مدارس میں عصری علوم کی شمولیت خوش آئند مگر عملی دشواریوں سے نمٹنا ضروری

قرآن و حدیث اور اس سے متعلق موضوعات کے ساتھ ساتھ عصری علوم کا سلسلہ مدارس اسلامیہ میں ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہا ہے ۔ویسے یہ الگ بات ہے کہ عصری تقاضوں کے مطابق، مدارس کے نصاب میں ضروری تبدیلی نہیں کی جاسکی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں کے فارغین ترقی کی دوڑ میں خالص عصری تعلیم کے فارغین مقابلے مین اسٹریم سے دور رہے۔ اس لحاظ سے ملک کی کچھ ریاستوں میں مدارس میں عصری علوم کے لئے این سی ای آر ٹی کی کتابوں کے نفاذ کا منصوبہ خوش آئند ہے مگر ضرورت ہے حکومتی سطح پر عملی دشواریوں کو دور کرکے پورے پلان کو عملی بنانے کی۔ اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ مدارس کے ذمہ داران اعتدال کے ساتھ دینی و عصری علوم دونوں کی اہمیت و ضرورت کو پھر سے محسوس کریں۔حکومت اور مدارس کے ذمہ داران کے تال میل سے مدارس کے فارغین کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔
پہلے ریاست اترپردیش اور پھر اترا کھنڈ میں این سی ای آر ٹی کے نصاب کو مدارس کے نصاب میں شامل کرنے کی تیاری چل رہی ہے۔اتراکھنڈ کی حکومت نے ایک نیانصاب تیار کیا ہے جسے 2018 سے امداد یافتہ مدارس کے نصاب میں شامل کیاجائے گا۔ریاست کے وزیر تعلیم اروند پانڈے کہتے ہیں کہ عصری تعلیم ہر ایک کی ضرورت ہے اور اس نصاب کے بعد مدارس کے طلبا بھی عصری تعلیم سے لیس ہوںگے۔اس سلسلہ میں مدرسہ بورڈ کے ڈپٹی رجسٹرار حاجی اخلاق احمد کا کہنا ہے کہ یہ نیا نصاب بچوں کو مین اسٹریم میں لانے میں معاون ہوگا۔

 

 

 

 

 

البتہ ترپردیش کی حکومت نے مدارس کے صاب میں این سی ای آر ٹی کے نصاب کو شامل کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ دینی نصاب میں چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی اور انگریزی اور ہندی کے علاوہ تمام کتابیں اردو میں دستیاب کرائی جائیں گی۔یہ منصوبہ ایک 40رکنی کمیٹی کی سفارشات کے بعد تیار کیا گیا ہے ۔ظاہر ہے کہ یہ منصوبہ مدارس میں پڑھنے والے طلباء کو مین اسٹریم میں لانے کے مقصد سے بنایا گیا ہے۔ اگر اس منصوبے کو لاگو کردیا جاتا ہے تو پوری ریاست میں19143 رجسٹرڈ مدارس میں سے 560 مکمل امداد یافتہ ، 8521 تجدید کاری اسکیم کے تحت امداد پانے والے مدارس جن میں سائنس، کمپیوٹر جیسے مضامین کی تعلیم ہورہی ہے، 140 جن میںآئی ٹی آئی اسکیم کے تحت کاروباری اور صنعتی حرفت کی تعلیم دی جاتی ہے اور بورڈ سے تسلیم شدہ 3867 مدارس جہاں بورڈ کا نصاب چلتا ہے کو اپنے یہاں مخصوص نصاب کے ساتھ ساتھ این سی ای آر ٹی کی کتابوں کو بھی شامل کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ تقریباً 1298 ایسے مدارس ہیں جو دارالعلوم دیوبند یا ندوۃ العلماء لکھنو سے ملحق ہیں اور حکومت کے ریکارڈ میں رجسٹرڈ نہیں ہیں۔فی الوقت ان مدارس میں این سی ای آر ٹی کی کتابوں کو شامل کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔
مدارس کے فارغین کی بہی خواہی
ریاستی حکومت نے اقلیتوں کی فلا ح و بہبود کے لئے 1700 کروڑروپے مختص کئے ہیں نیز منظورشدہ مدارس اور پرائمری اسکولوں میں جدید تعلیم فراہم کرنے کے لئے نے394کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔حکومت چاہتی ہے کہ اس فنڈ کا بہتر استعمال کرتے ہوئے اقلیتوں میں پسماندہ طبقہ کو جدید تعلیم سے جوڑ کر ان کی پسماندگی کو دور کیا جائے ،خاص طور پر مدارس کے طلبا جوکہ دینی تعلیم حاصل کرنے میں عمر کا ایک معتد بہ حصہ گزار دیتے ہیں اور دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب وہ عملی دنیا میں قدم رکھتے ہیں تو ان کے لئے روزگار کے مواقع سمٹے ہوئے ہوتے ہیں،جدید علوم سے روشناس ہونے کے بعد ان کے سامنے مواقع کی کمی نہ رہے اور وہ بھی دیگر اسکولوں اور کالجوں کے بچوں کی طرح مختلف میدانوں میں اپنا مستقبل تلاش کرسکیں۔
حکومت کا یہ فیصلہ اپنے آپ میں ایک بہتر قدم ہے ۔یقینا مدارس کے طلباء کو اس سے روزگار کی تلاش میں راحت ملے گی۔یہی وجہ ہے کہ علماء کرام کا ایک طبقہ جو مدارس میں جدید تعلیم کا حامی ہے اور اس بات کی ضرورت بھی محسوس کرتا ہے کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء نہ صرف ایک عالم دین بنیں بلکہ وہ دنیاوی علوم میں بھی کامل ہو کر مخلوق خدا اور ملک و ملت کی خدمت انجام دیں۔مگر اس کے ساتھ ہی ایک گروپ ایسا بھی ہے جو اس فیصلے کی مخالفت کررہاہے۔اس گروپ کا ماننا ہے کہ مدارس کا قیام دینی علوم کے حصول اور اس کی ترویج و تبلیغ کے مقصد سے ہوا ہے۔ لہٰذا اس میں عصری علوم کو شامل کرنا اس کے مقصد تاسیس کے برخلاف ہے۔ اس کے علاوہ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس فیصلے کو شک و شبہات کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ یوگی جیسے سخت گیر ہندوتو علمبردار سے مسلم بچوں کی فلاح کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔
عملی دشواریاں
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یوگی حکومت اپنے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے اور مدارس میں این سی ای آر ٹی کے نصاب کو شامل کرنے میں کامیاب ہوپائے گی؟دراصل اس میں کچھ دشواریاں ہیں جس پر حکومت کو غور کرنا ہوگا۔جب تک ان دشواریوںکو حل نہیں کیا جاتا ،شاید یہ منصوبہ دیگر ترقیاتی منصوبوں کی طرح دفتر کی زینت بنا رہے گا۔سب سے پہلی دشواری یہ ہے کہ کمیٹی نے اپنی سفارشات میں یہ کہا ہے کہ ہندی اور انگریزی کے علاوہ تمام سجیکٹ اردو میں دستیاب کرائے جائیں۔یہ ایک اچھی سفارش ہے اور حکومت نے اس کو مانا بھی ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت ان سجبکیٹوں کو پڑھانے والے اردو اساتذہ کہاں سے لائے گی؟ اتر پردیش میں اردو ذریعہ تعلیم کا نظم انتہائی کم ہے ۔ ایسے میں اتنی بڑی تعداد میں تربیت یافتہ یا ٹرینڈ اردو اساتذہ کو تلاش کرنا مشکل ترین کام ہوگا۔

ٹرینڈ اردو اساتذہ کی سخت کمی
ملک کے دستور نے ہر شہری کو ابتدائی تعلیم اپنی مادری زبان میں حاصل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، لیکن ملک کی سرکاروں نے آئین کی طرف سے عطا کی گئی اس نعمت کو چھین لیا ہے۔ ملک کے زیادہ تر مسلمان اردو کو اپنی مادری زبان سمجھتے ہیں، لیکن چونکہ سرکاروں نے ان کی ابتدائی تعلیم کا انتظام اردو میں نہیں کیا ہے، اس لیے وہ دوسری زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے ان تمام علاقوں سے دھیرے دھیرے اردو ختم ہوتی جا رہی ہے، جہاں پر کسی زمانے میں اردو زبان نے خواہ وہ تحریک آزادی ہویا دیگر سطحیں، انقلاب برپا کیا تھا۔اسی کا نتیجہ ہے کہ حالیہ مہینوں میں دہلی حکومت نے کئی اردو اسکولوں کو باہم ضم کرنے کا منصوبہ بنایا تھااور اس کی دلیل یہی تھی کہ اردو پڑھنے والے طلباء کی مقررہ تعداد وہاں موجود نہیں ہے۔
جہاں تک اتر پردیش کی بات ہے تویہاں اردو کے ذریعہ تعلیم کاسلسلہ تو ملک کی آزادی کے بعد سے ہی ختم کیا جاتا رہا، پچھلی سماجوادی حکومت نے بھی مسلمانوں سے مسلم اکثریتی علاقوں میں اردو میڈیم اسکول قائم کرنے کا وعدہ کیا تھالیکن اس وعدہ کا اثر پورے پانچ سال تک نظر نہیں آیا۔ سچر کمیٹی نے بھی سابقہ یوپی اے سرکار سے کہا تھا کہ وہ فوری طور پر پورے ملک میں اردو بولنے والی آبادی کا پتہ لگائے اور پھر ان جگہوں پر اردو میں پرائمری ایجوکیشن کا انتظام کرے، لیکن افسوس کہ کانگریس کی سرکاروں نے پورے ملک سے اردو کو ختم کرنے میں ایک بڑا رول ادا کیا اور حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ جہاں جہاں اردو میڈیم سرکاری اسکول ہیں، وہ سرکاروں کی اندیکھی کی وجہ سے ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ایسے میں اگر ہندی اور انگریزی کے علاوہ دیگر سبجکٹوں کو اردو میں کربھی دیا گیا تو انہیں پڑھانے کے لئے حکومت اساتذہ کہاں سے لائے گی؟
اس سلسلہ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ مدرسہ بورڈ کے طلباء کو اس خدمت پر مامور کیا جاسکتا ہے۔مگر عملی طورپر پہلے دشواریوں پر توجہ دینی ہوگی ان طلباء کے لئے ٹریننگ کا خصوصی نظم کرنا پرے گا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح 1990 کی دہائی میں جب سرکاری اسکولوں میں گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ افراد کریش پروگرام کے تحت سائنس کے اساتذہ کے طور پر رکھاگیااور پھر این سی ای آر ٹی نے ان کے لئے سائنس ٹیچنگ ٹریننگ کا نظم کیا تھا۔ اس سلسلے میں 40 برس قبل کے تجربہ کا ذکر کرتے ہوئے اے یو آصف کہتے ہیں کہ خود انہوں نے اس طرح کی سائنس ٹیچنگ ٹریننگ دوماہ کے لئے این سی ای آر ٹی کے تحت لی تھی ۔ بہر کیف ان میں سے بہت سے ایسے طلباء ہیں جو عربی و فارسی چھوڑکر سائنس و حساب کے فارمولے تک سے نابلد ہیں ۔ایسے میں اگر انہیں سائنس پڑھانے کے لئے رکھا گیا تو کیا وہ اس کا حق ادا کرپائیںگے؟ یہ سب دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یوگی حکومت کا یہ فیصلہ اچھا تو ہے مگر عملی طورپر ایک سراب ہی ثابت ہوگا۔البتہ اگر حکومت فوری طورپر اس نصاب کو شامل کرنے کے بجائے پہلے بورڈ سے فارغین طلباء کو خصوصی طور پر ان موضوعات کو پڑھانے کی ٹریننگ دے جو کہ لانگ ٹرم ٹریننگ ہو ۔جب حکومت کے پاس اتنے افراد تیار ہوجائیں جو ریاست کے بچوں کو متعلقہ سجبکٹ پڑھاسکتے ہیں ،اس کے بعد اس منصوبے کو نافذ العمل بنائے تو ممکن ہے کہ یوگی کا یہ منصوبہ کارآمد ثابت ہوجائے۔
اس سلسلہ میں دوسری پریشانی یہ ہے کہ مدارس کا اپنا فل فلیجڈ نصاب پہلے سے چل رہا ہے جس میں
صرف،نحو،منطق،حکمت و فلسفہ، ریاضی، بلاغت، فقہ، اصول فقہ، علم کلام، تفسیر قرآن اور حدیث کی پڑھائی ہوتی ہے۔ان میں کئی ایسے سجبکٹس ہیں جن کو قرآن و حدیث کی تفہیم کے لئے لازمی قرار دیا جاتا ہے جو کہ مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد ہے اور کچھ ایسے سبجکٹس ہیں جو معاون کے طور پر نصاب میں شامل ہیں جیسے کہ منطق و فلسفہ وغیرہ۔ظاہر ہے جو سبجکٹ نصاب کے لئے لازمی ہیں ان کو پڑھانا بہر صورت ضروری ہے ۔اب اگر ان سجبکٹوںکے ساتھ این سی ای آر ٹی کی تمام کتابوںکو بھی اس نصاب میں شامل کردیا گیا تو بچوں کا ذہن اتنا بوجھ اٹھانے کا متحمل نہیں ہوسکے گا اور نتیجتاً وہ نہ تو مدارس کا نصاب مکمل کرپائیں گے اور نہ ہی این سی ای آر ٹی کا۔لہٰذا اس کا بہترین حل یہ ہے کہ حکومت این سی ای آر ٹی کے تمام سبجکٹوں کو مدارس پر تھوپنے کی ضد کے بجائے ان میں سے اہم سبجکٹ جیسے میتھ، سائنس، انگریزی وغیرہ کو لازمی قرار دے اور اس کی وجہ سے طلباء پر جو اضافی بوجھ آرہا ہے اس کو کم کرنے کے لئے مدارس کے ایسے سبجکٹ جو لازمی نہیں ہیں جیسے کہ منطق و فلسفہ وغیرہ اسے اختیار ی بنا دیا جائے ۔ اس سے بچوں کا بوجھ بھی کم ہوگا اور دلچسپی بھی پیدا ہوگی۔
اس کے ساتھ ہی این سی ای آر ٹی کے نصاب کو شامل کرنے میں کچھ سجبکٹ کو متبادل کے طور پر بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ مثلاً مدارس میں ہسٹری میں تواریخ اسلام پڑھائی جاتی ہے جس کی وجہ سے قرآن اور احادیث کے پس منظر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے جبکہ این سی ای آر ٹی کی ہسٹری اس سے بہت الگ ہوتی ہے۔ اگر بچوں کو دونوں طرح کی ہسٹری پڑھائی جائے تو شاید بچے اتنا بوجھ برداشت نہ کرسکیںگے۔ لہٰذا ہسٹری جیسے سجبکٹ میں اسلامی تواریخ کو متبادل کے طور پر تسلیم کرلینا چاہئے۔
حالانکہ ان تجاویز پر عمل کرنے سے ایک دشواری یہ پیدا ہوگی کہ مدارس کے طلباء میں سائنس و میتھ اور انگریزی کا شعور تو پیدا ہوجائے گا مگر وہ دوسرے سبجکٹوں میں جنہیں انہوں نے نہیں پڑھا ہے،پیچھے رہ جائیںگے اور آگے چل کراعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے میں ان کے لئے رکاوٹ پیدا ہوگی ۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے کے اہل نہیں ہوںگے تو اعلیٰ تعلیم اور روزگار کی راہیں کیسے کھلیں گی۔
عملی دشواریوں کا حل ضروری
یقینا یہ ایک اہم سوال ہے اور اس کا حل بھی ریاستی اور مرکزی حکومت دونوں کو مل کر کرنا ہوگا۔ اس کا ایک حل تو یہ ہے کہ ملک کی تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں میں مدارس کے طلباء کے لئے وہی سہولت فراہم کرائی جائے جو مائنارٹی یونیورسٹیوں اور اے ایم یو وغیرہ میں حاصل ہیں۔مثال کے طور پر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اگر دارالعلوم دیوبند کا کوئی طالب علم فضیلت کرنے کے بعد بی اے میں داخلہ لینا چاہتا ہے تو اس کے لئے داخلہ امتحان میں انٹر کی انگلش کاٹیسٹ دینا لازمی ہوتا ہے۔ بقیہ سجبکٹوں میں ان کے لئے چھوٹ دی گئی ہے۔ یہی چھوٹ ملک کے تمام مدارس کے طلباء کے لئے دیگر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں دی جائے اور ان کا ٹیسٹ صرف ان سجبکٹوں کا ہو جن کو انہوں نے نصاب کے طور پر پڑھا ہے (جو بھی این سی ای آر ٹی سے پڑھائے جارہے ہیں ) اور ان سبجکٹوں میں کامیاب ہونے کی صورت میں انہیں داخلے کا مجاز قرارد یا جائے۔
بہر کیف اگر تھوڑی ترمیم کے ساتھ یوپی حکومت این سی ای آر ٹی کے نصاب کو مدارس میں شامل کرنے کا منصوبہ بناتی ہے تو ایسی صورت میں مدارس کے قیام کا جو مقصد ہے کہ قرآن و احادیث کی تعلیم دینا، اس سے وہ دور نہیں ہوں گے اور جو لوگ اس کی مخالفت کررہے ہیں ،شاید ان کی مخالفت بھی ختم ہوجائے اور مدارس کے بیشتر فارغین جنہیں تلاش معاش کے لئے کافی پریشان دیکھا جاتا ہے ،انہیں اس صورت حال سے نجات پانے میں بھی مدد ملے گی کیونکہ فراغت کے بعد ان کے سامنے روزگار کے بہت سے مواقع کھلے ہوں گے۔
جہاں تک وہ طبقہ جو محض شکوک و شبہات اور یوگی کے ہندوتو علامت ہونے کی وجہ سے پس و پیش میں ہے کہ بی جے پی حکومت مدارس پر شکنجہ کسنے کے لئے نئی نئی راہیں تلاش کرتی رہتی ہے اور ان تمام کامقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ مدارس کو پریشان کیا جائے۔اس کا اندازہ حال کے ایک گائڈ لائن سے ہوتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ نیشنل پروٹیکشن آف چائلڈرائٹس کی جاری کردہ نئی گائیڈ لائنس کے تحت ایسے سرکاری و پرائیویٹ اقامتی اداروں کو جانچ کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جہاں 18 سال سے کم عمر کے طلباء قیام کرتے ہیں۔اس گائیڈ لائن میں طلباء کے رہنے کے لئے کمرہ کتنا بڑا ہونا چاہئے ،غسل خانہ، بیت الخلاء ،اسٹڈی روم خاص معیار کے ساتھ موجود ہونا ضروری ہے۔اس کے تمام اقامتی تعلیمی اداروںبشمول مدارس کے ہاسٹل میںطلباء کو ہر سال2 کاٹن بید شیٹ، دری، تکیہ،کمبل ، تولیہ، مچھردانی ،بالوں میں لگانے کا تیل، صابن ،ٹوتھ برش، ٹوتھ پیسٹ،کریم، شمپو وغیرہ ہر طالب علم کو دیناہوگا۔ اس کے علاوہ25 طلبا پرایک وارڈن ، 250 پر سپرنٹنڈنٹ اور ایک اطفال کمیٹی بنے،جن میں مینو کے ساتھ ہر بچے کو یونیفارم بھی مہیا کراناہوگا۔
ظاہر ہے کہ یہ صورتحال کسی بھی مدرسے کے لئے مشکل ترین ہے۔کیونکہ عصری تعلیمی اداروں کے اقامتی نظام کے لئے طلباء سے ہاسٹل ،طعام ،کھیل وغیرہ کی فیس کے نام پر رقم وصول کی جاتی ہے ایسے اداروں کے لئے این سی پی سی آر (نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس) کی نئی گائڈ لائن کو لاگو کرنا آسان ہے لیکن اس کے بر خلاف مدارس کے ہاسٹل میں رہنے والے طلبا سے کسی بھی قسم کی کوئی فیس نہیں لی جاتی ہے ۔اس لے مدارس کے لئے یہ گائڈ لائن مشکل ہے ۔یہی وجہ ہے کہ سوشل ریفارم ایسوسی ایشن (آسرا ) کانپور کے ناظم عمومی محمد شاہد برکاتی نے حکومت کو خط لکھ کر مدارس کو اس گائڈ لائن سے مستثنیٰ رکھنے کامطالبہ کیا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ مدارس کے وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے اعتدال کا راستہ اختیار کرے تاکہ اہل مدارس کا اعتماد بحال رہے اور عمل کرنا بھی مشکل ہو۔
تعلیمی معیار بہتر بنانے کی ضرورت
البتہ ایک دشواری جو اب بھی ہے ۔اس کاسامنا مدارس کے طلباء کو خاص طور پر کرنا ہوگا۔ دشواری یہ ہے کہ یو پی میں عصری تعلیم کا معیار بہت اچھا نہیں ہے ۔اس کے علاوہ یونیورسٹیوں کی تعداد بھی آبادی کی مناسبت سے کم ہے۔ ان یونیورسٹیوں میں اسکولی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا ء کو ہی داخلہ بہ مشکل ملتا ہے تو پھر مدارس کے فارغین کو کیسے مل پائے گا؟ ۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ، شرح خواندگی کے لحاظ سے ہندوستان کی ریاستوں اور مرکز کے ماتحت صوبوں میں اترپردیش 26 ویں مقام پر ہے ۔ گرچہ 2001سے 2011 کے درمیان خواندہ لوگوں کی تعدایہاں 13.45 فیصد کا اضافہ ہوا ہے لیکن ابھی بھی یہ مجموعی خواندگی کی قومی شرح سے بہت پیچھے ہے۔ قومی سطح پر 82.14 فیصد مرد اور 65.45 فیصد خواتین خواندہ ہیں جبکہ ریاست میں مجموعی طور پر خواندہ لوگوں کی تعداد 69.72 ہے ۔اترپردیش میں 866.361 پرائمری اسکول ، 8459 ہائر سیکنڈری اسکول ، 758 ڈگری کالج اور صرف 26یونیورسٹیاں ہیں جبکہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ،ہندوستان کی 16.16 فیصد آبادی اترپردیش میں ہے یعنی اس کی آبادی کی تقریبا 20 کروڑ ہے۔ اب آسانی سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آبادی کی مناسبت سے یہاں یونیورسٹیاں کافی نہیںہیں۔ ایسی صورت میں ریاستی حکومت ان مدارس کے فارغین کو اعلیٰ تعلیم کا بندوبست کیسے کرے گی۔ اس لئے لگتا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ ظاہری اعتبار سے تو خوب تر ہے لیکن عملی جامہ پہنانا مشکل نظر آرہا ہے ۔ہاں اگر حکومت نئی یونیورسٹیوں کے قیام پر توجہ دے اور وہاں مدارس کے فارغین کو خصوصی رعایت ملے تو اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے۔
بہر کیف ریاستی حکومت کی اس منصوبہ بندی کے بعد تین طرح کے نظریات سامنے آئے۔ایک وہ جو مدارس کے نظام کو مو جودہ زمانے میں بے کار سمجھتے ہیں۔ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ مدارس کے نصاب میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے۔تاکہ وہ وقت کے قدم سے قدم ملا کر چل سکیں۔دوسرا طبقہ وہ ہے جو اس نصاب میں معمولی سی تبدیلی کو بھی گوارا نہیں کرنا چاہتابلکہ جو لوگ تبدیلیوں کا مشورہ دیتے ہیں ان کی رائے پر توجہ تک نہیں دیتا اور ایک تیسرا نظریہ ہے کہ مدارس کو موجودہ رائج نظام کے تحت ہی چلنا چاہے ۔ یعنی علوم قرآن و سنت کو ہی بنیادی طور پر پڑھایا جائے اور ظاہر ہے کہ قرآن و حدیث کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔لہٰذا قرآن و حدیث کی وہی کتابیں پڑھائی جائیں جن کے تعلیم و تدریس کا سلسلہ سینکڑوں سالوں سے جاری ہے۔ مگر تفسیر قرآن، شرح حدیث، اور فقہ وغیرہ پر کچھ کتابیں دور حاضر کے اسلو ب میں از سرنو مرتب کرکے شامل کئے جائیں۔

 

 

 

 

 

مسلم ممالک کے کامیاب تجربات
متعدد اسلامی ملکوں نے اپنے یہاں نصاب تعلیم میں تبدیل کیا ہے۔ان میں سعودی عرب نے سابق فرمانروا شاہ عبد اللہ کے دور میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی۔ان کے دور میں لڑکیوں کے لئے ’’شاہ عبدا للہ یونیورسٹی ‘‘بھی قائم ہوئی جس میں ایک ہی کمپلکس کے اندر لڑکے اور لڑکیوں کو تعلیم کا موقع دیا گیا۔ان کے دور میں علوم دینیہ کے ساتھ عصری علوم کی کتابوں کو بھی شامل کیا گیا۔اس ترمیم کے بعد وہاںکی نئی نسل عصری علوم سے بخوبی واقف ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ اب بیرونی ملازمین کی جگہ وہ خود ملک کے کام کاج کو سنبھالنے کی پوزیشن میں آرہے ہیں اور بیرونی افرادی قوت میں تیزی سے کمی کی جارہی ہے۔
مدارس میں عصری علوم کے تعلق سے پڑوسی ملک پاکستان کے مفتی اعظم اور دارالعلوم کراچی کے بانی مفتی محمد شفیع ؒ کی تحریر سے پتہ چلتا ہے کہ مدارس کے نصاب میں تبدیلی وقت کا تقاضہ ہے۔ وہ اپنی کتاب ’’ جواہر الفقہ ‘‘ میں لکھتے ہیںکہ ۔’’درس نظامی جو اب تک ہمارے مدارس میں رائج ہے، علوم دینیہ کی حفاظت و اشاعت کے لئے بلا شبہ کافی ہے مگر ملکی ،دفتری ضروریات بالکل بدلی ہوئی ہیں۔ان میں ہماری قدیم منطق و فلسفہ اور قدیم ریاضی اور فارسی زبان کام نہیں دیتی۔ آج فارسی زبان کی جگہ انگریزی نے لے لی ہے اور قدیم معقولات کی جگہ نئی سائنس اور فلسفہ نے نیز دوسرے علوم جدید نے لے لی ہے۔اگر ہمارے متقدمین اپنے زمانہ کی ضرورت کے پیش نظر فارسی زبان کو اپنا سکتے ہیں۔یونانی منطق و فلسفہ اور ریاضی کی تعلیم کو نصاب کا ایک بڑا جزو بناسکتے ہیں تو ان کا اتباع آج اس میں نہیں ہے کہ ہم اس وقت بھی وہی منسوخ شدہ سکے لے کر بازاروں میں پھریں بلکہ وقت کی ضروریات کے مطاق انگریزی زبان ، فنون جدیدہ (کمپویٹر )کو پڑھنا پڑھانا ،وہی حیثیت رکھے گا جو اس زمانہ میں فارسی زبان اور یونانی فلسفہ کا تھا۔اگر آج اس حقیقت کو سمجھ کر ہمارے علما، فارسی زبان کی جگہ انگریزی کو اور یونانی فلسفہ کی جگہ جدید سانئس اور فلسفہ کو دیں تو اس میں نہ علوم دینیہ کی تعلیم میں کوئی غلط تصرف ہے اور نہ یہ اسوہ اسلاف سے مختلف ہے۔ مضر اسباب سے مکمل پرہیز کرتے ہوئے انگریزی زبان اور عصری علوم و فنون کوپوری کوشش اور توجہ سے حاصل کیاجائے تو پچھلے منطق و فلسفہ سے زیادہ اسلامی عقائد اور اسلامی علوم کے خادم نظر آئیں گے۔‘‘
عصری علوم کو مدارس میں شامل کرنے کا رجحان افریقی ملکوں میں مصر کی ازہر یونیورسٹی مصر میں شیخ رشید رضا نے نصاب تعلیم میں اصلاح کی مہم چلائی۔ جامعہ ازہر کے شعبہ جات کا احاطہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ پرائمری سے لے کر شعبہ جات تک میں عصری علوم کا لحاظ بطور خاص رکھا گیا ہے ۔یہاں تک کہ شعبہ تفسیر قرآن میں دیگر سبجکٹوں کے ساتھ فرانسیسی، انگریزی کے علاوہ یہودی و نصاریٰ کی کتابوں کے اقتباسات انہیں کی زبانوں میں جدید فقہ پڑھائے جاتے ہیں۔
اسی طرح جنوب مشرقی ایشیا کے مشہور مسلم ملک انڈونیشیا کے اندر بھی مدارس میں عصری تعلیم کو آگے بڑھا نے کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔ ابھی حال ہی میں انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا کی ازہر مسجد میں مسلم علماء کونسل کے سربراہ ڈالٹر احمد الطیب نے جو بیان دیا ہے،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مدارس میں خالص مذہبی کتابوں کے بجائے عصری تعلیم کی شمولیت کو ترجیح دے رہے ہیں۔انہوں نے اپنی پوری تقریر میں مدارس کے اندر اعتدال پسند نصاب کو اپنانے پر زور دیا اور کہا کہ یہی جامعہ اور مسجدِ ازہر کا پیغام ہے۔
البتہ فلسطین کا معاملہ اس سلسلہ میں کچھ الگ ہے۔وہاں عصری تعلیم کو خاص طورپر اسرائیلی تیار کردہ نصاب کو مدارس میں حرام کے درجے میں رکھا جاتا ہے۔ابھی حال ہی میں مسجد اقصیٰ کے امام اور خطیب الشیخ عکرمہ صبری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی اسکولوں میں اسرائیلی ریاست کا تیار کردہ نصاب تعلیم فلسطینی بچوں کو پڑھانا حرام ہے۔جو شخص صہیونی ریاست کے وضع کردہ نصاب کو فلسطینی اسکولوں میں پڑھائے گا ،وہ گنہگار ہوگا۔ ایسا کرنا صہیونی ریاست کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔ کسی فلسطینی کے لیے اپنے بچوں کو اسرائیلی اسکولوں میں پڑھانے کے لیے بھیجنا بھی جائز نہیں۔
ویسے برسراقتدار فلسطینی تنظیموں فتح اور حماس عصری تعلیم کے خلاف نہیں ہیں۔ان کا موقف ہے کہ وہ اپنے تیار کئے ہوئے ایسے نصاب کے حق میں ہیں جن میں دینی اور عصری سجبکٹس شامل ہوں۔انہوں نے اپنے طور پر کچھ پیش رفت لی بھی ہیں۔ان حالات میں مسلم ممالک میں رائج تعلیمی نظام کے تجربات کی روشنی میں مناسب محسوس ہوتا ہے کہ اگر ہندوستان کے اندر مدارس کے طلباء کے لئے عصری علوم کو لازمی قرار دیا جارہا ہے تو اس سے کلی طور پر گریز کرنے کے بجائے اعتدال کا راستہ اختیار کرنا مناسب ہوگا تاکہ بچے جب مدارس سے فراغت کے بعد عملی دنیا میں قدم رکھیں تو ان کے سامنے روزگار کے متنوع مواقع کھلے ہوئے ہوں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *