ماں کے تئیں جذبہ نے مانوشی چھلرکوحسینہ عالم بنادیا

ہریانہ سے تعلق رکھنے والی مانوشی چھلرنے چین میں منعقدہ مقابلہ حسن میں مس ورلڈکاخطاب جیتاہے۔میڈیکل کی طالبہ 20سالہ مانوشی نے چین کے سانیاشہرمیں 18نومبرکو منعقد ہوئے اس مس ورلڈ2017کمپٹیشن میں دنیاکے 108ممالک کی خوبصورت لڑکیوں کوپچھاڑکریہ کامیابی حاصل کی۔گویاکہ ہندوستان کی مانوشی چھلرنے 17سال بعداس ملک کیلئے مس ورلڈکاخطاب جیتاہے۔مانوشی کوگذشتہ سال کی مس ورلڈپیورٹوریکوکی اسنیفنی ڈیل ویل نے حسینہ عالم کا تاج پہنایا۔مس میکسیکودوسرے مقام پراورمس انگلینڈتیسرے مقام پررہیں۔دہلی میں پیداہونے والی مانوشی کے والدین کیلئے یہ لمحہ ناقابل یقین تھاجب فاتح کے طورپران کی بیٹی کانام کااعلان کیاگیا۔
ہندوستان کی مانوشی چھلرنے مس ورلڈ2017کاخطاب جیتاہے۔17سالوں کے بعدکسی ہندوستانی خوبصورت دوشیزہ کے سرپریہ تاج سجاہے۔خوبصورتی کایہ خطاب جیتنے والی مانوشی چھٹی ہندوستانی دوشیزہ ہیں۔ان سے پہلے بھی ہندوستان کی کئی حسن کی ملکاؤں نے اپنی خوبصورتی اوراداکاری کاپرچم پوری دنیامیں لہرایاہے۔ویسے دنیاکی 108ملکوں کی سندریوں کوپچھاڑکرمانوشی نے یہ خطاب جیتا۔اس خطاب کوجیتنابھی اتناآسان نہیں ہوتا،کسی کمپیٹیٹیوایگزام کی طرح اس میں بھی کئی راؤنڈس ہوتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

پہلاسہرا1961میں
ہندوستان کیلئے سال 1966میں پہلی بارریتافاریہ نے مس ورلڈکاخطاب جیتاتھا۔ا س کے بعد1994میں ایشوریہ رائے،1997میں ڈائناہیڈن ،1999میں یوکتامکھی اورسال 2000میں پرینکاچوپڑانے یہ خطاب اپنے نام کیاتھا۔اب 17سال بعدمانوشی چھلرمس ورلڈ2017بنی ہیں۔مانوشی کے والدمتربسوپیشے سے سائنٹسٹ ہیں جوفی الحال ڈیفنس ریسرچ اینڈڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آرڈی او)میں کام کررہے ہیں۔مانوشی کی ماں دہلی کے ابہاس میں ڈپارٹمنٹ آف نیوروکیمسٹری کی ہیڈہیں۔
مانوشی چھلرکاجنم 14مئی1997میں ہریانہ کے جھجّرضلع کے ایک گاؤںمیں ہواتھا۔وہ 1966میں پہلی بارمس ورلڈکاخطاب جیتنے والی ریتافاریہ کواپناآئیڈیل مانتی ہیں۔اس مقابلے میں پہلی رن اپ مس انگلینڈاسٹیفنی ہل رہیں،جبکہ دوسرے رن اپ پرمس میکسیکوانڈریامیجانے قبضہ جمایا۔ان دونوں کے ساتھ مانوشی کاقریبی مقابلہ تھا،لیکن آخرمیں تاج مانوشی کے سرآیا۔
خاص بات یہ ہے کہ مانوشی کواسی سال 25جون کوفیمینامس انڈیاکے خطاب سے نوازاگیاتھا۔وہ ہندوستان کیلئے مس ورلڈخطاب جیتنے والی چھٹی دوشیزہ ہیں۔مانوشی نے دہلی کے سینٹ تھامس اسکول سے پڑھائی کی ہے اوروہ فی الحال سونی پت کے بھگت پھول سنگھ گورنمنٹ کالج فارویمن سے میڈیکل کی پڑھائی کررہی ہیں۔وہ ایک تربیت یافتہ کوچی پوڑی ڈانسربھی ہیں۔انہوں نے نیشنل اسکول آف ڈرامامیں حصہ لیاہے۔
مانوشی کے مس ورلڈبنتے ہی سوشل میڈیاپرگونج مچ گئی۔یہ گونج مچے بھی کیوں نا،17سالو ں بعدکسی ہندوستانی خاتون نے مس ورلڈ کا خطاب جیتاہے۔لیکن مانوشی سے پہلے بھی ہندوستانی سندریاں خوبصورتی اورٹیلنٹ دکھاکرفاتح بن چکی ہیں۔
ریتافاریہ:ممبئی کی رہنے والی 1966میں ریتافاریہ ہندوستان کی مس ورلڈبنی تھیں۔مس ورلڈبننے سے پہلے ریتامس ممبئی اورپھرمس انڈیابھی رہ چکی ہیں۔ریتامیڈیکل اسٹوڈنٹ رہ چکی ہیں لیکن اب لائم لائٹ کی دنیاسے کافی دورہیں۔
ایشوریہ رائے:ریتاکے بعددوسری مس ورلڈکے طورپر1994میں حسن کی ملکہ ایشوریہ رائے سامنے آئیں۔مس ورلڈبننے کے بعدایشوریہ نے بالی ووڈمیں قدم رکھااوریہاں بھی ایک کامیاب اداکارہ بن کرسامنے آئیں۔
ڈائناہیڈن:ایشوریہ کے بعدڈائناہیڈن 1998میں مس ورلڈکا تاج پہنا۔ ڈائنا حیدرآبادسے ہیں۔لندن میں انہوں نے اپنی پڑھائی پوری کی ہے۔بک باس سیزن 2-میں بھی ڈائنااپناجھلک دکھاچکی ہیں۔فلمی کریئرزیادہ نہ چل پانے کی وجہ سے یہ اب لائم لائٹ سے کافی دورہیں۔
یوکتامکھی:یوکتامکھی بنگلورومیں پیداہوئیں اوران کی پڑھائی لکھائی دبئی میں ہوئی ہے۔پڑھائی پوری کرنے کے بعدوہ ممبئی آگئیں،جہاں انہیں مس ورلڈ1999میں حصہ لینے کا موقع ملا۔خطاب جیتنے کے بعدیوکتانے دوفلموں میں میں قسمت آزمایالیکن فلمیں کامیاب نہ ہوسکیں۔
پرینکاچوپڑا:پرینکاچوپڑا کاکریئرآج بلندی پرہے۔ان کے والدین آرمی میں ڈاکٹررہ چکے ہیں۔2000 میں دیسی گرل پرینکاچوپڑانے مس ورلڈ کا خطاب جیتاتھا۔ماڈلنگ سے ہوتاہواان کا کریئرمس ورلڈبننے تک آیا،پھرخطاب جیت کرپرینکاچوپڑانے بالی ووڈ میں اپناہنردکھایا۔آج کی تاریخ میں پرینکاانٹرنیشنل اسٹارہیں۔
مانوشی چھلر:پرینکاچوپڑاکے بعدہریانہ کی مانوشی چھلرنے مس ورلڈ2017 کاتاج جیت کرپوری دنیامیں ہندوستان کانام روشن کیاہے۔پیشے سے ڈاکٹرمانوشی نے 108ملکوں کی حسیناؤں کوپیچھے چھوڑتے ہوئے یہ مس ورلڈ کاتاج اپنے نام کیا۔اب دیکھئے آگے چل کریہ اپناکریئربالی ووڈ میں بناتی ہیں یانہیں،ویسے ہندوستان کی دوورلڈحسینائیں ایشوریہ رائے اورپرینکاچوپڑافلموں میں کامیاب رہی ہیں۔
بہرحال مس ورلڈ تقریب کے آخری راؤنڈمیں جب ججوں نے مانوشی سے پوچھاکہ’’کس پیشے میں سب سے زیادہ سیلری ملنی چاہئے اورکیوں؟‘‘اس پرمانوشی نے کہاکہ’’چونکہ میں اپنی ماں سے زیادہ قریب ہوں۔اس لئے سوچتی ہوں کہ ماں سب سے زیادہ عزت وقارکی حقدارہیں۔جہاں تک سیلری کی بات ہے تواس کامطلب دولت سے نہیں،بلکہ عزت اوروقارسے ہے۔سبھی مائیںاپنے بچو ں کیلئے بہت کچھ قربان کرتی ہیں۔اسلئے میرامانناہے کہ ماں ہی وہ پیشہ ہے،جسے سب سے اعلیٰ احترام اورسیلری ملنی چاہئے۔‘‘مانوشی کے اس جواب نے انہیں خطاب دلا دیا۔مانوشی نے مس فوٹوجینک کاایوارڈ بھی جیتا۔
ایک انٹرویومیں مانوشی نے کہاتھاکہ وہ بچپن سے ہی ہمیشہ اس کمپٹیشن میں حصہ لیناچاہتی تھی۔حالانکہ مجھے یہ کبھی نہیں معلوم تھاکہ میں یہاں تک پہنچ پاؤں گی۔مانوشی سماجی کاموں سے منسلک رہی ہیں۔انہوں نے خواتین کوماہواری کے دوران ہائی جین(حفظان صحت) سے متعلق ایک مہم میں قریب 5ہزارخواتین کوبیدارکیاہے۔

 

 

 

 

 

 

 

مانوشی 67ویں مس ورلڈ
اس سے پہلے آخری بار2000میں پرینکاچوپڑامس ورلڈکاخطاب جیتاتھا۔اتفاق کی بات یہ ہے کہ وہ بھی ہریانہ کے انبالہ کی ہیں۔اس مقابلے میں دوسرے نمبرپرمس میکسیکوانڈریااورتیسرے نمبرپرمس انگلینڈاسٹیفنی ہل رہیں۔مانوشی 67ویں مس ورلڈہیں۔مانوشی سال 2017میںمس انڈیااورمس ہریانہ رہ چکی ہیں۔
ننہال اورپڑوسیوں میں جشن
18نومبرہفتہ کوشام میں مانوشی کوتاج ملنے کے بعدمانوشی کی فیملی کی خوشی کاٹھکانہ نہیں رہا۔روہتک میں رہنے والی نانی ساوتری سہراوت نے لوگوں کومٹھائیاں تقسیم کی اورجشن منایا۔وہیں دہلی کے تیمارپورعلاقے میں مانوشی چھلرکے پڑوسیوں اوردوستوں نے کیک کاٹ کرملک کوملی کامیابی کوسلیبریٹ کیا،ایک دوسرے کامنھ میٹھاکیااورپٹاخے پھوڑکرڈانس بھی کیا۔
کوچ
ریٹائرڈلیفٹیننٹ،ریتاگنگوانی مس ورلڈمانوشی چھلرکی کوچ ہیں۔انہو ںنے کہاکہ’’مجھے فخرہے کہ وہ تاج لیکرہندوستان لوٹیں گی،جس کاہمیں سالوں سے انتظارتھا۔مانوشی انسانیت کیلئے کام کرناچاہتی ہیں،ماہواری کے تئیں لوگوں میں بیداری پھیلارہی ہیں۔اسے مس ورلڈکنٹیسٹ میں کافی سہرایاگیا‘‘۔فی الحال مانوشی پڑھائی پوری کرنے پرفوکس کررہی ہیں اورہارٹ اسپیشلسٹ بنناچاہتی ہیں۔اگرکوئی اچھی اسکرپٹ ملتی ہے تواس پرغورکرسکتے ہیں۔بالی ووڈ میں کریئربناسکتی ہیں؟
کس نے کیاکہا؟
17سال پہلے قراردی گئی مس ورلڈبنی پرینکاچوپڑانے ٹویٹ کیا’’اب ہمارے پاس جانشین ہے۔مس ورلڈمنتخب کئے جانے پرمانوشی کومبارکباد۔خوشی منائیں اوراس کامیابی کوانجوائے کریں‘‘۔ادھروزیراعظم نریندرمودی نے ٹویٹ پرلکھا’’مبارک مانوشی ۔آپ کی اس کامیابی پردیش کوفخرہے‘‘۔وہیںکانگریس کے نائب صدرراہل گاندھی نے ٹویٹ کیا’’مس ورلڈ2017مانوشی چھلرکوان کی کامیابی کیلئے مبارکباد۔ہمارے یووافاتح ہمیں فخرمحسوس کراتے ہیں۔ہندوستان کا مستقبل غیرمعمولی صلاحیت اورنوجوانوں کی خوبیوں پرانحصارکرتاہے۔مانوشی نے راہل گاندھی کے ٹویٹ کاجواب دیتے ہوکہاکہ’’شکریہ سر،ہندوستان کی نمائندگی کرکے میں خودکوخوش قسمت اورفخرمحسوس کرتی ہوں،یہ اب تک کاسب سے بہترین احساس ہے‘‘۔

 

 

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *