کشمیر میں مودی سرکار کی دو سطحی حکمت عملی سختی و نرمی دونوں ایک ساتھ

 

غالباً مرکزی سرکار نے جموںو کشمیر کے لئے تعینات ’’مذاکرات کار‘‘ دنیشور شرما کی اعتباریت بڑھانے اور وادی میں اُن کا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لئے ہی اُن کی سفارش پر ہزاروں کشمیری نوجوانوں کے خلاف درج پولیس کیسوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کیونکہ دنیشور شرما کو کشمیر کے لئے ایک مذاکرات کار مقرر کرنے کے مرکزی سرکار کے فیصلے کو کشمیرکے سیاسی اور عوامی حلقوں میں کوئی زیادہ پذیرائی نہیں ملی تھی۔ شرما کی کشمیر میں تعیناتی کے اس فیصلے پر مبصرین کی غالب اکثریت کا یہی کہنا تھا کہ مودی سرکار انٹیلی جنس بیرو کے ایک سابق ڈائریکٹر کو بات چیت کرنے کا کام سونپ کر محض وقت گزاری کرنا چاہتی ہے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اگر مرکزی سرکار اس مسئلے کو ایک سیاسی مسئلہ سمجھتی ہوتی تو دنیشور شرما کے بجائے کسی ’’سیاسی شخصیت ‘‘ کو مذاکرات کار مقرر کرتی۔ علاحدگی پسند لیڈروں نے تو شرما کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کرنے سے صاف انکار کردیا ۔ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کے علاوہ ریاستی کے کئی دیگرمین سٹریم سیاسی لیڈروں نے بھی شرماکی تقرری کو وقت ضائع کرنے کے مترادف قرار دیا۔

 

 

 

 

 

 

مثبت پہلو
لیکن اگر اب دنیشور شرما کے کہنے پر مرکزی سرکارہزاروں کشمیری نوجوانوں کے خلاف پولیس کیسوں کو ختم کرتی ہے تو اس کے نتیجے میں لازمی طور پر آنے والے دنوں میں دنیشور شرما زیادہ اعتماد کے ساتھ جموں کشمیر میں سرگرم ہوسکتے ہیں۔عام لوگ ان سے اس نوعیت کے کئی دیگر اقدامات کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ حالانکہ کشمیری نوجوانوں کے خلاف درج پولیس کیسوں کو واپس لینے ابھی تک سرکاری سطح پر کوئی اعلان نہیں ہوا ہے، تاہم اس ضمن میںمیسر تفصیلات کے مطابق حال ہی میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی قیادت میں حال ہی میں کشمیر سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ وادی میں پتھرائو کے الزام میں نوجوانوں کے خلاف درج 4500کیسوں کو ختم کیا جائے گا۔اس میٹنگ میں وزیر دفاع نرملا ستھارمن ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوئل کے علاقے سیکورٹی ایجنسیوں اور وزاخلہ کے افسران بھی موجود تھے۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال جولائی میں معروف ملی ٹینٹ کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں شروع ہوئی تشدد کی لہر کے دوران پولیس نے اب تک تشدد پھیلانے کے الزام میں ساڑھے گیارہ ہزار کیس درج کرلے گئے ہیں۔ان کیسوں میں بہت سارے نوجوان یا تو فی الوقت جیلوں میں بند ہیں یا پھر عدالتوں میں اپنے کیسوں کی پیروی کررہے ہیں۔
دنیشور شرما نے ’’مذاکرات کار‘‘ کی حیثیت سے جموں کشمیر کا اپنا پہلا دورہ اس ماہ کے اوائل میں کیا۔ انہوں نے تین دن تک وادی میں اور دو دن تک جموں میں اپنے قیام کے دوران 80سے زائد وفود سے ملاقاتیں کیں۔ حیران کن طور پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان سے ملی ۔نئے مذاکرات کار نے اُن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ لوگوںکا ملنا یقینی بنانے کے لئے اُن سے ’’ملاقات کی عام دعوت‘‘ دی تھی۔یہی وجہ سے ہے سرینگر میں صرف تین دن کے اندر اندر مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان سے ملنے کے لئے نہرو گیسٹ ہائوس پہنچی ۔ جو لوگ اُن سے ملے انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ انہیں آسانی کے ساتھ مذاکرات کار سے ملنے کا موقعہ دیا گیا اور سیکورٹی چیکنگ وغیرہ کا بھی کوئی زیادہ جھنجھٹ نہیں تھا۔ اس کے علاوہ دنیشور شرما ان ہی تین دنوں میںعمر عبداللہ ، محمد یوسف تاریگامی ، حکیم یٰسین ، غلام حسن میر اور دوسرے کئی سیاسی لیڈروں سے ملنے کے لئے خود ان کے گھروں پر گئے ۔’’ چوتھی دُنیا‘‘ کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وادی میں بیشتر لوگوں نے دنیشور شرما کو عوام کو راحت پہنچانے سے متعلق مختلف تجاویز دی ہیں، جن میں جیلوں میں بند نوجوانوں کی رہائی اور ان کے خلاف درج پولیس کیسوں کو ختم کرنے کی تجویزیں بھی شامل تھیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ اسی فیڈ بیک کے نتیجے میں مرکزی سرکار نے کشمیری نوجوانوں کے خلاف درج ساڑھے چار ہزار کیسوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ ابھی تک اس کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے لیکن نئی دلی کے میڈیا رپورٹس میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ اگر حکومت کے اس اقدام کا وادی میںعوامی سطح پر مثبت ردعمل دیکھنے کو ملا تو مرکزی سرکار دیگر کیسوں کو بھی کالعدم کرنے پر غور کرسکتی ہے۔
نتائج کیاہوں گے؟
بیشتر مبصرین مرکزی سرکار کے اس مجوزہ اقدام کو وزیر اعظم نریندر مودی کے اُس بیان کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں، جو انہوں نے اس سال 15اگست کو لال قلعہ پر یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا تھا۔ مودی نے اپنی تقریرمیں کہا تھا، ’’ نہ گولی سے نہ گالی سے ، کشمیر کی سمسیا سلجھے گی کشمیر یوں کو گلے لگانے سے ۔‘‘ ظاہر ہے کہ 15اگست سے اب تک مرکزی سرکار نے وادی کشمیر میں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا یا ، جس سے یہاں کے عوام کو لگے کہ وزیر اعظم واقعی کشمیریوں کو گلے لگانے کی اپنی بات میں یقین بھی رکھتے ہیں۔ لیکن اگر اب مرکزی سرکارہزاروں نوجوانوں کو بیک جنبش قلم فوجداری پولیس کیسوں سے نجات دلائے گی تو یہ واقعی ایک بہت بڑا قدم مانا جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ سال جولائی کے بعد تشدد کی لہر میں جو سینکڑوں نوجوان بری طرح زخمی ہوئے ہیں یا جنہیں پولیس کے عتاب کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ خود اور انکے افراد خانہ طرح طرح کے مصائب سے دوچار ہیں۔ اس لئے یقینا مرکزی سرکار کے مجوزہ اقدام کا وادی میں عوامی سطح پر سراہا جائے گا۔
تجزیہ کار پرویز مجید نے اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’پتھرائو کے الزام میں نوجوانوں کے خلاف درج ہزاروں فوجداری مقدمات کو واپس لینے کا یہ مجوزہ اقدام واقعی قابل سراہنا قرار دیا جائے گا کیونکہ اس کے نتیجے میں نہ صرف متعلقہ نوجوانوں کو پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل ہوگا بلکہ انکے کنبوں کو بھی راحت ملے گی اور یقینا عوامی سطح پر اس اقدام کو سراہا جائے گا۔‘‘ پرویز کا ماننا ہے کہ یہ مجوزہ اقدام خود ریاستی اور مرکزی سرکار کے لئے سود مند ثابت ہوگا ۔ ان کا کہنا ہے ،’’ کسی بھی مہذب معاشرے میں جہاں ایک منتخب عوامی حکومت کی موجودگی کا دعویٰ کیا جارہا ہو، میں ہزاروں کی تعداد میں غیر سیاسی لوگوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہونا خود جمہوری اقدار کے شایاں شان نہیں۔ ویسے بھی ان کیسوں کو منطقی انجام تک پہنچانا انتظامی اور عدالتی سطح پر بھی ایک بہت مشکل بات ہے۔فرض کریں کہ پولیس ان کیسوں میں ملزمان کے خلاف درج چارج شیٹس کو ثابت بھی کرتی ہے تو کیا عدالت ہزاروں نوجوانوں کو سزا دے گی ۔ اور اگر ایسا ہوا تو اسکے یہاں کے حالات پر مزید منفی اثرات مرتب ہونگے ۔ظاہر ہے کہ حکومت حالات کو بد سے بدتر نہیں بنانا چاہئے گی۔ اس لئے یہ سارے کیس واپس لینا خود حکومت کے مفاد میں ہے۔ ‘‘

 

 

 

 

 

آثار و قرائن سے یہی لگ رہا ہے کہ ریاستی اور مرکزی سرکار ایک سال سے زائد عرصے تک عام کشمیریوں کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنے کے نتیجے میں عوامی سطح پر پائی جانے والی بے چینی کو ختم کرنے کو کوشش کررہی ہے۔ برہان وانی کے بعد پیدا شدہ صورتحال کی وجہ سے مہینوں تک عوام سے دور رہنے کے بعد وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے گزشتہ کئی ہفتوں سے مختلف اضلاع میں ’’عوامی درباروں ‘‘ کا اہتمام کرنا شروع کردیا ہے۔مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران کی موجودگی میں منعقد ہونے والے ان عوامی درباروں میں مختلف مکاتب فکر سے وابستہ لوگوں کو بلا کروزیر اعلیٰ ان کی شکایات اور مسائل سننے کے ساتھ ساتھ متعلقہ افسران کو انہیں حل کرنے کی ہدایات موقعے پر ہی دیتی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح سے وزیر اعلیٰ ایک سال سے تنقید کا شکار گورننس کو بہتر بنانے کا تاثر دے رہی ہیں اور لگے ہاتھوں اپنی پارٹی کی مسخ شدہ ساکھ کو بحال کرنے کی کوشش بھی کررہی ہیں۔ کیونکہ پی ڈی پی کے بارے میں وادی میں فی الوقت ایک عام تاثر ہے کہ اس جماعت نے2014کے انتخابات کے بعد بی جے پی کے ساتھ مشترکہ حکومت سازی کرکے در اصل عوامی منڈیٹ کا استحصال کیا ہے۔ کیونکہ الیکشن مہم کے دوران پی ڈی پی قیادت نے ووٹروں کو یہ کہہ کر لبھایا تھا کہ اگر ریاست میں بی جے پی کو اقتدار سے باہر رکھنا ہے تو اس کے لئے پی ڈی پی کو ہی ووٹ دینا نا گزیر ہے۔بعدازاں پی ڈی پی نے اپنے وعدوں اور آئیڈیالوجی کو اقتدار پر قربان کردیا۔بہر حال محبوبہ مفتی فی الوقت عوام کے ساتھ رابطے بڑھانے میں لگی ہوئی ہیں۔ پتھرائو کے الزام میں نوجوانوں کے خلاف کیس واپس لئے گئے تو پی ڈی پی یقینا اس کا بھی کریڈیٹ لینے کو کوشش کرے گی۔
جہاں ایک جانب مودی سرکار کشمیر میں بات چیت کا بغل بجاچکی ہے وہیں فوج اور فورسز نے اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ دنیشور شرما کے مذاکرات کار مقرر ہوجانے کے ایک دن بعد ہی فوجی سربراہ بپن رائوت نے واضح کردیا تھا کہ مذاکرات کے سلسلے کے باوجود ملی ٹنسی کے خلاف فوجی آپریشنز جاری رہیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ وادی میں فوج نے جنگجوئوں کے خلاف ’’آپریشن آل آئوٹ‘‘ شروع کر رکھا ہے، جس کے تحت یہاں سرگرم جنگجوئوں کو مارا جارہا ہے۔ بظاہر یہ فوجی آپریشن کامیاب ثابت ہورہا ہے کیونکہ آئے دن کسی نہ کسی علاقے میں جھڑپوں کے دوران مقامی اور غیر مقامی جنگجوئوں کو مارا جاتا ہے۔18نومبر کو شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع میں ایک ایسے ہی فوجی آپریشن میں لشکر طیبہ سے وابستہ 6غیر کشمیری جنگجوئوں کو مار گرائے جانے کے بعد پولیس اور فوجی حکام نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ جنگجوئوں کے خلاف جاری آپریشنزکامیابی کے ساتھ جاری ہیں۔ اس پریس کانفرنس میں وادی میں تعینات فوج کی پندرھویں کور کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل جے ایس ساندھو اور ریاستی پولیس کے سربراہ شیشپال وید نے اعداد و شمار دیتے ہوئے کہا کہ اس سال اب تک فورسز کے ہاتھوں 190جنگجو مارے جاچکے ہیں، جن میں 110غیر ملکی اور 80کشمیری جنگجو شامل تھے۔ مارے جانے والے 190جنگجوئوں میں وہ 66جنگجو بھی شامل بتائے گئے جو اس سال لائن آف کنٹرول پر در اندازی کرتے ہوئے مارے جاچکے ہیں۔جنرل ساندھو اور ڈاکٹر وید کا کہنا تھا کہ فورسز نے اس سال 60سے زائد کشمیری نوجوانوں کو تشدد کی راہ پر جانے سے روک دیا۔ یعنی یہ وہ کشمیری نوجوان تھے ، جو ملی ٹینٹ بننے کی تاک میں تھے اور انہیں ایسا نہ کرنے پر آمادہ کیاگیا۔ حال ہی میں جنوبی کشمیر میں ایک فٹبالر ماجد خان ، جو جنگجو بن چکا تھا، سمیت دو جنگجوئوں کے گھر واپس لوٹنے سے بھی فورسز اور پولیس کی ہمت افزائی ہوئی ہے۔ اس کے بعد ہی فورسز اور پولیس نے اعلان کیا کہ تشدد کا راستہ ترک کرنے والے کشمیری جنگجوئوں کو نئی زندگی بسر کرنے کے لئے معاونت کی جائے ۔
لیکن اس سب کے باوجود سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے یہ بات انتہائی پریشان کن ہے کہ ملی ٹینٹوں کو عوامی سطح پر سپورٹ جاری ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 18نومبر کو بانڈی میں 6جنگجوئوں کو مارے جانے کے ایک دن بعد یعنی 19نومبر کو وادی بھر میں ہڑتال کی گئی ۔یہ ہڑتال سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اورمحمد یٰسین ملک پر مشتمل ’’مشترکہ مزاحمتی قیادت‘‘ کے کہنے پر ہوئی ۔ جبکہ بانڈی پورہ ضلع میں جہاں یہ 6ملی ٹینٹ مارے گئے ، میں لوگوں نے از خود دن تک ہڑتال کی۔اسی طرح جنوبی کشمیر کے ترال قصبے میں 20نومبر کو ایک 17سالہ کشمیری جنگجو عادل رشید کے مارے جانے پر ترال میں لوگوں نے دو دن تک تعزیتی ہڑتال کی۔ عادل کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگ شامل ہوئے تھے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ جنگجوئوں کو حاصل یہ عوامی سپورٹ سیکورٹی ایجنسیوں اور حکومت کے لئے ایک ایسا مسئلہ ہے ، جس کا حل طاقت کے استعمال میں مضمر نہیں ہوسکتا ہے۔ سینئر صحافی اور روز نامہ ’’چٹان ‘‘ کے ایڈیٹر طاہر محی الدین نے اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا،’’ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ کشمیر میں ملی ٹنسی کو عوامی سپورٹ حاصل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 27سال میں فوج اور فورسز اس ملی ٹنسی کو مکمل طور پر ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ‘‘ طاہر محی الدین کا ماننا ہے کہ کشمیر کے حالات کو بالکل ٹھیک کرنے اور ملی ٹنسی سے نجات حاصل کرنے کے لئے نئی دلی کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل نکالنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے اور ایک سیاسی عمل شروع کرے۔انہوں نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی اور نوجوانوں کے خلاف کیسوں کو واپس لینے جیسے اقدامات ’’ خیر سگالی اقدامات ‘‘ کے بطور قابل سراہنا قرار دیے جاسکتے ہیں لیکن یہ سمجھنا کہ صرف ’’خیر سگالی ‘‘ کے ان اقدامات اور فوجی آپریشنوں کے بل پر ہی سب کچھ ٹھیک ہوگا ایک بہت بڑی خود فریبی ہے کیونکہ نہ’’ اعتماد بحالی کے اقدامات ‘‘کشمیر کے لئے نئے ہیں اور نہ فوجی آپریشنز۔ یہ سب چیزیں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں۔گزشتہ 27سال کے دوران فوج اور فورسز ملی ٹنٹوں کے خلاف اپنی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب تک ہزاروں ملی ٹینٹ مارے جاچکے ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہاں نہ ملی ٹنسی ختم ہوسکی اور نہ ملی ٹنٹوں کی افرادی قوت ختم ہوئی ۔طاہر محی الدین کا ماننا ہے کہ کشمیر میں دائمی امن کے قیام کے لئے ایک ’’پولٹیکل پراسس‘‘ شروع کرنا ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
کشمیر کی گزشتہ 27سالہ پر تشدد دور تاریخ میں قدم قدم پر یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ نئی دلی کی جانب سے کشمیر کے سیاسی مسئلے کو نظر انداز کرکے صرف امن قائم کرنے کی خواہش اور کوششیں ہمیشہ ناکام ثابت ہوگئی ہیں۔کشمیری عوام کی مزاحمت اور علاحدگی پسند لیڈر شب ہمیشہ نئی دلی کے منصوبوں کے آڑے آئی ہیں۔حالانکہ نئے مذاکرات کار نے حریت لیڈروں کے ساتھ بھی بات چیت کرنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ لیکن فی الحال مستقل قریب میں اس کے کوئی امکانات نظر نہیں آرہے ہیں۔ اسکی کئی وجوہات ہیں۔ اولاً تو قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے علاحدگی پسند لیڈر شپ کے گرد دائرہ تنگ کیا ہوا ہے۔ لگ بھگ پانچ ماہ سے این آئی اے کشمیر میں دہشت گردی کی فنڈنگ کے کیس کی تحقیق کررہی ہے۔ فی الوقت حریت کے ساتھ لیڈروں سمیت درجن بھر افراد تہاڑ جیل میں بند ہیں۔حقیقت ہے کہ جب سے وادی میں این آئی اے متحرک ہوگئی ہے، حریت لیڈرشپ مسلسل دبائو میں نظر آرہے ہیں۔ وادی میں فی الوقت ایک عام تاثر یہ ہے کہ نئی دلی نے حریت لیڈروں کو این آئی اے چکر میں پھنسا کر امن قائم کرنے کے لئے دوسطحوں پر کام شروع کردیا ہے۔ایک جانب ملی ٹنسی کے

خلاف طاقتور فوجی مہم شروع کردی گئی اور دوسری جانب سماجی اور سیاسی سطح پر لوگوں کو قریب لانے کے لئے ایک مذاکرات کار تعینات کردیا گیاہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ مودی سرکار اب تک بارہا اس بات کا عندیہ دے چکی ہے کہ وہ جموں کشمیر کو خصوصی حیثیت فراہم کرنے والی آئین کی متعلقہ شقیں کالعدم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔تاکہ اس ریاست کا ملک میں مکمل انضمام ہو۔ مودی سرکار کی اس سٹریٹجی کو لیکرسیاسی حلقوں میں فی الوقت کئی سوالات موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ مثلاً کیا کشمیر میں فوج ملی ٹنٹوں کے خلاف شروع کی گئی مہم یعنی ’’آپریشن آل آئوٹ ‘‘ کے نتیجے میں واقعی اس خطے میں ملی ٹنسی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گی؟ یعنی کیا فوج اور فورسز کی دوسری ایجنسیاںاب کی بار وہ سب کردکھائیں گی جو پچھلے 27سال میں نہیں ہوا؟ کیا پاکستان میں ملی ٹنسی کی حمائت کرنے والے حلقے اس سب کو خاموشی سے دیکھتے رہیں گے اور اسے قبول بھی کریں گے؟ کیا حریت لیڈروں کوکشمیر میں مکمل طور پر IRRELEVANTبنایا جاسکتا ہے؟ کیا عام کشمیریوں کو محض ’’ اعتماد سازی کے اقدامات ‘‘ کے بل پر زیر اور خاموش کیا جاسکتا ہے؟ کیا یہ سب کرکے کشمیر میں مکمل امن بحال کرتے ہوئے دنیا کو مطمئن کیا جاسکتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہوگیا؟ یہ وہ سوالات ہیں ، جن کا جواب ظاہر ہے کہ آنے والا وقت ہی دے سکتا ہے۔ تاہم فی الوقت یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر یہ ساری چیزیں اتنی آسانی سے ہوگئیں اور کشمیر میں ہر سو امن و امان بحال ہوجائے گا تو اس تاریخی کامیابی کا سہرا یقینا مودی سرکار کے سر جائے گا۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہوا اور ماضی طرح ایک بار پھر حالات وہیں پر پہنچیں گے جہاں تھے تو نئی دلی کے پاس کشمیر کا سیاسی مسئلہ حل کرنے کے لئے ایک موثر اور سنجیدہ ’’پولیٹیکل پراسس‘‘ شروع کرنے کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *