یمن میں خوراک کی کثرت پھر بھی فاقہ کشی

آپ ایک ایسے ملک میں قحط کی کیسے وضاحت کریں گے جہاں خوراک موجود ہو مگر لوگ بھوک سے مررہے ہیں۔دو سال قبل ایتھوپیا جہاں زمین خشک تھی، وہاں خراب حالات، مثلاً بارش نہ ہونے کی وجہ سے، قحط پڑنا اور پھر لوگوں کا بھوک سے مرنا سمجھ میں آتا ہے۔ 2011 میں کینیا میں جہاں جنگ کی وجہ سے تباہی تھی۔ علیحدگی پسند جنگجووں کے ساتھ اور حال ہی میں کینیا میں شدت پسند گروہ الشباب کے ساتھ تنازع کی وجہ سے خوراک دستیاب نہیں تھی تو فاقہ کشی سمجھ میںآتی ہے لیکن یمن کے بازاروں میں خوراک کی بہتات ہے مگر قوت خرید کی کمی کی وجہ سے لوگ بے حال ہیں۔
عرب دنیا کے سب سے غریب ملک یمن میں 70 لاکھ افراد کو قحط کا سامنا کررہے ہیں جبکہ یہاں خشک سالی نہیں ہے۔ڈھائی سال سے تعز کا شہر حوثی باغیوں کے زیرانتظام ہے۔ وہاں ایک بازار کا چکر لگانے سے خوراک کی کثرت ظاہر ہوتی ہے۔ بڑے بڑے انار اور کینو، تازہ لہسن، کیلے، ترئی اور طنچوی نارنگیاں کے علاوہ سپرمارکیٹس بھی تازہ گوشت، انڈوں اور دیگر سامان سے بھرے پڑے ہیں۔ پھر اس ملک میں قحط کیسے آسکتا ہے؟ ۔مگر حقیقت یہی ہے کہ وہاں ایسا ہی ہے اور اس کے اسباب کچھ یوں ہیں:
بڑھتی ہوئی قیمتیں
کینوؤں 600 ریال (2.4) کلو بکتا ہے ۔ کسی میں یہ خریدنے کی سکت نہیں۔ مزید بے روزگاری نے قوت خرید کو بالکل ختم کردیا ہے۔لوگوں کا گزر بسر عالمی ادارہ صحت کی جانب سے مہیا کرائی گئی خوراک پر ہوتا ہے۔جنگ زدہ یمن میں کسی بھی قسم کی نوکری انتہائی مشکل کام ہے۔یمن میں زراعت کا کام بھی اچھا خاصہ ہوتا تھا مگر اب خانہ جنگی نے اسے بری طرح متاثر کیا ہے۔

 

 

 

 

 

ناکہ بندی
وہاں مریضوں کو علاج کے لئے دوا نہیں ملتی ۔ نوکری کرنے والوں کو ایک تو تنخواہیں بہت کم ملتی ہیں جس سے ان کی روز مرہ کی ضرورتیں پوری نہیں ہوتی ہیں دیگر جو تنخواہیں مقرر ہیں وہ بھی جنگ کی وجہ سے کئی ہفتوں سے تنخواہ نہیں ملتی۔یمن کو جس صورتحال کا سامنا ہے اس میں کوئی قدرتی عمل نہیں بلکہ انسانی ہاتھوں کا دخل ہے اور یہ ایک سیاسی ناکامی ہے۔ آج یمن کو سیاسی قحط کا سامنا ہے۔جنگ سے قبل بھی یمن میں 90 فیصد خوراک باہر سے درآمد کی جاتی تھی۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار وہاں کی بندرگاہوں، سڑکوں کے جال اور فضائی پابندوں سے آزاد فضا پر ہوتا ہے۔
حالیہ تنازع کا مطلب ہے کہ یہ تینوں راستے بند ہیں۔ یمن میں حوثیوں کے خلاف اتحاد کی سربراہی کرنے والا سعودی عرب کسی بھی وقت بندرگاہیں بند کر سکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ خوراک اور امداد کی فراہمی میں مشکلات، وہ خوراک اور امداد جس پر تقریباً 2 کروڑ دس لاکھ افراد کا انحصار ہے۔
سعودی عرب نے ایسا ہی 4 نومبر کو کیا جب حوثیوں نے سرحد پار سے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر راکٹ حملہ کیا تھا۔
مصنوعی بحران
ایک جگہ کو دوسری جگہ سے جوڑنے کے لئے سڑک بہت ضروری ہوتی ہے۔سڑکیں صنعت سے لے کر دوسرے ترقیاتی امور میں معاون ہوتی ہیں لیکن یمن میں سڑکوں کا برا حال ہے۔ کچھ شاہراہیں اور پل جنگ کی وجہ سے تباہ ہوگئے ہیں اور خوراک سے لدے ٹرک باغیوں کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں جو صرف اپنے ہمدرد علاقوں تک خوراک پہنچاتے ہیں۔ٹرک ڈرائیوروں کو بھی مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور انھیں القاعدہ کے زیراثر علاقوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ان تمام ساری صورتحال کو یمن کے قحط کو انسانوں کی بنائی ہوئی اور سیاسی بحران سے پیدا ہونے والی صورتحال کہا جا سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ یمن میں دو سال سے جاری جنگ میں اب تک 7 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر فضائی کارروائیوں میں ہلاک ہوئے۔ تقریباً 3 لاکھ لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر اور جان بچا کر بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق تقریباً 14 ملین افراد کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔ان کی فاقہ کشی کو روکنے کے لئے ان اسباب کو ختم کرنا ہے جو کہ انسانی ہاتھوں نے جنم دیا ہے۔

 

 

 

 

سعودیہ اور ایران کی جنگ یمن میں؟
سنی طاقت کا حامل سعودی عرب دانستہ یا غیر دانستہ طور پر یمن میں لڑائی کو اپنے علاقائی حریف شیعہ ملک ایران کے خلاف پراکسی جنگ کے طور پر پیش رہا ہے، تاہم یہ تنازعے کا ایک خطرناک حد تک غلط پہلو ہے۔سعودی عرب ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ہر جگہ دیکھ رہا ہے۔ شمال میں عراق اور شام سے مشرق میں بحرین اور ان کا اپنا ملک اور اب جنوب میں یمن۔ظاہر ہے ایران کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کو سعودی عرب نے اپنے لئے انا کا مسئلہ بنا لیا ہے اور خاص طور پر سعودی کے ولی عہد محمد بن سلمان اس مسئلے کو ترجیحی بنیاد پر لئے ہوئے ہیں اور ایرانی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لئے وہ کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کررہے ہیں۔ اس کا اثر یمن پر بہت منفی پڑ رہا ہے۔
یمن ہتھیاروں سے لیس
ایران پر ایسے بیشتر الزامات ہیں کہ وہ حوثیوں کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ جیسا کہ سعودی عرب کے سرکاری العریبیہ ٹی وی کا کہنا ہے کہ 185 ٹن ایرانی ہتھیاربین الاقوامی نیول ٹاسک فورس کی ناکہ بندی کے باوجود معجزانہ طور پر یمن پہنچ گئے۔جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ میں ان الزامات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، ایک حالیہ غیر شائع شدہ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ایران کی حمایت کے سراغ ملے ہیں۔
اس کے باوجود حوثیوں کو ہتھیاروں کی شکل میں واضح طور پر مدد علی عبداللہ صالح کی جانب سے حاصل ہے جنھوں نے 2014 میں صنعا پر قبضے میں حوثیوں کی حمایت کی تھی۔اس کی وجہ سے حوثیوں کو فوجی مراکز سے امریکی اسلحہ حاصل کرنے کا موقع ملا۔یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کی لاکھ کوششوں کے باوجود حوثی پسپائی سے محفوظ ہیں۔مگر حوثیوں کی مزاحمت کے سامنے سعودی عرب کا وقار دائو پر لگ گیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *