایمرجنسی لگائی۔ بہت بڑی بھول کی انھوںنے۔ لیکن جب عوام کو موقع ملا تو سبق بھی سکھا دیا۔ عوام نے دکھا دیا کہ یہ پیٹرن برداشت نہیںکرسکتے۔ ہمارے حقوق آپ نہیںچھین سکتے ہیں۔ آپ اپوزیشن لیڈر کو جیل میںڈال دیجئے، ہم کو فکر نہیں ہے لیکن آپ ہمارے حقوق چھین رہے ہیں، لوک سبھا کا ٹرم ایک سال اور بڑھا رہے ہیں،یہ نہیں ہونے دیںگے۔
گجرات میںوہی بات ہے۔ سوال یہ نہیںہے کہ پٹیل کو ریزرویشن دے سکتے ہیںکہ نہیں دے سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آپ جمہوری سرکار چلا رہے ہیں یا نہیںچلا رہے ہیں۔ کانگریس نے کئی غلط پیٹرن ڈالے تھے۔ ایک یہ کہ ہر وزیر اعلیٰ ہائی کمان طے کرتا تھا۔ اچھا پیٹرن یہ ڈالا کہ جمہوریت کے کا ڈھانچہ رکھا اور جو طویل مدتی بہتر کام تھے کیے۔ جیسے بڑے ڈیم بنوائے، اسٹیل پلانٹ بنایا،ایٹمک انرجی بنائی۔ آج مضحکہ خیز یہ ہے کہ جنھیںہندوستان کی تاریخ نہیںمعلوم، وہ کہتے ہیںکہ 70 سال میںکچھ ہوا ہی نہیں۔ میری پیدائش 1946 میںہوئی۔ ملک کے ساتھ ساتھ پلے بڑھے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ یہ ملک کیا تھا اور آج کیا ہوگیا ہے۔ یہ کہنا کہ ملک میںترقی نہیںہوئی ہے، سچ کو جھٹلانے والی باتیںہیں۔ یہ کہہ سکتے ہیںکہ جتنی ترقی ہونی چاہیے تھی، اتنی نہیںہوئی ہے۔ جنھیںسیاست کا انداز ہ نہیںہے، جنھیں ملک کی تاریخ کا اندازہ نہیںہے، وہی ایسی بات کرسکتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

مودی جی اپنے من سے سیاست میںآئے۔ کوئی انھیںزبردستی لے کر نہیںآیا ہے۔ آر ایس ایس کے پرچارک رہتے ہوئے وہ وزیر اعلیٰ بنے۔ 12 سال گجرات پر حکومت کی۔ گجرات کا کوئی صحیح آڈٹ کرے تو کوئی بہت قابل تعریف صورت حال نہیںہے۔ گجرات ایک ترقی یافتہ ریاست رہی ہے۔ 1960 میںگجرات بنا تھا۔بمبئی اسٹیٹ سے الگ ہوکر مہاراشٹر اور گجرات بنا۔ 35 سال تک کانگریس نے گجرات چلایا۔ تو 1960 سے 1995 کے بیچ گجرات میںکیا ہوا،اس کا کوئی حساب کتاب تو ہوگا۔ کیا آپ یہ بول سکتے ہیںکہ اس وقت کچھ نہیںہوا تھا ۔ گجرات ا لیکشن کو دیکھ کر میںصرف یہی سمجھا ہوںکہ مودی جی کو صرف ایک بات میںدلچسپی ہے،انتخاب جیتنا اور پاور اپنے ہاتھ میںرکھنا۔ پیسے کے معاملے میںیہ کانگریس سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔ بی جے پی آج اتنا پیسہ اکٹھا کر رہی ہے، جتنا کانگریس نے اب تک نہیںکیا ہوگا۔ یو پی اے 1- کے کاموںکی رپورٹ 2010 سے 2013 کے بیچ سی اے جی لے کر آئی تھی۔ اس کے بعد گھپلے گھوٹالے سامنے آئے تھے۔ مان لیجئے، آج بی جے پی راج میں بھی کچھ ایسا ہورہا ہے تو اس کا پتہ تو اگلے 4-5 سال میںچلے گا، اگر سی اے جی ایسی کوئی رپورٹ لاتی ہے۔
لیکن میں یہ مان کر چلتا ہوں کہ بی جے پی نے کوئی اسکیم نہیںکیا۔ بی جے پی اگر بڑا اسکیم نہیںکررہی ہے تو اچھی بات ہے۔ لیکن کانگریس نے جو غلط کام کیا ہے ،وہ تو بی جے پی بھی کررہی ہے۔ بی جے پی بھی پیسہ اکٹھا کررہی ہے۔ جہاںآپ (بی جے پی ) الیکشن ہارجاتے ہیں، وہاں جوڑ توڑ کرکے سرکار بناتے ہیں۔ اس کے لیے خریدو فروخت کرتے ہیں۔ گووا اور منی پور اس کی مثال ہیں۔ اڈوانی جی جب لیڈر تھے ، تب کہتے تھے کہ جب آپ الیکشن ہار گئے تو آپ اپوزیشن میںبیٹھئے۔ پانچ سال بعد پھر الیکشن ہوگا لیکن یہ سب برداشت نہیںہے۔ آج تو بی جے پی راتوںرات لوگوںکی خریدو فروخت کرتی ہے۔ یہی کام کانگریس بھی کرتی تھی۔
میرا پختہ یقین ہے کہ 18 فیصد کور ووٹ ان کو ہمیشہ ملتا ہے۔ جن سنگھ تھا تب بھی۔ 31 فیصد پچھلے لوک سبھا الیکشن میںملا۔ یہ 13 فیصد کون تھے؟ یہ وہ نوجوان تھے، جنھیںنوکری نہیںمل رہی تھی،کسان تھے،جنھیں آپ کی لاگت نہیںمل رہی تھی اور جن سے وعدہ کیا گیا کہ 50 فیصد اضافی ایم ایس پی دیا جائے گا۔ اس سے بی جے پی کو فائدہ ہوا۔ بی جے پی اقتدار میںآگئی لیکن اس کے بعد کیا کیا؟ ڈھائی سال تک سرکار ٹھیک چلی۔ ٹھیک مطلب جیسے ہندوستان کی سرکاریںچلتی ہیں۔ لیکن جو وعدے آپ نے (بی جے پی ) کیے تھے، آپ اس سے پیچھے ہٹ گئے۔ نہ کسانوںکا کچھ بھلا کیا، نہ صنعت کاروں کا کچھ بھلا کیا۔
دقت یہ ہے کہ مودی جی کی سوچ جمہوری نہیںہے۔ جمہوریت میںایک شخص کی پوجا نہیںہونی چاہیے۔ پارٹی جیتنا چاہیے۔ مودی جی کی پالیسیوںکو دیکھئے۔ انھوںنے بغیر سوچے ، بغیر صلاح کیے نوٹ بندی کردی۔ یہ سوچا کہ لوگ گھر میںچھپا کر بلیک منی رکھتے ہیں۔ انھیںپتہ نہیںتھا کہ بلیک منی پورے ملک میںگھوم رہی ہے۔ اسی طرح سے جی ایس ٹی جو ایک اچھی اسکیم تھی،اسے پیچیدہ بنا دیا۔ مودی جی خود جب سی ایم تھے، جی ایس ٹی کی ہمیشہ مخالفت کرتے تھے۔ بی جے پی کے جو کور حامی ہیں،وہ تاجر، کرانہ دکاندار، چھوٹی صنعت والے لوگ ہیں۔ وہی جی ایس ٹی سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ آج ملک کی جو حالت ہے،وہ حالت ملک بچاؤ، جمہوریت بچاؤ، آئین بچاؤ والی حالت بن گئی ہے۔ الیکشن کمیشن پہلے بھی ٹھیک چلتا تھا۔ ٹی این شیشن نے اس کا لیول بڑھا دیا۔ اب یہ الیکشن کمیشن پہلا الیکشن کمیشن ہے ، جس نے دکھا دیا کہ وہ پرائم منسٹر کے اشارے پر چلتا ہے۔
بی جے پی والے امریکہ کے خلاف نہیںبولتے ہیں، یہ امریکہ پرست ہیں۔ امیر پرست ہیں۔ امبانی، اڈانی، امریکہ، یہ سب ان کے چہیتے ہیں۔ باقی بات غریبی کی کریںگے۔ فکی کے خطاب میںمودی جی نے کہا کہ یو پی اے امیروں کی طرف تھی،ہم غریبوںکے لیے ہیں۔ بی جے پی کب سے غریبوں کی پارٹی ہوگئی؟ یہ نیریٹو اب ختم ہوچکا ہے۔ اب امیر غریب نہیں، اب آپ بتائیے کہ کسانوں کا جو مسئلہ ہے، اس کا کیا حل ہے؟ آج سب کو پتہ ہے کیا مسئلہ ہے، اس کا حل بتائیے۔ آپ کیا کررہے ہیں؟ آپ کہہ سکتے ہیںکہ اتنا ہم کرسکتے ہیں، اتنا نہیںکرسکتے ہیں۔ اقتصادی معاملے بہت پیچیدہ ہوتے ہیں۔ بی جے پی نے اپنے مینی فیسٹو میںکہا کہ 50 فیصد ایم ایس پی بڑھا کردیںگے۔ اب اگر 50 فیصد دینا ممکن نہیںہے تو لوگوںکو یقین میںلیجئے۔ میںپھر کہتا ہوں۔ میںہندو ہوں۔ یہ ہندو کے نمائندے نہیںہیں۔ ہندو کی یہ سوچ نہیںہے کہ ایک کو ہرا کر ، مارپیٹ کرناہندو کی ٹینڈینسی نہیںہے۔ ہندو چاہتے ہیںکہ امن سے سب لوگ ساتھ چلیں۔ کسانوںکی بھی بھلائی ہو، صنعتوں کی بھی ہو، نوکریاں بھی ملیں۔ لیکن، بی جے پی کے دو ہی معیار ہیں۔ ان کی پارٹی کا فائدہ اور مسلمانوںکا نقصان۔ راہل گاندھی سومناتھ مندر گئے۔ اس سے ان کو مرچی لگ گئی۔ اس سے مضحکہ خیز بات کوئی نظر نہیںآرہی ہے۔ یہ ہندوتو کیا ہے؟ ہندوتو ایک سیاسی نعرہ ہے۔ اس سے کچھ نہیںہوتا۔ اگر ہندو فلسفہ جیسی وسیع چیز ایک چھوٹی سی سیاسی پارٹی میںآسکتی ہے تو پھر مجھے تو شرم آئے گی ہندو کہلانے میں۔ ہندو فلسفہ بہت وسیع ہے۔ اسی لیے میرا کوئی جھگڑا نہیںہے۔ میرے مسلمان دوست ہیں۔ قرآن میںکہیںلکھا ہی نہیں ہے کہ آپ جھگڑا کرو۔ سب لوگ اپنا اپنا مذہب فالو کریں تو کوئی تضاد ہے ہی نہیں۔ لیکن نہیں،یہ اس سے خوش نہیں ہیں۔ کانگریس نے بھی اپنے آپ پر بہت بڑی تہمت لگا لی، جب دہلی میں سکھوںکا قتل عام ہوا ۔ تین سے چار ہزار سکھ مارے گئے۔ ایک آدمی بھی پھانسی پر نہیںلٹکا۔ یہ کانگریس کے لیے شرمناک ہے۔ گولڈن ٹیمپل سانحہ جب ہوا تب اس وقت چندر شیکھر جی،ایک واحد لیڈر تھے ملک میں،جنھوں نے کہا کہ جو ہوا بہت بدقسمتی سے ہوا۔

 

 

 

 

 

 

یہ ملک بہت بڑا ملک ہے۔ جو اس کی قیادت کرنے کی خواہش رکھتا ہے، اس کو پڑھائی لکھائی بہت کرنی چاہیے۔ ہندوستان کو ویسے ہی چلائیے جیسے اس کی پرسنالٹی ہے۔ آپ پانچ سال کے لیے چنے گئے ہیں۔ لیکن یہ خود مانتے ہیںکہ 20-25 سال کے لیے چن کر آگئے ہیں۔ آپ کس کی پرسنالٹی بدلنا چاہتے ہیں؟ کانگریس کے خلاف بولیے، مجھے کوئی اعتراض نہیںہے۔ اپوزیشن پارٹی ہے۔ لیکن، آپ ہندوؤں کو اکسا رہے ہیںمسلمانوںکے خلاف۔ کہیںکسی کو مار دیںگے ، یہ نہیںچلے گا۔ کیا آپ ملک کو سیریا بنانا چاہتے ہیں۔ ہندوستانی مسلمان ، ہندوستانی مسلمان ہیں، عربی مسلمان نہیںہیں۔ ان کو کوئی لینا دینا نہیںہے آئی ایس سے۔
ملک بہت سنگین حالت میںہے۔ سب کو سوچنا چاہیے۔ جو دانشور ہیں، جو عام جنتاہے،ان کو سوچنا چاہیے کہ کیسے سسٹم برقرار رہے۔ ہماری عدلیہ کی حالت دیکھئے، سالوںتک کیس چلتے رہتے ہیں۔ یہ غلط ہے۔ اس سب میںسدھار کیجئے۔ جو لاء منسٹر ہیں،وہ بتائیںکیا ایک چیز چینج کی آپ نے عدلیہ میں؟ آدھار شروع ہوا غریبوںکی سبسڈی کے لیے۔ اب سب کو آدھار ضروری کررہے ہیں۔ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ ہم کہاںجارہے ہیں؟ امریکہ سے سیکھ لے رہے ہیں۔ امریکہ کا پٹھوبننا ہے تو مطلب پاکستان بننا ہے آپ کو۔ ہندوستان کے عوام کا منصوبہ نہیںہے پاکستان بننے کا۔ ہم خوددار ملک ہیں۔ اندرا گاندھی کو ہم لوگ جتنا بھلا برا کہیں لیکن انھوںنے ملک میںسبز انقلاب لانے کے لیے کام کیا۔ کسان ہندوستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ کسانوں کی آپ اندیکھی کریںگے تو بھکمری آجائے گی۔ہم لوگ ایسے مسئلے میں آجائیںگے کہ کوئی ہم کو بچا نہیںپائے گا۔ تو وزیر اعظم صاحب ! الیکشن سے دھیان ہٹاکر ایسی پالیسیاںملک میںلائیے، جن سے لانگ ٹرم فائدہ ہو۔ آپ آخری وزیر اعظم نہیں ہیں اس ملک کے۔ کئی آئے، کئی گئے۔ آپ کے آگے بھی آئیںگے۔ ایسی حالت مت کردیجئے کہ اکانومی تباہ ہوجائے۔ ایک اور خطرے کا نشان ہے۔ فوجی سربراہ جنرل بپن راوت جس ڈھنگ سے پبلک میںبیان دے رہے ہیں، یہ ان کا کام نہیں ہے۔ ایک اور ٹینڈینسی پنپی ہے کہ اگر کسی نے آرمی کے خلاف ٹویٹ بھی کردیا تو اینٹی نیشنل ہوگیا۔ کیا ہم آرمی نیشن میںہیں؟ آخر کیوںہم ملک کی آرمی کے خلاف بھی نہیںبول سکتے ؟ ایسا ہی چلتا رہا تو پھر فوج ہی ایک دن حکومت اپنے ہاتھ میںلے لے گی۔ ایسا کرکے آپ (بی جے پی) خطروںسے کھیل رہے ہیں۔ اس خطرے کو سمجھئے۔ آپ کا نقصان تو ہو ہی رہا ہے، آپ ایسا کرکے پورے ملک کا بھی نقصان کررہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *