کشمیر میں اعتماد سازی کے عمل کی شدید ضرورت

ہندوستان اور پاکستان کے بیچ تناؤ بڑھنے کی وجہ سے پونچھ- راولکوٹ کے قریب کنٹرول لائن کے پار بس سروس اور تجارت چار مہینے پہلے روک دی گئی تھی، اب اسے پھر سے شروع کیا گیا ہے۔ بندوقیں گرج رہی تھیں۔ لوگ ان چیزوںکا شکار ہورہے تھے، جسے کوئی بھی آسانی سے ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کا پاگل پن کہہ سکتا ہے۔ کچھ وقت کے لیے ایسا لگ رہا تھا کہ ان دونوں اہم کانفیڈینس بلڈنگ میزرس (سی بی ایم) کو ہمیشہ کے لیے بند کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ اچھے جذبے کے تحت امن سازوں ،تاجروں اور انتظامیہ میںشامل اچھے لوگوں نے ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ افسوس کی بات ہے کہ پونچھ کی تازہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ دنوں کی گولی باری کی وجہ سے تجارت کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
ایسے میںسری نگر – مظفر آباد اور پونچھ- راولکوٹ راستوں پر بس سروس اور تجارت ٹھپ ہے۔ لیکن یہ ان لوگوںکی سوچ ہے جو امن اور صلح جیسے اقدامات کے خلاف ہیں اور جو لوگ جمود بنائے رکھنے میںاپنا مفاد دیکھتے ہیں۔
جب 2005 اور 2008 میںبس سروس اور تجارت شروع ہوئی تو اس نے جدوجہد کی تصویر کو بدل دیا تھا۔ وقت کے ساتھ،دونوںطرف کے ہزاروںلوگ ان اعتماد سازی کے اقدام سے جذباتی طور پر جڑے۔ دراصل ان اقدام نے دونوںطرف کی زندگی کو بدلا، بھلے ہی وہ ایک بوجھل عمل سے جڑے تھے۔ یہ اقدام کبھی بھی راتوںرات حل دینے کے لیے نہیںتھے لیکن وہ ایک مستقل حل کے اگردوت کے روپ میں کام کرنے والے تھے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ انھیںاگلی سطح تک نہیںلے جایا جاسکا۔

 

 

 

 

 

 

سرحدپر تجارت کی نویںسال گرہ پر، تاجر سری نگر میںایک تقریب میں شریک ہوئے۔ ان کے تبادلہ خیال سے پتہ چلا کہ سرکار کی آنر شپ کی کمی اور لگاتار پروسیجرل پرابلمس کے بعد بھی حقیقت میںتجارت بالکل خراب نہیںرہی۔ سری نگر کی سرحد پار تجارت کے لیڈر ہلال ترکی نے کہا کہ 21 اکتوبر 2008 سے جب ایل او سی تجارت شروع ہوئی، 6 اکتوبر 2017 تک 4,850 کروڑ روپے کی تجارت ہوئی۔ 22,592 کروڑ روپے کا ایکسپورٹ اور 2236 کروڑ روپے کا امپورٹ ہوا۔ ترکی اور ان کے کئی ساتھیوں نے اس کے لیے کئی لڑائیاں لڑی تھیں۔ ایک طرف جہاںوہ تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں، وہیںوہ قومی جانچ ایجنسی کا بھی سامنا کررہے ہیں کیونکہ ایجنسی اس تجارت کو ٹیررسٹ فنانسنگ روٹ کی شکل میںدیکھتی ہے۔ اس کے باوجود وہ کام کرتے رہے کیونکہ ان کا بہت کچھ داؤں پر لگا تھا۔
2005 میںجب بس سروس شروع کی گئی تھی تو اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ یہ بے اعتمادی کے ماحول اور سرکاروں کی دلچسپی کے باوجود بچ گیا۔ منقسم خاندانوں کی تقریباً 30,000 کی آبادی اس سروس سے مستفید ہوئی۔ ان میںسے زیادہ تر لوگ وہ ہیں جو کبھی اپنی جڑوںاور خاندانوںسے جڑ نہیںپائے تھے۔
یہاںبھی ایک مشکل عمل مسافروں کو نہیں روک پایا۔ جب ستمبر 2016 میں، اری میںفوج کے بیس کیمپ پر ایک حملہ ہوا تو وہ اتوارکا دن تھا۔ پیر کو وہ بس اسی فوج کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹر سے گزرتی ہے۔ دونوںفریقوںکی طرف کئی مسائل ہیں لیکن یہ بس سروس ضرورت کی علامت کی شکل میں ابھری۔
ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میںکامیابی کے طور پر جس کا جشن جموں و کشمیر نے منایا، وہ دراصل 23 نومبر 2003 کو جنگ بندی کا اعلان تھا۔اس نے ایک نئی شروعات کے لیے راستہ ہموار کیا، جس کے تحت دو اہم سی بی ایم سامنے آئے۔ سال 2003 تک، جنگ بندی کی ایک دہائی پوری ہوئی تھی اور ریاست میں725 کلومیٹر والی کنٹرول لائن کے ساتھ رہنے والے ہزاروںلوگ اس سے پرجوش تھے۔ اگرچہ جنگ بندی کی خلاف ورزی نے بیچ میںرکاوٹ ڈال دی پھر بھی یہ امید کہ یہ مستقل ہوجائے گا، زندہ رہا۔ آخریہ ان کے دکھوں کو کم کرتا تھا کیونکہ دونوںطرف سے برسنے والی گولیاں بند ہوگئی تھیں۔ پاکستان کے اس وقت کے صدر پرویز مشرف کے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ہزاروںلوگ واپس گھر لوٹنے کے قابل ہوئے۔ نئی دہلی نے اس کا خیر مقدم کیا تھا۔

 

 

 

 

 

اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور سابق صدر پرویز مشرف نے کامیابی کے لیے ایک بنیاد رکھی تھی۔ یہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت میںآگے بڑھی۔ 2001 کے پارلیمنٹ پر حملے کے بعد نارمل حالات کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوا۔ حالانکہ ا س خیر سگالی کو 2008 کے ممبئی حملے نے پٹری سے اتاردیا تھا۔ اس نے پاکستان میںعدام استحکام کو پھر سے شروع کیا۔ لیکن نواز شریف کے اقتدار میںواپسی اور امن کے تئیںعزم کے ساتھ ہندوستان کے بہتر رشتوں کی امید پھر سے شروع ہوئی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے نواز شریف کو اپنی حلف برداری کی تقریب میںمدعو کرکے اور بعد میں ان کے یوم پیدائش پر لاہور جاکر ، اس عمل کو پھر سے شروع کرنے کا ارداہ دکھایا۔ لیکن پھر پٹھان کوٹ ہوا اور کشمیر میںلگاتار تشدد کے لیے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ نئی دہلی نے2014 میںخارجہ سکریٹری مذاکرات کو ان منے اور منمانے ڈھنگ سے منعقد کیا۔ قومی سلامتی کے مشیروںنے بھی کچھ حد تک حالات سدھارنے کی کوشش کی لیکن دونوں فریقوںکی طرف شک کی گہری جڑیں رکاوٹ بن گئیں۔ بد قسمتی سے کنٹرول لائن پر لگاتار جنگ بندی کی خلاف ورزی نے نہ صرف بات چیت کو متاثر کیا بلکہ کئی لوگ بھی ہلاک ہوئے۔
آج، نئی دہلی اور اسلام آباد کے لیے ان لوگوںسے نمٹنا بڑا چیلنج ہے جو امن کے خلاف ہیں۔ دونوںفریقوں کے انتہا پسند عناصر خود کو غیر متعلقہ ہونے کے تعلق سے فکرمند ہیں، اگر کوئی بات چیت کامیاب ہوجاتی ہے۔ہندوستان اور پاکستان ، دونوںملکوں کے ایسے عناصر حالات کو بدتر بنانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن یہ عام لوگوں کے حق میں ہے کہ نئی دہلی اور اسلام آباد اپنے تعلقات کو بحال کرنے اور کشمیر سے بات کرنا شروع کرنے کی سمت میںآگے بڑھیں۔ اسی سے صرف سرحد پر گرجتی بندوقوں کو خاموش کرایا جاسکتا ہے۔ 23نومبر کو جنگ بندی کے 14 سال مکمل ہوجائیںگے۔ دونوںملکوںکو اسے بہتر بنانے کی سمت میںقدم اٹھانے چاہئیں۔
ان دو اعتماد سازی کے اقدامات کو مضبوط بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ کشمیر کی مشترکہ حریت قیادت کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سی بی ایم کوئی انحراف کا کام نہیںہے بلکہ یہ جمود کو بدلنے کے لیے ہے۔ سی بی ایم میںسبھی اسٹیک ہولڈرس کی آنرشپ ہونی چاہیے تاکہ لوگوں کو اس کا فائدہ مل سکے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *