سانسد آدرش گرام یوجنا اپنے ہدف سے کوسوںدور

لوک نائک جے پرکاش نارائن کے یوم پیدائش پر تین سال پہلے 11 اکتوبر 2014 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے سانسد آدرش گرام یوجنا (ایس اے جی وائی) کی شروعات کی تھی۔ اس کا مقصد متعلقہ رکن پارلیمنٹ کی دیکھ ریکھ میںچنی ہوئی گرام پنچایتوں کے معیار زندگی میںسدھار لانا تھا۔ یوجنا کے تحت سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے عوامی خدمات تک پہنچ میںسدھار اور کمیونٹی کی شمولیت کو فروغ دینا ہے تاکہ یہ گاؤں پڑوس کی دیگر گرام پنچایتوں کے لیے بہترین مثال پیش کرسکیں۔
نتائج
اس منصوبہ بندی کو تقریباً تین سال سے زیادہ ہونے والے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ لوک سبھا کے 543 میںسے کم سے کم 475اراکین پارلیمنٹ نے ایسے دیہاتوں کو نشان زد کرنے کی بھی زحمت نہیںاٹھائی جنھیں وہ وزیر اعظم کے ذریعہ بہت دھوم دھام کے بیچ شروع کی گئی ’سانسد آدرش گرام یوجنا‘ کے تیسرے دور کے تحت تیار کریںگے۔
اس منصوبہ کے پہلے دور کے تحت دونوںایوانوں کے ہر ایک رکن پارلیمنٹ سے یہ امید کی گئی تھی کہ وہ اپنے انتخابی حلقے میںایک ایسے گاؤں کا انتخاب کریں گے جسے 2016 تک ترقی کے نقطہ نظر سے ’آدرش گرام‘ بنایا جاسکے۔ 2019 تک ہر ایک انتخابی حلقے میں2 دیگر گرام پنچایتوں پر بھی تیار آدرش گرام کی مہر لگنی تھی۔
ایس اے جی وائی کے پہلے سال میںکم سے کم 500 اراکین پارلیمنٹ اور 203 راجیہ سبھا کے ممبران نے گاؤں نشان زد کئے تھے۔ اس کے دوسرے دور میں234 اراکین پارلیمنٹ اور راجیہ سبھا کے ممبران میںسے 136 ممبران کسی بھی گاؤں کو نشان زد کرنے میںناکام رہے۔ آخری یعنی تیسرے دور میں 90 فیصد اراکین پارلیمنٹ نے ابھی تک کسی گاؤں کو گود نہیں لیا ہے جبکہ 2019 کی ڈیڈ لائن بہت تیزی سے قریب پہنچ رہی ہے۔
منصوبہ میںاچھے اسکول، طبی خدمات، غریبوں کو رہائش وغیرہ کے کام شامل کئے گئے تھے۔ان کاموںکے لیے پہلے سے جاری اندرا آواس یوجنا، پردھان منتری گرام سڑک یوجنا،منریگا،پنچایتوں میںدستیاب مرکز ریاست ، فنانس کمیشن کی رقم اور ایم پی فنڈ وغیرہ سے فنڈ کا استعمال متوقع تھا۔ منصوبہ میںآدرش گاؤں کا ماڈل ہے لیکن بہت سی ریاستی سرکاروں کے ذریعہ تعاون نہ کرنے اور سبھی محکموں میں ضروری تال میل نہ ہونے کی وجہ سے متوقع نتائج نہیں آئے۔ بہت سے اراکین پارلیمنٹ نے گاؤں بھی نہیںچنے۔ بہت سے مختلف سطح پر ہونے والی اڑنگے بازی کے بھی شکار ہوئے ہیں اور بھی وجوہات ہوں گی۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر سرکاری مشینری کے سامنے پریشانیاںکیا تھیں؟ انھوں نے نفاذ میںدلچسپی کیوںنہیںلی؟ اس لیے ’آدرش گرام‘ بنانے کے اس منصوبے میںمتوقع نتائج نہ آنے کی وجہیں رہیں۔
بلاشبہ اس منصوبہ میںکچھ غلطیاںہیں۔ پہلے نمبرپر تو اس میںآدرش گرام تیار کرنے کے لیے الگ سے بجٹ کا پروویژن نہیں کیا گیا کیونکہ سرکار پہلے سے چل رہے مختلف منصوبوں اور پروگراموں کا فیوژن کرنا چاہتی ہے۔
اراکین پارلیمنٹ (خاص طور پر لوک سبھا سے متعلق) یہ محسوس کرتے ہیں کہ اپنے انتخابی حلقے میںایک ہی گاؤںکا انتخاب کرنے سے برعکس حالات بن سکتے ہیں جو ان کے سیاسی نقطہ نظر سے فائدہ مند نہیںہوںگے۔
ایس اے جی یوجنا مودی کے ترقی کے فارمولے کی ایک عمدہ مثال ہے۔ اس فارمولہ کا عمدہ پہلو یہ ہے کہ زمینی حقیقتوںکو اچھی طرح سے جانچے پرکھے بغیر ہی منصوبوں کا آناً فاناً اعلان کردیا جاتا ہے۔ ہر ایک ترقیاتی منصوبہ اور سدھاروں کی پہل زمینی حقیقتوں سے آہنگ ہونا چاہیے۔ یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تنوع سے بھرے اس وسیع ملک میںترقیاتی کاموںکے تئیںایک جیسی پہنچ نہیں اپنائی جاسکتی۔ ہر 20-25 ضلعوںکے بعد ہندوستان کا چہرہ مہرہ بدل جاتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

ہنگر انڈیکس میںہندوستان
حال میںواشنگٹن میںواقع انٹر نیشنل فوڈ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (آئی ایف پی آر آئی) نے 2017 کے لیے گلوبل ریسرچ انڈیکس (جی ایچ آئی) میںجن 119 ملکوںکا مطالعہ کیا گیا ان میںسے ہندوستان 100 ویںمقام پر ہے۔ حقیقت میں2016 کے مقابلے میں ملک تین درجے نیچے کھسکا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ 2017 کے ہنگرانڈیکس میںہندوستان بری طرح جنگ میںمبتلا عراق اور شمالی کوریا سے بھی پھسڈی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ دیہی ترقی کے لیے مالیاتی اور کام کاجی نقطہ نظر سے پنچایتوںکو مضبوط کیا جائے۔ ترقیاتی کاموں کی نگرانی ، جائزہ عموماً ضلع سطح کی انتظامیہ کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ متعلقہ گاؤں کی بدلتی مانگ اور توقعات کے مطابق ترجیحات کا تجزیہ اور ری شیڈولنگ کی بنیاد پر اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کو ان سے ششماہی یا سالانہ بنیاد پر منسلک کیا جاسکتا ہے۔
آج کے ڈجیٹل حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ترقیاتی عمل کو غیر سیاسی کیا جائے۔ ہر طرح کے ترقیاتی کاموں کو کسی بھی طرح کی سیاست یا گٹ بندی کے آئینے میں نہیںدیکھا جانا چاہیے۔
دراصل اراکین پارلیمنٹ کا کام قانون سازی کے کاموں میںحصہ داری کرنے، سرکاری پالیسیوں اور فیصلوں کو پارلیمنٹ کے تئیںجواب دہ بنانے کا ہے۔ جب پالیسی سازی میںان کا اتنا اہم کردار ہے تو پنچایتی کام کا بوجھ ان پر کیوںڈالا جائے؟دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر کسانوںاور دیہی علاقوں کی بدحالی دور کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر کوششیںنہیںکی جائیںگی توایک گاؤں کو گود لینے سے اہم سوال یہ ہے کہ مہاتما گاندھی کس طرح کا گاؤں بنانا چاہتے تھے؟ ان کا رورل ری کنسٹرکشن پلان موجودہ سماج میں کتنا ریلیونٹ ہے؟ حقیقت میںگاندھی کا رورل ری کنسٹرکشن کا تصور ان کے خیالات و اقدار پر مبنی ہے۔ سچ کے تئیںآستھا، عدم تشدد کی پالیسی،مسمار کرنے اور ہم آہنگی کی تعمیر، وسائل کی پاکیزگی کے ذریعہ ہدف کی تکمیل ، غیر مسابقتی اور غیر متشدد معاشرے کی تشکیل، گراؤنڈ سطح کی ترقی، بڑی صنعتوںکی ترقی کی بجائے گھریلو صنعتوں کی حوصلہ افزائی،لیبر پر مبنی ٹیکنالوجی کی اہمیت، گرام گن راجیہ اور گرام سوراج پر مبنی خودکفیل گرام کا قیام،گاندھی کے گاؤںکا خواب تھا۔
گاندھی کے نقطہ نظر میں ڈی سینٹرلائزڈ دیہی ترقی کی پالیسی کو رورل ری کنسٹرکشن میں بنیاد بنانا لازمی ہے۔ گاندھی دیہی ترقی کو مجموعی شکل فراہم کرنا چاہتے تھے، اس لیے انھوںنے فطرت کے دوہن کی بجائے فطرت سے شناخت بنانے کا سجھاؤ دیا۔ ان کے مطابق فطرت کے پاس اتنے ذرائع ہیں کہ وہ دنیا کے ساری مخلوق کی ضرورتوں کی تکمیل کرسکتی ہے لیکن لالچ کو پورا کرنے میںپوری زمین بھی ناکافی ہے۔
گاندھی نے جدید مشین پر مبنی پیداوار کے نظام کی بجائے انسانی محنت پر مبنی پیدوار کے نظام پر زور دیا کیونکہ ان کی نظر میںہندوستان جیسے بڑ ی آبادی والے ملک میںزیادہ تر لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کا یہ بہترین متبادل ہے۔ گاندھی کی دیہی صنعت کے تصور نے جہاںایک طرف تشدد سے پاک، استحصال کے بغیر ، مساوات کے موقع ، فطرت کو محفوظ اور برقرار رکھنے والی دیہی صنعتوں کی ترقی کی راہ دکھائی۔ اصل میں گاؤں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے، وہ گاندھی کے خوابوں کے برعکس ہورہا ہے۔ خود کفیل گاؤں آج محتاج ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *