یونانی طبّی مہاراشٹرکا تیسواں قومی کنونشن برائے فروغ طب یونانی

Tibbi-unani
آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس مہاراشٹر اسٹیٹ کے زیراہتمام تیسواں قومی کنونشن برائے فروغ طب یونانی، ناگپور میں زیرصدارت پروفیسر مشتاق احمد منعقد ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپرٹ کی اہمیت دنیا میں ہمیشہ رہی ہے اور آج بھی ہے۔ طب یونانی ایک مکمل سائنس ہے، ہم کسی بھی شعبہ کے ایکسپرٹ بنیں، کامیابی یقینی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایلوپیتھی سے ہمیں مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا ایک الگ نظریہ ہے اور وہ تحقیقی میدان میں سب سے آگے ہے، اور یہی اس کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ہمیں بھی اپنی تحقیقات کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سائنس ایک تحقیقی عمل ہے اور اس میں کوئی بھی چیز فائنل نہیں ہے صرف نبیؐ کی بات فائنل ہے۔ ریسرچ میں جو پیچھے رہ جائے گا وہ Irrelevant ہوجائے گا۔ بہرحال ہمیں اپنی تحقیقات کو تیز کرکے عام کرنا چاہیے تاکہ پوری انسانیت اس سے استفادہ کرے۔ پروفیسر مشتاق احمد نے یہ بھی کہا کہ مرکزی حکومت کے تعاون سے طب یونانی میں پی ایچ ڈی کی تعلیم طب یونانی کے مزید روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
اس موقع پر ناگپور شہر کی میئر مسز نندا جکار بطور مہمان خصوصی شریک ہوئیں اور اپنے خطاب میں کہا کہ طب یونانی بہت بااثر اور عوام کے لیے مفید ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے باعث فخر ہے کہ تیسواں نیشنل یونانی طبی کنونشن ناگپور میں ہورہا ہے، میں یہاں کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتی ہوں اور امید ہے کہ یہ کنونشن اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ میونسپل کارپوریشن ناگپور میں آیوش کے تحت جو شفاخانے قائم ہیں اُس میں یونانی کی نمائندگی بھی یقینی ہوگی اور یونانی شفاخانوں کی تعداد بڑھائی جائے گی۔ جناب پروین ڈٹکے (سابق میئر شہر ناگپور) نے کہا کہ یونانی ڈاکٹروں کے جو بھی مسائل ہیں، میں ان کے حل کے لیے بھرپور مدد کروں گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ناگپور میں تاج طبیہ کالج قائم کیا گیا تھا مگر افسوس کہ ہماری کوتاہیوں کے سبب وہ بند ہوچکا ہے، اُسے نئی زندگی دینے کی کوشش کی جائے گی اور طبّی کانگریس ناگپور کے لوگ اس کام کو ترجیحی بنیاد پر آگے بڑھائیں۔ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے کہا کہ یہ امر یقیناًخوش آئند ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے عالمی یوم یونانی میڈیسن کی مناسبت سے 10-11 فروری کو انٹرنیشنل سمینار منعقد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18 اگست 2010 کو محکمہ آیوش کی سکریٹری مسز جے لجا صاحبہ کی صدارت میں ہوئی میٹنگ میں اتفاق رائے سے طے پایا تھا کہ مسیح الملک حکیم اجمل خاں کی یوم پیدائش پر ہر سال 12 فروری کو ’عالمی یوم یونانی میڈیسن‘ منایا جائے گا۔ چنانچہ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس نے 12 فروری 2011 سے تسلسل کے ساتھ اہتمام کیا اور اب مرکزی حکومت کی جانب سے ’عالمی یوم یونانی میڈیسن‘ منائے جانے کا اہتمام ہم سب کے لیے باعث رشک ہے۔
پروفیسر ایم اے فاروقی (صدر شعبہ جراحت، نظامیہ طبیہ کالج حیدرآباد) نے کہا کہ حکومت کی سرپرستی کے بغیر کوئی بھی سسٹم کامیاب نہیں ہوگا، اس لیے ہمیں مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے رابطے میں رہنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حجامہ نے عالمی سطح پر طب یونانی کو ایک نئی پہچان دی ہے کیونکہ حجامہ سنت نبوی ہے، اسے زندہ کرنا بھی ثواب ہے اور عالم انسانیت کے لیے مفید بھی۔ پروفیسر ایم اے فاروقی نے متنبہ کیا اور کہا کہ بی یو ایم ایس کا ذریعہ تعلیم ہر حال میں اردو میں ہی لازمی ہے۔ کیونکہ جس طرح اردو کو زندہ و تابندہ رکھنے کے لیے اردو رسم الخط لازمی ہے ایسے ہی طب یونانی کی بقا و ترقی کے لیے اردو ذریعہ تعلیم لازمی ہے۔
معروف نوجوان یونانی طبیب اور آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس (یوتھ ونگ) کے قومی صدر ڈاکٹر محمد عبیداللہ بیگ نے مفرد ادویات کی اہمیت و افادیت پر بہت پُرمغز لیکچر پیش کیا اور زور دے کر کہا کہ طب یونانی کو مقبول عام بنانے اور مزید موثر بنانے کے لیے مفردات کے ذریعہ ترجیحی بنیاد پر علاج کرنا چاہیے۔ یہ نسبتاً کم خرچ اور زیادہ اثردار ہے۔ کنونشن میں ڈاکٹر شیخ ابراہیم واقف، ڈاکٹر ایس ایم حسین، ڈاکٹر محمد عظیم بیگ، ڈاکٹر اویس حسن، ڈاکٹر شری کانت وانیکر، ڈاکٹر کیتن پٹیل، ڈاکٹر منہاج الدین، ڈاکٹر مجیب الرحمن، ڈاکٹر غلام محمد اقبال، ڈاکٹر طلعت حسام الدین، حکیم صفی اللہ بیگ، حکیم خواجہ حسین، ڈاکٹر ذوالفقار، ڈاکٹر علی عسکری، ڈاکٹر سمیع الدین، ڈاکٹر محمد جہانگیر، ڈاکٹر محمد فاروق، ڈاکٹر عبداللہ ظفر، ڈاکٹر ارشد علی، حکیم عبداللطیف، ڈاکٹر عزیز سولنکی اور معروف صحافی عبدالباری مسعود وغیرہ نے بھی اظہار خیال کیا۔ ڈاکٹر حمیرہ اور ڈاکٹر ظوحانے نظامت کے فرائض انجام دیے اور تمام شرکاء کا شکریہ ڈاکٹر شیخ محمد یعقوب نے ادا کیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *