یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے پر امریکہ سے ناراض پوری دنیا

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک جذباتی اور جلد بازی میں فیصلہ لینے والے صدر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ان کے بڑبولے پن اور غیر ذمہ دارانہ بیانات کو بھی اخباروں میں خوب سرخیاں ملتی ہیں۔ان کی اس شبیہ کی بہت سی مثالیں ماضی میں دیکھی جاچکی ہیں اور اب یروشلم کو لے کر انہوں نے جو فیصلہ کیا ہے ،اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑے ہیں اور ہر طرف سے اس فیصلے کی تنقید ہورہی ہے۔دراصل انہوں نے گزشتہ 6 دسمبر کو یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔اعلان مکمل ہونے کے بعد اپنے خطاب میں جو کچھ بھی انہوں نے کہا ،اسے بھی دنیا تسلیم کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام امریکہ کے بہترین مفاد اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیامِ امن کے لیے ضروری تھا۔یہ ایک اتحادی کو تسلیم کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ میں امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کے احکامات دیتا ہوں۔
ٹرمپ کی اسرائیل نوازی
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ بہت عرصہ پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ان کے بقول ’’امریکہ دو ریاستی حل کا حامی ہے۔ اگر دونوں فریقین اس بات پر راضی ہو جائیں۔ ہماری سب سے بڑی امید امن ہی ہے۔ ہم خطے میں امن اور سلامتی چاہتے ہیں۔ ہم پُر اعتماد ہیں کہ ہم اختلافات کے خاتمے کے بعد امن قائم کریں گے‘‘۔اس اعلان کے بعد امریکہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔
اس اعلان پر اسرائیلی حکومت بے پناہ خوش ہے ۔ اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ دنیا کے ہر کونے میں ہمارے لوگ یروشلم واپس آنے کے لیے بے تاب ہیں اور آج صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان نے اسے ہمارے لیے ایک تاریخی دن بنا دیا ہے۔یہ ایک تاریخی دن ہے۔ یروشلم ہماری امیدوں، خوابوں اور دعاؤں کا مرکز رہا ہے۔ یروشلم یہودیوں کا تین ہزار سال سے دارالحکومت رہا ہے۔ یہاں پر ہماری عبادگاہیں رہی ہیں، ہمارے بادشاہوں نے حکمرانی کی ہے اور ہمارے پیغمبروں نے تبلیغ کی ہے۔

 

 

 

 

 

 

امریکہ پر بین الاقوامی تنقیدیں
دوسری جانب امریکی صدر کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے پر بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔نئے امریکی صدر سے بڑھتی ہوئی قربت کے باوجود سعودی عرب کی جانب سے جاری کیے گئے شاہی بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ بلاجواز اور غیر ذمہ دارانہ ہے اور یہ فلسطینی عوام کے حقوق کے منافی ہے۔دوسری جانب ایران نے بھی صدر ٹرمپ کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اسرائیل کے خلاف ایک اور انتفادہ شروع ہو سکتی ہے۔ یہ اشتعال انگیز اور غیر دانشمندانہ فیصلہ سخت اور پرتشدد ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔
حال ہی میں سعودی عرب میں اپنے استعفیٰ کا اعلان کرنے کے بعد اسے واپس لینے والے لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری نے کہا کہ ہمارا ملک بھرپور طریقے سے فلسطینیوں کے ساتھ اپنی حمایت کا اعلان کرتا ہے اور ان کا علیحدہ ملک جس کا دارالحکومت یروشلم ہو، قائم کرنے کے مطالبے کا ساتھ دیتا ہے۔انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ امریکی فیصلے سے خطے میں خطرات کا اضافہ ہو گا۔
ادھر یورپ کے دوسرے ممالک کی طرح جرمنی سے بھی امریکی فیصلے کی مذمت سامنے آئی ہے۔ جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے اپنے ترجمان کے ذریعے پیغام جاری کیا جس میں انھوں نے واضح طور پر کہا کہ صدر ٹرمپ کے فیصلے کی قطعی حمایت نہیں کرتیں۔انھوں نے مزید کہا کہ یروشلم کے رتبے کے بارے میں فیصلہ صرف دو ریاستوں پر مبنی حل کے تحت ہو سکتا ہے۔’فلسطین کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر کے اس فیصلے پر کہا کہ صدر ٹرمپ کے شرمناک اور ناقابل قبول اقدامات نے امن کی تمام کوششوں کو کمزور کر دیا ہے۔‘فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے دو ریاستی حل کی امید کو تباہ کر دیا گیا ہے۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گرتیرس نے یروشلیم پر اسرائیلی حاکمیت کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے اقدام کو سختی سے مسترد کر دیا۔
انتونیو گتریس نے اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یروشلم کے تنازع کو ہر صورت اسرائیل اور فلسطینیوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے میں روز اوّل سے مسلسل کسی بھی ایسے یکطرفہ حل کے خلاف بات کرتا رہا ہوں جس سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے امکانات کو زِک پہنچ سکتی ہے۔یورپی یونین کی فارن پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مگیرینی نے صدر ٹرمپ کے اقدام پر’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔فیڈریشنیکا مگیرینی نے کہا ’یروشلم کے بارے فریقین کی خواہشات کو پورا کیا جانا نہایت ضروری ہے اور مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہر صورت مذاکرات کا راستہ ڈھونڈنا چاہیے۔‘برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔ٹریزا مے کے ایک ترجمان کا کہنا تھا ’ہم امریکہ کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں کہ وہ اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرے اور یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرے۔‘اردن نے ٹرمپ کے فیصلے کو بین الاقوامی اصول کے منافی قرار دیا ہے۔اردن کی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے امریکی صدر کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور وہاں اپنا سفارت خانہ منتقل کرنا بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔‘ترکی نے ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ‘ہم امریکی انتظامیہ کے اس غیر ذمہ دار بیان کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ بین الااقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے خلاف ہے۔
ادھرترکی کے دارالحکومت استنبول میں واقع امریکہ قونصل خانے کے باہر لوگوں نے مظاہرے کیے جبکہ تیونس میں تمام بڑی لیبر یونینز نے مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔مصر نے امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کو مسترد کر دیا۔فرانسیسی صدر نے ٹرمپ کے اعلان کے رد عمل پر کہا کہ وہ امریکہ کے یکطرفہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے جس میں اس نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔یہ فیصلہ افسوسناک ہے جس کو فرانس قبول نہیں کرتا اور یہ فیصلہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف جاتا ہے۔

 

 

 

 

 

یروشلم ایمبیسی ایکٹ 1995 کیا ہے؟
یروشلم ایمبیسی ایکٹ8 نومبر 1995 کو منظور کیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت امریکی سفارتخانے کو اسرائیل کے دارالحکومت یروشلم منتقل ضرور ہونا چاہیے۔تاہم اس قانون میں ایک شق میں امریکی صدر کو حق دیا گیا کہ وہ سیکورٹی وجوہات پر اس فیصلے کو چھ ماہ کے لیے موخر کر سکتے ہیں۔ تاہم اس فیصلے پر ہر چھ ماہ بعد نظرثانی کرنا ضروری ہے۔اس قانون میں کہا گیا ہے کہ 1950 سے یروشلم اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت ہے اور اس شہر میں اسرائیلی صدر، پارلیمان اور سپریم کورٹ کے علاوہ کئی وزارتیں بھی قائم ہیں۔1948-1967 تک یروشلم منقسم شہر تھا اور تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی شہریوں اور تمام ممالک کے یہودی شہریوں کو اس علاقے میں جانے کی اجازت نہیں تھی جو اردن کے کنٹرول میں تھا۔1967 میں چھ روزہ جنگ کے بعد متحد یروشلم میں اسرائیل کے زیر انتظام تمام مذاہب کے لوگوں کے حقوق کی پاسداری کی جاتی ہے۔
1995 سے اب تک امریکی صدر ہر چھ ماہ بعد اس فیصلے کو موخر کرتے چلے آئے ہیں۔ اس فیصلے کو پہلی بار سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے موخر کیا تھا اور اسی شق کو استعمال کرتے ہوئے بل کلنٹن سے لے کر چھ ماہ قبل تک صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس فیصلے کو موخر کرتے چلے آئے ہیں۔سابق صدر بل کلنٹن نے فروری 1992 میں کہا تھا کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے حق میں ہیں۔بل کلنٹن کے صدر بننے کے بعد جب یہودی لابی نے دباؤ ڈالا تو وہائٹ ہاؤس کو اندازہ ہوا کہ یہ کہہ دینا آسان ہے لیکن ایسا کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔
جاری سال یکم جون کو صدر ٹرمپ نے اپنے پیش روؤں کی طرح یروشلم ایمبیسی ایکٹ 1995 پر دستخط کر کے چھ ماہ کے لیے امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کو موخر کر دیا تھا۔صدر ٹرمپ نے یہ توجیح دیتے ہوئے یروشلم ایمبیسی ایکٹ 1995 پر دستخط کیے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جاری امن معاہدے کی کوششوں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کے جانب سے اس فیصلے کو موخر کرنے پر کہا کہ اس فیصلے کو موخر کرنے سے امن حاصل کرنے میں مدد نہیں ملے گی بلکہ امن میں مشکلات پیش آئیں گی۔

 

 

 

 

 

امریکہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔
فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ان کا بھی دارالحکومت ہے۔
فلسطینیوں نے اس عمل کو مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ’موت کا بوسہ‘ قرار دیا ہے۔
اس اعلان کے بعد امریکی سفارت خانہ بھی تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دیا جائے گا۔
یہ فیصلہ برسوں پر محیط امریکی پالیسی اور بین الاقوامی اتفاقِ رائے کے منافی ہے۔
عرب مممالک کی جانب سے بھی فیصلے کے نتیجے میں مسلم دنیا میں تشدد بھڑک اٹھنے کا انتباہ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *