سعودی عرب- اسرائیل کی بڑھتی قربت اصل وجہ کیا ہے؟

سعودی عرب اور اسرائیل ایران کے خطے میں بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کے خلاف کوششوں میں ایک دوسرے کے غیر اعلانیہ اتحادی ہیں۔یہ رشتہ پروان چڑھ رہا ہے لیکن یہ انتہائی حساس ہے اور گاہے بگاہے اس میں ایک شور مچتا ہے کہ اندر خانے کیا کیا ہو رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے خیال میں ایران سے مشترکہ دشمنی کی وجہ سے سعودی عرب اور اسرائیل میں اشتراک پیدا ہو سکتا ہے۔اس اشتراک کے اشارے اس انٹرویو سے بھی ہوتا ہے جو اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل گیڈی ائزنکوٹ نے سعودی اخبار’’ ایلاف ‘‘کو دیا تھا کہ ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل سعودی عرب کے ساتھ انٹیلی جنس کا تبادلہ کرنے پر تیار ہے اور جہاں تک ایران کے حوالے سے خدشات ہیں تو دونوں ملکوں کا مشترکہ مفاد اس کو روکنے سے وابستہ ہے۔
اس انٹرویو کے چند دن بعد سعودی عرب کے سابق وزیر انصاف محمد بن عبدل کریم عیسیٰ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے قریبی ساتھی نے پیرس میں منعقدہ ایک کانفرنس کے بعد اسرائیلی اخبار ’’معریو ‘‘کو بتایا کہ اسلام کے نام پر تشدد یا دہشت پر مبنی کسی بھی اقدام کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اسے اسرائیل سمیت کسی جگہ درست قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ عرب دنیا میں اس طرح سے اسرائیل کے خلاف حملوں پر کھلے عام تنقید کرنا بہت غیر معمولی بات ہے۔ لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ اس طرح کے بیان سے متوقع طور پر سعودی عرب کے معاشرے کو تیار کرنا ہے کہ وہ اپنے سابق موقف اور نظریہ کو ترک کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔

 

 

 

 

 

سعودی عرب کی بے چینی
سعودی عرب کی بے چینی یہ ہے کہ خطہ میں ایران کا اثرو رسوخ بڑھتا جارہا ہے۔ عراق میں 2003 میں امریکہ کی سربراہی میں اتحاد کے ہاتھوں صدام حسین کے دورِ اقتدار کے خاتمے کی وجہ سے سنّی عرب دنیا میں اسٹریٹیجک توازن شیعہ ایران کے حق میں چلا گیا۔اس کے نتیجے میں شیعہ اکثریتی سیاسی قیادت عراق میں سامنے آئی جس کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ شیعہ ملیشیا شام میں صدر بشار الاسد کے حمایت میں ایک سرگرم جنگ لڑ رہی ہے۔
ایران کا روس کی فضائی طاقت اور آلات کے ساتھ شام کی خانہ جنگی میں صدر بشارالاسد کا ساتھ دینے کے فیصلے سے شامی صدر کو حالات اپنے حق میں کرنے میں مدد ملی۔ اس کے نتیجے میں ایران کو بحیرہ روم تک راہداری حاصل ہونے کا امکان پیدا ہوا ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو بہت سارے سنّی فارس کی عرب مشرق وسطیٰ کے عین وسط میں داخل اندازی سمجھتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان عداوت دفاعی اور مذہبی دونوں ہیں۔اس وقت ایران اور اس کے اتحادی اور پراکسیز، جیسا کہ لبنان میں شیعہ عسکری تنظیم حزب اللہ کامیاب بن کی سامنے آئے ہیں۔ اس لئے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوششوں کا امکان قوی تر ہوجاتا ہے۔دونوں کی منشا ہے کہ ایران کو جوہری طاقت کی حامل ریاست بننے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ دونوں ایران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے کے حوالے سے کیے گئے بین الاقوامی معاہدے کے پہلوؤں سے مطمئن نہیں ہیں اور دونوں ہی لبنان میں حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور بھرپور طور پر مسلح ہونے کو خطے میں عدم استحکام کی قوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
لیکن یہاں اس کے علاوہ اور بھی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ صرف ایران کے ابھرنے کا مسئلہ نہیں ہے۔ دیگر اہم پہلوؤں کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے، خاصطور پر امریکہ میں نئی ٹرمپ انتظامیہ کے اثر ورسوخ اور وسیع تناظر میں مشرقٰ وسطی میں عرب اسپرنگ اور شام میں خوفناک جنگ کے حوالے سے۔پہلی نظر میں سعودی عرب اور نہ ہی اسرائیل کو نئی امریکی قیادت سے کوئی شکایات ہونی چاہیے۔صدر ٹرمپ کے دونوں ممالک کے دورے سے لگتا ہے کہ انھوں نے دونوں کے سٹرٹییجیک نقطہ نظر کو قبول کیا اور ایران سے کیے گئے جوہری معاہدے کو گہرے شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔وہ خلیج میں امریکی اتحادیوں کو دل کھول کر اسلحے کی فروخت کے نئے معاہدے کر رہے ہیں جس میں اب تک کی سب سے جدید ترین اسلحے کی سپلائی بھی شامل ہے۔لیکن ہمددری کا احساس ظاہر کرنا ایک چیز ہے اور عملی طور حکمتِ عملی بالکل ایک الگ چیز ہے۔ تاہم صدر کے الفاظ کا جہاں زیادہ خیرمقدم کیا گیا ہے وہیں دونوں ممالک جانتے ہیں کہ خطے میں امریکی پالیسی بظاہر بے سمت ہے اور اسے سمت میں لانے کے لئے دونوں کا اتحاد بہت کارگر ثابت ہوگا۔
امریکہ کی ناکامی
امریکہ اور اس کے اتحادی شام کی جنگ میں ایران اور روس کا مقابلہ نہیں کر سکے۔بات کرنے تک امریکہ ایران کے اثر رسوخ کو روکنے کے لیے کوئی مصدقہ اور مربوط پالیسی آگے لے کر نہیں آیا۔اس میں کوئی حیرانگی نہیں ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد نے طے کیا ہے کہ ان کے ملک کو اپنے مفادات کے لیے زیادہ سرگرم کردار ادا کرنا ہو گا۔ یہ احساس پایا جاتا ہے جس میں اسرائیل اور سعودی عرب خود کو خطے میں امریکہ کے کم ہوتے اثر و رسوخ اور طاقت کے پرانے کھلاڑی جیسا کہ روس کی واپسی کے تناظر میں خود کو تبدیل کر رہے ہیں۔اس میں زیادہ بنیادی چیز اور بھی ہے اور وہ یہ کہ شہزادہ محمد بن سلمان ایک ساتھ دو حکمت عملیوں پر کام کر رہے ہیں جس میں ایک طرف ایرانی اثر و رسوخ کو ختم کرنا اور دوسرا سعودی ریاست کو معتدل پسندی پر مبنی جدید خطوط پر استوار کرنا شامل ہے اور ظاہر ہے اس کے لئے انہیں اس موجودہ صورت حال میں اسرائیل سے قربت سب سے موثر قدم نظر آرہا ہے۔
جہاں تک شہزادہ محمد کے سعودی ریاست کو معتدل پسندی پر مبنی جدید خطوط پر استوار کرنے کی بات ہے تو یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ وہاں کی یہ صورت حال عرب سپرنگ کے نتیجے میں ہونے والی اتھل پتھل اور اسلامی شدت پسندی کے خطرات کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔دوسری طرف اسرائیل کو ہمسایہ ملک شام میں ایران کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش ہے۔شہزادہ سلمان اس بات پر قائم ہیں کہ مستقل کے لیے خطے کو لازمی تبدیل ہونا چاہیے تو اس کی شروعات گھر سے کرنی چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ اصلاحات ایران کو روکنے کے لیے اہمیت کی حامل ہوں۔نجی طور پر ہونے والی متعدد گفتگوؤں سے مجھے اس بات پر یقین کرنے میں مدد ملی کہ کچھ ایسا ہے جس میں اسرائیل بھی یہی سمجھتا ہے۔
ان کے خیال میں ولی عہد محمد بن سلمان کے اس ایکٹویزم میں کئی خطرات ہیں۔ لیکن انھوں نے شام کی جنگ کے ساتھ ہونے والی خوفناکی کو دیکھا ہے، جس میں کم از کم بعض اسرائیلیوں کے نزدیک کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو ایک معمول کے طور پر لینا شامل ہے جس میں وسیع بین الاقوامی برادری کی جانب سے بہت ہی محدود ردعمل سامنے آیا جس میں اصل میں روس اپنے شامی اتحادی کو بچانے کے لیے سلامتی کونسل میں اپنا تحفظ فراہم کر رہا ہے۔
اسرائیل شام کو ایک ’لیبارٹری‘ کے طور پر دیکھتا ہے کہ خطے کا مستقبل کس شکل میں ہو سکتا ہے۔ چنانچہ شہزادہ محمد بن سلمان جو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ اس میں مثبت پہلوؤں پر زور ڈالنے پر رضامندی دکھا رہے ہیں۔سعودی-اسرائیلی تعلقات کہاں تک جا سکتے ہیں؟ تو اس کا انحصار کئی پہلوؤں پر ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ولی عہد محمد بن سلمان کے سعودی عرب کو تبدیل کرنے کی راہ پر ڈالنے کے جرات مندانہ اقدام کامیاب ہوں گے؟۔بنیادی طور پر اگر سعودی- اسرائیلی شراکت داری سامنے آتی ہے تو یہ سورج کی روشنی کو گھورنے کے مترادف ہو گی۔ اس میں فلسطین کے محاذ پر پیش رفت کرنا ہو گی۔ سعودی عرب عرصے سے کہہ رہا ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل ہونے پر ہی اسرائیل کو کھلے عام تسلیم کرے گا۔ فلسطینی ریاست کے قیام کے وعدے پر مبنی معنی خیز امن بات چیت کی حالت کے بغیر اسرائیل، سعودی اتحاد پر سائے قائم رہیں گے۔

 

 

 

 

 

اسرائیلی فوجی سربراہ کا عربی میڈیا سے انٹرویو موضوع بحث
اسرائیل کی فوج کے سربراہ نے کہا کہ اسرائیل سعودی عرب کے ساتھ خفیہ معلومات کے تبادلے کے لیے تیار ہے کیونکہ دونوں ملک کا مشترکہ مفاد ایران کو روکنے سے وابستہ ہے۔ لیفٹینٹ جنرل گیڈی ائزنکوٹ نے کہا ہے کہ اسرائیل کا لبنان میں موجود حزب اللہ تنظیم پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
سعودی عرب نے حالیہ دنوں میں ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عرب ملکوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے حزب اللہ سمیت مختلف جنگجو گروپوں کو استعمال کر رہا ہے۔ چند دنوں قبل یمن سے ریاض کے ہوائی اڈے پر راکٹ کے ناکام حملے کی ذمہ داری بھی سعودی عرب نے ایران پر عائد کی تھی اور اسے ایران کی طرف سے سعودی عرب کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا تھا۔اسرائیل فوج کے سربراہ سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا سعودی عرب کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ ہوا ہے تو انھوں نے کہا ‘ہم یہ معلومات فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو دونوں ملکوں کے بہت سے مشترکہ مفاد ہیں۔ امریکہ میں صدر ٹرمپ کی ایران پر دباؤ بڑھانے کے انتخابی وعدے پر کامیابی نے مشرق وسطی میں نئی سیاسی صف بندی اور اتحاد بنانے کا موقع فراہم کیا ہے۔
اسرائیل کے شہر تل ابیب میں ہونے والے اس انٹرویو میں جنرل ائزنکوٹ نے کہا کہ ایران کے خطرے کا سامنا کرنے کے لیے ایک مفصل دفاعی منصوبہ تیار کیا جانا چاہیے اور وہ معتدل عرب ریاستوں کو دفاعی ماہرات اور خفیہ معلومات فراہم کرنے کو تیار ہیں۔حزب اللہ کے خلاف کارروائی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کوئی جنگی کارروائی کرنے کا اسرائیل کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن اسرائیل اپنے خلاف کسی خطرے کو برداشت نہیں کرئے گا۔
یاد رہے کہ ایک ہفتے قبل لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری نے سعودی عرب کے اپنے دورے کے دوران اچانک اپنے استعفی کا اعلان کر دیا تھا۔ لبنان کے وزیر اعظم کے اچانک مستعفی ہونے کو بھی خطے میں جاری سعودی عرب اور ایران کے درمیان رسہ کشی سے جوڑا جا رہا ہے ۔حالانکہ اب وہ واپس لبنان جا چکے ہیں مگر خطے کی افراتفری سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *