ماجد اور مغیث کی کہانی کا سچ؟

کشمیر میں حقیقت کے کئی روپ ہیں۔ یہ حقیقت دو نوجوانوںکے ذریعہ قائم مثال سے ظاہر ہوئی۔ دونوںنوجوان الگ الگ اسباب سے سرخیوں میں رہے۔جنوبی کشمیر کے پرکشش فٹ بالر ماجد خان نے اے کے 47- سے ناتہ توڑ کر گھر لوٹنے کا فیصلہ کیا جبکہ دوسرے نوجوان مغیث کی لاش اس کے گھر آئی۔وہ سری نگر کے باہری علاقے میںہوئی گولی باری میںمارا گیا تھا۔ اس سے تھوڑی دوری پر ایک دیگر نوجوان ادھم پور سے تعلق رکھنے والے ایک پولیس سب انسپکٹر عمران ٹیک کی کہانی دکھائی دیتی ہے۔عمران ایک مڈبھیڑ کے دوران مارے گئے تھے۔ عمران کی لاش کو ان کے ساتھیوںکی بندوقوںکی سلامی کے بیچ ان کے گھر والوں نے نم آنکھوںکے ساتھ حاصل کیا۔
ماںکی فریاد پر واپسی؟
ماجد کی گھر واپسی اس کی ماںکی اپیل اور پیارکے سبب ممکن ہوسکی۔ سوشل میڈیا پر ایسے پیغامات کا سیلاب آیا ہوا تھا،جس میں ماجد کو اپنی ماںکی پکار سننے کی فریاد کی گئی تھی۔ سرکار نے اسے ایک مثالی قدم کی شکل میںدیکھا۔ لشکر طیبہ ، ماجد جس کا حصہ بنا تھا، نے بھی اس موقع کو بھنانے میںدیر نہیںکی اور کہا کہ اپنی ماں کی پکار پر عمران گھر جاسکتا ہے۔ فوج اور پولیس نے عمران کو ایک پرامن زندگی جینے کا موقع دیا اور اس کے خلاف کوئی معاملہ درج نہیں کیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی کشمیری نوجوان نے تشدد کا راستہ چنا ہو اور پھر اپنے خاندان میںلوٹ آیا ہو۔
یہ ابھی تک صاف نہیںہوسکا ہے کہ ماجد صرف اپنی ماںکی فریاد سن کر واپس آیا ہے یا اس کے کچھ اور اسباب ہیں۔ وہ فٹ بال کا بہترین کھلاڑی ہے۔ ریاست کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروںمیںشامل ہونے کی کوئی تاریخ نہیںہے۔ حالانکہ اس سال کے شروع میں درجہ 12 کا طالب علم یاور جو ملی ٹینٹ بن گیا تھا، کے جنازے میں اسے دیکھا گیا تھا۔ ماجد ڈرامائی انداز سے ملی ٹینسی میںشامل ہوا تھا۔ اس نے اپنے دن کا کام پورا کیا تھا اور شام ہوتے ہوتے لشکر طیبہ میںشامل ہوگیا تھااور جلد ہی برہان وانی کی طرح ملی ٹینسی کا پوسٹر بوائے بننے کی تیاری میںتھا۔ ماجد نے اپنی فیس بک پوسٹ میںلکھا تھا کہ آسمان میںتارے دیکھنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ سب سے بڑا ستارہ میںخود ہوں۔ لیکن اس کی واپسی اور ملی ٹینسی چھوڑنے کی وجہ ابھی تک پہیلی بنی ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ علیحدگی پسند خیمے نے ابھی تک اپنی خاموشی نہیں توڑی ہے۔ اس کی خاموشی کا مطلب کیا ہے، یہ سمجھ سے باہر نہیںہے۔

 

 

 

 

 

 

پچھلے کچھ سالوں میںپڑھے لکھے نوجوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نے مسلح بغاوت کی طرف رخ کیا ہے۔ برہان وانی کے مارے جانے کے بعد اس رجحان میںاضافہ دیکھا گیا۔ ماجد اسی طرح کے نوجوانوںمیںسے ایک تھا۔ اس میںبرہان کی طرح ملی ٹینسی کا پوسٹر بوائے بننے کی ساری خوبیاںتھیں۔ حالانکہ آپریشن آل آؤٹ کے تحت سیکورٹی فورسیز پچھلے کچھ مہینوںمیں73 ملی ٹینٹ کو مارنے میںکامیاب رہے ہیں لیکن جولائی سے 50 نوجوانوں نے ملی ٹینسی جوائن بھی کی ہے اور جنوری سے اب تک کے اعداد و شمار 150 تک پہنچ گئے ہیں۔ سیکورٹی فورسیز اور ملی ٹینٹس کے بیچ چور سپاہی کا کھیل جاری ہے۔ جس رفتار سے نوجوان ملی ٹینسی کی طرف جارہے ہیں، وہ سرکار کے لیے الارمنگ سچوئیشن ہے۔ ایک عام شخص کے لیے یہ حیرانی کی بات ہے کہ ماجد کی واپسی پر بدھائی کے بہت سارے پیغامات ملے ۔ حال میں ملی ٹینٹ کے جنازے کی نماز میںہزاروں لو گ شامل ہوئے ہیں، جس سے ان کے تشدد کے راستے پر جانے کے فیصلے کو سماجی منظوری ملی ہوئی ثابت ہوتی ہے۔
ظاہر ہے ، کشمیر پوری طرح سے ملی ٹینٹس سے مبرا نہیںہوا ہے لیکن بندوق سے اسے ختم کرنے کا ہدف بہتوںکے لیے ایک بہتر متبادل نہیںہے۔ لہٰذا پچھلے کچھ عرصہ میںمقامی لوگوںکی اس میںحصہ داری کم ہوئی ہے۔ حالانکہ جہاد کا عالمی سطح پر تھوڑا بہت اثر ہے لیکن یہاںبندوق اٹھانے کی وجہ جہاد نہیں مقامی ہے۔ ہندوستان میںاقلیتوں کے خلاف عدم رواداری کا احساس اور کشمیر مسئلے کا مستقل حل نہیںہونا بھی ان نوجوانوں کے ذریعہ ہتھیار اٹھانے کی وجہ بن رہی ہے۔ وہ سمجھ رہے ہیںکہ یہی واحد راستہ ہے جس سے مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔ افضل گرو کی پھانسی ایک اہم موڑ تھا،جس نے نوجوانوں کو ملی ٹینسی کی جانب دھکیلا۔
ایک دوسرا پہلو
کشمیر کا ایک دوسرا پہلو مغیث کے جنازے میںسری نگر میںدیکھنے کو ملا، جس میںسیکورٹی فورسیز کی پابندی کے باوجود ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ ملی ٹینسی اور اس کا ساتھ بہت دنوںتک نہیںچل سکا تھا۔اس نے اس سال اپریل میںملی ٹینسی جوائن کی تھی۔ اس کے خاندان کے مطابق وہ آئی ایس سے بہت زیادہ متاثر تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کیوں اس نے انکاؤنٹر کے وقت ایسی کالی شرٹ پہنی تھی ، جس پر قرآن کی آیت لکھی ہوئی تھی۔ اس آیت کا استعمال آئی ایس والے کرتے ہیں۔ اس نے آئی ایس کے جھنڈے میںلپیٹے جانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ دراصل اس کی لاش پر جنازے کے بیچ میںآئی ایس کا ایک جھنڈا رکھا گیا تھا۔ لوگوں نے اس دوران نہ حریت والی آزادی کے نعرے لگائے۔یہ اس حریت کے لیے ایک پیغام تھا جو خود کو کشمیر مسئلے اور سیلف ڈیٹرمنیشن کے حق کی بات کرنے والا اکیلا لیڈر سمجھتا ہے۔
حریت کانفرنس کے لیڈر، جو مشترکہ مزاحمتی قیادت کے بینر تلے اکٹھا ہوئے ہیں،ان کے لیے لوگوںکو سیاسی لڑائی کے بارے میںبتانا بڑا چیلنج ہے۔ ماجد کے الٹ حریت نے روایت کے مطابق مغیث کو خراج عقیدت دیا ۔ اب جبکہ اپنے والدین کی بات سن کر ایک ملی ٹینٹ واپس گھر آگیا ہے،اسے لے کر بہت سارے سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔ بیشک سیاسی حل کے لیے تشدد کا راستہ اپنایا جا رہا ہے لیکن پچھلے دنوں میںکشمیر میںملی ٹینسی کے لیے بھی زبردست حمایت دیکھی گئی ہے۔ماجد کی واپسی کے بعد ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
ماجد اور مغیث کی کہانیاںایک دوسرے پر سوال کھڑے کرتی ہیں۔ عمران کی ایک الگ ہی کہانی ہے، جہاںجموں و کشمیر پولیس ملی ٹنیسی کی کمر توڑنے کے لیے انتہائی فعال ہے۔ شروعاتی سال میںجموں وکشمیر پولیس خاموش تماشائی بنی رہتی تھی۔ بعد میںاس نے جوابی کارروائی کا مشن اپنا لیا۔ عمران اس راستے کا اپنانے والا اکیلا نہیںہے، تین درجن سے زیادہ کشمیری مسلم پولیس افسر ملی ٹینسی کا مقابلہ کرتے ہوئے مارے گئے ہیں۔ ان میں سے کئی صرف پولیس والے ہونے کی وجہ سے نشانہ بنے ہیں۔ ان متضاد کہانیوںکے جو بھی اسباب ہوں لیکن یہ سچ ہے کہ اس جدوجہد میںلوگ تو مارے ہی جارہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *