محنت غریب بچے کرتے ہیں اور سونا امیر لے جاتا ہے

labour
دنیا کے غریب ترین ملکوں میں شمار ہونے والے مغربی افریقی ملک مالی کی کانوں سے ہر سال تقریباً 46 ٹن سونا برآمد کیا جاتا ہے۔ اس میں سے چار ٹن سونا مختلف خاندانوں کے زیر انتظام چھوٹی چھوٹی کانوں سے حاصل کیا جاتا ہے ۔یہاں سونا نکالنے کا کام زیادہ تر بچے انجام دیتے ہیں۔ حقوقِ انسانی کی علمبردار تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق صرف ملک مالی ہی میں اس طرح کی چھوٹی چھوٹی کانوں میں کام کرنے والے بچوں کی تعداد20 سے 40 ہزار کے درمیان ہے، جن میں سے کئی کی عمر 6 سال بھی ہوتی ہے۔
سونا نکالنے کے لئے سطحِ زمین سے عمودی رْخ میں پچاس میٹر تک کا سیدھا گڑھا کھودا جاتا ہے اور نیچے جا کر مختلف سمتوں میں مزید سرنگیں کھودی جاتی ہیں۔ بچے اْن میں اْتر کر پھاوڑے کی مدد سے کھودتے ہیں اور تھیلوں میں مٹی اور پتھر بھر بھر کر اوپر لاتے ہیں۔ ان بچوں کی صحت کے بارے میں ہیومن رائٹس کی کِپن برگ بتاتی ہیں کہ ’’اس سخت اور نڈھال کر دینے والے کام کے نتیجے میں بچوں کو کمر، جوڑوں اور سر میں شدید درد رہتا ہے۔ بہت چھوٹے لیکن بھاری بوجھ اٹھانے والے بچوں کی ریڑھ کی ہڈی کو مستقل بنیادوں پر نقصان پہنچتا ہے۔‘‘ سوئٹزرلینڈ کی ایک غیر سرکاری تنظیم سے وابستہ صحافی پیٹر ڈوئری کو بْرکینا فاسو میں یہ مشاہدہ کرنے کا موقع ملا کہ بچے نہ صرف معدنی کانوں میں بارہ بارہ گھنٹوں کی شفٹوں میں کام کرتے ہیں بلکہ اْن سے بھاری مشینوں پر بھی کام لیا جاتا ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *