اصل مسئلہ تو ملک کی جمہوری اقدار کا ہے

سب سے طاقتور لوگ اور سب سے مضبوط پارٹی ڈر جائے تو اس کی وجہ جاننے کی خواہش ہوتی ہے۔ ہمارے لیے سوال ہے کہ مہابلی کیوںڈر رہے ہیں،پارٹی کیوںڈر رہی ہے اور ڈر کر الیکشن میںان مدعوںکو اچھال رہے ہیںجو لوگوںکی روزی روٹی جیسے مدعوں سے دھیان ہٹاتے ہوں۔ وہ سوال غائب ہے جس کے اوپر لوگوںکو سوچتے ہوئے ووٹ دینا چاہیے۔ روز غیر اہم مدعوںپر بحث ہو رہی ہے اور اصلی مدعے بحث سے غائب ہیں۔ میں گجرات کی بات کر رہا ہوں۔ راہل گاندھی ایسا موضوع نہیں ہیں، جنھیں وقت دیا جائے۔ ان کا فیصلہ اب گجرات کے عوام کریںگے۔ لیکن جیسے ان کے نام سے ، ان کے گجرات جانے سے، بی جے پی اور بی جے پی لیڈر ڈر گئے ہیں، اس سے شک پیدا ہوتا ہے کہ کہیںبی جے پی گجرات میں کسی اندرونی مخالفت کا شکار تو نہیںہورہی ہے۔ راہل گاندھی سومناتھ مندر گئے۔ پوجا کی۔ بھگوان شنکر کو پرنام کیا۔ بھگوان شنکر راہل گاندھی کو آشیرواد نہ دے،اس لیے بھگوان کو یاد دلانے کی کوشش کی گئی کہ راہل گاندھی ہندو نہیںہیں۔ سبرامنیم سوامی تو یہاںتک بول گئے کہ کالج میںراہل گاندھی کیا لکھتے تھے،کیا نہیںلکھتے تھے۔ وہ کیتھولک ہیںیا نہیںہیں، پارسی ہیں، اس کا سوال کھڑا کردیا ۔ اس کا مطلب ہے کہ اب ہم بھگوان کی سطح پر جاکر فیصلے لینے لگے ہیں۔ اسی طرح کا فیصلہ بی جے پی کے ایک ترجمان نے لیا۔ اس نے چھاتی ٹھوک کر ٹی وی پر کہا کہ میںملک یا آئین کی طرف سے نہیںبول رہا ہوں، میں بھگوان رام کی طرف سے بول رہا ہوں۔ بھگوان رام کیا کمزور ہیں جو انھیںبی جے پی کے ترجمان کی ضرورت پڑگئی؟
اسی طریقے سے بھگوان کی طرف سے یہ ہم نے فیصلہ کرلیا کہ سومناتھ مندر میںبھگوان شنکر ان ہی کو آشیرواد دیتے ہیں جو ہندو ہے اور بھگوان شنکر کو یہ نہیںپتہ کہ کون ہندو ہے،اس لیے بی جے پی کے لوگ بھگوان کو یاد دلا رہے ہیں کہ راہل گاندھی ہندو نہیںہیں، اس لیے انھیںآشیرواد نہیں دینا ہے۔ راہل گاندھی کی طرف سے کسی نے رجسٹر کے اس حصے پر دستخط کر دیے تھے جس حصے پر دیگر دھرم کے لوگ دستخط کرتے ہیں۔ ا س کا مطلب کہ گجرات کے الیکشن میںبھگوان شنکر کا آشیرواد راہل گاندھی کے ساتھ نہیں ہے، یہ بات قائم کرنے کی کوشش بی جے پی کی طرف سے کی جارہی ہے۔ ٹی وی چینل اس مدعے کو ابھارنے میںجی جان سے لگ گئے۔ کیا کسی بھی بھگوان نے یہ کہا ہے کہ ہم صرف ہندو کو آشیرواد دیںگے۔ بھگوان تو یہ کہتے ہیںکہ کوئی بھی دکھی شخص یا یاچک آکر ان سے آشیرواد مانگ سکتا ہے۔ بھگوان صرف ہندو کو ہی آشیرواد دیتے ہیں،یہ پہلی بار ملک میںبی جے پی اور سنگھ کے لوگ یاد دلارہے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

سوال یہ ہے کہ آپ اتنے مہابلی ہیں، گجرات میںآپ پرچار کررہے ہیں کہ آپ جیت رہے ہیں۔ پھر وزیر اعظم کو یہ کیوںکہنا پڑرہا ہے کہ موربی میںجب اس وقت وزیر اعظم اندرا گاندھی آئی تھیں تو ناک پر پلّو رکھ کر آئی تھیں۔ اب اس وقت بدبو تھی، اندرا گاندھی کی طبیت خراب تھی،لیکن آپ اتنے غیر انسانی ہوجاتے ہیں کہ آپ نے اس واقعہ کا بھی انتخابی استعمال کرلیا۔ آپ کو تو اس بات کا استعمال کرنا چاہیے کہ کانگریس نے 22 سال پہلے گجرات کو کچھ نہیںدیا، ہم نے یہ یہ کام کیے،آگے یہ یہ کام کریںگے۔ اس سب کا کوئی رپورٹ کارڈ گجرات میںنہیںہے۔ اس کی جگہ وہاںپر بی جے پی کو تشویش ہے،سومناتھ میںراہل گاندھی کے پوجا کرنے کی۔بی جے پی کو فکر ہے کہ اگر گجرات کے ہندوؤں نے کہیںراہل گاندھی کے تئیں جھکاؤ دکھا دیا تو ہمارا کیا ہوگا؟ یہ سوال طاقتور کی کمزوری دکھاتے ہیں۔سبرامنیم سوامی کا کہنا ہی کیا؟ ان کی کوشش رہتی ہے کہ انھیںایسا موقع ملے کہ وہ وزیر اعظم کو مجبور کرکے ارون جیٹلی کی جگہ خود وزیر خزانہ بن جائیں جیسے وہ راجیہ سبھا آگئے۔راجیہ سبھا میں وہ سنگھ کی طرف سے آئے ہیں۔ اس لیے ایسے کسی بھی معاملے میںکود پڑنا اور ایسا ماحول بنانے کی کوشش کرنا جس سے آگے انھیںسیاسی فائدہ ہو، یہ ان کی سیاست ہے،انھیںیہ کام کرنے دیجئے۔ لیکن میرا سوال وزیر اعظم صاحب سے، سنگھ پرمکھ سے اور بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے کہ آپ اس طرح کے مدعے کیوںاٹھا رہے ہیں؟ ان کا الیکشن میںکیا مطلب ہے؟
ایک بات اور۔ اب تک جتنے بھی وزیر اعظم ہوئے ہیں،ان میںسے کسی نے ایسی زبان نہیںاستعمال کی جیسی زبان آج کے وزیر اعظم بول رہے ہیں۔ واجپئی جی نے بھی ایسی زبان کا استعمال نہیںکیا۔ ہر ریلی میںنریندر مودی جی جیسی زبان کا استعمال کررہے ہیں، جو تیور دکھا رہے ہیں، جو مدعے اٹھا رہے ہیں،وہ ملک کے سامنے وزیر اعظم کے ذریعہ ایک زبانی اسٹائل تیار کررہے ہیں۔ اس کے بعد لوگ اور بھی اس زبانی سطح سے نیچے گر جائیںگے۔کوئی کسی کی ناک کاٹنے ، کوئی کسی کا سر کاٹنے کی بات کرے گا۔ سیاست میںنئے آئے لوگ بھی یہی سیکھیںگے۔ میںلالو پرساد یادو کے بیٹے کی بات کررہا ہوں۔وہ بھی ایسی زبان کا استعمال کرکے ان سے آگے جارہے ہیں۔
لوہیا جی کہتے تھے کہ بدعنوانی کی گنگوتری اوپر سے نیچے کی طرف آتی ہے۔ اسی طرح زبانی عظمت و شرافت بھی اوپر سے نیچے آتے ہیں۔ اگر نمبر ون کی کرسی پر بیٹھا آدمی ان چیزوںکا خیال نہیںرکھے گا تو اس کے پیروکاروں کے پاس بھی وہی پہنچتا ہے۔ اس طرح کی زبان نہرو جی، اٹل جی یا چندر شیکھر جی نے کبھی استعمال نہیںکی۔ ایسی زبان کے استعمال سے پہلے وہ استعفیٰ دینا پسند کرتے ۔ مجھے لگتا ہے کہ بی جے پی اٹل بہاری واجپئی جی کی روایت سے بہت دور چلی گئی ہے۔ یہ اچھا ہے کہ آج اٹل جی بولنے – سننے کی حالت میںنہیں ہیں۔ ورنہ انھیںبہت دکھ ہوتا۔ اٹل جی کسی کی مخالفت بھی کرتے تھے تو بہت شرافت سے کرتے تھے اور مخالف کا احترام کرنا کسی سے سیکھنا ہوتو اٹل جی سے سیکھے ۔ پارلیمنٹ میںکہا تھا کہ اندرا گاندھی درگا ہیں۔

 

 

 

 

 

آج بی جے پی میںاس روایت کے لیڈر نہیںہیں۔ جو ہیں انھیںبھگایا جارہا ہے۔وہ چاہے یشونت سنہا ہوں، بھرت سنگھ ہوں یا ارون شوری ہوںیا شتروگھن سنہا ہوںیا بھولے سنگھ ہوںیا بلیا کے بھرت سنگھ ہوں۔ بھرت سنگھ نے تھوڑی بہادری دکھائی تو انکا گلا ایسا دبایا گیا کہ آج وہ کہیںبولتے ہوئے سنائی نہیںدیتے۔ پارٹی ود ڈفرینس والی پارٹی میںآج کیا ہورہا ہے۔ آج گجرات جیتنے کے لیے یہ کیا کر رہے ہیں؟ یہ اپنے کام نہیںبتا رہے ہیں، مخالف کی کمزوری نہیںبتا رہے ہیں۔ راہل گاندھی ہندو ہیں یا نہیں ہیں، اس کا مدعا اٹھا رہے ہیں۔ کسی بھی طرح سے انھیںمسلمان ثابت کرو اور اگر وہ بھی نہ ہو پائے تو عیسائی تو ثابت کر ہی دو تاکہ ہندو ان سے دور چلاجائے۔ الیکشن کا یہ اسٹائل بتاتا ہے کہ شاید ہم جمہوریت کے افریقی دور میںپہنچنے جا رہے ہیں۔ اچھا ہے کہ ہم وہیںپہنچ جائیں۔ اچھائی کے رہے سہے بھرم بھی دور ہوجائیں۔ لیکن ملک کے لوگوںکو تو سوچنا چاہیے اور اتناتو مجھے لگتا ہے کہ بی جے پی کے جو نئے حامی ہیں، وہ بھی شاید سیاست کے اس اسٹائل کو پسند نہیںکررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیوںسورت میںلوگوںنے میٹنگ نہیںکرنے دی، کیوںجگہ جگہ لوگوںکی سبھاؤں میںکرسیاںخالی رہ جارہی ہیں۔ کیونکہ لوگ جو سوال سننا چاہ رہے ہیں،وہ انھیںسننے کو نہیںمل رہا ہے۔ میڈیا ہائی جیک ہوگیا ہے۔
گجرات کا الیکشن ہوسکتاہے کہ اس شک کو مضبوط کرے کہ بیلیٹ پیپر سے ایک نتیجہ آتا ہے اور ای وی ایم سے دوسرا نتیجہ آتا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو اس ملک کے لوگوںکو بہت دکھ ہوگا۔ آگے انھیںجب کبھی فیصلہ کرنے کا موقع ملے گا تو بہت دکھی ہوکر ہی فیصلہ کریںگے۔عام طور پر اس ملک کے لوگ روادار ہیں،سیکولر ہیں،سب کی عزت کرتے ہیں۔ وہ کبھی کسی مزار،گرودوارے یا چرچ کے پاس سے گزرتے ہوئے گالی نہیںدیتے ہیں۔ یہ عام ہندوستانی،عام ہندو کاکردار ہے۔ بہرحال جتنا بھی ہراساںکرنا ہو، کرلیجئے،لیکن آخیر میںیہ اس ملک کی جمہوریت کو ہی چوٹ پہنچاتا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *