ہندوستان میںمسلم خواتین کا تعلیمی امپاورمنٹ کیسے اور کیوں؟

2011 کی مردم شماری کے مطابق فی الوقت ہندوستان میں 57.15 فیصد خواندہ مسلم پائے جاتے ہیں جن میں مرد 62.41 فیصد اور خواتین 51.9 فیصد ہیں۔ اسی مردم شماری کی روشنی میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسلم خواتین گریجویٹ 2.07 فیصد ہیں۔ مسلم خواتین میں 1896 کے بعد خواندگی اور تعلیم کا رجحان اور گراف بڑھا ہے مگر یہ دیگر مذہبی کمیونیٹیوں کے بالمقابل تب بھی بہت کم ہے ۔عیاں رہے کہ ملک کی خواندہ خواتین میں اس وقت 55.98 ہندو، 84.93 جینی ، 71.97 عیسائی ، 63.29 سکھ، 65.6 بدھسٹ ،41.38 فیصد دیگر ہیں۔
دیگر مذہبی کمیونیٹیوں کے مقابلے مسلم خواتین کی خواندگی اور تعلیم کا فیصد یقینا کم ہے مگر جو بھی ہے پہلے کے مقابلے بہتر ہے ۔اس کا سہرا علی گڑھ میںسرسید احمد خاں کی قیادت میں شروع کی گئی محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے تحت 1896 میں قائم کئے گئے مسلم سیکشن کے سرجاتا ہے۔ جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ بہت لبرل ہونے کے باوجود سرسید مسلم بچیوں کی مخلوط تعلیم کے مخالف تھے، لہٰذا یہ طے ہو اکہ 1875 میں ان کی قائم کردہ تعلیم گاہ محمڈن اینگلو اورینٹل اسکول جہاں 1877 میں کالج کی بھی پڑھائی ہونے لگی، میں صرف مسلم بچوں کی یک جنسی تعلیم ہوتی رہے اور اس سے الگ مسلم بچیوں کی تعلیم کا نظم کیا جائے۔
اس تعلق سے یہ ذمہ داری پاپا میاں کے نام سے مشہور نو مسلم مصلح شیخ عبد اللہ کو دی گئی۔ 1898 میں تو سرسید کا انتقال ہوگیا۔ 19اکتوبر 1906 کو پاپا میاں نے اپنی اہلیہ وحید جہاں بیگم کے ساتھ مل کر عملی طور پر تعلیم مسلم نسواں کا کام شروع کرتے ہوئے ملک میں پہلا زنانہ مدرسہ (گرلس اسکول ) کھولا۔ اس میں دینیات بشمول قرآن کے ساتھ ساتھ اردو، ریاضی، ایمبرائڈری ، کوکنگ، گیمس، تاریخ اور جغرافیہ پڑھایا جاتاتھا۔ 1914 کے بعد انگریزی بھی بطور سبجیکٹ پڑھائی جانے لگی۔ 1921سے ہائی اسکول اور 1922 سے یہان انٹر میڈئیٹ کی پڑھائی ہونے لگی۔ 1937 میں یہ علی گڑھ یونیورسٹی سے ملحق ہوگیا مگر اس کا نظم بالکل الگ رہااور بچیاں عبد اللہ ہاسٹل میں رہ کر عبداللہ اسکول اور عبداللہ کالج میں پڑھتی رہیں۔ اس وقت یہاں ملک و بیرون ملک سے 2767 بچیاں زیر تعلیم ہیں۔ یہاں 32 کورسز کی پڑھائی ہوتی ہے۔

 

 

 

 

انٹرمیڈ ئیٹ کے بعد ٹیکنیکل کورسز پڑھنے والی بچیاں اے ایم یو کے پروفیشنل اداروں مثلاً انجینئرنگ میڈیکل و دیگر میں بچوں کے ساتھ مخلوط تعلیم حاصل کرتی ہیں۔گریجویشن کے بعد بھی بچیاں اعلیٰ تعلیم بچوں کے ساتھ مخلوط ماحول میں لیتی ہیں۔ اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔اس طرح پاپا میاں اور ان کی بیگم کے ذریعے بچیوں کی تعلیم کا سلسلہ جس انداز میں علی گڑھ میں شروع ہوا، وہ اپنے آپ میں تاریخ ہے، اس کی پذیرائی ہونی چاہئے۔ 1937 میں اے ایم یو سے پاپا میاں کی بچیوں کی تعلیم گاہ کو ملحق کرایا جانا بھی ایک بڑا کام تھا۔ الحاق کے وقت ایک بڑی شرط یہ تھی کہ گریجویشن تک بچیاں اے ایم یو کے تحت بالکل الگ ماحول اور نظم میں تعلیم حاصل کریں گی اور اس کے بعد سن بلوغت میں پہنچنے پر بچوں کے ساتھ مخلوط تعلیم حاصل کریں گی اور انہیں پروفیشنل کورسز کرنے میں بھی انٹر میڈئیٹ کے بعد کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ اس نظم کے تحت صرف مسلم ہی نہیں،دیگر کمیونیٹیوں کی بچیاں گزشتہ 80برسوں میںیہاں سے نکلی ہیں اور تعلیمی امپاورمنٹ سے مستفیض ہوتے ہوئے ملک کا نام اونچا کیا ہے۔
اس پورے پس منظر میں اے ایم یو میں بچیوں کی تعلیم کو دیکھنا چاہئے مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یو جی سی کے ذریعے قائم کردہ آڈیٹ کمیٹی نے اے ایم یو میں بچیوں کی عمومی گریجویشن تک مخصوص علاحدہ تعلیم کے نظام اور تاریخ پر غور کئے بغیر یہ سفارش کردی ہے کہ ملک کے دیگر تعلیم گاہوں کی مانند اے ایم یو میں بھی شروع سے مکمل طور پر مخلوط تعلیم دی جائے۔ آڈیٹ کمیٹی کی یہ سفارش علی گڑھ میں مسلم تعلیم نسواں کے بانی پاپا میاں کے جذبہ کے تئیں عدم احترام ہوگا اور اسی کے ساتھ ساتھ یہ اے ایم یو کی روایت کی خلاف ورزی بھی ہوگی۔ یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہئے کہ اے ایم یو سے فارغ بچیوں کے لئے پاپا میاں کا احترام بانی اے ایم یو سرسید کے مساوی ہے ۔یہ ان سب کے مشفق مسیحا ہیں۔

 

 

 

 

جہاں تک بچیوں کے والدین یا سرپرستوں کا معاملہ ہے، انہیں بھی اس سے سخت بے چینی ہے۔ کیونکہ والدین اپنی بچیوں کی تعلیم میں اس امر کو ضرور دیکھتے ہیں کہ ان کی بچی کو کتنی پرائیویسی اور حفاظت و سلامتی مل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پورے ملک میں تعلیم حاصل کرنے والی مسلم بچیوں میں سب سے زیادہ تعداد اے ایم یو ہی میں پائی جاتی ہے۔یہ معاملہ صرف گارجین کا ہی نہیں ہے، خود مسلم بچیاں بھی اس بات کو پسند کرتی ہیں کہ انہیں شروع میں نسوانی ماحول ملے اور پھر جب وہ سن بلوغت کو پہنچ جائیں اور ہوشیار ہوجائیں تو مخلوط ماحول میں بلا خوف اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکیں۔
یہ سب کچھ نفسیاتی طور پر بھی ہے کہ بچیاں یا خواتین اپنا ماحول ممکنہ حد تک چاہتی ہیں۔ تبھی تو مسلم کمیونٹی کے علاوہ بھی ملک میں دیگر کمیونٹیوں اور اس سے اوپر اٹھ کر سرکاری سطح پر بچیوں کا الگ سے اسکول اور کالج قائم ہے اور خاتون یونیورسٹیاں بھی قائم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دہلی میں تو دہلی یونیورسٹی کے تحت کئی ویمن کالج ہیں۔ اسی شہر میں لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج بھی قائم ہے۔
ان سب حقائق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اے ایم یو میں گریجویشن سطح تک بچیوں کی تعلیم کا 80 برسوں سے جو علاحدہ نظم چلا آرہا ہے، وہ کوئی انوکھا اور عجوبہ نہیں ہے۔ اس طرح کا نظم دیگر غیر سرکاری اور سرکاری سطح پر بھی قائم ہے۔لہٰذا یہ عین فطری ہوگا کہ مرکزی حکومت مذکورہ آڈیٹ کمیٹی کی اے ایم یو میں بچیوں کی علاحدہ تعلیم کے نظم کو ختم کرکے مخلوط تعلیم کی سفارش پر نظر ثانی کرے اور وہاں رائج علاحدہ تعلیم کے اس سلسلے کو قائم رکھے۔
ویسے یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ تعلیم ہی میں نہیں بلکہ دیگر شعبہ حیات میں بھی خواتین کے معاملوں میں یہ احتیاط رکھا جاتاہے۔ تبھی تو خواتین کا علاحدہ ریلوے ریزرویشن کائونٹر ہوتا ہے، علاحدہ خاتون بس سروس ہوتی ہے، ریل میں علاحدہ خاتون کوچ ہوتا ہے اور اب میٹرو میں بھی علاحدہ کوچیز دیکھے جارہے ہیں۔ یہ سب فطری تقاضے ہیں۔ ان سے گریز کرتا فطرت کے خلاف عمل ہوگا اور یہ خود خواتین کے حق میں نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اکثریت ان خواتین کی ہے جو علاحدہ نظم کے حق میں ہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *