یو پی بلدیاتی انتخابات سے سبق شفافیت کے لئے بیلیٹ پیپر ہی متبادل

پچھلے دنوں یو پی میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے۔ان انتخابات کے نتائج بھی آ گئے۔ میڈیا سے لے کر ، سوشل میڈیا پر ، سب جگہ یہی خبر چلنے لگی کہ بی جے پی کو بھاری اکثریت ملی ہے ،لیکن انتخابی نتائج آنے کے کچھ ہی گھنٹے بعد معلوم ہوا کہ یہ خبر نہ صرف غلط ہے بلکہ جان بوجھ کر گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔
میونسپل کارپوریشن کا میئر کا جو الیکشن ہے، وہ اترپردیش کے 16 بڑے شہروں میں ہوتا ہے ۔ان میں سے 14 میئر بی جے پی کے چنے گئے، یہ خبر صحیح ہے۔لیکن بلدیاتی انتخابات جیسے ، نگر پنچایت، نگر پالیکا کے ہزاروں ممبروں کے انتخابات بھی ہوئے تھے، ان انتخابات کے جو نتائج آئے، وہ الگ طرح کے نتائج آئے۔ ان انتخابات میں ای وی ایم کا بھی استعمال ہوا تھا نگر نگم کے لئے اور بیلیٹ پیپر کے ذریعہ نگر پنچایت، نگر پالیکا کے انتخابات ہوئے تھے۔ انتخابی نتائج سے پتہ چلا کہ مہا نگر پالیکا کے الیکشن جو ای وی ایم کے ذریعہ کروائے گئے تھے، اس میں بی جے پی کو 45 سے 46 فیصد کامیابی ملی اور باقی کے انتخابات ،جہاں بیلیٹ پیپر سے ہوئے تھے، وہاں اسے 22 اور 14فیصد کامیابی ملی ۔
مشکوک انتخابی نتائج
یہ انتخابی نتائج اپنے آپ میں ایک شبہ پیدا کرتے ہیں ۔ اس طرح کا فرق نتائج میں تو نہیں ہوسکتا۔ ایک دلیل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بڑے شہروں میں بی جے پی مقبول ہے اور چھوٹی جگہوں پر مقبول نہیں ہے۔یہ دلیل ان کے حق میں جاسکتی ہے۔ اگر یہ سچ بھی ہے تو بھی بی جے پی کے لئے تشویش کی بات ہے کہ وہ صرف یو پی کے بڑے شہروں میں کامیاب ہے ،مقبول ہے اور باقی جگہوں پر نہیں ہے۔ پھر ایسے میں یوگی آدتیہ ناتھ انتخابی نتائج آنے کے اگلے دن ہی یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم اگلے لوک سبھا انتخابات میں 80 سیٹیں جیتیں گے۔ لوک سبھا کے انتخابات کیا صرف بڑے شہروں میں ہی ہوتے ہیں؟اس کے انتخابات تو گائوں گائوں تک ہوتے ہیں۔ پھر کیا ہوگا؟
بی جے پی کو اور یوگی آدتیہ ناتھ کو اس طرح کی مضحکہ خیز بات کرنا بند کرنا چاہئے ۔انہیں سنجیدہ بات کرنی چاہئے، تجزیہ کرنا چاہئے اور کم سے کم عوام کے سامنے صحیح حقائق رکھنا چاہئے ۔اب مشہور ہے کہ بی جے پی کی اترپردیش کے بلدیاتی انتخابات میں بری طرح شکست ہوئی ہے۔ ایک اور بات کہ نمبر 2پر کون آیا ہے؟ظاہر ہے بہو جن سماج پارٹی۔ سماج وادی پارٹی نمبر 2پر نہیں آئی، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے لیکن یہ بھی کہنا کہ پچھلے اسمبلی انتخابات میں بہو جن سماج پارٹی یا سماج وادی پارٹی نے خراب مظاہرہ کیا تھا اور اس وجہ سے لوگوں نے کہنا شروع کردیا تھا کہ یہ پارٹی ختم ہو گئی، یہ بات بھی غلط ثابت ہوئی ہے۔ یا تو اسمبلی کے جو انتخابات تھے، وہاں ای وی ایم گڑبڑ تھا، اس لئے جھوٹے نتائج آئے اور اگر صحیح نتائج تھے تو بی جے پی کی مقبولیت بہت جلد ختم ہو گئی۔ ایک سال بھی نہیں ہوا۔6-8 مہینے میں ہی لوگ بی جے پی سرکار کے خلاف ہو گئے ۔دونوں میں سے کوئی بھی بات سچ ہو، یہ بی جے پی کے لئے بہت اطمینان بخش صورت حال نہیں ہے۔

 

 

 

 

 

 

بیلیٹ پیپر کی مانگ
اپوزیشن کو اس ایشو پر دھیان دینا چاہئے ۔اپوزیشن کو اس بات پر زور ڈالنا چاہئے کہ اگلا الیکشن یعنی 2019 کا لوک سبھا الیکشن بیلیٹ پیپر کی بنیاد پر ہی ہو جیسے ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔یہ ای وی ایم کی ایجاد اس لئے کی گئی تھی کہ جلدووٹ شماری ہو جائے، آسان ہو جائے ، لیکن اگر انتخابات کی اعتباریت پر ہی شک ہو جائے تو اس سسٹم کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
یوروپ کے کئی ملکوں میں ،جہاں جہاں ای وی ایم مشین کا استعمال کیا جاتا تھا، سب نے دھیرے دھیرے اس کو ہٹا دیا ہے۔ وہاں پر اس مشین میں خامیاں پائی گئیں۔سمجھ میں آیا کہ اس میں بھی پروگرامنگ ہو سکتی ہے۔ جیسے کمپیوٹر ہوتاہے، اس میں پروگرام لگا دیا تو آپ کچھ بھی ٹائپ کریں، رزلٹ وہی آئے گا، جو پروگرام کیا گیا ہوگا۔ ایسا ہی ای وی ایم میں بھی ہے، بلکہ اب سوال سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی کا ہے، اکھلیش یادو اور مایاوتی کا ہے۔ ان کو چاہئے کہ وہ اسمبلی انتخابات کی مانگ رکھیں۔ 6 مہینے ہوئے ہیں۔ انہیں مانگ کرنی چاہئے کہ دوبارہ الیکشن کرائیے بیلیٹ پیپر کی بنیاد پر۔یہ الگ بات ہے کہ یوگی الیکشن نہیں کرائیں گے۔
سرکار پانچ سال کے لئے منتخب کی جاتی ہے۔لیکن بلدیاتی انتخابات کے جو اعدادو شمار ہیں، ان کو آپ دیکھیں تو بالکل صاف ہو جاتا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو گڑبڑ ہے ۔اتنا فرق نہیں ہو سکتا ہے دیہی اور شہری علاقوں کے انتخابی نتائج میں اور نہ اتنا فرق ہو سکتاہے ای وی ایم اور بیلیٹ پیپر سے نکلے انتخابی نتائج میں۔ یقینی طور پر ای وی ایم سے چھیڑ خانی کی گئی ہے۔ اس کے لئے ایک کل جماعتی میٹنگ بلانی چاہئے۔ اپوزیشن کو کل جماعتی میٹنگ میں طے کرکے الیکشن کمیشن کے پاس جانا چاہئے۔ 2019 کا الیکشن بیلیٹ پیپر سے کروانے کی مانگ کرنی چاہئے۔ کمیشن اگر بات نہ مانے تو اپوزیشن کو کورٹ میں جانا چاہئے اور اگر پھر بھی سرکار 2019 کا الیکشن ای وی ایم سے کرواتی ہے تو اپوزیشن کو 2019 کے الیکشن کا بائیکاٹ کرنا چاہئے۔ کیونکہ نتائج تو وہی آئیں گے جیسا سرکار چاہے گی۔پھر اپوزیشن سرکار کو موزونیت کیوں دے ۔اپوزیشن کے پاس یہ کہنے کے لئے تو کم سے کم رہے گا کہ ہم نے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا۔ اس لئے یہ سرکار آج راج کر رہی ہے۔
مشکوک انتخاب جمہوریت کے منافی
مجھے شک ہے کہ یو پی کی جو عوامی رائے تھی ،وہ عوامی رائے سچ مچ انتخابی نتائج کی شکل میں منتقل نہیں ہوئی تھی۔ بی جے پی کو 2014 میں ضرور اکثریت ملی تھی کیونکہ اس وقت ای وی ایم میں گڑ بڑی کی بات نہیں تھی۔ تیزی سے سیاسی ماحول بدل رہا ہے۔ آج جو صورت حال ہے، بی جے پی کے اتنی ریاستوں میں وزیر اعلیٰ ہیں، مرکزکی سرکار ہے ۔مودی جی کہتے ہیں کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی ملک کے مفاد میں ہے اور میں ملک کے مفاد میں کام کر رہا ہوں۔ میں مان لیتا ہوں۔ وزیر اعظم بول رہے ہیں تو صحیح ہے لیکن پھر گجرات میں اتنی بے چینی کیوں ہے لوگوں میں؟گجرات تو ان کا گڑھ ہے ۔وہ اتنے سال تک وہاں راج کئے اور جو ابھی وزیراعلیٰ ہیں انہی کا نامزد کیا ہوا ہے ۔
ان سب سے معلوم پڑتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ دکھایا کچھ جارہاہے ،ہو کچھ اور رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مودی جی چالاک نکلے ۔ان کے پاس تجربہ بہت ہے۔ آر ایس ایس میں رہتے ہوئے گائوں گائوں ،ضلع ضلع گھومے ہوئے ہیں۔ وہ سمجھ گئے ہیں کہ ملک میں عوامی رائے بنانے کا کام بہت کم لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ اخبار ، الکٹرانک چینل یہ ماحول پیدا کردیتے ہیں۔ جیسے میڈیا نے یہ پھیلا دیاکہ بی جے پی جیت گئی ہے۔ 2014 میں بی جے پی کو 31فیصد ووٹ ملے۔ کل ووٹنگ تقریبا 60-65 فیصد ہوئی۔ اس کا 30فیصد یعنی 16کروڑ لوگوں نے بی جے پی کے حق میں ووٹ دیئے تھے120کروڑ میں سے ۔یہ بات ٹھیک ہے کہ ایک ہی سسٹم سب کے لئے لاگو ہوتا ہے۔
میں پھر صاف کردینا چاہتا ہوں کہ میں کانگریس کا ترجمان نہیں ہوں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ بی جے پی کی جگہ کانگریس کو جیتنا چاہئے ۔بالکل نہیں ۔لیکن غیر جانبدار انتخابات ہونے چاہئے۔ آئین سپریم ہے ۔ عوام کی رائے سپریم ہے۔ اگر عوام بھاری اکثریت سے مودی جی کو منتخب کرتے ہیں تو عوام کا انتخاب سر ماتھے پر ، لیکن مشکوک طریقے سے انتخابات ہوں،یہ ٹھیک نہیں ہے جمہوریت کے لئے ۔چیف الیکشن کمشنر طے نہیں کر پائے کہ ہماچل اور گجرات الیکشن کی تاریخ ایک ساتھ اعلان کیا جائے یا نہیں۔ یہ ماحول ہندوستانی جمہوریت کے لئے نقصان دہ ہے۔ اتنے سال کی اپنی کمائی ہوئی محنت کیا ایسے ہی برباد کردینا چاہئے ؟اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ آگے آنے والی نسلوں کو جواب دینا ہوگا۔ مودی جی کچھ حد تک صحیح بھی ہو سکتے ہیںکہ جو پاور میں رہے گا وہ صحیح کرے گا تو غلط بھی کرے گا۔ 6 کام صحیح کرے گا تو 4 کام غلط بھی ہوگا۔
لیکن مودی جی کا یہ کہنا مضحکہ خیز ہے کہ 70 سال میں کوئی ترقی نہیں ہوئی ہے۔ پہلے وہ گجرات ماڈل آف وکاس کی بات کرتے تھے۔ آج کہہ رہے ہیں کہ کانگریس نے کچھ کرنے ہی نہیں دیا۔ دونوں باتیں کیسے صحیح ہوں گی؟آج کل کے نوجوانوں کو ٹیکن فار گرانٹیڈ نہیں لینا چاہئے۔ گجرات میں بی جے پی کو سنبھل کر چلنا چاہئے۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ای وی ایم کی گڑ بڑی کرکے جھوٹا رزلٹ آپائے گا تو انہیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ یو پی نہیں ہے۔یہ گجرات کے لڑکے ہیں۔ وہ ہوشیار ہیں، جوش میں ہیں، سڑک پر اتر جائیں گے۔ اگر ای وی ایم سے چھیڑ خانی ہوئی یا اعتباریت سے چھیڑ خانی ہوئی تو گجرات کے لڑکے اس کی جم کر مخالفت کریں گے ۔
اب سب کام شفافیت سے ہونا چاہئے اور ابھی بھی الیکشن کمیشن چاہے تو بیلیٹ پیپر پر بھی انتخابات کرا سکتا ہے ۔ دیر ہو گئی تو کوئی بات نہیں۔ وی وی پیٹ ہے، جس میں ایک پرچی نکلتی ہے۔ اب کتنے ووٹر سلپ چیک کریں گے؟لیکن اگر18 دسمبر کو الیکشن کی اعتباریت پر انگلی اٹھی تو ملک کچھ سالوں تک اندھیرے میں چلا جائے گا۔ ملک کو سنبھالنا سرکار کی ذمہ داری ہے ۔
ابھی بھی میں سمجھتا ہوں کہ 2019 تک سرکار کے پاس ڈیڑھ سال کا وقت ہے۔ اسے اپنی پالیسیوں میں سدھار کرنا چاہئے۔ اسے اپنی آواز کو متوازن کرنا چاہئے۔ اپنے اعلانات کو توازن میں لانا چاہئے جیسے راہل گاندھی نے کیا۔ راہل گاندھی جن سے عام آدمی کو بڑی امید نہیں تھی، آج انہی کی تقریریں بہت اچھی لگتی ہیں۔انہوں نے اپنی تقریر میں کہاکہ مودی جی اپنی تقریر میں آج 60فیصد ٹائم کانگریس اور راہل گاندھی پر خرچ کرتے ہیں۔راہل گاندھی نے ایک اور اہم بات کہی، انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ’’ بی جے پی مکت بھارت‘‘ ہو۔ بی جے پی یکدم رہنی چاہئے۔ وہ اپنی بات کہیں، ہم اپنی بات کہیں۔یہ زیادہ جمہوری باتیں لگ رہی ہیں،بجائے’’ کانگریس مکت بھارت‘‘ کی بات کرنے کے۔ جتنی جلدی سرکا ر صورت حال کو سمجھ کر کنٹرول میں لائے، اتنا اچھا ہوگا۔

 

 

 

 

 

 

کبھی بی جے پی ای وی ایم مخالف تھی
بھنڈ ضلع کے اٹیر میں ای وی ایم مشین میں گڑبڑی کی شکایت ملی تھی۔ ڈیمو کے دوران کسی بھی بٹن کو دبانے پر وی وی پیٹ پرچہ بی جے پی کا نکل رہا تھا۔ خبر آنے کے بعد کلکٹر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کو ہٹا دیا گیا تھا۔ جب الیکشن کمیشن نے معاملے کی جانچ کی تو مشین میں خرابی گئی۔ غور طلب ہے کہ اس مشین کا استعمال یو پی اسمبلی انتخابات کے دوران کیا گیا تھا۔ ای وی ایم کو لے کر سماج وادی پارٹی، بہو جن سماج پارٹی اور کانگریس تک نے سوال اٹھائے لیکن برسراقتدار پارٹی نے ان الزامات کو سرے سے خارج کر دیا ۔یہ الگ بات ہے کہ جو بی جے پی آج ای وی ایم کاسپورٹ کرتی ہے، اس نے بھی پہلے اس کی کافی مخالفت کی تھی۔
2009میں جب بی جے پی ہاری تھی، تب لال کرشن اڈوانی نے سب سے پہلے ای وی ایم پر سوال اٹھائے تھے۔ بی جے پی ترجمان جی وی ایل نرسمہا رائو نے ایک کتاب بھی لکھی’’ ڈیموکریسی اَیٹ رِسک ، کین وی ٹرسٹ اُر الکٹرانک ووٹنگ مشین ؟‘‘۔اس کتاب کا تعارف لال کرشن اڈوانی نے لکھا تھا۔ اس کتاب میں ووٹنگ سسٹم کے ایکسپرٹ اور اسٹین فرڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ ڈیل نے بتایا کہ ای وی ایم کااستعمال پوری طرح سے محفوظ نہیں ہے۔ اس کتاب کی شروعات میں ہی لکھا ہے کہ مشینوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہو سکتی ہے اور ہندوستان میں استعمال ہونے والی الکٹرانک ووٹنگ مشین اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔
ایسی کئی مثالیں ہیں جب ایک امیدوار کو دیا ووٹ دوسرے امیدوار کو مل گیا ہے یاپھر امیدواروں کو وہ ووٹ بھی ملے ہیں جو کبھی ڈالے ہی نہیں گئے۔ اس کے علاوہ ، سبرامنیم سوامی بھی ای وی ایم کے استعمال کے خلاف رہے ہیں۔ 2009 کے انتخابی نتائج کو لے کر ان کا کہنا تھاکہ 90 ایسی سیٹوں پر کانگریس جیتی ہے جہاں وہ جیت ہی نہیں سکتی تھی۔ دلچسپ طور سے ہندوستان میں ای وی ایم استعمال کو لے کر 2004 میں سب سے پہلے دہلی ہائی کورٹ کے سینئر وکیل پران ناتھ لیکھی، جو بی جے پی رکن پارلیمنٹ میناکشی لیکھی کے والد ہیں ،نے سوال اٹھائے تھے۔
ای وی ایم پر پابندی والے ممالک ہے
نیدر لینڈ: شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے ای وی ایم پر پابندی لگا دی گئی۔
آئر لینڈ: 51 ملین پائونڈ خرچ کرنے اور 3 سال کی ریسرچ کے بعد، سیکورٹی اورشفافیت کا حوالہ دیتے ہوئے ای وی ایم پر پابندی ۔
جرمنی : ای ووٹنگ کو غیر قانونی کہا تھا کیونکہ اس میں شفافیت نہیں ہے۔
اٹلی : اس لئے ای ووٹنگ کو خارج کر دیا تھاکیونکہ ان کے نتائج کو آسانی سے بدلا جاسکتا ہے ۔
یو ایس : یہاں کے کیلیفورنیا اور دیگر صوبوں نے ای وی ایم پر بغیر پیپر ٹریل کے پابندی کر دیاتھا۔
انگلینڈ: ای وی ایم کا ستعمال نہیں ہوتا۔
فرانس: ای وی ایم کا استعمال نہیں ہوتا۔
کس نے کیا کہا۔
گجرات اسمبلی انتخابات میں اگر ای وی ایم میں دھاندلی نہیں کی گئی تو بی جے پی کو یہاں سخت شکست کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے (مایاوتی ، بی ایس پی سپریمو )
آج کل لوگ ای وی ایم پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ہم سب ا س سے فکر مند ہیں۔ہم الیکشن کمیشن سے انتخابی اصلاحات کی گزارش کریں گے(ممتا بنرجی ، ترنمول کانگریس )
اگر کسی نیشنل پارٹی کے صدرای وی ایم پر سوال اٹھائے ہیں تو اس کی جانچ کرائی جانی چاہئے (اکھلیش یادو، صدر سماج وادی پارٹی )۔
میرا تو ہمیشہ سے ای وی ایم پر بھروسہ نہیں رہا ہے۔ جب دنیابھر کے ملکوں میں بیلیٹ پیپر سے انتخابات ہوتے ہیں تو ہمارے یہاں ای وی ایم سے انتخابات کیوں ہوں؟(دگ وجے سنگھ ، کانگریس )
کوئی مشین ایسی نہیں ہے جسے ہیک نہ کیا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ جن ملکوں سے ہم نے اس تکنیک کو لیا ہے ،وہ ملک اس تیکنک کا استعمال نہیں کرتے جبکہ وہ ملک تکنیک میں بہت آگے ہیں۔جو تکنیک ہم نے ایجاد ہی نہیں کی، ہم اس کی گارنٹی لے رہے ہیں ( سوربھ بھاردواج ، ای وی ایم ہیکنگ کا ڈیمو دینے والے عاپ ایم ایل اے )

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *