مقبول عام کھیل لاؤن ٹینس کی کہانی

ٹینس دوٹیموں کے بیچ گیندوں سے کھیلے جانے والے ایک کھیل ہے جس میں کل دوکھلاڑی(سنگلز)یاچارکھلاڑی(ڈبلز)ہوتے ہیں۔ٹینس کے بلے کوٹینس ریکیٹ اور میدان کوٹینس کورٹ کہتے ہیں۔کھلاڑی تاروں سے بنے ہوئے ٹینس ریکیٹ کے ذریعہ ٹینس گیندجوکہ ربرکی بنی،کھوکھلی اورگول ہوتی ہے اورجس کے اوپرمہین (باریک) روئے ہوتے ہیں،کوجال کے اوپرسے مخالف کھلاڑیوں کے کورٹ میں پھینکتے ہیں۔ہرایک کھلاڑی کے پاس ریکیٹ ہوتاہے،جس میں انہیں ربرکی بنی کھوکھلی گیندکوہٹ کرناہوتاہے۔اس کھیل کا اہم مقصدیہ ہوتاہے کہ گیندکوکچھ اس طرح سے ماراجائے کہ مخالف کھلاڑی اس ہٹ کا جواب نہ دے سکے۔اگرماری گئی گیندکومخالف کھلاڑی جواب نہیں دے پاتاہے ، تومارنے والے کھلاڑی کوپوائنٹ ملتاہے۔یہ کھیل مردوخواتین دونوں میں کھیلاجاتاہے۔
آغاز
ٹینس کی شروعات فرانس میں ہوئی مانی جاتی ہے۔اس وقت یہ کھیل ’اِن ڈور‘یعنی چھت کے نیچے ہواکرتاتھا۔انگلینڈمیں 19ویں صدی کے اخیربرسوں میں لان ٹینس،یعنی چھت سے باہرباغ(پارک)میں کھیلاجانے لگا اوربعدمیں پوری دنیامیں مقبول عام ہوا۔آج یہ کھیل اولمپک میں شامل ہے اوردنیاکی سبھی اہم ملکوں کے کروڑوں لوگوں میں مقبول ہے۔ٹینس بین الاقوامی سطح پرچاراہم مقابلے ہوتے ہیں جنہیں گرینڈسلیم کہاجاتاہے۔ہرسال جنوری میں آسٹریلیاکی آسٹریلین اوپن، مئی میں فرانس کی فرینچ اوپن اوراس کے دوہفتوں کے بعدلندن کی ومبلڈن،ستمبرمیں امریکہ میں ہونے والے مقابلے کوامریکن اوپن (مختصرمیں یوایس اوپن)کہاجاتاہے۔ومبلڈن ایک گھاس کے کورٹ پرکھیلاجاتاہے۔فرینچ اوپن مٹی کے آنگن (کلے کورٹ)پرکھیلاجاتاہے۔یوایس اوپن اورآسٹریلین اوپن کیمکسڈکورٹ پرکھیلاجاتاہے۔
دیگرکھیلوں کی طرح ٹینس بھی ایک قدیم کھیل ہے۔تاریخ داں ٹینس کااصل 12ویں صدی کے شمالی فرانس کومانتے ہیں،جہاں ایک کھیل گیندکوہاتھ کی ہتھیلی کے ساتھ مارکر کھیلاجاتاتھا۔اس وقت کھیل کو’جیودی پومے‘(ہتھیلی کاکھیل )کہاتاجاتھا۔ریکیٹ 16ویں صدی میں استعمال میں آیااورکھیل کو’ٹینس ‘کہاجانے لگا،پرانی فرانسیسی لفظ ٹینزسے ،جو’پکڑ‘،’لے‘کے طورپرترجمہ کیاجاسکتاہے۔یہ کھیل انگلینڈ اورفرانس میں مقبول تھا،حالانکہ کھیل صرف گھرکے اندرکھیلاجاتاتھاجہاں گینددیوارماری جاسکتی تھی۔انگلینڈکے ہنری آکٹم اس کھیل کے ایک بڑے فین وپرستارتھے،جواب اصلی ٹینس (ریئل ٹینس)کے طورپر جاناجاتاہے۔
ٹینس کی گیندوں کودھاگے کے ساتھ کپڑے سے سل کربنائے جانے سے ایک لمباسفرطے کیاجاسکتاہے۔ٹینس کی گیندیں محسوس کرنے لائق کوٹنگ کے ساتھ کھوکھلے ربرکے بنے ہوتے ہیں۔روایتی طورسے سفید،ویجبلٹی سدھارکیلئے اہم رنگ دھیرے دھیرے 20ویں صدی کے اواخرمیں ہلکاپیلاکردیاگیاتھا۔ریگولیشن کھیلنے کی منظوری کیلئے ٹینس کی گیندوں کوسائز،وزن ،مسخ اوراچھال کیلئے کچھ معیاروں پرعمل کرناچاہئے۔بین الاقوامی ٹینس ایسوسی ایشن (آئی ٹی ایف)نے 65.41-68.58ملی میٹر(2.575-2.700انچ) کوسرکاری ڈائمیٹرکے طورپرمقررکیاہے۔گیندیں56.0اور59.4گرام (1.975-2.095اونس) کے بیچ ہونی چاہئے۔
ٹینس بہت ہی پراناکھیل ہے۔ٹینس کے بارے میںماہراسپورٹس رائٹروبھوتی اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ تاریخ دانوں کامانناہے کہ یہ کھیل بارہویں صدی کے آس پاس سے کھیلاجارہاہے۔بارہویں صدری کے آس پاس شمالی فرانس میں یہ کھیل ’گیم آف دی پام‘کے نام سے کھیلاجاتاتھا۔یہی کھیل کالانترمیں ٹینس کے نام سے مشہورہوا۔فرانس کے راجہ ’لوئیس ایکس‘اس کھیل کے بہت شوقین تھے۔حالانکہ لوئس ایکس کوکھیل باہرکھیلناپسندنہیں تھا،اس وجہ سے انہو ںنے تیرہویں صدی کے آس پاس پیرس میں کئی انڈورٹینس کورٹ بنوائے۔یہ ایساکرنے والے پہلے شخص تھے۔ان کے ذریعہ بنوائے گئے عالی شان انڈورکورٹ کااثریوروپ کے کئی رائل محلوں پرپڑا اورایسے ٹینس کورٹ کئی جگہوں پربنے۔

 

 

 

 

 

 

 

کھیل کاماڈرنائیزیشن
اس کھیل کیلئے ریکٹ کا استعمال لگ بھگ سولہویں صدی کے آس پاس شروع ہوا،اوراسے ٹینس کانام ملا۔ٹینس دراصل ایک فرینچ لفظ’ٹینیز‘سے آیاہے،جس کامطلب پکڑنایا ریسیو کرناہوتاہے۔یہ کھیل اسوقت انگلینڈاورفرانس میں کھیلاجاتاتھا۔انگلینڈکے راجکمارہینری سمتم ٹینس کے بڑے پرستاراورکھلاڑی تھے۔اسی کھیل کواس وقت ریئل ٹینس بھی کہا جاتا تھا۔
1859سے1865کے آس پاس کپتان ہیری جیم اوران کے دوست نے مل کرایک کھیل کا وکاس کیا،جس میں ریکیٹ اورباسک بال استعمال ہوتاتھا۔ٹینس کے اس جدیدشکل کے ساتھ یونائٹیڈکنگڈم کے برمرہنگن میں میں یہ کھیل کھیلاجاتارہا۔1872میں ان دونوں دوستوں نے دواورلوکل ڈاکٹروں کے ساتھ مل کردنیاکاپہلاٹینس کلب ہیمنگٹن سپامیں قائم کیا۔اس کے بعددسمبر1873کے آس پاس برٹش آرمی کے آفیسرمیجروالٹرکلونٹن نے اسی طرح کے ایک اورکھیل کاایجادکیا۔اس کھیل میں دھیرے دھیرے بدلاؤآتے رہے ہیں۔وقت کے ساتھ اس کھیل میں کافی ترقی ہوااورآج یہ بین الاقوامی سطح اولمپک میں کھیلاجاتاہے۔
یہ کھیل اب ایک چکورکورٹ میں کھیلاجاتاہے۔اس کورٹ کے درمیان میںایک نیٹ (جال) لگاکراسے دوحصوں میں تقسیم کیاجاتاہے۔نیٹ کے دونوں طرف کھلاڑی ہوتے ہیں۔کھلاڑیوں کا ہدف گیندکوہٹ کرکے مخالف کھلاڑی کے کورٹ میں اس طرح سے پہونچاناہوتاہے کہ مخالف کھلاڑی جوابی ہٹ نہ لگاسکے۔مخالف کھلاڑی کاجواب نہ دے پانے پہلے ہٹ کرنے والے کھلاڑی کوپوائنٹ ملتاہے۔
یہ کھیل سنگلزاورڈبل دونوں طرح سے کھیلاجاتاہے۔سنگل میں نیٹ کے دونوں طرف ایک ایک کھلاڑی ہوتے ہیں،اورڈبلس میں نیٹ کے دونوں طرف کھلاڑیوں کی تعداددوہوتی ہے۔اس میں استعمال ہونے والے ریکیٹ میں سنتھیٹک دھاگے لگے ہوتے ہیں،جہاں سے گیندکوہٹ کیاجاتاہے،جوایک عارضی پوزیشن میں ہوتاہے۔ریکیٹ کے جس جگہ سے گیندکوہٹ کیاجاتاہے،وہ حصہ انڈاکارہوتاہے۔
اس میں استعمال ہونے والے گیند:ربرکے بنے ہوتے ہیں،جن پرایک خاص طرح کاکپڑاسلائی کرکے لگایاجاتاہے۔بین الاقوامی ٹینس فیڈریشن کے مطابق گیندکاسائز65.41ملی میٹرسے 68.58ملی میٹرتک اوراس کا وزن 56سے 59.4گرام کے بیچ ہوناچاہئے۔
ٹینس کورٹ78فٹ لمبااور27فٹ چوڑاہوتاہے۔اس میں سینٹرمارک ،بیس لائن سروس لائن ،سینٹرسروس لائن ،سنگل سائڈلائن اورسفیدرنگ سے کھینچی ہوئی ہوتی ہے۔بیس لائن اورسروس لائن کورٹ کی چوڑائی کوڈینوٹ کرتی ہیں۔ڈبل سائڈلائن اس کی لمبائی کی نشاندہ کرتی ہے۔اس کے علاوہ سینٹرلائن نیٹ کی کسی بھی سائڈکودوحصوں میں بانٹتاہے،بٹی ہوئی جگہ چکورہوتی ہے جسے سروس کورٹ کہتے ہیں۔
اس کھیل میں پوائنٹس دوطرح کے ہوتے ہیں،جنہیں سیٹ پوائنٹ اورمیچ پوائنٹ کہاجاتاہے۔پہلامیچ پوائنٹ 15سیٹ پوائنٹ تک،دوسرامیچ پوائنٹ 30سیٹ پوائنٹ تک،تیسرامیچ پوائنٹ 40سیٹ پوائنٹس تک ہوتاہے۔یعنی اگرکسی کھلاڑی کااسکور40سیٹ پوائنٹ ہے،توتیسرے میچ پوائنٹ میں ہے۔کھیل جیتنے کیلئے کھلاڑی کواپنے مخالف کھلاڑی سے ایک مقررہ پوائنٹس کے سیٹ سے جیتنے ہوتے ہیں۔مثلاًاگرمخالف کھلاڑی 5میچ پوائنٹ جیت چکاے،توسامنے والے کھلاڑی کواپنااسکور7-5کاکرناہوگا۔اگریہ اسکورسیٹ 6-6کاہوگیا،توساتواں اسکوربنانے والاکھلاڑی جیت جائے گا۔بہرکیف آج کے دورمیں ٹینس بھی دیگرکھیلوں کی طرح مقبول عام کھیل ہے اوراولمپک میں شامل ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *