ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کے خلاف بڑھنے والے جنسی جرائم پریونیسیف کا اظہارتشویش

unicef
اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کے خلاف بڑھنے والے جنسی جرائم اور دیگر خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نمٹنے کے لئے اسکولوں، والدین اور پالیسی سازوں کو زیادہ ذمہ داری ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ یونیسیف کی جانب سے ’دی اسٹیٹ آف دی ورلڈ چلڈرن 2017: چلڈرن ان اے ڈیجیٹل ورلڈ‘ کے عنوان سے آج یہاں جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والوں میں سے ایک تہائی بچے ہیں۔تعلیم سے لے کر تفریح تک ہر شعبے میں آج بچے انٹرنیٹ کا بے تحاشہ سے استعمال کر رہے ہیں لیکن جس پیمانے پر یہ استعمال ہو رہا ہے اس کی سطح پر ڈیجیٹل دنیا کے خطرات سے ان کو محفوظ رکھنے کی کوئی مؤثر انتظام نہیں کیا گیا ہے۔یونیسیف کی جانب سے پہلی بار بچوں پر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے اثرات پر ایک رپورٹ تیار کی گئی ہے ۔اس رپورٹ میں ایک طرف جہاں محروم طبقے کے بچوں تک بھی انٹرنیٹ خدمات پہنچانے کی بات کہی گئی ہے تو وہیں دوسری طرف امیر طبقات کے بچوں کو انٹرنیٹ کے خطرات اور نقصان کا سامنا کرنے کے لئے بچوں کو اکیلاچھوڑنے پر خدشہ کا ذکر کیا گیا ہے. رپورٹ میں، یہ بھی کہا گیا کہ انٹرنیٹ خدمات تک رسائی کے لحاظ سے لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان عدم مساوات کو ختم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
یونیسف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انتھونی لیک کہتے ہیں،’’اچھا یا برا ڈیجیٹل ٹیکنالوجی آج ہماری زندگی اور حقیقت کا ایک اہم حصہ بن گئی ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں ایک دوہرا چیلنج ہے. ایک طرف، نقصانات کو کم کرنے کے لئے، دوسری طرف، ہر بچے کو، انٹرنیٹ کے فوائد تک زیادہ سے زیادہ رسائی پر زور دیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کا استعمال محروم طبقوں کے بچوں کو اطلاع پہنچانے، مہارت کی تعمیر اور اپنے خیالات کے واسطے ڈائیلاگ کرنے کیلئے پلیٹ فارم فراہم کر سکتا ہے لیکن دنیا کے 34 کروڑ 60 لاکھ ایسے بچوں کو ابھی تک یہ سہولت نہیں مل سکی ہے اور یہ آن لائن نہیں ہیں۔رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کمسنوں اور بچوں کی صلاحیت کو کم کرنے کے لئے تیزی سے بڑھتی ڈیجٹل معیشت میں حصہ لیں۔رپورٹ میں دوسری طرف یہ بھی کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کے خطرے سے متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور ان کی ذاتی معلومات کا غلط استعمال ، نقصان دہ مواد تک رسائی اور سائبر غنڈہ گردی بڑھتی ہے۔ نگرانی کی غیر موجودگی نے اسے مزید خطرناک بنا دیا ہے۔رپورٹ میں موبائل کی موجودگی پر توجہ دی گئی ہے جسے آن لائن رسائی آسان ہو۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوجوان عمر کا گروپ انٹرنیٹ سے سب سے زیادہ منسلک ہیں اور عالمی سطًح پر مجموعی آبادی 48فیصد کے مقابلے میں 71فیصد آن لائن ہیں۔ اسی کے ساتھ سب سے کم افریقی ممالک کا انٹًرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر 10میں 9بچوں کی جنسی زیادتی یو آر ایل ایس کے طور پر شناخت کی گئی ہے۔کناڈا، فرانس، نیدرلینڈ، روسی فیدڑیشن اور امریکہ میں رہتے ہیں۔ ایک رپورٹ میں ان خطرات سے بچنے کے لئے حکومتوں، نجی شعبے، بچہ تنظیموں،اسکولوں اور والدین کوزیادہ اہم اور ذمہ داری والی کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے یونیسیف کی ہندوستان میں نمائندہ ڈداکٹر یاسمین علی حق نے ڈیجٹل کو اچھا قدم بتاتے ہوئے کہاکہ اس کے خطرات بھی ہیں اور ڈیجٹل ورلڈ بچوں کا ہے۔ اس کے خطرات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ بچوں سے مکالمہ کیا جائے اور انہیں اس خطرات سے آگاہ کیا جائے۔انہوں نے ہندوستان تیزل سے ڈیجٹل ہورہا ہے اور اس کے خطرات بھی اتنے ہی زیادہ ہیں۔ حکومت کو ڈیجٹل کے منفی اثرات کو روکنے کے لئے مثبت قدم اٹھانے چاہئے۔
لرنننگ لنگ فاؤنڈیشن منیجنگ پارٹنر نوریا انصاری نے ڈیجٹل ورلڈ کے تعلق سے اپنے تجربات کا اشتراک کیا اور بچوں کے ڈیٹجل ہونے کے بارے میں بتایا۔ اس موقع پر کلاچی ہنسراج ماڈل اسکول کے بچوں نے انٹرنیٹ اور آن لائن کے موضوع پر اپنے اپنے خیالات اور تجربات پیش کئے۔ اس پروگرام میں اخیر میں میڈیا کے سوالات کے جوابات دئے گئے جس کی نظامت یونیسیف کمیونی کمیشن آفسر اور میڈیا کوآرڈینٹر محترمہ سونیا سرکار نے انجام دیا۔ جن میں یو این آئی کے صحافی سمیت مختلف اخبارات کے صحافیوں نے ڈیجٹل چلڈرن کے متعلق اور اس سے ہونے والے خطرات سے تعلق سے سوالات کئے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *