اب انتظار ہے آسام شہریت کے معاملے میں این آر سی ڈرافٹ کا

گزشتہ 5دسمبر کو سپریم کورٹ کے ذریعہ آسام میں شہریت کے معاملے میں گوہاٹی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو رد کردینے سے 29لاکھ شادی شدہ خواتین نے اطمیان کا سانس لیاہے۔ دراصل 48لاکھ شادی شدہ خواتین نے آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز ( این آر سی ) میں اپنے اسماء شامل کرنے کے لئے پنچایت ڈاکیومنٹس کو رہائشی ثبوت کے طور پر پیش کیا تھا جس میں سے 19لاکھ خواتین کو بنیادی باشندے کے طور پر تسلیم کرلیا گیا تھا۔ اس سے ان کی این آر سی میں شمولیت کی راہ ہموار ہو گئی تھی۔ جب پھر گجرات ہائی کورٹ نے باقی 29 لاکھ خواتین کے تعلق سے یہ فیصلہ سنا دیا کہ پنچایت ڈاکیومنٹس کی نوعیت پرائیویٹ ڈاکیومنٹس کی ہے ، اس لئے انہیں این آر سی میں نام شامل کرنے کے لئے مستقل رہائش کے ثبوت کے طور پر قبول نہیں کیاجاسکتاہے، تب ان 29لاکھ شادی شدہ خواتین کی شہریت کا مسئلہ کھٹائی میں پڑ گیا اور ان کی شہریت ہی خطرے میں پڑ گئی۔ مگر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کے بعد ان خواتین کی شہریت پر لٹکتی تلوار ہٹی۔

 

 

 

 

 

عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ آیا کہ رہائش کے تعلق سے پنچایت کے ڈاکیومنٹس درست ہیں اور انہیں این آر سی میں ثبوت کے طور پر قبول کیاجاسکتا ہے ۔البتہ سپریم کورٹ نے یہ شرط ضرور لگا دی کہ پنچایت ڈاکیومنٹس کی باضابطہ جانچ پڑتال کی جائے۔ عدالت عظمی میں جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس آر ایف نریمن کی دو رکنی بینچ نے کہا کہ ’’جی پی (گرام پنچایت )کا سکریٹری صرف اس بات کو بتاتا ہے کہ ایک شادی شدہ خاتون کی رہائش ایک گائوں سے دوسرے گائوں تبدیل ہوئی ہے۔ لہٰذا اس کے ذریعے ایشو کیا گیاسرٹیفکیٹ کسی بھی طرح سرٹیفکیٹ کے ہولڈر (یاحامل )کی شہریت کے دعویٰ کو ثابت نہیں کرتا ہے۔لہٰذا یہ سرٹیفکیٹ اس کے ہولڈر کو اس لائق بنا دیتا ہے کہ وہ ہولڈر اور اس کے آبائو اجداد کے درمیان ربط یاتعلق کو جوڑ سکے۔ اس لئے جی پی کے سکریٹری کے ذریعے ایشو کیا گیا سرٹیفکیٹ کسی بھی طرح شہریت کا ثبوت نہیں ہے۔ یہ ثبوت تبھی بن پائے گا جب شہریت کے دعویدار اور لیگیسی والے شخص کے درمیان لنک ثابت ہوجائے گا‘‘۔ عدالت عظمیٰ کے مطابق، پنچایت سرٹیفکیٹ کو دو مرحلوں میں جانچا جائے گا۔ ایک مرحلہ میں سرٹیفکیٹ کی حقانیت کا معاملہ ہوگا تو دوسرے مرحلہ میں اس میں موجود مواد کی حقانیت زیر بحث ہوگی۔
عیاں رہے کہ آسام ریاست کے این آر سی کے کوآرڈینیٹر پرتیک ہجیلا نے قبل عدالت سے کہا تھا کہ تقریبا 48 لاکھ خواتین کی شہریت کا جو معاملہ ہے ،وہ دراصل کل 3کروڑ 29 لاکھ افراد کا حصہ ہے جنہوں نے این آر سی کے لئے دعویداری کر رکھی ہے۔ س طرح اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کے ذریعے 29 لاکھ شادی شدہ خواتین کی شہریت کے حق میں شرطیہ فیصلہ آجانے کے بعد ان خواتین کا مسئلہ تو حل ہونے کے قریب آگیا ہے۔نیز 19 لاکھ خواتین کی شہریت کا مسئلہ پہلے ہی حل ہو چکا ہے مگر اب بھی دو کروڑ 81 لاکھ افراد کی شہریت کا مسئلہ حل ہونا باقی ہے۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ یہ دو کروڑ 81 لاکھ افراد میں سے کتنے نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز میں شامل ہو پائیں گے ؟اس سوال کو لے کر آسام کی اس بڑی آبادی میں غیر یقینی صورت حال پائی جارہی ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان دو کروڑ 81لاکھ افراد میں ناخواندہ اور کم پڑھے لکھے افراد کی تعداد زیادہ ہے۔لہٰذا بعض این جی اوز ان افراد کی مدد کرنے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری مولانا محمد احمد نے ’’چوتھی دنیا ‘‘سے اظہار خیال کرتے ہوئے گوہاٹی سے فون پر بتایا کہ ریاست میں این آر سی میں شمولیت کو لے کر سخت بے چینی ہے ۔لہٰذا جماعت ان بے سہارا لوگوں کی مدد کو آپہنچی ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پنچایت سرٹیفکیٹ کے حصول میں ان کے ساتھ تعاون کررہی ہے۔

 

 

 

 

 

واضح رہے کہ یکم جنوری 2018 کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق این آر سی کا ڈرافٹ شائع ہوکر منظر عام پر آجائے گا۔ اس سے کسی بھی شخص کی شہریت ثابت ہوسکے گی۔ بہر حال سپریم کورٹ کے پانچ دسمبر کے فیصلے سے بے سہارا اور پریشان آسامیوں کو امید پیدا ہوئی ہے کہ پنچایت سرٹیفکیٹ کے سہارے وہ اپنی شہریت کو ثابت کرنے کی حالت میں آپائیں گے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ یقینا پورے معاملہ کی بنیاد بن گیاہے۔ سپریم کورٹ میں قانونی لڑائی لڑنے کا کریڈٹ خاص طور سے جمعیت علماء ہند کے دونوں دھڑوں کو جاتا ہے۔ جنہوں نے زبردست جدو جہد کرکے بے سہارا آسامیوں میں امید کی کرن جگائی ہے۔ اس طرح یہ اب عام شہریوں کی مانند اپنی زندگیاں گزار سکیں گے۔ مگر ان 48 لاکھ خواتین کامسئلہ مشروط طور پر حل ہونے کے بعد بھی دیگر 2کروڑ 81 لاکھ افراد کی شہریت پر تلوار ہنوز لٹک رہی ہے۔ جمعیت علماء ہند کے دونوں دھڑوں اور جماعت اسلامی ہند و دیگر کو باقی افراد کے لئے لمبی قانونی جنگ لڑنی پڑے گی۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *