ڈھونگی باباوریندردیودکشت کے کھلے کئی اہم راز

baba
زناکاری باباگرمیت رام رحیم کے بعددہلی کے آدھیاتمک وشوودیالیہ کے سلسلے میں انکشافات نے ایک بارپھرملک کوحیرت زدہ کررکھاہے۔اس کے ساتھ ہی ڈھونگی باباکے کئی چونکانے والے رازسامنے آرہے ہیں۔اس معاملے میں کئی اوررازکھلے ہیں۔عیاشی کاآشرم چلارہے ڈھونگی باباوریندردکشت پرپولس کا شکنجہ لگاتارکس رہاہے۔دہلی پولیس اوردہلی وویمن کمیشن کی ٹیم رات میں ریپ کے ملزم بابادیویندرکے دہلی کے نوادا کے آشرم میں چھاپے ماری کی ہے۔اس آشرم میں 21لڑکیوں کونکالاگیا۔ان سبھی لڑکیوں کامیڈیکل کاؤنسلنگ کرائی جائے گی۔حالانکہ لڑکیوں کا کہناہے کہ وہ اپنی مرضی سے رہ رہی تھیں۔اس بیچ دہلی ہائی کورٹ نے سی بی آئی کوحکم دیاہے کہ وہ شمالی دہلی میں واقع اس آشرم کے فاؤنڈراورسربراہ کاپتہ لگائے جہاں خواتین اورلڑکیوں کومبینہ طورپرپنجروں میں جانوروں کی طرح رکھاگیا۔
باباکی پہلی پسندکم عمرکی لڑکیاں ہوتی تھی۔اس کے لئے بابامالی تنگدست خاندان کی لڑکیوں کوانتخاب کرتاتھا۔اس کے نشانے پرتنگ دست لڑکیاں رہتی تھیں،کیونکہ وہ اف نہیں کرتی تھیں۔اس کیلئے بابااپنانیٹ ورک دیش بھرمیں پھیلارکھاتھا۔ملک بھرمیں پھیلے نیٹ ورک کے ذریعہ ملزم کم عمرکی لڑکیوں کوبلاپھسلاکرآشرم لاکراسے یرغمال بنالیتاتھا۔ان کے علاوہ جن خاندان میں کوئی مردنہیں ہوتاتھاان کی لڑکیوں کوبھی وریندرکے آدمی اپناشکاربنالیتے تھے۔جب تک خاندان اصلیت سمجھ پاتے تھے لڑکیوں کوبہت گہرائی تک کنفیوزکردیاجاتاتھا۔
وریندرنے دہلی سمیت پنجاب، ہریانہ، راجستھان، اترپردیش سمیت کئی ریاستوں میں آشرم ہیں۔ان آشرموں میں مردکم اورخواتین زیادہ رہتی ہیں۔ان میں زیادہ ترکی عمر25سے کم ہے۔روہنی کے وجے وہارمیں واقع آشرم میں بھی نابالغ لڑکیاں ہی زیادہ رہتی تھیں۔ان میں 41لڑکیوں کودہلی ہائی کورٹ کی ٹیم نے آشرم سے آزادکرایاتھا۔ایسی لڑکیاں وریندردیوکے پھیلائے گئے لوگوں کے جھانسے میں آکرہی یہاں پہنچی تھیں۔
باباکاآشرم ایک قلعے کی طرح تھا۔اس میں پرندہ بھی پرنہیں مارسکتاتھا۔سیکوریٹی کے لحاظ سے بابانے آشرم میں انڈرگراؤنڈ راستہ بنارکھاتھا۔آشرم کے اندرآمدورفت کیلئے بابااس راستے کااستعمال کرتاتھا۔ہیڈآشرم کوکئی حصوں میں تقسیم کیاگیاتھا۔مین آشرم میں لڑکیاں رہتی تھی اوردیگرمیں مردرہتے تھے۔آشرم سے کوئی لڑکی باہرنہیں جاسکتی تھی۔اس کے لئے بابانے باقاعدہ آشرم کے اندرسارے انتظام کررکھاتھا۔آشرم کے اندرکپڑاسلنے کیلئے ٹیلراوردھوبی کا انتظام تھا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *