شیوراج کے 12برس ترقی کی دوڑ میں مدھیہ پردیش پھسڈی رہ گیا

مدھیہ پردیش میں کانگریس کو اقتدار سے بے دخل ہوئے 14 سال ہوگئے ہیں۔ اس دوران شیور اج سنگھ چوہان نے گزشتہ 29 نومبر کو بطور وزیر اعلیٰ اپنے بارہ سال پور ے کرلیے ہیں۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔مدھیہ پردیش کی سیاست میںایسا کرنے والے وہ اکلوتے سیاستداں ہیں۔ شیوراج سنگھ کی اس کامیابی میںکمزور اپوزیشن کا بھی خاصا رول مانا جائے گا۔ اپنی بارہ سال کی مدت کار میںشیور اج سنگھ چوہان نے ایسے بے شمار موقع دیے ہیں، جنھیں کیش کرایا جاسکتا تھالیکن اس دوران اپوزیشن کانگریس نے اپنے آپ کو بے اثر بنائے رکھا۔ کانگریس 2003 میںاقتدار سے باہر ہوئی تھی، تب سے لے کر ابھی تک وہ خود کو سنبھال نہیںپائی ہے۔ اگر 2018 کے اسمبلی انتخابات میںشیوراج سنگھ ایک بار پھر بی جے پی کی جیت درج کرانے میںکامیاب ہوتے ہیں تو پھر اس کا اثر مدھیہ پردیش ہی میںنہیں بلکہ ملک اور بی جے پی کی اندرونی سیاست پر بھی پڑے گا۔
شیوراج سنگھ چوہان کو 2005 میں جب بی جے پی قیادت نے وزیر اعلیٰ بناکر مدھیہ پردیش بھیجا تھا، تب شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا کہ وہ اتنی لمبی پاری کھیلیں گے۔ اس دوران وہ اپنی پارٹی کو دو بار اسمبلی انتخابات جتا چکے ہیں اور اب تیسری جیت کی تیاری کررہے ہیں۔ وہ اتنے طویل عرصے تک اقتدار میںرہنے کے باوجود آج بھی مدھیہ پردیش میںعوام کے بیچ دیکھے جانے والے لیڈروں کی فہرست میںاہم ہیں۔ 12 سالوںکے دوران انھوں نے مدھیہ پردیش کی سیاست میںہر روایت کو توڑا ہے۔ پہلے انھوں نے اس م روایت کو توڑا کہ مدھیہ پردیش میںکوئی بھی غیر کانگریسی سرکار اپنی مدت کار پوری نہیںکرسکتی۔ ا س کے بعد 29 نومبر 2016کو بطور وزیر اعلیٰ جب انھوں نے 11 سال پورے کیے تو یہ روایت بھی ٹوٹ گئی کہ ہر دس سال میںہونے والے سنہستھ کے بعد وزیر اعلیٰ بدلتا ہے۔ 2014 میںپارٹی کے اندرونی حالات بدل گئے تھے لیکن تمام خدشات کے بیچ وہ امت شاہ اور نریندر مودی کی مرکزی قیادت سے تال میل بٹھانے میںکامیاب رہے۔

 

 

 

 

 

 

ترقی کی صورت حال
وزیر اعلیٰ ہر اسٹیج سے یہ دعویٰ کرنا نہیںبھولتے کہ انھوں نے مدھیہ پردیش کو بیمار ریاست کے ٹیگ سے چھٹکارہ دلایا ہے لیکن زمینی حقیقت کچھ اور ہی تصویر پیش کرتی ہے۔ اسٹیٹسٹیکل منسٹری کے حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ریاست کی فی شخص آمدنی ابھی بھی قومی اوسط سے آدھی ہے اور اس کے بڑھنے کی رفتار بہت دھیمی ہے۔ ریاست کے زیادہ تر لوگ آج بھی کھیتی پر ہی منحصر ہیں۔ شیو راج سنگھ چوہان کی سرکار لگاتار یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ انھوں نے کھیتی کو فائدے کا دھندہ بنادیا ہے لیکن اسمبلی میںخود اس کے وزیر داخلہ قبول کرچکے ہیں کہ ریاست میںروزانہ 3 کسان یا کسان مزدور خود کشی کررہے ہیں۔ اسی طرح سے ریاست میںصنعتی ترقی کی رفتار بہت دھیمی ہے اور اس کے لیے آج بھی ضرورت کے مطابق انفراسٹرکچر نہیںبنایا جاسکا ہے۔
ریاست کے انسانی ترقیاتی اشاریے بارہ سال کے جشن کے رنگ کو پھیکا کرنے والے ہیں۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے 4- کے مطابق مدھیہ پردیش غذائی قلت کے معاملے میں بہار کے بعد دوسرے مقام پر ہے۔ یہاں ابھی بھی 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ اسی طرح بچوںکی موت کی شرح (آئی ایم آر) میںمدھیہ پردیش پورے ملک میںپہلے مقام پر ہے جہاں 1000 نوزائیدہ بچوں میںسے 52 اپنی پہلی سال گرہ نہیںمناپاتے ہیں۔ جبکہ قومی سطح پر یہ شرح آدھی یعنی 26 ہی ہے۔ اسی طرح سے ابھی بھی ریاست میں صرف 16.2 فیصد عورتوں کو بچوں کی پیدائش تک پوری دیکھ بھال مل پاتی ہے جس کی وجہ سے یہاں ہر ایک لاکھ حاملہ عورتوںمیںسے 221 عورتوںکو زچگی کے دوران جان سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں جبکہ قومی سطح پر یہ اعداد و شمار 167 ہیں۔ مندرجہ بالا حالات کا اہم سبب سماجی خدمات کی خستہ حالی ہے۔ ظاہر ہے کہ تمام دعووں کے باوجود سماجی اشاریے میںمدھیہ پردیش ابھی کافی پیچھے ہے۔ بدعنوانی کے معاملے میںبھی مدھیہ پردیش لگاتار بدنام رہا ہے۔ یہاںویاپم جیسا گھوٹالہ ہوا ہے جس نے ملک میںہی نہیںپوری دنیا کا دھیان اپنی طرف مرکوز کیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

چوہان کی مضبوطی میں کانگریس کا رول
اگر مدھیہ پردیش میںبی جے پی اور شیور اج سنگھ چوہان لگاتار مضبوط ہوتے گئے ہیں تو اس میںکانگریس کا کم رول نہیںہے۔ یہ مانا جاتا ہے کہ مدھیہ پردیش میںکانگریسی اپنی اہم حریف بھارتیہ جنتا پارٹی سے کم اور آپس میں زیادہ لڑتے ہیں۔ پارٹی کے کئی سارے ایسے لیڈر ہیںجو اپنے اپنے علاقوںمیں چھترپ بن کر رہ گئے ہیں۔ ریاست میں ان کی سیاست کا سروکار اپنے علاقوں کو بچائے رکھنے تک ہی محدود ہوگیا ہے۔ کانگریس پچھے تین انتخابات سے لگاتار اقتدار سے باہر ہے۔اس دوران وہ وہیں مارچ کرتے ہوئے نظر آئے ہیں۔ حال میں کانگریس پارٹی ریاست کی کل 230 اسمبلی سیٹوں میںسے 58 پر سمٹ کر رہ گئی ہے۔ سال 2008 میں کانگریس کے پاس 71 سیٹیں تھیں حالانکہ 2003 کے الیکشن میںکانگریس محض 38 سیٹوں پر سمٹ گئی تھی۔ 2003 میںکانگریس کو بی جے پی کے مقابلے میں10.89 فیصد کم ووٹ ملے تھے جبکہ 2008 میںیہ کم ہوکر 5.24 فیصد ہوگیا تھا۔ 2013 کے الیکشن میں کانگریس کو بی جے پی کے مقابلے میں8.41 فیصد کم ووٹ ملے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ کانگریس ہائی کمان کی ترجیحات میںمدھیہ پردیش غائب ہوگیا ہے۔ تبھی تو دگوجے سنگھ کے بعد یہاں عموماً کشمکش کی صورت حال رہی ہے۔ ایک بار پھر 2018 کے اسمبلی انتخابات نزدیک ہیں لیکن کانگریس میںبھرم کی کیفیت بنی ہوئی ہے۔ کسی کو پتہ نہیںکہ کس کی قیادت میںالیکشن لڑا جائے گا۔
مدھیہ پردیش میں2018 کے اسمبلی انتخابات زیادہ دور نہیںہیں۔ وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان کی قیادت میںبی جے پی کے مشن 2018 کی تیاریاں پوری ہوچکی ہیں۔ چہرہ، کردار،مدعے،نعرے سبھی کچھ طے ہوچکے ہیں۔ دراصل کانگریس کے مقابلے میںبی جے پی کے حق میںسب سے بڑی بات یہ ہے کہ اپنی ایک قیادت کے فارمولے پر چلتے ہوئے اس نے اپنے اندر کی سبھی گٹ بازیوںکو کنارے لگادیا ہے۔ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کو پورا کنٹرول دیا گیا ہے۔ وہ مدھیہ پردیش کو لے کر ہر چھوٹے بڑے فیصلے لینے کے لیے آزاد ہیں۔ پھر وہ چاہے حکومت اور تنظیم میںتقرریوںکا معاملہ ہو یا ٹکٹ کی تقسیم کا۔
لیکن ادھر کانگریس بھی پہلی بار اقتدار میں واپسی کو لے کر اتنی سنجیدہ نظر آرہی ہے ، طویل عرصے سے اپنے چھترپوں کی آپسی گٹ بازی کی شکار کانگریس پارٹی کے لیے ادھر لگاتار اچھی خبریںآرہی ہیں۔ چترکوٹ کے ضمنی انتخاب میںملی جیت سے کانگریسی خیمے میںجوش ہے اور وہ اس میں2018 کی جیت کی چابی دیکھ رہے ہیں۔ مختلف گروپوں میںبنٹے لیڈر بھی آپسی میل ملاپ کی ضرورت محسوس کرنے لگے ہیں۔ ادھر دگوجے سنگھ کی نرمدا کی غیر سیاسی یاترا کا بھی سیاسی اثر ہوتا دکھائی پڑ رہا ہے۔ یہ یاترا ایک طرح سے مدھیہ پردیش کے کانگریسی لیڈروں کو متحد کرنے کا پیغام بھی دے رہی ہے۔ ریاست کے سبھی بڑے کانگریسی لیڈر اس یاترا میںشامل ہوچکے ہیں۔ ایسے میں الیکشن سے قبل اپوزیشن کانگریس کی یہ کوششیں لگاتار اپنی تیسری پاری پوری کرنے جارہی برسراقتدار پارٹی کے لیے چیلنج ثابت ہوسکتی ہیں۔ اس بیچ مدھیہ پردیش کے کانگریسی چھترپ آپس میں کسی ایک چہرے پر متفق ہوجاتے ہیں تو اسمبلی انتخابات میںبی جے پی کی امیدوں پر الٹا اثرپڑنا طے ہے۔ ادھر دگوجے سنگھ کی یاترا نے نئی ایکوئیشن کو جنم دیا ہے۔ کسی کو بھی اندازہ نہیں ہے کہ دس سال تک ریاست میںحکومت کرچکے دگی راجہ کے دماغ میںکیا چل رہا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *