موجودہ حالات میں دین اسلام پر ثابت قدمی سے کام لیں مسلمان: مولانا محمد رحمانی مدنی

muhammad-rahmani-madani

اس وقت دنیا کے مختلف خطوں میں جو حالات چل رہے ہیں ان میں ہمیں صرف اللہ پر اعتماد اور توکل کرکے اللہ سے اپنا رشتہ مضبوط کرنا چاہئے۔ہمارے حق میں کوئی آواز اٹھائے نہ اٹھائے ہم اس کے محتاج نہیں ہیں بلکہ ہمیں اللہ سے اپنے مسائل کا شکوہ کرکے اپنے آپ کو اتنا صاف ستھرا بنانا چاہئے کہ رب کائنات ماضی کی طرح آج بھی ہمارے معاملات اور مصائب ومشکلات میں ہمارا معاون ومدد گار ثابت ہو، اگر ہمارا رشتہ اسلام اور اسلامی تعلیمات سے پختہ ہوگیا اور ہم نے صحیح دین کو اپنا کر اس میں ثابت قدمی اختیار کرلی اور رب کریم کے احکامات پر عمل کرکے اس پر اعتماد کو بحال کرلیا تو ہماری تعداد اگرچہ کروڑوں کے بجائے صرف لاکھوں ہی میں کیوں نہ ہو ہم کامیاب ہوسکتے ہیں اور ساری دنیا ہماری قدم بوسی پر مجبور ہوسکتی ہے۔ آخر ہم مایوس کیوں ہیں اور ہماری ہمت پست کیوں ہورہی ہے جب کہ ہماری ماضی کی تاریخ بہت روشن ہے،ہمارے پاس قرآن مجید جیسی کتاب ہدایت ہے، اور نبی آخرالزماں کی پاکیزہ وعظیم سیرت ہے، ہمارا دستور ہمارے نبی کی احادیث اور صحابۂ کرام کا اسوہ ہے۔ ہندوستان میں بھی جنگ آزادی اور اس سے پہلے ہماری تاریخ کے صفحات انتہائی روشن ہیں، اسلام اوراسلامی تعلیمات کے پیروکار علماء، فقہاء اور محدثین کرام کی تاریخ کا باب بھی بالکل واضح اور روشن ہے تو ہم کیوں مایوس ہوتے ہیں اور ہمیں خوف کیوں اور کس بات کا لاحق ہے؟ ہماری ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ ہم اپنی تاریخ کے اوراق کو پلٹیں اور نئی نسل کو بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق نکھاریں اور ان کو سچا مسلمان بنائیں۔

 

 

 

 

 

ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا۔مولانا موجودہ حالات میں ثابت قدمی کی اہمیت اور اس کے وسائل کے موضوع پر خطاب فرمارہے تھے۔
خطیب محترم نے عالمی سیاسی تناظر سے متعلق بھی مسلمانوں سے اپیل کی کہ ہمیں عالمی صورت حال کودقت نظری اور انصاف سے دیکھنا چاہئے اور توحید واتباع سنت کی حمایت کرنے والوں کی مخالفت سے پرہیز کرنا چاہئے، خرابیاں اور کوتاہیاں سب میں ہیں، لیکن اساس اوربنیادیں جس کی توحید وسنت پر ہیں ان کی حمایت ہمارا دینی فریضہ ہے۔ آج مسلمان دو دھڑوں میں تقسیم ہوگیا ہے اورعجیب بات ہے کہ ہم جنس پرستی، زناکاری اور بدعات کی وکالت کرنے والوں کو آج اسلام پسند سمجھ کر انہیں اسلامی قائد تسلیم کیا جاتا ہے، اسرائیل کے سفارتخانہ کو اپنے ملک میں تسلیم کرنے والے بھی آج اسلام کے ترجمان بنے بیٹھے ہیں جب کہ اسرائیل کو نہ تسلیم کرتے ہوئے اس کے سفارتخانہ کو اپنے ملک میں جگہ نہ دینے والوں کو آج اسلام مخالف باور کرایا جارہا ہے، آج ہمیں ان حساس حالات میں بہت ہی انصاف اور باریک بینی کے ساتھ فیصلے لینے ہوں گے تاکہ کہیں ہم غیرشعوری یا شعوری طور پر ظالموں کا ساتھ نہ دے بیٹھیں۔
خطیب محترم نے ثابت قدمی کے وسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایاکہ قرآن مجید کا مطالعہ کرنے اور اس کو اپنانے سے ثابت قدمی پیدا ہوتی ہے جیسا کہ سورۂ فرقان کی آیت نمبر32میں اس کا ذکر آیا ہے۔ انبیاء کی سیرت اور قرآنی قصوں سے بھی انسان میں پختگی آتی ہے اس کا ذکر قرآن مجید کی سور�ۂہود کی آیت نمبر 120میں موجود ہے۔ علم کا حصول اور اس کے مطابق عمل کرنا بھی اس کا بنیادی وسیلہ ہے جس کا ذکر سورۂ نساء کی آیت نمبر 66میں موجودہے۔ ثابت قدمی کے لئے دعا کرنا بھی اس کا بنیادی وسیلہ ہے اور اس کا اہتمام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی برابر کرتے تھے۔اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرکے اس کو لازم پکڑا جائے جیسا کہ سورۂ کہف میں اللہ رب العالمین نے آیت نمبر 28میں اس کا ذکر کیا ہے۔ اخیر میں مسلمانوں سے دین کی طرف رجوع کرنے اور صحیح انداز فکر اور انصاف سے کام لینے کی اپیل اور دعائیہ کلمات پر خطبہ جمعہ ختم ہوا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *