جے این ایم سی میں دل کا ہائی بِرڈ آپریشن کا میاب، 50سالہ مریض صحت یاب

Team-of-JNMC-Surgeon
جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے کارڈیوتھوریسک سرجری شعبہ اور سنٹر آف کارڈیالوجی نے 50؍سال کے ایک مریض پر پہلا ہائی بِرڈ مایوکارڈیئل ریویسکولرائزیشن پروسیجر کامیابی کے ساتھ پورا کیا ۔ 4؍گھنٹے کے آپریشن کے بعد مریض کی حالت بہتر ہوگئی اور اسے ڈسچارج کردیا گیا۔ جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں ہائی بِرڈ پروسیجر اپناکر یہ پہلا آپریشن کیا گیا تھا۔
علی گڑھ کے گاؤں اُدگیر کے رہنے والے شیخاوت کو سینے میں درد کے بعد جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج لایا گیا تھا۔ اینجیوگرافی کے بعد پتہ چلا کہ مریض کے دل کی تینوں خون کی نلیوں میں رکاوٹ ہے اور دل کے سکڑنے کی صلاحیت بہت کمزور ہے۔ اس پر کارڈیالوجسٹ اور کارڈیوتھوریسک سرجنوں کی ٹیم نے ہائی بِرڈ پروسیجر اپنانے کا فیصلہ کیا۔ سب سے پہلے پروفیسر ایم یو ربانی ، پروفیسر آصف حسن ، ڈاکٹر ملک اظہرالدین اور ڈاکٹر رفیع انور کی ٹیم نے ایک نلی کی رکاوٹ ختم کرنے کے لئے اسٹینٹ ڈالا اور پھر کارڈیوتھوریسک آپریشن تھیٹر میں دو نلیوں کی رکاوٹ دور کرنے کے لئے بیٹنگ ہارٹ بائی پاس کیا گیا۔ کارڈیوتھوریسک سرجنوں کی ٹیم میں پروفیسر ایم ایچ بیگ، ڈاکٹر محمد اعظم حسین، ڈاکٹر احتشام حسین نقوی، ڈاکٹر مامون کریمی اور ڈاکٹر شیامل ربانی شامل تھے، جب کہ انستھیسیا ڈاکٹر ندیم رضا اور ان کی ٹیم نے دیا۔ یہ آپریشن چار گھنٹے تک چلا اور مریض پوری طرح صحتمند ہوگیا جس کے بعد اسے میڈیکل کالج سے چھٹی دے دی گئی۔ مریض اور اس کے رشتہ داروں نے کامیاب آپریشن پرخوشی ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کا شکریہ ادا کیا۔
کارڈیوتھوریسک سرجری شعبہ کے چیئرمین پروفیسر ایم ایچ بیگ نے بتایا کہ جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں یہ پہلا ہائی بِرڈ پروسیجر تھااور سرجنوں کی ٹیم اس طریقے سے آپریشن کو آگے بھی جاری رکھنے کے لئے کافی پرجوش ہے۔ ڈاکٹر محمد اعظم حسین نے بتایا کہ یہاں پر بیٹنگ ہارٹ بائی پاس سرجری ایک معمول کی طرح کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر احتشام حسین نقوی نے بتایا کہ جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں اکیلے اسی سال دل کی تقریباً 50؍سرجری کی گئی ہے۔ فیکلٹی آف میڈیسن کی ڈین اور میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ایس سی شرما نے اس کامیابی کے لئے طبی عملہ کو مبارکباد پیش کی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *