گجرات انتخابات میں راہل گاندھی کے لئے سبق

گجرات انتخابات نے بہت سی روایتیں ختم کردیں اور نئی روایتیںڈال دیں۔ اب مستقبل میںیہی روایتیںچلیںگی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوںنے بہت ساری چیزوںکو بھرم ثابت کردیا اور حقیقت کی بنیاد پر نئے قدم ، نیا طریقہ اور نئے اندازکا چیلنج سب کے سامنے رکھ دیاہے۔ اس کا سامنا کرنے کے لیے جتنی بڑی لکیر وزیر اعظم مودی نے کھینچی ہے، اس سے بڑی لکیر جب تک کوئی دوسرا نہیںکھینچتا ہے، تب تک اس کے لیے سیاسی طور پر وزیر اعظم مودی اور ان کی پارٹی کا سامنا کرنا ممکن نہیںہوگا۔
آزادی کے بعد سے لے کر اب تک ایک روایت تھی کہ وزیر اعظم ریاستوںکے انتخاب میںکم جاتے تھے اور ضمنی انتخاب میںتو بالکل نہیںجاتے تھے۔ یہ روایت منموہن سنگھ کے وقت تک چلی۔ جواہر لعل نہرو سے یہ روایت شروع ہوئی تھی لیکن وزیر اعظم مودی نے اس روایت کو توڑ دیا۔ ان کے ذریعہ شروع کی گئی نئی روایت میںوزیر اعظم ہر طرح کے الیکشن میںجارہے ہیں۔ ہر چیز کا افتتاح کررہے ہیں، چاہے وہ فلائی اوور ہوں یا بڑے پروجیکٹ ہوں اور ریاست کی انتخابی مہم کی قیادت اس ریاست کا کوئی لیڈر یا اس ریاست کی پارٹی نہیں، بلکہ خود وزیر اعظم کررہے ہیں۔ یہی بہار، اترپردیش، آسام او راتراکھنڈ میںہوا اور یہی اس بار گجرات میں ہوا۔
سیاسی طور پر اس کا سامنا کرنے کے لیے اپوزیشن پارٹی کو بھی یہی انداز اپنانا پڑے گا۔ گجرات کے الیکشن نے بتلایااور یہ نئی روایت آئی کہ ہم نے کیا کام کیا ہے اور ہم کیوںووٹ مانگ رہے ہیں، یہ بھی اب بتلانے کی ضرورت نہیںہے۔ اگر آپ نے اپنی شخصیت کے اوپر لوگوں کا یقین جیت لیا ہے تو پھر آپ کو لوگوںکو بتانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے کہ ہم نے پچھلے سالوںمیںآپ کے لیے کیا کیا کیا ہے۔ آدمی اور چہرے پر یقین کا پیدا ہونا ایک بڑی چیز ہوتی ہے۔ وہ یقین جس شخص کو مل جاتا ہے،وہ شخص اسی طرح عوام کا اعتماد جیت کر نئی عبارت لکھتا ہے۔ گجرات الیکشن میںنریندر مودی جی نے ایک بڑی بات کہی۔ سوال ہوا کہ وکاس کیا ہے، کیسا ہے؟نریندر مودی نے ایک لائن میںاس کا جواب دیا، ہوںوکاس چھوں۔ میں ہی وکاس ہوں اور لوگوں نے اس پر کوئی سوال نہیںکیا بلکہ نریندر مودی پر اور اعتماد کرکے گجرات میںدوبارہ سرکار بنانے کا مینڈیٹ دے دیا۔

 

 

 

 

 

 

حالانکہ نریندر مودی کا گجرات سے کوئی لینا دینا نہیںہے۔اب وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ ملک کے مسائل سے ان کا رشتہ ہے۔ تکنیکی طور پر وہ گجرا ت میںصرف صلاح دے سکتے ہیں۔ کام وزیر اعلیٰ کو کرنا ہے لیکن نریندر مودی کا یہ یقین دلادینا کہ میںگجرات کے وکاس کے لیے ذمہ دار تھا، ذمہ دار ہوں،ذمہ دار رہوںگا، گجرات کے لوگوں کو ان کے لیے ووٹ دینے کی ایک بڑی وجہ بن گیا۔یہ یقین یا اپنے اوپر یہ بھروسہ جیتنے کی تکنیک اب اپوزیشن لیڈروں کو سیکھنی چاہیے۔ اگر راہل گاندھی کے دماغ میں2019 کا الیکشن ہے، تب راہل گاندھی کو تو اسے اور جلدی سیکھنا چاہیے۔ وہ اگر اب بھی اسی بات پر قائم ہیں کہ وہ 2024 کے الیکشن کی تیاری کررہے ہیں، تب پھر ان کے لیے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیںہے۔
گجرات الیکشن نے یہ بھی بتایا اور نئی روایت ڈالی کہ ایک مدعا اٹھے اور زور پکڑے، اس سے پہلے ہی دوسرا مدعا اچھال دینا چاہیے۔ لوگوںکو الیکشن میں مختلف مدعوںکی چاشنی چکھانی چاہیے۔ وہ مدعے دیسی ہوںیا پردیسی، سچے ہوں جھوٹے ہوں، اصلی ہوں نقلی ہوں، ان سب مدعوں کا ذائقہ عوا م چکھتے رہیں۔ الیکشن کو اپنے مستقبل کے امکانات کو پورا کرنے کے ہتھیار کے طور پر نہیں، بلکہ اپنی دماغی خوراک کی نظر سے دیکھیں۔ یہ ایک نئی بات پیدا ہوئی۔ آپ شور مچائیں ڈھول نگاڑے بجائیں،آپ لوگوںکو یہ یقین دلائیںکہ آپ ہی ایک ہیں جو سبھی مدعوںکو حل کرسکتے ہیں۔ پہلے ایک اندرجال کامکس آتا تھا۔ اس کا ایک کیریکٹر فینٹم یا بیتال ہوا کرتا تھا۔ وہ ہر ناممکن کام کرتا تھا اور افریقہ کے آدیواسیوں کا یہ اعتقاد تھا کہ ہماری کسی بھی مصیبت کا حل فینٹم کرے گا۔ شری نریندر مودی آج کے فینٹم ہیں۔ راہل گاندھی کو فینٹم بننا یا راہل گاندھی کے علاوہ جو بھی اب اول درجہ کا لیڈر بننا چاہتا ہے، اسے فینٹم بننا سیکھنا ہوگا۔ گجرات الیکشن نے ایک اور چیز بتائی کہ اگر آپ کو اپنے مدعے پر سامنے والے کھلاڑی کو کھیلنا آتا ہے تو آپ اچھے سیاستداں نہیںہوسکتے۔ راہل گاندھی نے یا کانگریس پارٹی نے یا کانگریس کے حامیوں نے جو جو کہا ،اسے وزیر اعظم مودی نے مدعا بنا دیا۔ اس کے بعد اس مدعے پر الجھنے کے لیے کانگریس کو مجبور کردیا۔ کانگریس اپنے مدعوںپر نریندر مودی کو لاہی نہیںپائی، بی جے پی کو لاہی نہیںپائی۔ اس نے اپنے سوال اتنی دھیمی آواز میںاٹھائے یا اتنی کمزور دلیلوںکے ساتھ اٹھائے کہ لوگوںنے تو اس کا تماشہ دیکھا، لیکن اس پر یقین نہیںکیا۔ جبکہ وزیر اعظم مودی نے گجرات کے مدعے بھی نہیںاٹھائے، بنیادی سوالوں کو چھیڑا ہی نہیں، وہ نا قابل یقین سوالوںکو ٹھوس سوالوںمیںبدلتے چلے گئے او ر گجرات کے لوگوںکو دو شخصیتوںمیںفیصلہ لینے میںکوئی پریشانی نہیںہوئی۔
گجرات الیکشن نے ایک وارننگ بھی دی۔ اس الیکشن نے یہ سبق ضرور دیا کہ سبھا میںسننے کے لیے چاہے جتنی بڑی بھیڑ آئے، آپ کی جتنی بھی تعریف ہو،لیکن اگر آپ کا بوتھ لیول تنظیم مضبوط نہیں ہے ،کارکنان نہیں ہیں تو آپ الیکشن میںاوندھے منہ گریںگے۔ وزیر اعظم مودی کے پاس کمیونکیشن اور کنورزیشن کا فن بھی تھا۔ ان کے پاس گجرات میںتنظیم کا ایک وسیع جال بھی تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکن، سنگھ کے کارکن اور وزیر اعظم نریندر مودی سے ذاتی طور پر جڑے ہوئے کم سے کم سوا لاکھ لوگ، جنھیںوزیر اعظم مودی نے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے ایک نئی فوج کی شکل میںپیدا کیا۔ ایسے لوگوں کو انھوںنے چھوٹے چھوٹے کام دیے۔ اب سب وہ اپنے یہاں کے لکھ پتی ہیں۔ کسی بھی موقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی بھی ساتھ نہ دے،سنگھ بھی ساتھ نہ دے، تو بھی مودی کی گجرات میںلاکھ سوالاکھ کی ایک ذاتی فوج ہے جو ان کے حق میںکھڑی ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف کانگریس کی حالت یہ تھی کہ پچھلے 22 سال میںگجرات میںتنظیم رور و کر چل رہی تھی اور تنظیم نام کی چیز تھی ہی نہیں۔ وہاںتنظیم سے کس کو ، کیسے نکالا جائے، اس کی کوشش چل رہی تھی۔ وزیر اعظم مودی، جو کانگریس کے مضبوط لوگ نکل کر آرہے تھے، ان کا کیسے استعمال کرنا چاہیے، ا س میںدماغ لگا رہے تھے۔ وہیںراہل گاندھی اور ان کے ساتھی کیسے کس کو لات مار کر نکالنا ہے، اس کی حکمت عملی بنا رہے تھے۔

 

 

 

 

 

 

گجرات الیکشن نے اس چیز کی نشاندہی کی کہ آپ کو اپنے ساتھیوںکی تعداد بڑھانی چاہیے، نہ کہ ساتھیوںکی تعداد کم کرنی چاہیے۔ فیصلہ اپنے دماغ سے لینا چاہیے اور سننی سب کی چاہیے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ گجرات میںراہل گاندھی نے جن کی سنی ان ہی کے کہنے پر فیصلہ لیا۔ اپنا دماغ لگایا ہی نہیں۔ انھوں نے کانگریس کو ہاردک پٹیل، جگنیش میوانی او ر الپیش ٹھاکور کے کے دم پر کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ چھ مہینے – آٹھ مہینے پہلے سے شنکر سنگھ واگھیلا انتباہ دے رہے تھے کہ کانگریس تنظیم کو مضبوط کرنا چاہیے۔ لیکن راہل گاندھی اس پر دھیان ہی نہیںدے رہے تھے۔ شنکر سنگھ واگھیلا کو پارٹی چھوڑ کر باہر جانا پڑا۔ شنکر سنگھ واگھیلا واپس آسکتے تھے لیکن کانگریس کے لوگوںنے حالات ایسے پیدا کردیے کہ راہل گاندھی یا اشوک گہلوت کی شنکر سنگھ واگھیلا سے بات ہی نہیںہو پائی۔ جس نے کانگریس کو وہاں کھڑا کیا،وہی کانگریس کے لیے بد شگن بن گیا ہے۔ گجرات کی سیکھ، گجرات کی روایت او رگجرات میںصرف اور صرف وزیر اعظم نریندر مودی کی مہارت راہل گاندھی کے لیے ایک ایسی کتاب بن گئی ہے جسے انھیںدھیان سے پڑھنا چاہیے، سیکھنا چاہیے او ر سمجھنا بھی چاہیے۔ اس کی کاٹ کیسے ہو، اس سے بڑی لائن وہ کیسے کھینچیں،اس کے لیے انہیں پریکٹس بھی کرنی چاہیے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *