بدلتے بہار میں مسلمان عدم توجہی کا شکار 

بہارمیں مسلم اقلیت پوری طرح نظر انداز ہے ۔ کہنے کو تواس ریاست کی کمان جنتا دل یو کے سربراہ نتیش کمار کے ہاتھوں میں ہے مگر حالات کسی بی جے پی ریاست سے زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ ایک وقت تھا جب بہار کی حکومت 10؍نکاتی اقلیتی فلاحی پروگرام لے کر چلتی تھی مگر اب کوئی اقلیتی پروگرام ہی نہیں ہے۔ حکومت جن 7عزائم کو لے کر چل رہی ہے ،ان میں سے بھی کوئی ایک عزم اقلیتوں سے متعلق نہیں ہے ۔ حکومت کا جو بھی پروگرام ہے وہ کامن ہے اور کامن پروگراموں کا فائدہ مسلم اقلیت تک کتنا پہونچتا ہے ،یہ جگ ظاہر ہے ۔ چنانچہ بہار میں بھی مسلمانوں کا کوئی کام نہیں ہو رہا ہے ۔ نتیش حکومت کی تمام تر توجہ شراب بندی، جہیز بندی ،کم عمری شادی انسداد ،بجلی ،سڑک، پانی، گلی ،نالی اور بیت الخلا کی تعمیر پر ہے ۔ اس لئے مسلم اقلیت اور ان سے متعلق ادارے حاشیے پر ہیں ۔ منریگا،عوامی نظامی تقسیم(پی ڈی ایس )اندرا آواس ،سماجی تحفظ پنسن ،وکاس متر ،پنچایت متر ،آنگن باڑی سیویکا اور سہایکا یہاں تک کے بیت الخلا کی تعمیر کے معاملے میں بھی مسلمانوں کے ساتھ امتیاز برتا جا رہا ہے ۔ سرکاری ملازمتوں میں تو مسلمان آنٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ مذکورہ بالا سرکاری منصوبوں کافائدہ بھی مسلم اقلیت کو نہیں کے برابر پہونچ رہا ہے۔آئینی درجہ کے باوجود اقلیتی کمیشن عدم توجہی سے دوچاربہارملک کی واحد ایسی ریاست ہے جہاں اقلیتی کمیشن کو آئنی درجہ حاصل ہے ۔ مگر کمیشن کی عرصہ سے تشکیل نو ہی نہیں ہوئی ہے ۔ آج کی تاریخ میں ریاستی اقلیتی کمیشن اپنے سربراہ سے محروم ہے۔ اس لئے اقلیتوں کو انصاف دلانے والا یا ان کے مفادات کا تحفظ کرنے والا ادارہ بے جان پڑا ہے ۔ وزیر اعلی نتیش کمار کے پاس اقلیتی اداروں پر توجہ دینے کیلئے وقت ہی نہیں ہے ۔ یا شاید وہ اب اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے ہیں ۔ آج کل انہوں نے اپنا ہم سفر بدل لیا ہے اور پھر سے بی جے پی کے ساتھ ہیں ۔

 

 

 

 

 

 

بی جے پی شروع سے ہی اقلیتی کمیشن کی ضرورت اور اہمیت پر سوالیہ نشان لگاتی رہی ہے ۔ وہ مسلمانوں کیلئے الگ سے کچھ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتی ہے اور نہ ہی انہیں اقلیتی کمیشن کا تحفظ فراہم کرنا ضروری سمجھتی ہے ۔ اس لئے ممکن ہے بی جے پی کے زیر اثر نتیش اب اقلیتی کمیشن کو سرگرم اور فعال بنانے کو ضروری نہیں سمجھ رہے ہوں ۔ پہلے بھی انہوں نے اقلیتی کمیشن کو بہت زیادہ توجہ نہیں دی ۔ اور زیادہ با صلاحیت چیئر مین کا تقرر نہیں کیا ۔ اس لئے جو لوگ بھی آئے وہ نتیش کی حاشیہ برداری میں لگے رہے ۔ اپنا اصلی کام بھول کر پارٹی کے ایک ادنی کارکن کی طرح پارٹی اور خاص طور سے وزیر اعلی نتیش کمار کی حمایت میں بیان بازی میں ہی مصروف رہے ۔ اس لئے ریاستی اقلیتی کمیشن کا وقار اور اعتبار بھی مجروح ہوا ۔ آرجے ڈی حکومت کے دوران جب پروفیسر جابر حسین اقلیتی کمیشن کے چیئر مین ہوا کرتے تھے ،اس وقت اقلیتی کمیشن کا جورعب اور دبدبہ تھا وہ اب نظر نہیں آتا ۔ افسران بھی اب کمیشن اور اس کے سربراہ کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور اب تو ایک سال سے کوئی سربراہ ہی نہیں ہے تو ویسے بھی اقلیتی کمیشن کا اب کوئی دبدبہ نہیں ہے۔اردو کا حال برا بہار میں کہنے کو تو اردو سرکاری زبان ہے مگر وہ سرکاری سطح پر پوری طرح نظر انداز ہے ۔ سرکاری پروگراموں بھی اردو نظر نہیں آتی ہے ۔اردو کے عملی نفاذ کیلئے ویسے تو اردو ڈائریکٹوریٹ قائم ہے ۔ مگر وہ بھی اپنے بنیادی خطوط پر نہ چل کر سیمینار ،سمپوزیم ،مشاعروں اور شعری نششتوں یا اردو کے مرحوم شخصیات کی یاد منانے میں مصروف رہتا ہے ۔ اردو ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ سیلف برانڈنگ اور مارکیٹنگ میں مصروف ہیں ۔ اردو ملازمین کی بحالی کا کام یکسر ٹھپ ہے ۔ڈائریکٹوریٹ کا کام ملازمین کی بحالی کرکے تمام سرکاری دفاتر میں اردو یونٹ قائم کرنا اور سرکاری کام اردو میں انجام دینا ہوتا ہے مگر اس کے سربراہ اپنے اصلی کام کو چھوڑ کر سیلف برانڈنگ اور مارکیٹنگ میں مصروف ہیں ایک خاص گروپ کے وہ آلہ کار بنکر رہ گئے ہیںاور اخبارات میں اپنی تصویر کے ساتھ خبریں شائع کراکر اپنی پیٹھ آپ تھپ تھپا رہے ہیں ۔اردو کے ادیبو اور شاعروں کو اعلی ادبی ایوارڈ سے نوازنے کا سلسلہ برسوں سے منقطع ہے ۔ راج بھاشا کا ہندی محکمئہ اپنا کام پوری سرگرمی اور ایمانداری سے انجام دیتا ہے اور ہر سال ہندی ادیبوں ،کویوں اور پترکاروں کو بڑی تعداد میں ایوارڈ اور اعزازات سے سرفراض کیا جاتا ہے ۔ ہندی کے مقابلے میں اردو ایوارڈ بہت کم ہیں اور اس کیلئے رقم بھی کم ہی مختص ہیں ۔اس کے باوجود برسو ں سے تکنیکی پیچ لگاکر اردو ایوار ڈ کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے۔ گورمنٹ اردو لائبریری بدتر حالت میںبہار کی واحد گورنمنٹ اردو لائبریری کا بھی حال برا ہے ۔ یہ لائبریری برسوں سے اپنی بے بسی اور بے کسی پر آنسوبہا رہی ہے ۔ فی الوقت اس کے سربراہ پروفیسر خالد مرزا ہیں ۔جن کا اردو سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اس لئے وہ لائبریری پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے پاتے ہیں ۔ مہینہ میں ایک آدھ بار ازراہ عنایت لائبریری کو اپنا دیداد کرانے چلے آتے ہیں ۔ اوربس۔لائبریری کی میٹنگ تک نہیں ہوتی ہے ۔ بیشتر ارکان اس کے سربراہ سے دل برداشتہ ہیں ۔ لائبریری کا حال یہ ہے کہ یہاں نئی کتابوں کی خریداری کا سلسلہ بالکل منقطع ہے ۔ اس لائبریری کی کتابوں کا ذخیرہ بڑھ نہیں رہا ہے اور قارئین کو نئی کتابیں پڑھنے کو نہیں مل رہی ہیں ۔

 

 

 

 

 

 

لائبریری محض اخبارات رسائل یا پرانی کتابوں اور ناولو ں کے مطالع تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ نئی کتابیں بالکل نہیں آرہی ہیں ۔ گذشتہ مالی سال 2016-17کے دوران ایک بھی کتاب کی خریداری نہیں ہوئی ۔اسی طرح رواں مالی سال 2017-18کے دوران بھی ابھی تک کوئی نئی کتاب نہیں خریدی جا سکی ہے ۔ نئی کتابوں کے نام پر عطیہ کے طور پر مفت حاصل ہونے والی ہی چند کتابیں ہے یعنی لائبریری پوری طرح عطیات پر انحصار کر رہی ہے ۔ حالانکہ اس کا بجٹ ہے اور بجٹ کے مطابق ہر سال نئی کتابوں کی خریداری ہونی چاہئے لیکن المیہ یہ ہے کہ گذشتہ مالی سال کے دوران لائبریری کے موجودہ چیئرمین نے 20لاکھ روپئے کی خطیر رقم حکومت کو لوٹا دی ۔مگر کتابوں کا ذخیرہ بڑھانے پر کوئی دھیان نہیں دیا ۔ کام کے نام پر موجودہ چیئر مین نے صرف اتنا ہی کیا ہے کہ اپنے چیمبر کی آرائش پر لاکھوں روپئے صرف کئے اور باقی رقم لوٹا دی ۔ گویہ ان کے کرنے کا بس یہی ایک کام تھا او ر جس چیمبر کو انہوں نے لاکھوں کے خرچ سے سجایا سنوارااسے زینت بخشنے کی غرض سے بھی وہ روزانہ نہیں آتے ۔ان کی ساری توجہ اپنے کیریر اور محکمہ تعلیم میں اعلی عہدوں کے حصول پر رہتی ہے۔ لائبریری ان کی ترجیحات میں کہیں جگہ نہیں پاتی ہے ۔ یہ سب اس لئے ہے کیونکہ نتیش حکومت میں صحیح کام کیلئے صحیح آدمی کا انتخاب ہی نہیں کیا جاتا ہے ۔ عام طور پر بیروکریٹس یا پارٹی سے تعلق رکھنے والے درباریوں کو سرکاری اداروں کی سربراہی سونپی جاتی ہے ۔ حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ ہر ادارہ میں اس شعبہ کے ماہر افراد کو اس کی تعلیمی اور انتظامی صلاحیت کو دھیان میں رکھ کر جگہ دینی چاہئے اور اس کی کارکردگی کی مانیٹرنگ بھی کرنی چاہئے مگر عام طور پر ایسا نہیں ہوتا ہے ۔ بیوروکریٹس صرف من مانی کرتے ہیں کیونکہ نتیش حکومت میں بیروکریٹس کو پوری آزادی حاصل ہے ۔ وہ کسی شعبہ کے سربراہ تو بن جاتے ہیں مگر اس شعبہ کی انہیں پوری معلومات نہیں ہوتی ہے ۔ اس لئے غلط اور چاپلوس قسم کے لوگ ان کے ارد گرد ایک دائرہ بنا لیتے ہیں اور انہیں غلط مشورے دے کر اپنا مطلب نکالتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اصلی کام پس پشت چلاجاتا ہے اور محکمہ کا سربراہ اپنی مارکیٹنگ اور سیلف برانڈنگ کو ہی اصلی کام سمجھ لیتا ہے اور اسے ہی اپنی کامیابی ماننے لگتا ہے ۔ جو پارٹی کے لوگ ہوتے ہیں ،انہیں ،پتہ ہوتا ہے کہ نتیش کی خوشنودی حاصل کئے بغیر کچھ نہیں حاصل ہوسکتا ۔ اس لئے وہ سارا دھیان نتیش کی قصیدہ خوانی اور دربارداری پر لگاتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کام نہیں ہو پاتا اور حکومت کی بدنامی ہوتی ہے ۔ نتیش حکومت کو ان حالات کو بدلنے کیلئے سنجیدہ اور ایماندار ہونا پڑے گا ۔ جب تک وہ اپنا رویہ تبدیل نہیں کریں گے ، حالات نہیں سدھرینگے ۔بہار چاہے لاکھ بدلتا رہے اور ترقی کے منازل طے کرتا رہے ،بہار کی مسلم اقلیت پسماندہ اور نظر انداز ہی رہے گی اور حکمراں جماعت مسلم اقلیت کی حمایت سے محروم ہوتی رہے گی ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *