سابق امریکی صدر کی تشویشات ہندوستان میں مذہبی تشدد ختم ہونا چاہئے

ہندوستان میں اقلیتوں کی بے چینی کو کسی نہ کسی شکل میں بیرون ملک محسوس کیا جارہا ہے اور اس کے لئے زبانی بیانات اور عملی اقدامات ہوتے رہتے ہیں تاکہ ان بے چینیوں کی راہ میں مثبت پیش رفت ہو۔ ابھی کچھ دنوں پہلے ایک خبر آئی تھی کہ امریکہ ہندوستان کی کچھ تنظیموں کو 5لاکھ ڈالر اس مقصد سے جاری کرنا چاہتا کہ کہ وہ تنظیمیں اس رقم کی مدد سے ہندوستان میں مذہبی تشدد کو روکنے میں کردار ادا کریں۔اس کا صاف مطلب ہے کہ امریکہ کی موجودہ حکومت ہندوستان میں مذہبی تشدد کو محسوس کررہی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ امریکہ کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔اس سے پہلے امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے بھی ایک موقع پر کہا تھا کہ ہندوستان کو اپنی مسلم آبادی کی قدر کرنی چاہئے اور ان کا پورا خیال رکھنا چاہئے جو خود کو ملک سے وابستہ ہندوستانی مانتی ہے۔ اوباما نے یہ باتیں ایچ ٹی لیڈر شپ سمٹ میں کہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سال 2015 میں بطور صدر ہندوستان کے آخری دورے پر بھی انہوں نے وزیر اعظم مودی کے ساتھ بند کمرے میں ہوئی میٹنگ میں مذہبی رواداری کی ضرورت اور کسی بھی مذہب کو ماننے کے حق پر زور دیا تھا۔

 

 

 

 

سال 2009 سے 2017 تک امریکہ کے صدر رہے اوباما نے اپنے دورہ کے آخری دن بھی اسی طرح کا تبصرہ کیا تھا۔ ہندوستان سے جڑے ایک سوال کے جواب میں اوباما نے ملک کی بڑی مسلم آبادی کا ذکر کیا ، جو کامیاب ، جڑا ہوا اور خود کو ہندوستانی مانتی ہے۔سابق امریکی صدر نے کہا کہ بدقسمی سے کچھ دیگر ممالک کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ پاکستان سے دہشت گردی کے فروغ سے وابستہ ایک سوال کے جواب میں اوباما نے کہا کہ ہمیں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ پاکستان کو اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں کچھ بھی معلوم تھا ، لیکن ہم نے اس معاملہ پر یقینی طو رپر غور کیا تھا۔
اپنے دورہ ہندوستان کے موقع پر صدر بارک اوباما نے وداعی سے پہلے دہلی کے سری فورٹ آڈیٹوریم میں اپنی زائداز نصف گھنٹہ تقریر میں کئی اہم مسائل کا جو ہندوستان سے راست تعلق رکھتے ہیں، دلچسپ انداز میں ذکر کیا۔ دیگر باتوں کے علاوہ ہندوستان میں مذہبی رواداری، مذہبی آزادی، ہر شخص کو اپنے عقیدہ پر قائم رہنے کی حق کی بات کرکے یہ تاثر دیا کہ ان مسائل پر ہندوستان کی موجودہ حکومت کو بطور خاص غور کرنا چاہئے۔ صدر اوباما نے ایک لحاظ سے مودی حکومت کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا۔ توقع کے مطابق اس کا منفی اور مثبت ردعمل بھی دیکھنے میں آیا۔ بعض گوشوں نے اس کو غیرضروری مداخلت قرار دیا تو بہت ساروں نے اس کا خیرمقدم کیا۔
آخر اوباما کو کیا پڑی تھی کہ وہ یہاں آ کر ہمیں سبق دیں کہ ہندوستان مختلف مذاہب کا ملک ہے، یہاں کئی زبانیں، ثقافتیں، کئی عقائد اور کئی مذاہب کے لوگ ہیں۔ یہ ایک گلدستہ ہے جس کی خوبصورتی اور مہک اس کی ’’صدرنگی‘‘ سے ہے کیوں انہوں نے اپنی تقریر میں ہندوستان کو مشورہ دیا کہ وہ مذہبی رواداری، بھائی چارہ اور عقائد کا احترام کرے۔ ایک بیرونی ملک کے سربراہ کو یہ کیوں محسوس ہوا کہ ہندوستان میں ان اہم باتوں کی کمی ہورہی ہے۔ یہ پہلا اتفاق نہیں کہ کسی امریکی صدر نے ہندوستان کا دورہ کیا۔

 

 

 

 

 

اوباما کا دورہ ان ہی معنوں میں اہم ہے کہ انہیں میزبان ملک ہندوستان کی داخلی صورتحال پر تبصرہ کرنا پڑا۔ ایسے حالات ملک میں پیدا ہوئے کہ سابق صدر امریکہ کو یہ کہنا پڑا کہ اقلیتوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں ،کیوں انہوں نے کہا کہ ہر مذہب کے ماننے والے کو اپنے عقیدہ پر قائم رہنے کی چھوٹ ہونی چاہئے۔ کیا انہوں نے محسوس کیا کہ موجودہ حکومت میں بعض ایسے عناصر ہیں جو ہماری رنگارنگی تہذیب کو ہماری قوت برداشت کو بین المذہبی تحمل پسندی کو مٹا دینا چاہتے ہیں؟ اگر انہوں نے ایسا محسوس کرتے ہوئے ہمیں مشورہ دیا ہے تو یہ ہمارے لئے بڑی تشویش کی بات ہے۔ یہ کہنے میں کوئی دریغ نہیں کہ یہ بعض انتہاء پسند اور غیرمحتاط عناصر ہمارے سیکولرازم اور ہماری ملی جلی تہذیب کو مٹانے کے درپے ہیں۔ اوباما کو اگر یہ احساس ہوا ہے تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ دنیا کے اور ممالک کے لیڈروں کوبھی اب یہ اندازہ ہوگیا ہت کہ ہندوستان میں مذاہب کا احترام باقی نہیں رہا۔
دنیا بھر کے ممالک جیسے ہندوستان میں جہاں دنیا کی دوسری بڑی مسلم آبادی ہے، مسلمانوں کے کارہائے نمایاں کی ستائش کرتے ہوئے سابق امریکی صدر براک اوباما نے اعتراف کیا کہ امریکہ میں کئی گوشوں میں اس برادری کے امیج کو ’’بگاڑا‘‘ ہے۔سابق امریکی صدر نے کہا کہ مغرب میں لوگوں کو اسلام کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوتی ہے، ان کا ذریعہ میڈیا ہوتا ہے جبکہ امریکہ جیسے ممالک میں مسلمانوں کی نسبتاً کم آبادی ہے جس کے سبب کئی لوگوں کو واضح نظریہ معلوم نہیں ہوتا کہ مسلم شخصی طور پر کیسا فرد ہوتا ہے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں انسداد پرتشدد انتہاء پسندی کے بارے میں وہائیٹ ہاؤس میں منعقدہ چوٹی اجلاس میں اپنے اختتامی تبصرہ میں اوباما نے اس تکلیف دہ سچائی کا بڑی جرأتمندی سے تذکرہ کردیا جو آج امریکہ میں امریکیوں کو درپیش چیلنج کا حصہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *