اردو کا حلقہ اثر بڑھانے میں ریختہ پیش پیش

اردو ایک ایسی زبان ہے جس کو ملک و قوم کی سرحدوں میں سمیٹا نہیں جاسکتا ۔اردو اپنی چاشنی کی وجہ سے ہر ایک کے دل کی دھڑکن بنی ہوئی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اردو بولنے و جاننے والوں نے اردو کی ترقی و ترویج کے لئے اردو اکیڈمیاں اور انجمنیں قائم کیں اوردوسری طرف مذہبی اداروں میں اردو کو لازمی قراردیا گیا۔کیونکہ یہ زبان جہاں ایک طرف محفلوں کو رونق دینے میں کلید ی حیثیت میں ہوتی ہے وہیں مذہب رسانی میں بھی معاون ہوتی ہے ۔ یقینا اس طرز عمل نے اردو کو ترقی کی راہ ہموار کرنے میں مشعل عطا کی ہے ۔مگر جو بات سب سے اہم ہے ،وہ یہ کہ اس زبان کی چاشنی نے اس کے دائرے کو وسیع تر کرنے میں بڑی قوت عطا کی ہے۔ لہٰذا وہ لوگ بھی اس زبان کیشہسوار بن گئے جن کی مادری زبان یا سماجی تقاضے اردو سے ہم آہنگ نہیں تھے۔ایسے لوگوں میں یوں تو بے شمار نام ہیں جن میں مشتے نمونہ از خروارے منشی نول کشور، ہر گوپال تفتہ، پنڈت برج ناتھ چکبست، رتن ناتھ سرشار کو پیش کیا جاتا ہے۔ان کے علاوہ حالیہ دنوں کے شہسواروں میں رگھو پت سہائے فراق گورکھپوری، کنور مہندر سنگھ بیدی ، جگن ناتھ آزاد، نریش کمار شاد، سمپورن سنگھ گلزار، کرشن بہاری نور اور پنڈت گلزار زتشی جیسے قلمکار ہیں جنہوں نے اردو کی شادابی کو محسوس کیا اور اسے اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیااور موجودہ دور میں اردو کے شیدائیوں میں رنجیت چوہان جیسے نام کو پیش کیا جاسکتا ہے جو کہ دل و جان سے اردو کی خدمت میں شب و روز لگے ہوئے ہیں۔
اردو کی کشش نے جہاں ایک طرف غیر مسلم ادیبوں ،شاعروں اور مصنفین کو اپنی طرف راغب کیا وہیں اس کی دلکشی کو غیر مسلم صنعتکاروں کے باذوق افراد نے جِلا بخشنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ۔ذرا سوچئے تو ای ٹی وی کے مالک رامو جی نے اردو چینل زی سلام شروع کیا، مشہور کمپنی سہارا کے سبرت رائے نے عالمی سہارا چینل اور راشٹریہ سہارا اردو اخبارجاری کرکے اردوکو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جاگرن نے 1938 میں ممبئی سے اور پھر حالیہ برسوں میں نوئیڈا سے اردو اخبار انقلاب نکالا ، مشہور صنعتکار اور سابق وزیر کمل مرارکا نے ’’چوتھی دنیا‘‘ ہفتہ وار ہندی کے بعد انتہائی تزک و احتشام سے اس اخبار کو اردو زبان میں منظر عام پر پیش کیا اور اسی کے ساتھ ساتھ اس کا اردو نیوز پورٹل اور انٹر نیٹ ٹی وی جاری کیا۔یہ چند مثالیں ہیں جوغیر مسلموں کی اردو میں دلچسپی کوظاہر کرتی ہیں۔

 

 

 

 

 

 

بات صرف میڈیا کی حدوں تک سمٹی ہوئی نہیں ہے۔اردو کے پرستاروں میں سنجیو صراف جیسی شخصیت بھی ہیں جنہوں نے اردو زبان کو لافانی بنانے کے لئے اردو کی سب سے بڑی ویب سائٹ ریختہ کے نام سے شروع کی۔اس انٹرنیٹ سائٹ پر انہوں نے ہزاروں شعرائ، ادباء اور مورخین و مصنفین کی تخلیقات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کردیا ہے۔انہوں نے اردو کی نادر اور نایاب کتابوں کو محفوظ کرنے کے لئے پی ڈی ایف فائلیں اپ لوڈ کرنا شروع کردیا ہے اور اردو کے فروغ اور اس کی تشہیر کے لئے ہر سال مختلف النوع پروگرام کرکے ایک مثال قائم کی ہے۔ صراف نے اپنے اس پروگرام کو نہ صرف اردو کی گلی کوچوں تک محدود رہنے دیا بلکہ ملک کی نامور عمارتوں میں منعقد کرنے کے علاوہ انڈیا گیٹ کے نیشنل اسٹیڈیم تک پہنچا دیا۔ اس طرح یہ کہنا بجا ہوگا کہ سنجیو صراف نے اپنے اس عمل سے اردو کو دوام عطا کردیا ہے۔
جاری سال میں انہوں نے ریختہ کے تحت سہ روزہ پروگرام میجر دھیان چند نیشنل اسٹیڈیم میں منعقد کیا جس میں اول روز کے افتتاحی پروگرام میں فلمی دنیا کی نامور شخصیت وحیدہ رحمان شریک ہوئیں ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ’’ مجھے خوشی ہے کہ سنجیو صراف پروگرام کرکے اردو کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ اس تقریب میں آئے لوگوں کی بھیڑ اردو میں دلچسپی کا اشارہ دے رہی ہے۔اردو سبھی کی زبان ہے جس میں تہذیب و نزاکت اور پیار ہے‘‘۔کلاسیکی آئیکن پنڈت جسراج نے کہا کہ ’’دنیامیں بڑی بڑی زبانیں بولی جاتی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ مرجاتی ہیں لیکن ریختہ نے اردو کو ہمیشہ کے لئے زندہ کردیا ہے‘‘۔تقریب کے روح رواں اور ریختہ کے بانی سنجیو صراف نے اپنے افتتاحیہ خطاب میں لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج میزبان اور مہمان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013 کو ریختہ کی شمع روشن کی گئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے کروڑوں لوگ اس شمع پر نثار ہونے لگے۔انہوں نے کہا کہ اردو ایک زبان ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب بھی ہے۔ 2015 میں ہم نے ریختہ کا پہلا جشن منایااور تب سے اب تک اس جشن میں لوگوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا۔‘‘
جشن کے دوسرے دن الگ الگ لب و لہجے اور زبان و ادب کے شائقین اسیر اردو نظر آئے۔اس دن شعرو شاعری کا دور چلا۔ اردو کی احتجاجی شاعری کو موسیقی سے سنورا کر محفل خانہ میں جب پیش کیا گیا تو سامعین نے دہکتی نگاہوں اور تالیوں کی گڑگڑاہٹ کے ساتھ آزادی گفتار کی حمایت کی۔ ریختہ کی چاروں جلسہ گاہوں ، میں اردو رقص کناں نظر آئی۔جشن میں شرکت کے لئے آئے ہر عمر کے لوگوں نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق جشن اردو کا لطف لیا اور سوز سخن کے ساتھ لذت دہن کا بھی مزہ لیا۔
بہر کیف تین دنوں تک ریختہ کا یہ پروگرام چلا جس میں محفل خانہ، بزم خیال، دیار اظہار اور کنج سخن کے عنوان سے متعدد پروگرام پیش ہوئے۔میجر دھیان چند اسٹیڈیم ، انڈیا گیٹ کی گود میں8 دسمبر کو روشنی میں نہائے ہوئے اس پروگرام کا اختتام 10دسمبر کو انتہائی آب و تاب کے ساتھ ہوا۔ اس جشن میں ہزاروں اردو کے نئے پرستاوں نے شرکت کی اور خوب لطف اندوز ہوئے۔
فلمی دنیا کی معروف ہستی جاوید اختر، معروف سیاست داں سلمان خورشید اور مانے جانے صنعتکار کمل مرارکا کے علاوہ مشہور صحافی سنتوش بھارتیہ کی شرکت نے پروگرام کو مزید چار چاند لگا یا۔اس جشن میںہر طرف اردو کا جادو تھا ۔کوئی شاعری سن رہا ہے تو کوئی ادبی نشستوں سے لطف ہورہاتھا۔ہر فرد اپنے ذوق کے مطابق پروگراموں میںسرشار تھا۔

 

 

 

 

 

مسلسل تین دنوں تک چلنے والے اس پروگرام کی وجہ سے ذمہ داروں اور ملازمین کے چہرے پر تھکاوٹ کی جھلک صاف طور پر نظر آرہی تھی مگر وہ شرکاء کے استقبال میں کسی طرح کی کمی محسوس نہیں ہونے دے رہے تھے۔شرکاء کبھی قوالی سن کر محظوظ ہورہے تھے تو کبھی مختلف اسٹالوں پر جاکر اردو کے طغریٰ اور قدیم رسم الخط کو دیکھ کر لطف لے رہے تھے۔حیدرآباد، مراد آباد، رامپور اور حیدرآباد جیسے ملک کے دیگر متعدد شہراردو کی آماجگاہ رہے ہیں۔یہاں رسم الخط کی شاہکاری کو دنیا کے سامنے متعارف کرایا گیا۔ریختہ نے انہیں پیش کرکے اردو کے شاندار ماضی سے نئی نسل کو متعارف کرایا ہے۔جا بجا مختلف طرح کے اسٹالوں پر ،خاص طور پر اردو سے متعلق ادبیات اور ادبی محفلوں کے ارد گرد زیادہ بھیڑ تھی ۔ان میں سے کچھ کتابوں کو الٹ پلٹ کر تو کچھ خریدکی باتیں کر نے میں مگن تھے۔
جشن ریختہ کے بانی سنجیو صراف نے اختتامی سیشن میں بڑے جذباتی انداز میں اردو کے محبین کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آج تک میں نے اپنی زندگی میں اس سے زیادہ مہذب مجمع نہیںدیکھااور یہ سب اردو کا صدقہ ہے۔انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اردو ایک مذہب کی نہیں بلکہ جذبات کی آواز ہے اور یہ آواز کبھی ختم نہیں ہوگی ۔ انہوں نے ریختہ کی خدمات اور کتابوں کی اشاعت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔پھر انہوں نے کہاکہ برٹش دور میں دلوں میں فاصلے بڑھے اور تقسیم کا سامناکرناپڑا مگر ریختہ اس تقسیم کے فاصلے کو ختم کرنے کے لئے اردو و ہندی کو ایک زندہ روایت بنانے کی سمت اہم قدم اٹھا رہی ہے اور ہماری کوشش منظر عام پر آئے گی ۔اس پروگرام کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ اس میں شریک ہونے والوں میں مسلم سے زیادہ غیر مسلموں کی تعداد تھی جو مختلف طرح کے اسٹالوں پر اردو کتابوں سے لطف لے رہے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *