افرازل جیسے سانحہ سے نمٹنے کے لیے سماج کو بھی سامنے آنا ہوگا

یہ یقیناً تشویش کی بات ہے کہ ہندوستانی معاشرہ میںفرقہ وارانہ منافرت تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور گئو رکشا ، لوجہادیا کسی اور مذہبی ایشو کی بنیاد پر قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری ہے۔ اترپردیش میںدادری کے قریب اخلاق کی گائے کے گوشت کے نام پر کی گئی ہلاکت کے بعد متعدد افراد لنچنگ کا شکار ہوکر دم توڑ چکے ہیں۔اس ضمن میںپہلو خاں اور حافظ جنید قابل ذکر ہیں۔ ابھی حال میںراجستھان کے راجسمند میںبنگال کے غریب مزدور افرازل کو زندہ جلاکر مار ڈالنے کے واقعہ نے انسانیت کو شرمسار کردیا ہے۔ عجب بات تو یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات کو انجام دینے والے افراد کے خلاف پولیس اور انتظامیہ کو جس انداز میںمتحرک ہونا چاہیے، وہ عمومی طور پر قطعی دیکھنے کو نہیںملتا ہے۔ اب تک لنچنگ کے جتنے بھی شرمناک واقعات ہوئے ہیں، ان کے ذمہ دار افراد آزادی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ کچھ گرفتار کیے گئے تو کچھ ضمانت پر رہا بھی ہوگئے جبکہ باقی افراد پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔ ایک معاملے میںتو اس طرح کے ملزمین کو سرکاری نوکریوں سے بھی نوازے جانے کی خبر ہے۔
دراصل ان شرمناک اور نفرت آمیز واقعات کے قصورواروںکو جب کوئی خوف لاحق نہیں ہوگا تو یہ عین فطری ہے کہ یہ رجحان بڑھے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے وزیر اعظم کی بار بار تلقین اور دھمکی کے باوجود لنچنگ جیسی گھناؤنی حرکت رکنے کا نام نہیںلے رہی ہے اور اس طرح کی مذموم حرکت کو انجام دینے والوں کے حوصلے اور عزائم مستقل بڑھتے جارہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اتنا ہی نہیں مبینہ قاتلوں کے حق میںمذہبی جذبات کو ابھار کر مہم چلائی جارہی ہے جس کی بدترین مثال ابھی حال میںراجسمند میںافرازل کو زندہ جلاکر مار دینے والے شمبھولال کی وہاٹس ایپ گروپ کے ذریعہ ستائش ہے۔ ناقابل یقین بات تو یہ ہے کہ وہاٹس ایپ ایڈمین گروپ میں بی جے پی لیڈر اور ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی تک کے نام لیے جارہے ہیں۔ شمبھو لال کو بچانے کی جو مہم شروع کی گئی ، اس کے لیے لوگوںسے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کو کہا گیا اور رقم بھیجنے کی بات بھی کی گئی۔ یہاںتک خبر آرہی ہے کہ اس کے لیے باقاعدہ شمبھولال کی بیوی کا بینک اکاؤنٹ نمبر بھی لوگوںکو تقسیم کیا جارہا ہے۔ یہ خبر بھی آئی کہ شمبھو لال کی بیوی کے نام رقوم بھی آنی شروع ہوگئی۔

 

 

 

 

 

 

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شمبھو لال کی حمایت میں516 افراد نے بھاری مقدار میںروپے عطیہ کیے۔ یہ رقوم شمبھولال کی بیوی سیتاکے اکاؤنٹ میںجمع ہوئی ۔ بہرحال اس معاملے میںپولیس کا رویہ اچھارہا۔ پولیس نے ان دو تاجروں کو گرفتار بھی کیا جنھوںنے اپنی ڈونیشن سلپ کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا۔
اودے پور کے انسپکٹر جنرل پولیس آنند شریواستو کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے قاتل کی حمایت میںچل رہے بینک اکاؤنٹ کو منجمد کردیا ہے،جس میںتقریباً 3 لاکھ روپے جمع ہوگئے تھے۔ ہم چیک کریںگے کہ اس اکاؤنٹ میںکن لوگوںنے رقم جمع کی تھی۔‘‘ معاملے کی جانچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شمبھو لال کی بیوی کے اکاؤنٹ میںرقم زیادہ تر نیٹ بینکنگ کے ذریعہ بھیجی گئی ہے جس کے سبب پولیس نے اودے پور ضلع کی پڑوسی ریاستوں میںدفعہ 144 لگادی ہے اور نیٹ سروس کو معطل کردیا ہے۔
اسی درمیان ایک اور تشویشناک خبر یہ بھی آئی کہ راجستھان کے اس خطہ کے متعددبنگالی مزدورخاندان اپنے ساتھی افرازل کی ہلاکت سے خوفزدہ اور یہاں کے بگڑتے ہوئے ماحول سے گھبراکر اپنے وطن بنگال واپس لوٹ رہے ہیں۔ اگر یہ خبر صحیح ہے تو یہ بھی پریشان کن بات ہے۔ توقع ہے کہ انتظامیہ اور پولیس جو کہ اس معاملے سے نمٹنے کی اچھی کوشش کررہی ہے، وہ اس سلسلے میں بھی توجہ دے گی۔ مگر معاملہ صرف انتظامیہ اور پولیس سے سنبھلنے کا نہیںہے، اس سلسلے میںوہاںکے باشندوںکو بلا امتیاز مذہب و ملت سامنے آکر ان خوف زدہ لوگوں میںاعتماد بحالی کا کام کرنا ہوگا۔
سچ تویہ ہے کہ شمبھو لال ایک فرد نہیں بلکہ ایک ذہنیت کا نام ہے۔ اس سے ذہنی و فکری طور پر ہی انسانی بنیاد پر نمٹنا پڑے گا۔ ’ناٹ ان مائی نیم‘ مہم کے ذریعہ اس نفرت آمیز ماحول سے نمٹنے کی گزشتہ کئی ماہ سے کوشش کررہی صبا دیوان کہتی ہیںکہ ہم نے پہلے بھی ہوئی لنچنگ کے دوران اس قسم کی ریلی مختلف شہروں میںنکالی تھی جس میںہزاروں لوگوںنے شرکت کی تھی اور ہم نے 13 دسمبر کو بھی نئی دہلی کی پارلیمنٹ اسٹریٹ پر جمع ہوکر یہی پیغام دیا ہے کہ ’’نفرت کے خلاف ہم سب ایک ہیں۔‘‘ وہ بھی یہی مانتی ہیںکہ افراز کا قاتل ایک فرد نہیںبلکہ ایک جنونی ذہن ہے جس سے ہمارا سامنا ہے۔ ان کے خیال میںافرازل کے قتل سے پہلے ہوئے لنچنگس کے معاملوںمیںچونکہ قانون کے مطابق ٹھیک سے کارروائی نہیںکی گئی تو اس ذہنیت کی ہمت شکنی نہیں ہوئی، لہٰذا ضروری ہے کہ اس طرح کی حرکات کے ذمہ داروںسے نمٹا جائے اور پھر قانونی کارروائی ہو تاکہ قصورواروں کو سزا ملے اور نفرت و حقارت کا بڑھتا ہوا رجحان بند ہو۔ انھوں نے تو افرازل کی ہلاکت کو لے کر راجستھان کی ریاستی سرکار سے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کرڈالا ہے۔

 

 

 

 

 

ان ہی کی طرح معروف فلم ساز راہل رائے کا بھی یہی کہنا ہے کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ نفرت کی سیاست فوراً بند کی جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تو نفرت کا زہر ہمارے گاؤں اور شہروںمیں بھی داخل ہوچکا ہے۔ لہٰذا ضروری ہوگیا ہے کہ معزز شہری باہر سڑکوںپر نکل کر مظاہرہ کریںکہ وہ اس منافرت کا حصہ نہیں بنیںگے۔ وہ کہتے ہیںکہ جب عام شہریوں کاغصہ سامنے آئے گا تبھی حکومت اس جانب توجہ دے گی۔ ان کے خیال میںیہ کیسی عجب بات ہے کہ آئین کو بچانے کے بجائے ، حکومت خاموش یا غیر جانب دار رہ کر اس منافرت کو بڑھنے اور پھیلنے دے رہی ہے۔ سماجی کارکن ساگنک کا کہنا ہے کہ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جو لوگ اقتدار میںہیں، ان میںسے بعض لوگ بھی اسی منافرت کی زبان استعمال کررہے ہیں جوکہ فوراً بند ہونی چاہیے۔
یہ صحیح ہے کہ افرازل اور پھر اس کے بعد نوح کے 22 سالہ تعلیم کی لنچنگ کے بعد نفرت و حقارت کا جو رجحان بڑھتا جارہا ہے،اس کا مقابلہ جہاں حکومتی سطح پر ہونا چاہیے،وہیںسماجی سطح پر بھی ’ناٹ ان مائی نیم‘ جیسی مہم کے ذریعہ اس سے نمٹنا ضروری ہے اور اس کے لیے ملک کے تمام شہریوںکو بلا امتیاز مذہب و ملت سامنے آکر جنگ لڑنی ہوگی۔ تبھی ہمارا ملک محفوظ رہے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *