ہندو مذہب امن پسند مذہب ہے لیکن مسلم مسائل اور بابری مسجد پر پرتشدد واقعات غیر انسانی عمل ہے:مولانامحمدرحمانی

muhammad-rahmani

آنے والے ہفتہ میں ہمارے سامنے دو اہم حادثات انتہائی عبرت ناک اور تشویشناک ہیں۔12؍ربیع الأول کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا حادثہ عالم اسلام کا سب سے بڑا حادثہ تھا۔ صحابۂ کرام حواس باختہ تھے ، اللہ کے رسول کی وفات سے پہلے ایسی کیفیت تھی کہ نہ اٹھ بیٹھ سکتے تھے اور نہ چل سکتے تھے، آپ کو مسجد تک بھی کندھوں کا سہارا دے کر لایا جاتا تھا،بیماری میں کمزوری کا یہ عالم تھا کہ گفتگو کرنا بھی مشکل ہوگیا تھا،مسواک بھی چبا کر دیا جاتا تھا، بخار کی ایسی شدت تھی کہ بیٹھتے تو عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پیٹھ پر سہارا لے کر بیٹھتے، ایسی کیفیت میں بھی آپ نے امت اسلامیہ کو عورتوں اور غلاموں کے ساتھ بہتر سلوک کی وصیت فرمائی، نماز کی پابندی پر ابھاتے رہے، اور قبر پرستی نیز قبروں پر سجدہ کرنے والے یہود ونصاری پر لعنت بھیجتے رہے۔ آپ نے وصیت فرمائی کہ میری قبر پر بھیڑ مت لگانا اور نہ اسے عید بنانا۔لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ آج بعض مسلمان 12؍ربیع الأول کو عید میلاد کے نام پر جشن مناتے ہیں اور بہت سی غیر اسلامی چیزوں کو انجام دیتے ہیں۔جب کہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی نبی کی پیدائش کا دن منایا اور نہ صحابۂ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا دن منایا اور نہ ہی علماء وفقہاء عظام نے ایسا کچھ کیا ۔ اس غیر شرعی عمل کی ابتداء امام سیوطی رحمہ اللہ اور دوسرے بہت سے علماء کی تحقیق کے مطابق اربل کے بادشاہ مظفر ابوسعید نے 625ھ میں کی اور اس دن جشن کا اہتمام کرکے ناچ گانے اور بہت سے غیر اسلامی رسوم ورواج کو بڑھاوا دیا۔اس عمل کے جواز کا اسے جس شخص نے فتوی دیا تھا وہ ابوالخطاب نامی آدمی تھا جو علماء اسلام کی نظر میں کذاب اور ناقابل اعتبار نیز غیر صحیح النسب انسان تھا۔اور آنے والے ایام کا دوسرا بڑا حادثہ 6؍دسمبر کو بابری مسجد کی 25ویں برسی ہے۔

 

 

 

 

 

ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر،نئی دہلی کے صدر جناب مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا۔مولانا جشن عیدمیلاد اور بابری مسجد کی شہادت پر گزرے 25؍برس کے موضوع پر خطاب فرمارہے تھے۔مولانا نے مزید فرمایا کہ بابری مسجد کی شہادت پر 25؍برس کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس کی برسی کی تاریخ ایک بار پھر ہمارے سامنے ہے، مسجد کے انہدام کے نتیجہ میں پورے ہندوستان میں جو قتل وغارت گری ہوئی اس کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جنہوں نے غنڈہ گردی کرکے مسجد کو منہدم کیا، 1527ء سے1992ء تک مسجد کا وجود اس کے مسجد ہونے کی دلیل ہے، بابر نامہ یا اس دور میں لکھی گئی کتابوں میں کہیں بھی رام جنم بھومی کا کوئی تصور نہیں ہے اور کئی صدیوں تک مسجد کا قائم رہنا اس کے وجود کی دلیل ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ مسجد کا انہدام دہشت گردی کی ایک مثال ہے اور وطن عزیز کی جمہوریت پر ایک بدنما داغ بھی ۔ یہاں اقلیات اور ان کی عبادت گاہوں کو تحفظ ملنا چاہئے وہ بھی ملک کے عزت دار شہری ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ جو پارٹیاں مسلمانوں اور اقلیات کے ووٹوں کے ذریعہ اقتدار میں آتی ہیں، وہی اقتدار میں آنے کے بعد ان کے ساتھ ناانصافی کر تی ہیں اور مذہب کے نام پر سیاست کرتی ہیں۔

 

 

 

 

خطیب محترم نے وضاحت کے ساتھ فرمایا کہ ہندو مذہب ایک امن پسند مذہب ہے لیکن مذہب کے نام پر سیاست کا کھیل اور تشدد انتہائی مذموم اور گھناؤنی حرکت ہے، ہندوستان میں جو مذہب کے نام پر سیاست کھیلی جارہی ہے اور خود مسلمانوں کی بعض تحریکات اور تنظیمیں بھی اس کا آلہ کار بن رہی ہیں یہ ناقابل معافی جرم ہے ۔ ہمیں مسلمان ہونے کی حیثیت سے اتحاد کا ثبوت پیش کرنا ہوگا اور اپنے اعمال کو درست کرنا ہوگا۔اخیر میں مولانا نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے نبی کی سیرت اور اتباع کا حق ادا کریں، مساجد کے تحفظ کے لئے خود اپنے اندر دین داری پیدا کرکے مسجدوں کو آباد کریں اور اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کریں نیز دشمنوں کا آلۂ کار بننے سے بچیں۔اخیر میں دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *