بینکوں کا این پی اے لاکھ چھپانے کے باوجود موضوع بحث

ہندوستان میں سرکاری شعبے کے بینکوںکا این پی اے (نان پرفارمنگ اسیٹ) ایک ایسا مدعا ہے جو سرکاری مشینری کے لاکھ چھپانے کے باوجود ہمیشہ سرخیوں میںبنا رہتا ہے۔ کبھی وجے مالیا کے بہانے تو کبھی قرض کے بوجھ تلے دبے کسانوںکی خود کشی کے سبب۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میںپچھلے 25 سال کے دوران 21 سرکاری شعبے کے بینکوںکا بیڈ لون (این پی اے) تقریباً 7.33 لاکھ کروڑ پہنچ گیا ہے۔ وقتاً فوقتاً ملک کے ٹیکس دہندگان کی گاڑھی کمائی کی اس لوٹ کو لون رائٹ آف (ٹھنڈے بستے میںڈالنا) کا لبادہ پہنا کر معاملے پر لیپا پوتی کی جاتی ہے۔ وہیںدوسری طرف قرض کے بوجھ تلے دبے اور خود کشی کرنے پر مجبور کسانوںکی قرض معافی کی مانگ، سرکار کے وزیروںکو فیشن نظر آتی ہے۔ ظاہر ہے کہ کہ سرکار ان ہی کسانوںکے ووٹوںسے چن کر آتی ہے اور اقتدار میں آکر اس کا دھیان کارپوریٹس پر چلا جاتا ہے اور کسان کی پریشانی بہانہ نظر آنے لگتی ہے۔
بہرحال گزشتہ دنوں کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی آئی سی آر اے کے حوالے سے ایک اخبار نے ایک رپورٹ شائع کی۔ اس رپورٹ میںبتایا گیا ہے کہ کیسے سرکاری بینکوں نے مالی سال 2017-18 کی پہلی ششماہی میں81,683روپے کے این پی اے کو ٹھنڈے بستے میںڈال دیا ہے۔ اس رپورٹ میںیہ بتایا گیا کہ اس سے پہلے 55,356 کروڑ روپے کا لون رائٹ آف ہوا تھا۔ یعنی اس بار لون رائٹ آف میں41 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ دراصل ’رائٹ آف‘ ایک ایسا لفظ ہے، جس سے کئی طرح کی غلط فہمیاں پیدا ہوئیں، جس کے سبب ریزرو بینک کو صفائی دینی پڑی کہ لون کو رائٹ آف کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بینک نے اپنے قرض کو معاف کردیا۔ آر بی آئی کے مطابق، لون رائٹ آف کرنے کے لیے بینک ایک پروویژن تیار کرتے ہیں، جس میںلون رائٹ آف کی رقم ڈال دی جاتی ہے۔ یعنی لون رائٹ آف بینکوںکے روزنامچوں کو صاف ستھرا بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے اور رائٹ آف کا مطلب لون معافی نہیں، بلکہ بیڈ لون کو ٹھنڈے بستے میںڈالنا ہے، جس کی وصولیابی کبھی بھی ہوسکتی ہے۔لون رائٹ آف کی وجہ ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ بیڈ لون ہونے کی وجہ سے بینکوں کو ٹیکس کا بوجھ کم کرنا ہوتا ہے۔ لیکن کچھ ماہرین ہر سال اور بڑے لون کے رائٹ آف کے عمل پر سوال بھی اٹھاتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

لون رائٹ آف میںسال در سال اضافہ
ریزر و بینک آف انڈیا کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ لون رائٹ آف کی رقم میں گزشتہ سالوں کے دوران لگاتار اضافہ ہوا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ رفتہ رفتہ تمام بیڈ لون کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنے کی تیار کر لی گئی ہے۔ جہاںتک لون رائٹ آف کی سالانہ تفصیلات کا سوال ہے ، تو 2016-17 میںیہ رقم 81,683 کروڑ ، 2015-16میں 57,586 کروڑ، 2014-15 میں 49,018 کروڑ اور 2013-14 میں34,409 کروڑ روپے تھی۔ دراصل ان اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ این پی اے کی لون رائٹ آف کی رقم میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے۔
خبر کے مطابق سرکاری بینکوں کی قرض داری میںکئی کارپوریٹ گھرانے، فرمس اور بڑے بزنس مین شامل ہیں۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق، بینکوںنے مالی سال 2007-08 سے لے کر 2015-16 یعنی 9 سالوںکے درمیان 2,28,253 کروڑ کی رقم کو رائٹ آف کیا ہے۔ یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ان ول فل ڈیفالٹرز کی ہے، جنھوں نے بینکوںسے قرض تو لیے لیکن انھیںادا نہیںکیا۔ ’چوتھی دنیا‘ نے اپنے گزشتہ شماروں میںاین پی اے اور ول فل ڈیفالڑز کی کہانی تفصیل سے شائع کی ہے کہ کیسے بینکوںکی ساز باز سے ملک کی الگ الگ برانچوںسے ایک ہی کمپنی پیسے نکال لیتی ہے اور پھر ڈیفالٹر بن جاتی ہے۔ پچھلے سال صنعت کار وجے مالیا کے 9 ہزار کروڑ روپے کے قرض کو لے کر بحث کا بازار گرم رہا۔
کسان کی نظر عوام کے پیسوںپر
جیسا کہ ول فل ڈیفالٹرز کی کہانی بتاتی ہے کہ بینکوںنے منمانے ڈھنگ سے کمپنیوں کو قرض دیے۔ ایک ہی کمپنی کو ملک کی الگ الگ برانچوںسے قرض دیے گئے۔ اب جب وہ قرض بیڈ لون یا این پی اے بن گئے تو بینکوں کو بچانے کے لیے سرکار نے فنانشیل ریزولیوشن اور جمع بیمہ بل 2017منظور کرانے کا من بنالیا ہے۔ اس سال جون مہینے میںمرکزی کابینہ نے اس بل کو پیش کیے جانے کی تجویز کو اپنی منظوری دے دی تھی۔ اس بل میںبینکوں، بیمہ کمپنیوں اور مالیاتی اداروں میںدیوالیہ پن کی حالت سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حل سے جڑے پروویژن دستیاب ہوںگے۔ اگر یہ بل اپنی موجودہ شکل میں منظور ہوگیا تو سرکار ایسے قانون بنا سکتی ہے جس کے تحت ڈوب رہے بینک جمع کرنے والوں کے کھاتوںسے پیسے نکال کر اپنا کام چلا سکتے ہیں۔ اس کا یہ بھی مطلب ہوگا کہ بینک جمع کرنے والوں کے تئیںاپنی ذمہ داری کم کرسکتے ہیں۔ فی الحال ایک حد تک عوام کا پیسہ محفوظ رہتا ہے۔ حالانکہ وزیر خزانہ نے اس مدعے پر صفائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے ابھی بھی یہ ایک زیر التوا بل ہے اور سرکار کا مقصد جمع کرنے والوں اور مالیاتی اداروں کے مفادات کی حفاظت کرنا ہے۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ بینکوںکے پیسوں کو این پی اے بنانے والے ان افسروںکی ذمہ داری طے کی جائے گی یا نہیںجنھوں نے جان بوجھ کر منمانے ڈھنگ سے قرض دیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

ول فل ڈیفالڑز کی کہانی
وجے مالیا کے بہانے یہ خبر بحث میںآئی کہ بینکوں کا لاکھوں کروڑ روپے کا قرض ڈوب چکا ہے۔ لیکن اگرسِبِل نے اپنی ویب سائٹ پر ان ڈیفالڑز کی فہرست جاری نہیں کی ہوتی تو یہ جانکاری شاید کبھی باہر نہیں آپاتی۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر یہ کون لوگ ہیں، جنھوں نے سرکاری بینکوںکے تقریباً 8 لاکھ کروڑ روپے کے لون کو این پی اے میںتبدیل کردیا ہے؟ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ول فل ڈیفالٹرز کون ہیں؟ دراصل یہ ول فل ڈیفالٹرز ہی عوام کے پیسوںکے اصلی لٹیرے ہیں۔ 7 لاکھ کروڑ روپے کا این پی اے ، 1990 کے بعد ملک میںجاری نیو لبرل فنانشیل سسٹم میںترقی کے نام پر بینکوںکے ذریعہ منمانے ڈھنگ سے بانٹے گئے قرض کا نتیجہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ عوام کو بینکوںمیںجمع اپنی گاڑھی کمائی یا بچت یا ٹیکس کی اس لوٹ کے بارے مںجاننے کا حق ہے یا نہیں۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ آخر وہ کون سی مجبوری ہے جو سرکار بینک، آربی آئی یا میڈیا کو یہ بتانے سے روکتی ہے کہ عوام کے پیسے کا کیا ہوا؟
کریڈٹ انفارمیشن بیورو (انڈیا) لمٹیڈ (سبل) نے ایک فہرست جاری کی تھی جس میںکم سے کم 25 لاکھ روپے کا قرض لینے والے ول فل ڈیفالٹرز شامل ہیں۔ ’ چوتھی دنیا‘ نے سبل کے حوالے سے یہ دکھایا تھا کہ اس ملک میںقرض کے نام پر عوام کے پیسوں کی لوٹ کا کیسا کھیل چل رہا ہے۔ کیسے پیسہ ہونے کے باوجود جان بوجھ کر کمپنیاں اپنا قرض نہیںادا کررہی ہیں۔ایسی کمپنیوںکے خلاف بینکوںنے سوٹ فائل کیا ہوا ہے۔ کچھ کمپنیوں نے بڑے شا طرانہ ڈھنگ سے قرض لیا تھا۔ سبل کے اعداد و شمار بتاتے ہیںکہ کمپنیاں کیسے الگ الگ ریاستوں کے الگ الگ بینکوں کی الگ الگ برانچوں سے 100-200 کروڑ روپے کا لون لیتی ہیں اور دھیرے دھیرے یہ لون ہزاروںکروڑ کا ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر، پتھیجا برادرس نام کی ایک کمپنی ہے۔ سبل ویب سائٹ پر اس کے نام سے قرض کی تقریباً 200 ڈٹیل ہیں۔ اس کمپنی نے الگ الگ تاریخ کو ممبئی اور پونے کے دو بینکوںسے سیکڑوں کروڑ روپے کا لون لیا ہے۔اس کے علاوہ ، اس کمپنی نے اور بھی کئی بینکوں کی برانچ (زیادہ تر مہاراشٹر) میںقرض لیے ہیں۔
لون رائٹ آف بھلے ہی قرض معافی نہیںہے لیکن یہ ملک کی معیشت کا نقصان ضرور ہے۔ اتنا بڑا سرمایہ ٹھنڈے بستے میںڈال دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے جب تک ان پیسوں کی اگاہی نہیںہوجاتی، تب تک ان پیسوں کو ڈوباہوا ہی سمجھنا چاہیے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ سرمایہ داروں کو قرض دے کر اسے ڈبونے والے بینک افسروں کی کوئی جوابدہی بنتی ہے یا نہیں؟ کیسے ایک ہی کمپنی ملک کی الگ الگ شاخوں سے قرض لے رہی ہے اور بعد میںوہ قرض این پی اے بن جاتا ہے۔ کیا ایسے بینک ملازمین سے پوچھ تاچھ نہیںہونی چاہیے؟ دراصل اس طرح کے سوالوں کا سامنا نہ تو مرکزی سرکار کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی ریزرو بینک آف انڈیا اور نہ اقتصادی جرم کی چھان بین کرنے والی مرکزی ایجنسیاں۔ کارروائی ہوتی بھی ہے تو وہ بینکوںکے چھوٹے افسروں اور منیجروں پر مرکوز رہتی ہے اور بڑے بڑے معاملے ان ہی چھوٹی چھوٹی کارروائیوں کے جال میںالجھا دیے جاتے ہیں جبکہ جس بے تابی کے ساتھ صنعت کاروں کو قرض دیا جاتا ہے، وہ بھی بغیر شرط مینجمنٹ کی ساز باز کے ممکن نہیںہوسکتا۔ اب حد یہ ہے کہ سرکار عام اکاؤنٹ ہولڈرز کے پیسوں پر نظر جمائے بیٹھی ہے۔
کسان بنام کارپوریٹ
اترپردیش میںکسانوں کی قرض معافی کا جس طرح مذاق اڑایا گیا، اس پر چوتھی دنیا نے کئی رپورٹیںشائع کی ہیں۔ اس سال 23 جون کو اس دور کے مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے کسانوںکی قرض معافی کی مانگ کو فیشن قرار دیا تھا۔ظاہر ہے ملک میںکسانوں کی خودکشی کو کسی بھی طرح سے فیشن نہیںکہا جاسکتا ہے کیونکہ کوئی بھی شخص بہت انتہائی قابل رحم حالت میںاپنی جان دینے کے بارے میںسوچتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ، ملک میںکسان قرض معافی کی جو بات کی جارہی ہے، وہ پچھلے دس سالوں کے دوران بینکوںکے ذریعہ کیے گئے لون رائٹ آف کے تقریباً برابر ہے۔ جب کسانوں کو راحت دینے کی بات آتی ہے تو اعداد و شمار کا کھیل شروع ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر کسانوں کا قرض جی ڈی پی کا 2.6 فیصد ہے، جو ایک سال کی گرامین سڑک یوجنا کے بجٹ کا 17 گنا ہے۔ یہ موازنہ کارپوریٹ کے بیڈ لون کے بارے میں شاید ہی کیا جاتا ہے کہ اس رقم سے ملک کی ہیلتھ پرابلم کا کتنا حل ہوا ہوتایا اس سے کتنے لوگوں کے لیے، کتنے سال تک اعلیٰ تعلیم کا انتظام کیا جاسکتا تھا یا کتنے کسانوں کو تناؤ سے نجات دلائی جاسکتی تھی؟
دراصل یہ ساری باتیں سرکار کی ترجیح میںنہیںہیں۔ اس لیے کسانوں کو راحت دینا ترقی میںرکاوٹ بن جاتا ہے اور کارپوریٹ کو راحت دینا ترقی کا حصہ ۔ اس بات کو صرف دو مثالوں سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اس سال انل امبانی کی کمپنی ریلائنس کمیونکیشن مصیبت میںآگئی۔ اسے 44,000 کروڑ کا قرض ادا کرنا تھا، جس کے لیے بینکوں نے آسانی سے اسے وقت دے دیا۔ اسی طرح ٹاٹا ٹیلی کام نے بھی اپنے 29,000 کروڑ کے لون کی ادائیگی کے لیے 20 سال کا وقت مانگا۔ ٹاٹا نے تو اپنا نقصان دکھاتے ہوئے بینکوں سے 5000 کروڑ کا اضافی لون بھی مانگا۔ ظاہر ہے یہ چند مثالیں ہیں۔ سرکاری شعبے کے بینکوں نے جو لون رائٹ آف کیا ہے، اس سے بینکوں اور سرکار کی ترجیحات ظاہر ہوجاتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *