فاروق عبد اللہ کی برہمی اپنی پارٹی اور خود کو زندہ رکھنے کی کوشش

جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات دو سال بعد ہونے ہیں ، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ریاست کی سب سے قدیم سیاسی جماعت یعنی نیشنل کانفرنس نے ابھی سے ہی انتخابات کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ پارٹی کے صدر فاروق عبداللہ ، جو اب تک تین بار ریاست کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں، نے نومبر کے ابتدائی ہفتے میں وادی کے سرحدی علاقوں کا چار روزہ دورہ کیا اور کئی عوامی جلسوں سے خطاب کیا۔ اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے آئے دن خبروں میں رہنے والے فاروق عبداللہ نے شمالی کشمیر کے سرحدی علاقوں میں عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے نئی دہلی پر تابڑ توڑ حملے کئے ۔ ان کے یہ جملے وادی کے اخبارات میں سرخیاں بنیں: ’’ کشمیریوں کو یونین آف انڈیا پر بھروسہ ختم ہوگیا ہے … دلی والوں کو ان دھوکہ دہی سے باز آجانا چاہئے۔مرکزی سرکار کو سمجھنا چاہیے کہ دھونس دبائو سے اسے کشمیر میں کچھ حاصل نہیں ہوگا… بھارت نے ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے ۔‘‘ اسکے بعداب تک فاروق عبداللہ ہر چند دن بعد اپنے بیانات سے نئی دلی کو ناراض اور کشمیریوں کو خوش کرنے کی کوشش میں نظر آتے ہیں۔ ان کا تازہ متنازعہ بیان یہ تھا کہ جموں وکشمیر بھارت کا حصہ ہے اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔ فاروق عبداللہ نے طنزیہ لب و لہجے میں نئی دہلی کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستانی کشمیر کو بھول کر پہلے سری نگر میں ترنگا لہرانے کی کوشش کرے۔ بعض مبصرین فاروق عبداللہ کے اس تند و تیز لہجے کو ان کے ذاتی سیاسی کیرئر کے ایک تلخ دور کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ در اصل فاروق عبداللہ اس طرح کے بھارت مخالف بیانات دیکر دہلی کو ناراض کرنے سے زیادہ خود کو تسکین دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ چونکہ فاروق عبداللہ اس وقت ریاست میں مین سٹریم کے سینئر ترین سیاستدان ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ کشمیر اور نئی دہلی کے رشتوں کو مضبوط کرنے کیلئے کردار نبھایا ہے۔ لیکن آج ملک بھر میں نیشنلزم کی جو تعبیر کی جارہی ہے، اس میں فاروق عبداللہ کہیں فِٹ نظر نہیں آتے ۔ بلکہ انہیں کھلے عام دیش دروہی پکارا جارہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں کوئی بھی آدمی حواس باختہ ہوسکتا ہے۔ فاروق عبداللہ عمر کے حصے میں ایک ایسے موڈ پر کھڑے ہوئے ہیں ، جہاں ان پر ’’ نہ گھر اور گھاٹ کا‘‘ کی مثال صادق آجاتی ہے۔ایک زمانے میں قائد ثانی کہلائے جانے والے فاروق عبداللہ ایک جانب کشمیر میں اپنی مقبولیت کھوچکے ہیں اور دوسری جانب نئی دہلی انہیں قابل بھروسہ نہیں سمجھتی ۔ اسی سال سرینگر میں پارلیمانی الیکشن کا انتخاب فاروق عبداللہ جیت تو گئے ، لیکن ان کے حق میں پڑنے والوں ووٹوں کی تعداد اتنی کم تھی کہ بعض سنجیدہ فکر حلقوں نے کہا کہ انہیں پارلیمنٹ کی سیٹ چھوڑ دینی چاہیے۔ اپریل 2017میں ہوئے سرینگر پارلیمانی سیٹ کے ضمنی انتخابات میں محض سات فیصد لوگوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ باقی 93فی صد آبادی نے علاحدگی پسندوں کے کہنے پر الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔ سرینگر پارلیمانی حلقے میں رائے دہندگان کی کل تعداد 12لاکھ 61ہزار862ہے ۔ لیکن فاروق عبداللہ کو محض48ہزار554ووٹ ملے ۔ چونکہ یہ کسی امیدوار کے حق میں پڑنے والے سب سے زیادہ ووٹ تھے ، اسلئے انہیں کامیاب قرار دیا گیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کشمیر میں بڑھتی کوئی غیر مقبولیت کا تدارک کرنے کے لئے فاروق عبداللہ اور ان کی جماعت نیشنل کانفرنس نے نئی دلی کے خلاف بیانات کا ایک محاذ کھول دیا ہے۔صحافی پرویز مجید کہتے ہیں، ’’ میرے خیال سے نئی دہلی کے خلاف بیانات دیتے ہوئے فاروق عبداللہ ایک جانب کشمیر میں اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں اور دوسری جانب وہ نئی دلی کو اپنی اہمیت باور کرانا چاہتے ہیں۔‘‘

 

 

 

 

 

 

 

 

یہ بات قابل ذکر ہے کہ فاروق عبداللہ کے دہلی مخالف بیانات نہ صرف سرخیوں میں جگہ پاتے ہیں بلکہ ان پر ڈبیٹ بھی شروع ہوجاتی ہے۔ حال ہی میں جب انہوں نے نئی دہلی کویہ کہہ کر للکارا کہ ’’ پاکستانی کشمیر کو بھول جائو،پہلے سرینگر میں ترنگا لہرا کر دکھائو‘‘ تو شیو سینا اور بجرنگ دل جیسی تنظیموں نے لال چوک کے گھنٹہ گھر پر ترنگا لہرانے کے لئے یہاں ایک ٹیم بھیجی ۔ حالانکہ پولیس نے شیو سینا اور بجرنگ دل کے ان کارکنوں کو یہاں جھنڈا لہرانے کی اجاز ت نہیں دی بلکہ انہیں لال چوک کے قریب گرفتار کرلیا گیا۔ لیکن یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ فاروق عبداللہ کا ایک چھوٹا سا بیان بھارت بھر میں توجہ حاصل کرجاتا ہے۔
’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے پرویز مجید نے کہا ،’’ میں سمجھتا ہوں کہ فاروق عبداللہ کوریاست کے ایک سینئر ترین سیاستدان کی حیثیت سے مودی سرکار وہ درجہ نہیں دے رہی ہے، جس کے وہ مستحق ہیں۔ ساری عمر کشمیر میں نئی دہلی کا جھنڈا تھامنے والے فاروق کو ان دنوں بات بات پر دیش دروہی قرار دیا جارہا ہے۔ ایک جانب وہ کشمیر ی عوام میں اپنی مقبولیت کھو چکے ہیں اور دوسری جانب دہلی والے بھی اسے لائق اعتنا نہیں سمجھتی ۔ اسی لئے انہوں نے اپنی بھڑاس نکالنے کے لئے دلی کے خلاف بیانات کا محاذ کھول دیا ہے۔‘‘
بعض مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیشنل کانفرنس کے قائد در اصل کشمیر میں اپنی پارٹی کے شاندار ماضی کی باز یافت کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب وہ دہلی کے بجائے کشمیریوں کو خوش کرنے کی باتیں کرے۔ فاروق عبداللہ یہی کچھ کررہے ہیں۔ ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کے ساتھ ایک چیت کے دوران صحافی طارق میر کہتے ہیں،’’میرے خیال سے نیشنل کانفرنس کے قائدین اب یہ بات اچھی طرح سمجھ گئے ہیں کہ عوام ہی طاقت کا سرچشمہ ہوتے ہیں۔ کشمیری عوام نے ہی اس پارٹی کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا تھا اور پھر عوام نے ہی اسے زوال پذیر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی قائدین ہر صورت میں کشمیری عوام کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگی ہوئی ہے۔‘‘
جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کے عروج و زوال کی کہانی کافی دلچسپ رہی ہے۔1990ء میں ریاست میں ملی ٹنسی کی شروعات کے ساتھ ہی یہاں کی سب سے بڑی اور قدیم یہ سیاسی جماعت جیسے سیاسی منظر نامے سے ہی ہٹ گئی ۔آنے والے چھ سال تک پارٹی کی اعلیٰ قیادت ریاست سے باہر رہی اور یہاں اسکے سینکڑوں ورکر ہلاک کردیئے گئے ۔لیکن 6سال بعد یعنی 1996 کے اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے 87ممبران پر مشتمل اسمبلی میں 57سیٹیں حاصل کرکے ایک بار پھر ریاست کی سب سے بڑی پارٹی کے بطور خود کو منوا لیا۔

 

 

 

 

 

 

در اصل لوگوں نے چھ سال تک پر تشدد حالات کا سامنا کرنے کے بعد نیشنل کانفرنس کو ایک مسیحا کی صورت میں دیکھا تھا لیکن ان کی اُمیدیں اُس وقت ٹوٹ گئیں ، جب نیشنل کانفرنس نے اقتدار میں آنے کے بعد جاوید شاہ، کوکہ پرے ، پاپا کشتواڑی اور ممہ کنہ جیسے لوگوں ، جنہوں نے چھ سال کے دوران درجنوں معصوم لوگوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ لئے تھے ، کو اعلیٰ منصبوں پر فائز کردیا ۔حالانکہ اپنے اس دور اقتدار کے دوران نیشنل کانفرنس نے اسمبلی میں اٹانومی قرارداد بھی پاس کرلی لیکن لوگوں نے دیکھ لیا کہ جب مرکز نے ریاستی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے پاس کی گئی اس قرار داد کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا تو نیشنل کانفرنس نے اس پر ہلکا سا احتجاج بھی نہیں کیا۔
مجموعی طور پر نیشنل کانفرنس کا یہ دور اقتدار عوام کے لئے اطمینان بخش نہیں تھا۔شاید ہی وجہ ہے کہ اگلے الیکشن یعنی 2002کے انتخابات میں پارٹی اسمبلی میں57سیٹیوںسے 28پر آگئی ۔2008کے انتخابات میں پارٹی نے اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کے لئے عمر عبداللہ کی صورت میں ایک نئے قائد کا چہرہ سامنے لایا۔ پارٹی کا یہ کارڈ کامیاب بھی رہا ۔ عمر عبداللہ وزیر اعلیٰ بن گئے۔ لیکن سال 2010کی ایجی ٹیشن کے دوران درجنوں کمسن بچوں سمیت 110افراد کی ہلاکت نے پارٹی کی عوامی ساکھ کو پھر تباہ کردیا۔2014ء کے انتخاب میں پارٹی کو پھر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اس پس منظر کے ہوتے ہوئے ظاہر ہے کہ نیشنل کانفرنس کی ہر ممکن کوشش ہوگی کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں اس کی جیت یقینی ہو۔ فاروق عبداللہ کے متذکرہ بیانات کو بین السطور دیکھا جائے تو ان میں دلی کو ناراض کرنے سے زیادہ کشمیریوں کو خوش کرنے کی کوشش محسوس کی جاسکتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نیشنل کانفرنس اگلے اسمبلی انتخابات میں ووٹروں کو لبھانے کے لئے نئی دلی کے خلاف تند و تیز لہجہ اختیار کرے گی۔ ایسا نہیں کہ اس کے نتیجے میں کشمیر کا کوئی بھلا ہوگا۔ لیکن ایک ایسے وقت میں جب سبز پرچم والی پی ڈی پی ہندو توا کے رنگ میں مکمل طور رنگ چکی ہے، نئی دلی کے خلاف بولنے والے عوام کے دلوں میں کچھ نہ کچھ جگہ ضرور پالیں گے۔اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ فاروق عبداللہ نے نئی دہلی کے خلاف بیانات کا جو محاذ کھول دیا ہے، وہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *