ہندوستانی جمہوریت متضاد طاقتوں کے درمیان پستی جارہی ہے 

ہندوستانی جمہوریت متضاد طاقتوں کے درمیان پستی جارہی ہےپچھلے دنوں اترپردیش میں لوکل باڈیز کے انتخابات ہوئے ۔یوگی آدتیہ ناتھ نے چھاتی ٹھونک کر کہا کہ وہ سب جگہ جیتیں گے۔  انتخابات  ہوتے رہتے ہیں۔لوکل باڈی الیکشن میں کوئی جیتے  یا ہارے، فرق نہیں پڑتا، لیکن سوال یہ ہے کہ الیکشن صاف ستھرا اور بے خطر ہوا یا نہیں؟یہ جو ای وی ایم سے الیکشن کروا رہے ہیں، اس سے تو بڑا شک پید اہو جاتا ہے۔ لوکل باڈی اور پنچایت کے الیکشن تو بیلیٹ پیپر پر ہی ہونے چاہئے۔ ان انتخابات میں ووٹوں کی زیادہ تعداد بھی نہیں ہوتی، اس لئے ان میں ای وی ایم کا استعمال منطقی ہے ہی نہیں۔اگر بی جے پی ثابت کرنا چاہتی ہے کہ حقیقت میں وہ عوام میں مقبول ہے، تو بلیٹ سے الیکشن کرا کے دکھائے۔ وہ جیتے تو کسی کو کیا اعتراض ہوگا؟کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ لیکن یہ جو شک کا ماحول پیدا ہو گیا ہے ، اس سے تو زمبابوے کا الیکشن یاد آرہا ہے۔ وہاں کے لوگوں کی منشا کچھ رہتی ہے اور الیکشن میں کچھ اور دکھائی دیتا ہے۔ فوج اور پولیس سرکار کے ساتھ ہے، تو الیکشن کمیشن یہ اعلان کر دیتا ہے کہ فلاں الیکشن جیت گیا۔ اسی طریقے سے زمبابوے میں موگابے 25 سال سے بھی زیادہ عرصہ  سے حکومت کررہے تھے ۔ ایسا ماحول ملک کے طویل مدتی مفاد کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن ابھی اقتدار  ان کے ہاتھ میں ہے۔جب تک  ہے، تب تک ہے۔ایک اچھی خبر جموں و کشمیر سے آئی کہ پتھربازوں کے خلاف جو ایف آئی آر درج تھی، اسے سرکار واپس لے رہی ہے۔ 4500 ایف آئی آر یعنی 8 ہزار لوگوں اور بچوں کے خلاف درج کیس واپس ہوںگے۔یہ بڑی خوشی کی بات ہے۔ لیکن ایک دوسرا ایشو ہے۔ بی جے پی کے ایک وزیر ہیں، جتیندر سنگھ،جو کہ جموں سے رکن پارلیمنٹ ہیں اور مرکز میں پی ایم او کے وزیر ہیں۔ وہ جس زبان کا استعمال کرتے ہیں، وہ الگ ہے اور دنیشور شرما ،جنہیں آپ نے کشمیر بھیجا ہے، ان کا رویہ الگ ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

شرما معاملے کو نمٹانا چاہتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ محبوبہ مفتی نے دنیشور شرما کی صلاح پر ہی ایف آئی آر واپس لینے کا اعلان کیا۔ اگر ایسا ہے تو یہ صحیح سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے۔ اگر آپ کو کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہے تو پہلے طے کر لیجئے کہ یہی کام کرنا ہے۔ اگر آپ کو آر پار کی لڑائی کرنی ہے، پاکستان کو سبق سکھانا ہے، مسلمانوں کو سبق سکھانا ہے تو کشمیر کا حل نکلنے کا سوال ہی  نہیں پیدا ہوتا۔ اگر حل کرنا ہے تو پہلے آپ کشمیر کے ماحول کو ٹھیک کیجئے۔ پتھر بازی سے کیا مطلب؟ آپ  ایف آئی آر واپس لیجئے، بچوں کو بھی ذرا سانس لینے دیجئے۔ انہوں  نے پتھر ائو کیا تھا سیکورٹی فورسیز پر۔ کشمیر کا جو ماحول ہے، اس کے بارے میں دنیشور شرما سرکار کو رپورٹ کریں گے۔وہاں نفرت  ہندوستان کے تئیں نہیں ہے، ہندوستانی فوج کے تئیں ہے، ہندوستانی پولیس کے تئیں ہے۔ وہ ایک  متضاد  اشارہ ہے ان کے لئے۔ محبوبہ مفتی جتنی جلدی ایف آئی آر واپس لینے کا اعلان کریں گی ، اتنا ماحول بہتر بنانے میں فائدہ ہوگا۔ جیسا کہ میں کہتا آیا ہوں کہ چوکھمبا راج یعنی جمہوریت کا چوتھا ستون تو منہدم ہو چکا ہے ۔ایف آئی آر واپس لینے کا جو اعلان محبوبہ نے کیا ہے، اس کی خبر مجھے ٹویٹر سے ملی۔ کوئی نیوز چینل نہیں دکھا رہا ہے، کیونکہ نیوز چینلوں کو یہ خبر دکھانے سے پہلے پتہ کرنا پڑے گا کہ صاحب کی مرضی کیا ہے۔ محبوبہ کے اعلان کو مودی اچھا کہیں،تو اچھا ہے، مودی خراب کہیں تو خراب ہے۔ آج جتنے چینل اور اخبار ہیں، ان کے سپر ایڈیٹر ان چیف مودی اور امیت شاہ ہیں اور ابھی وہ دستیاب نہیں ہیں۔اسی لئے چینلوں  اور اخباروں کوایسی خبریں بلیک آئوٹ کرنی پڑ رہی ہیں ۔یہ اپنے آپ میں  ایک شرمناک چیز ہے۔ ہندوستانی میڈیا ایمرجینسی کے دور میں بھی اتنا  نہیں  گرا۔ اس وقت تو کم سے کم سنسرشپ کا قانون تھا، اس کے تحت آپ فری تھے، جو من تھا وہ کرنے کے لئے۔یہاں تو ان کہا سنسرشپ ہے۔ سنسرشپ کا قانون نہیں ہے،یہ ان کی مرضی ہے۔ ان کی  سوچ پر ہے کہ یہ اچھی ہے تو اچھی ہے، خراب ہے تو خراب ہے۔ اب یہ صورت حال کو کہاں لے جائے گا،کہا نہیں جاسکتا ۔ ہم نے سب دور دیکھے ہیں۔ 1947سے 1975 کا دور یکدم جمہوری تھا ۔غریبی ہٹائو کا نعرہ دے کر اور بنگلہ دیش جنگ جیت کر اندرا گاندھی مقبول ہوگئیں۔ لیکن صورت حال 1975 تک چرمرا گئی۔ عدم اطمینان پیدا ہوگیا۔ ریلوے اسٹرائک ہو گئی۔ پھر 1975 میں ایمرجینسی لگا دی گئی جو غیر متوقع تھی۔وہ 19 مہینے تک نافذ رہی ۔ اندرا گاندھی نے بھی سوچا کہ تاریخ میں بہت نام خراب ہو جائے گا، جواہر لال نہرو کی بیٹی ہوکر  میں یہ کیا کررہی ہوں؟

 

 

 

 

 

 

انہوں  نے ایمرجینسی ہٹا لیا۔ نتیجتاً آج اندرا گاندھی کی ایمرجینسی اتنی یاد نہیں آتی ہے جتنا لوگوں کو ان کا دور حکومت یاد آتا ہے۔ اس لئے ایمرجینسی کے بعد 1980  میں وہ دوبارہ اقتدار میں آ گئیں۔ پھر سورن مندر حادثے کے بعد ان کا قتل ہو گیا۔ تاریخ تو طویل چلتی ہے ۔ تاریخ روز کے بیانوں سے نہیں بنتی۔ انہوں نے کہہ دیا کہ منموہن سنگھ، مون موہن سنگھ ہیں۔یہ کون سا بول ہے ۔یہ بھی تو مون ہیں، یہ مون نریندر مودی ہیں۔ یہ جملہ بازی الیکشن میں ٹھیک لگتا ہے، تاریخ میں اس کا رول نہیں ہے۔ اگر جلد ی سے مودی جی نے قدم نہیں اٹھایا  تو سمجھئے کہ یہ جمہوریت پوری طرح سے ختم ہو ہی جائے گی۔ ہر دن ، ہر پل ہندوستانی  جمہوریت   متضاد  طاقتوں کے درمیان پستی جارہی ہے۔ ایک طرف پونجی کی طاقت ہے۔ چار پانچ گھرانے ہیں، جو قانون بھی اپنے ہاتھ سے ہی بنارہے ہیں۔ایک اور ایشو ہے کہ سرکار انسالوینسی کوڈ لائی تھی۔ اس کے تحت کہا گیا تھا کہ جو  کمپنیاں  نہیں چل رہی ہیں،ان کی نیلامی کرکے بینک اپنا پیسہ وصول کریں گے۔اب سرکار اس میں  ترمیم کررہی ہے۔ ارون جیٹلی نے اعلان کیا ہے کہ جن کی کمپنی تھی، وہ نیلامی میں اسے نہیں لے سکتے۔ کیوں؟کیونکہ اسّار ، روئیا کی کمپنی یہ جندل کو دینا چاہتے ہیں۔ جندل ان کے قریب ہیں۔ یعنی اب صرف ایک طبقہ کے حق میں نہیں ، بلکہ ایک آدمی کے حق میں قانون بن رہا ہے۔ ایسا تو اندرا جی کے وقت بھی نہیں  ہوا۔ یہ تو روس کا پیٹرن ہے۔ حکم ہو گیا کہ یہ چار آدمی اچھے ہیں، تو اچھے ہیں اور چار آدمی خراب ہیں تو خراب ہیں۔ بولنے والا کوئی ہے نہیں۔ عدلیہ اپنے آپ میں پھنسا ہوا ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا سپریم کورٹ  کے فیصلے کو ہی 24 گھنٹے میں پلٹ دیتے ہیں، جس میں وہ خود بھی شامل ہیں۔ عقائد و اقدار غائب  ہورہے ہیں۔ مضحکہ خیز یہ ہے کہ یہ جواہر لال نہرو کی ہنسی اڑاتے ہیں۔ جواہر لال نہرو اور ان لوگوں میں کافی فرق ہے۔ جیسا فرق بھگوان اور انسان کے بیچ ہے۔ اسی طرح جواہر لال نہرو اور ان لوگوں میں فرق ہے۔یہ تو بیدردی کی حد ہے۔ روئیا گروپ سے میرا کوئی مطلب نہیں ہے۔ میں ان کی وکالت نہیں کررہا ہوں لیکن انہوں  نے اپنی ریفائنری بیچ کر بینک کا 60 ہزار کروڑ روپے واپس دے دیا، اس کے لئے تو انہیں شاباسی دیجئے۔ اب ان کی اسٹیل کمپنی جندل کو دلانے کے لئے بل پاس کیا جارہا ہے۔ ہم جیسے غیر جانبدار لوگوں کو اس سے مایوسی ہوتی ہے۔ مودی نیو انڈیا بنانے کی بات کرتے ہیں، لیکن یہ تو نیو انڈیا کے آثار نہیں ہیں۔ اگر نیو انڈیا ایسا انڈیا ہوگا تو پھر پرانا انڈیا ہی ہمارے لئے بہت ٹھیک تھا۔ دیکھتے ہیں ،آگے کیا ہوتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *