کنہیاکماراورسمبت پاترا کے بیچ زبانی جنگ

kanhaiya-sambit
جواہرلال نہرویونیورسٹی(جے این یو)کے سابق طلبایونین کے صدرکنہیاکماراوربھارتیہ جنتاپارٹی(بی جے پی)کے قومی ترجمان سمبت پاترایک ٹی شومیں آپس میں ایک دوسرے پرزبانی واریعنی بھڑپڑے۔شوکے دوران ایک وقت آیابھی جب سمبت پاتراکنہیاکمارسے پوچھ بیٹھے کہ یہ آہا آہاکیاہوتاہے۔یہی نہیں سمبت پاتراکنہیاکمارسے یہ بھی کہنے لگے ،بولووندے ماترم، بولوبھارت ماتاکی جے اوربولوکہ افضل گرومردہ آباد۔7دسمبرکودراصل ،ہندی نیوزچینل نیوز18پرایک ڈیبیٹ شورکھاگیاتھا۔اس شومیں کنہیاکماراورسمبت پاتراکا’ون ٹوون‘آمناسامناتھا۔نیوز18انڈیاکی چوپال میں بی جے پی ترجمان سمبت پاترااورجے این یوکے سابق طلبایونین کے صدرکنہیاکمارکے بیچ تیکھی بحث ہوئی۔اس دوران سمبت پاترانے افضل گروکی برسی بنانے اورملک مخالف نعرے لگانے کا الزام لگایا۔جواب میں کنہیانے کہاکہ میرابھائی ملک کیلئے شہیدہوا۔خاندان کے 16لوگ فوج میں ہیں۔ان کے گھرمجاہدآزادی کاپنشن آیاہے۔کیاسمبت پاتراکے گھرسے کوئی شہیدہواہے؟
kanhaiya-and-sambit-debate
کنہیانے کہاکہ’سمبت آپ میں ہیومرنہیں ہے۔آپ بتائیے کہ میرے خلاف چارج شیٹ کیوں نہیں داخل ہوئی‘۔اس کے جواب میں سمبت نے کہاکہ’ہاں آپ کہتے ہیں تومیں مانتاہوں کہ میرے پاس ہیومرنہیں ہے۔لیکن میں کورٹ کی کاپی پڑھتاہوں‘۔حالانکہ اس معاملے پرسمبت اورکنہیادونو ں ایک دوسرے پرالزام پرالزام لگاتے رہے۔
سمبت نے کہاکہ اخبارو ں چھپاہے کہ آپ ملک مخالف نعرے لگاتے ہیں۔افضل گوروکی برسی مناتے ہیں۔انہوں نے الزام لگایاکہ کنہیاکہتے ہیں کہ آرمی خواتین کے ساتھ ریپ کرتی ہے۔یہ کئی اخباروں میں چھپاہے۔اس کے جواب میں کنہیانے کہاکہ میں نے ایساکبھی نہیں کہاہے۔اخبارکی سبھی چیزیں صحیح نہیں ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ صدرجمہوریہ،وزیراعظم ،نائب وزیراعظم کئی ریاستوں میں بی جے پی کی سرکارہے۔پھر18مہینے میں چارج شیٹ کیوں نہیں داخل ہوئی۔
کنہیانے کہا،زورسے چلانے سے بات صحیح نہیں ہوجاتی ۔آپ صرف یہ بتائیے کہ چارج شیٹ کیوں نہیں ہوئی۔سمبت نے کہاکہ میں چائنیزایجنٹ نہیں ہوں۔دیش کیلئے جیتاہوں اوردیش کیلئے کھاتاہوں۔ان کاہیرومقبول بھٹ اورافضل ہے۔کنہیانے کہا،شہیدکی بیٹی کووزیراعلیٰ کے پروگرام سے بھگادیا،یہ ان کا راشٹروادہے۔
اس کے بعدکنہیااورسمبت میں پھرتاریخ میں سدھارکولیکرتیکھی بحث ہوگئی ۔کنہیانے کہاکہ سنگھ کی نظریہ اورشروعاتی پہناواموسولینی اورفاسزم سے متاثررہاہے،یہ بات سنگھ کے شروعات لیڈروں میں ساہتیہ میں ملتی بھی ہے۔اس کے جواب میں جب سمبت اپناجواب شروع کیاتوالزام درالزام کا سلسلہ پھرشروع ہوگیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *