اے ایم یو گرلس اسکول میں نعت خوانی مقابلہ

winnder-of-seerat-competition
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے گرلس اسکول میں ماہ ربیع الاوّل کی مناسبت سے سیرت کمیٹی کی جانب سے بین اسکول نعت خوانی مقابلہ منعقد کیا گیا۔ یونیورسٹی سے ملحق اسکولوں کے طلبہ طالبات اور علی گڑھ شہر کے دیگر پرائیویٹ اسکولوں کے بچوں نے مقابلہ میں حصہ لیا اور اپنے اپنے انداز میں بارگاہِ رسالت میں گلہائے عقیدت پیش کئے۔ اس پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر ممبر انچارج سی اے ڈبلو محترمہ فرحت جبیں بیگم نے شرکت کی۔ مہمان ذی وقار ویمنس کالج کی ڈاکٹر ناظورہ خاں اور انجینئر ملک فضل الحق صاحب تھے۔ جج کے فرائض ویمنس کالج میں شعبۂ دینیات کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شائستہ پروین اور گرلس اسکول کی ریٹائرڈ معلمہ محترمہ نکہت نوید نے انجام دئے۔ مقابلہ کا آغاز رفعیٰ فاطمہ کی قرأت سے ہوا۔ اسکول کی معلمات محترمہ زیبا نواز اور محترمہ ناہیدہ جبیں نے مہمانوں کو گلدستہ پیش کیا۔ کلچرل انچارج محترمہ عرشی ظفر نے مہمانوں کے یادگاری نشانات پیش کئے۔
پرنسپل گرلس اسکول محترمہ آمنہ ملک نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا اور مہمانوں و جج صاحبات کا تعارف کرایا۔ انھوں نے کہاکہ اس طرح کے پروگرام اور مقابلے طلبہ طالبات کی صلاحیتوں کو نکھارنے، ان کے خوف و جھجھک کو ختم کرنے کا ذریعہ ہیں، سیرت کے پروگرام کا مقصد ہی یہ ہے کہ ایک صالح معاشرہ کا قیام عمل میں آئے، ہر دل عشق رسول سے سرشار ہو، محبت رسول آخرت کی کامیابی کے لئے بھی ضروری ہے۔
مقابلہ میں سبھی شرکاء نے اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اے ایم یو گرلس اسکول کی درجہ 10جی کی طالبہ طوبیٰ فاطمہ کو اوّل انعام، ایس ٹی ایس کے درجہ بارہ آرٹس کے وجیہ الرحمان یوسف زئی اور سینئر سکنڈری اسکول گرلس کے درجہ بارہ جی کی طالبہ ضحیٰ اکبر کو دوئم انعام اور احمدی اسکول کے درجہ دس اے کی شیبا بانو اور ایس ٹی ایس کے درجہ دس اے کے محمد یاسر کو سوئم انعام سے نوازا گیا۔ ان کے علاوہ اقرا پبلک اسکول کی درجہ نہم اے کی طالبہ صائمہ شاکر اور اے ایم یو سٹی اسکول بوائز کے درجہ بارہ کے طالب علم محمد حمّاد کو خصوصی انعام و سند سے نوازا گیا۔ گرلس اسکول کی معلمہ محترمہ صفیہ سلطانہ نے انعامات کا اعلان کیا۔ کلچرل انچارج محترمہ عرشی ظفر نے کلمات تشکر ادا کئے۔ پروگرام کی نظامت دسویں کلاس کی طالبہ تحسین صالحہ اور عفیفہ اقبال نے کی۔ پروگرام کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔ اس موقع پر اسکول کے اساتذہ اور غیرتدریسی عملہ کے ملازمین موجود تھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *