پھر سے منتخب صدر آر جے ڈی لالو یادو نئی حکمت عملی کی تلاش

ارشاد الحق
گزشتہ جولائی میںراشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) 20 سال کا ہوگیا۔ پارٹی کی تشکیل 1997 میںہوئی تھی۔ لالو پرساد اتنے ہی سالوں سے اس کے قومی صدر ہیں۔ 21 نومبر کو وہ دسویںبار پارٹی کے قومی صدر چنے گئے۔ ان کا انتخاب حسب توقع بلامقابلہ ہوا۔ 20نومبر کو قومی کونسل کی میٹنگ اور 21 نومبر کو کھلے اجلاس کا انعقاد ہوا۔ حالانکہ صدر کے طور پر لالو پرساد کی مدت کار ابھی باقی تھی لیکن یہ انتخاب وقت سے قبل کرایا گیا۔ اس پر مخالف خیمے کی طرف سے چٹکی بھی لی گئی اور سوال بھی اٹھائے گئے۔
تنظیمی صدر کا انتخاب
سوال یہ ہے کہ آخر جب لالو کو پارٹی کے اندر سے کسی حریف کی طرف سے کوئی چیلنج ہی نہیںتھاتو انھیں وقت سے پہلے کیوں الیکشن کرانا پڑا؟ یاد رکھنا چاہیے کہ قومی کونسل کی میٹنگ اسی سال راجگیر میںہوئی تھی جبکہ عموماً آر جے ڈی کی قومی کونسل کی میٹنگ بھی اتنی جلدی نہیںبلائی جاتی۔
ایسے میںسوال اٹھنا فطری ہے ۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ لالو پرساد نے ان سوالوں کا جواب نہیں دیا۔ مگر انھوں نے اپنے انداز میںجواب بھی دیا۔ انھوںنے صدر چنے جانے کے بعد جو تقریر کی، اس میںانھوںنے ایسے ہی کئی سوالوں کا جواب دیا،جس سے آر جے ڈی کے مستقبل کی حکمت عملی کا پتہ چلتا ہے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں تین اہم مدعے اٹھائے۔ ان تینوں مدعوں میںکئی سوالوں کے جواب ہیں۔ لہٰذا ان تینوںمدعوںکا ذکر یہاںلازمی ہے۔ پہلے مدعے کے طور پر لالو نے اپنے بھاشن میںنریندر مودی پر حملہ بولا اور کہا کہ وہ ہمیں جیل میں بھیج دیں یا پہاڑ پر بھیج دیں، ہماری عوامی حمایت اور ہمارے ووٹ پر کوئی الٹا اثر نہیںپڑنے والا ہے۔ لالو نے جو دوسری اہم بات کہی ، وہ یہ تھی کہ مودی وقت سے پہلے الیکشن کا اعلان کرسکتے ہیں۔

 

 

 

 

 

اپنے اس امکان کو اور زیادہ مستند بنانے کے لیے انھوں نے اپنے معتبر ذرائع کا حوالہ دیا،جس نے انھیںیہ اطلاع دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی جوڑا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے نریندر مودی سے کہا ہے کہ لوک سبھا کے الیکشن کے ساتھ ہی بہار اسمبلی کا الیکشن کرالیا جائے۔ ان دو مدعوں کے علاوہ جو تیسری بات لالو نے کہی،وہ نتیش کمار کے جنتا دل یو کو لے کر تھی۔ انھوںنے کہا کہ نتیش ہمارے لیے کوئی چیلنج ہی نہیں ہیں۔ ہماری لڑائی بی جے پی سے ہے، نتیش کہیں بھی نہیںہیں۔
اب یہ تین مدعے ، جو لالو نے اٹھائے، اس کے پیچھے ان کی بڑی حکمت عملی ہے، لہٰذا اس حکمت عملی پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ لالو جب یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ (بی جے پی والے)انھیں جیل میں بھیج دیں یا پہاڑ پر بھیج دیں، ان کے ووٹ پر کوئی اثر نہیں پڑنے والاہے۔ قومی کونسل کی میٹنگ سے قبل بھی وہ ایسا بیان کئی بار دے چکے ہیں۔ لالو کا یہ بیان دراصل ان کے خدشہ کی عکاسی کرتا ہے ۔ ریل ہوٹل ایلوکیشن اور بے نامی جائیداد کے معاملے میںای ڈی اور سی بی آئی کے چھاپہ مارنے کے بعد پید ا ہوئے حالات سے انھیںلگنے لگا ہے کہ مودی سرکار انھیںسی بی آئی کے ہاتھوں گرفتار کراسکتی ہے۔
گرفتاری کے بعد تب انھیں لمبے وقت تک جیل سے نہیںنکل پانے کی ترکیب لگائی جاسکتی ہے اور اسی بیچ لوک سبھا و ودھان سبھا کا الیکشن کرایا جاسکتا ہے۔ آر جے ڈی کے اندرونی ذرائع کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ بی جے پی اور جے ڈی یو لالو کی عوامی مقبولیت کو بیدھنے کے لیے لالو کو پبلک فورم سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ آر جے ڈی خیمے کے اندر اس بات کا چرچا اور خدشہ بھی ہے کہ لالو جب جیل میں ہوںگے تو آر جے ڈی کو کمزور کرکے اسے توڑا جائے یا لالو کے متوازی کسی دیگر لیڈر کو کھڑا کرکے پارٹی میںبغاوت کرائی جاسکتی ہے۔ ممکنہ طور پر اسی لیے لالونے وقت سے پہلے تنظیمی انتخاب کرالیا ہے تاکہ تنظیمی سطح پر کوئی چیلنج اندر سے پیش آنے کی صورت میںایک مضبوط ہتھیار ان کے پاس رہے۔ جب ہم ان باتوں کا ذکر کررہے ہیں تو اس کے حق میںایک اور مضبوط دلیل آر جے ڈی کے آئین میں ترمیم سے پیدا ہوئی ہے۔قومی کونسل کی میٹنگ میں دیگر قرارداد کے علاوہ پارٹی آئین میں ترمیم کرکے قومی صدر (لالو پرساد) کو یہ اختیار دیا گیا کہ ضرورت پڑنے پر وہ مجلس عاملہ کی مدت کار کو گھٹا یا بڑھا سکتے ہیں۔غور سے دیکھیں تو یہ ترمیم دراصل ان ممکنہ چیلنجز کو لے کر ہے جب کوئی اندرونی یا باہری طاقت پارٹی کو کمزور کرنے کی کوشش کرے تو کامیاب نہ ہونے پائے یا پھر کوئی لیڈر الیکشن کمیشن میںجاکر لالو پرساد (جیل میںرہنے کی صورت میں) کے حق کو چیلنج نہ کرپائے۔

 

 

 

 

 

 

لالو کے بیان کا مطلب
اسی طرح لالو جب یہ کہہ رہے ہیں کہ وقت سے پہلے ہی لوک سبھا و ودھان سبھا الیکشن کرانے کی تیاری برسراقتدار کی طرف سے چل رہی ہے ،تو ایسی باتوںکو عوامی فارم پر اور اپنے اراکین اسمبلی، اراکین پارلیمنٹ یا آئندہ الیکشن میں لڑنے والے ممکنہ امیدواروں کو یہ میسج دینا چاہتے ہیں کہ الیکشن میںٹکٹ چاہنے والے دعویدار پارٹی کے تئیںوقف ہوجائیں ۔ ان کے اس بیان کا مطلب یہی ہے کہ کوئی بھی لیڈر جو الیکشن لڑنے کی خواہش یا قابلیت رکھتا ہو، وہ پارٹی کے تئیں متحد ہوجائے، اس سے پارٹی کو باہر سے یا اندر سے کمزور کرنے یا کرانے والوں کی دال نہ گل پائے۔
لالو پرساد نے جو تیسرا مدعا اٹھایا ہے وہ نتیش کمار کو لے کر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی لڑائی براہ رات بی جے پی سے ہے۔ نتیش اس لڑائی میںکہیں کوئی فیکٹر نہیںبننے والے ہیں۔ لالو کے اس بیان کو سنجیدگی سے نہیں لینے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں کیونکہ گزشتہ 12 سالوں سے نتیش، بہار کی سیاست کو متاثر کرنے والے لیڈروں میںسے سب سے طاقتور نام ہے۔ 2014 کے لوک سبھا کے انتخاب میںاکیلے لڑنے پر بھلے ہی جے ڈی یو کی بھد پٹ گئی تھی لیکن اس کے علاوہ وہ باقی کے تمام انتخابات میں وہ بی جے پی کے تعاون سے میدان میںرہے ہیں اور زوردار کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں۔ 2015 کے اسمبلی الیکشن میںجب وہ بی جے سے الگ ہوئے تو لالو کے تعاون سے لڑے اور کامیابی ہی نہیں پائی بلکہ وزیر اعلیٰ بھی بنے۔ لہٰذا لالو پرساد کے اس دعوے کو کہ نتیش آئندہ الیکشن میںفیکٹر نہیںہوںگے، آسانی سے نہیں پچایا جاسکتا۔ حالانکہ اس بات کو لالو بھی بخوبی سمجھتے ہوںگے لیکن انھیںپتہ ہے کہ نتیش کو مضبوط مخالف قبول نہیںکرنے سے وہ پچھڑے، دلت اور اقلیتی ووٹوں کو اپنی طرف سے متحد کرنے کی حکمت عملی کے تحت ایسا بیان دے رہے ہیں۔ کل ملاکر لالو پرساد یادو ایک طرف اپنی پارٹی پر پوری کمانڈ رکھتے ہوئے لوک سبھا و ودھان سبھا انتخابات کی تیاریوں میںجٹ جانے کے لیے تنظیم کو ذہنی طور پر تیار کرنے میںجٹے ہیں۔ اقتدار کھونے کے بعد ویسے بھی ان کی پارٹی کے لیے کوئی اور اہم کام نہیں بچا ہے۔ اقتدار چلے جانے کے بعد تنظیم میںڈھیلے پن کی حالت آتی ہے۔ ایسے میںپارٹی کو سلامت رکھناایک چیلنج ہوتاہے۔ ا س چیلنج سے نمٹنے کے لیے لالو نے ساری تیاریاںکرلی ہیں ۔ لالو پرساد کے ذریعہ اٹھائے گئے جن تین مدعوں کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے، ان کے علاوہ ایک اہم مدعا اور ہے، جس پر دھیان دینا ضروری ہے۔ 21 نومبر کو کھلے اجلاس میںایک فیصلہ تیجسوی یادو کے بارے میںلیا گیا۔ پارٹی نے اعلان کیا کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات تیجسوی یادو کی قیادت میںلڑے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی یہ قرارداد بھی پاس کی گئی کہ پارٹی کی جانب سے تیجسوی پرساد ہی وزیر اعلیٰ کے امیدوار ہوں گے۔ ان دو قراردادوں کو قومی کونسل کی منظوری بھی حاصل کی گئی۔ آر جے ڈی کا یہ فیصلہ بھی ایک صحیح حکمت عملی کا حصہ ہے۔ دراصل آر جے ڈی ان تمام ممکنہ چیلنجز کو ختم کردینا چاہتا ہے جو لالو پرساد کے، جیل میںچلے جانے کی حالت میںپیش آسکتے ہیں۔ لالو پرساد یہ تمام انتظامی تیاریاں یوں ہی نہیں کررہے ہیں۔ انھیں پتہ ہے کہ نتیش کمار سیاست کے پکے کھلاڑی ہیں۔ وہ جانتے ہیںکہ نتیش اپنی طاقت اپنی تنظیم کو مضبوط کرنے کی کوششوں سے زیادہ دیگر جماعتوں کو کمزور کرکے بڑھانے میںماہر ہیں۔
اب ایسے میںغور سے دیکھیںتو لالو پرساد کی آئندہ کی حکمت عملی اپنی مخالف جماعتوں سے لوہا لینے کی تیاریوںسے زیادہ اپنی جماعت کے اندر سے ہی پنپنے والے ممکنہ چیلنجز کو ختم کرنے کی ہے۔ قومی کونسل کی میٹنگ کی مدت کار ختم ہونے سے کافی پہلے تنظیم کا انتخاب اور لوک سبھا انتخابات کی قیادت تیجسوی یادو کو سونپنے کی قرارداد دراصل لالو کی اسی حکمت عملی کا حصہ مانا جانا چاہیے جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ ورنہ لوک سبھا کے انتخاب میں دو سال اور ودھان سبھا کے انتخاب میںابھی تین سال کا وقت باقی ہے، ایسے میں آر جے ڈی کو ان تیاریوں کی کیا ضرورت تھی؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *