بھوپال کے یوتھ ڈائیلاگ میں کنہیا کمار سرکار کی پالیسیاں غریب مخالف ہیں

27نومبر کو اسٹوڈنٹس لیڈر کنہیا کمار بھوپال پہنچے تھے۔ وہ یہاں جن آندولن کے یوتھ ڈائیلاگ میں حصہ لینے پہنچے تھے۔ اس موقع پر شیو راج سرکار پر چُٹکی لیتے ہوئے کنہیا کمار نے کہا کہ جیل کے باہر لوگ مارے جارہے ہیں،اس سے تو جیل ہی محفوظ جگہ ہے۔ یہاں تو جیل کا تالا لکڑی کی چابی سے کھل جانے کی کہانی چل رہی ہے۔ اچھا ہوا کہ قیدیوں نے یہ نہیں کہا کہ کھل جا سِم سِم اور جیل کا تالا کھل گیا۔ مجھے لگتا ہے کہ اس پر تو ناسا کو ریسرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر ان کے ساتھ اسٹوڈنٹس لیڈر کمل پریت کور، سنجے راجورا اور ستا روپا چکر ورتی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ سرکار کو بدعنوانی کی فکر نہیں۔بات تو یہ ہے کہ کھاکون رہا ہے؟کس کی پلیٹ میں گر رہا ہے۔ اگر کھانا ہے تو ہماری پلیٹ پر کھائو۔میں تو یہی کہوں گا کہ جو آدمی دوسرے کی دل کی بات سن ہی نہیں سکتا، وہ اپنے دل کی بات کیسے کر سکتا ہے۔ کونسٹی ٹیوشن ڈے کے متعلق کنہیا کمار نے کہا کہ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ ہیپی کونسٹی ٹیوشن ڈے، مگر اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ اگر یہ کہنا ہے تو آپ جائیے نجیب کی ماں کے پاس اور ان سے کہئے اور ایسے سینکڑوں لوگ ہیں،جہاں آپ کو یہ کہنا چاہئے مگر آپ وہاں کچھ نہیں کہیں گے۔

 

 

 

 

اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر ریمارکس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گھر تیاگ کر سنیاسی بننے کے بعد انہیں وزیراعلیٰ بننے کی کیا ضرورت پڑی۔ چانکیہ خود گدی پر نہیں بیٹھے، وہ بھگوادھاری تھے۔ یوگی چاہتے تو چانکیہ کی طرح کیشو پرساد موریہ کو ہی وزیراعلیٰ بنا دیتے ، مگر آج کل کے بھگوا دھاری کو کرسی اور پاور کا لالچ ہے۔ بی جے پی کی سرکار سماج میں دھرم، تاریخ اور روایت کے نام پر جو غلط نمونہ پیش کر ر ہی ہے۔ اس بحث کو ہمیںایشو تک لے جانے کی ضرورت ہے۔ ملک بھر میں چل رہے آندولن پر بھی کہنیاکمار نے اس یوتھ ڈائیلاگ میں باتیں رکھیں۔انہوں نے کہا کہ ’’ کسان مر رہے ہیں، مزدور آندولن کررہے ہیں، طلباء روڈ پر ہیں اور درمیانی طبقہ کو صاف ہوا نہیں مل رہی ہے۔یہ سب ہی بنیادی ایشوز ہیں۔ ان ایشوز پر بات ہونی چاہئے اور کام بھی۔نہ کہ صرف من کی بات۔یہاں عوام کی بات ہونی چاہئے‘‘۔
کنہیا نے کہا کہ جو لوگ تاریخ میں شامل نہیں ہیں، وہ تاریخ میںشامل ہونا چاہتے ہیں۔ اس لئے الٹ پھیر تو کریںگے ہی۔ مگر اس کا ایک اور سچ ہے کہ جب سرکار عوام سے کئے اپنے وعدے نہیں نبھا پاتی ہے تو اس طرح کے ایشو کو ہوا دیتی ہے۔ جیسے تازہ تنازع ہے پدماوتی کا۔ اس ایشو پر کنہیا کمار نے کہا کہ پدما وتی کو کورس میں شامل کرنا ایک اچھی پہل، مگر پہلے بیسک ایشوز پر بات ہو۔ پدماوتی رضیہ سلطان لکشمی بائی نام کوئی بھی ہو، اگر ہم ان کے بارے میں پڑھیں گے تو یہ ہمارے لئے فخر کی بات ہوگی ،مگر ہمیں پہلے بیسک ایشوز پر کام کرنا ہوگا۔
بچیوں کے ساتھ ہو رہی زیادتیاں، لڑکیوں کا قتل ، ان سب کے لئے پہلے مضبوط قانون لانے کی ضرورت ہے۔ وہیں گوڈسے مندر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کنہیا کمار نے کہا کہ سمجھدار لوگ ایسا نہیں چاہتے تھے، ان کا سوچنا تھا کہ اس انتخاب کے بعد کریں گے۔ مگر ان کے نیچے کے لوگوں کو لگا کہ کہیں ٹرین چھوٹ نہ جائے، اس لئے وہ جلد بازی کر بیٹھے۔ میرے حساب سے یہاںایک غلط کلکولیشن رہاان کے لئے۔
مرکزی سرکار کی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکار کی پالیسیاں غریب مخالف ہیں۔ جب آپ اپنے من کی بات میں غریب لوگوںکو ترجیح نہیں دیںگے، تو یہ سب تو ہوگا ہی۔ کسان قرض سے مر رہے ہیں، دلتوں کے ساتھ مظالم ہورہے ہیں، آدیواسیوں کی زمینیں چھینی جارہی ہیں، ایسے ایشوز پر من کی بات نہیں ہوتی۔ میں تو یہ کہوں گا کہ سرکار کے نظریہ میں تشدد، مایوسی اور عدم روادای صاف طور پر جھلکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *