بنارس ہندویونیورسٹی میں ایک بارپھرتشدد،کیمپس میں پتھربازی وآگ زنی

bhu-school-bus-torched

بنارس ہندویونیورسٹی (بی ایچ یو)میں ایک بارپھرتشددبھڑک گئی ہے۔سماجوادی چھاترسبھاکے طلبالیڈرآشوتوش سنگھ کی گرفتاری کی مخالفت میں کیمپس میں جم کرہنگامہ ہوا۔مظاہرین طلبانے کیمپس میں توڑپھوڑاورآگ زنی کی واردات کوانجام دیا۔اسکول کی بس کوآگ کے حوالے کردیا۔اس کے چلتے بی ایچ یومیں دہشت کاماحول ہے۔واقعہ بی ایچ یوآئی آئی ٹی کے پروگرام سے متعلق ہے۔گزشتہ مہینے بی ایچ یوآئی آئی ٹی کاکلچرل پروگرام ہورہاتھا۔اس میں کچھ طلبا رکاوٹ ڈال رہے تھے،جس کے باعث اس وقت ہنگامہ ہواتھا۔آئی آئی ٹی میں اس ہنگامے میں کچھ طلباکے خلاف ایف آئی آردرج کرائی گئی تھی اوران کے خلاف غیرضمانتی وارنٹ جاری ہواتھا۔اسی وارنٹ کی تعمیل کرتے ہوئے سماج وادی یوتھ سبھاکے طلبالیڈرآشوتوش سنگھ کی گرفتاری ہوئی۔اس سے ناراض طلبانے آج 20دسمبرکی شام بی ایچ یوکے مین گیٹ دروازہ کوبندکرجم کرہنگامہ مچایااورکئی گاڑیوں کے شیشے توڑڈالے۔

 

 

 

بتایاجارہاہے کہ اس دوران پولیس اورطلباکے بیچ جم کرجھڑپ ہوئی۔مشتعل طلبانے ایک بس کوآگ کے حوالے کردیااور50سے زائدگاڑیوں میں توڑپھوڑکی ۔ساتھ ہی طلبانے جم کرپتھربازی بھی کی۔فی لحال موقع پرکئی تھانوں کے پولس کے ساتھ ساتھ پی اے سی بھی موجودہے۔کچھ دیربعدلگ رہاتھاکہ معاملہ اب پرسکون ہوجائے گا،لیکن اچانک ایک پرائیویٹ اسکول کے بس میں طلبانے آگ لگادی۔اس واقعہ کے بعدسے بی ایچ یوکیمپس اورعلاقے میں ایک بارپھرسے دہشت کاماحول پیداہوگیاہے۔

 

 

 

 

عیاں رہے کہ اس سے پہلے ستمبرکے مہینے میں بی ایچ یواحاطے میں طالبہ کے ساتھ چھیڑخانی کولیکرجم کرہنگامہ ہواتھا۔پولس اورمظاہرین طلباوطالبات کے بیچ جھڑپ ہوئی تھی۔اس دوران پولس نے آنسوگیس کے گولے داغے تھے اورلاٹھیاں چلائیں تھی۔اس کے بعدمعاملے کولیکرخوب سیاست ہوئی تھی۔اس معاملے کولیکروارانسی کے ساتھ ساتھ دہلی سمیت ملک بھرمظاہرے ہوئے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *